مولانا طارق جمیل کو فیملی پلاننگ کانفرنس میں شمولیت پر شرمندہ ہونا چاہیے


مولانا طارق جمیل صاحب سے بہت بڑا گناہ سر زد ہو گیا ہے۔ انہوں نے چیف جسٹس کی طرف سے بلائی گئی فیملی پلاننگ کانفرنس میں شرکت کی ہے اور اس سے تمام سچے مسلمانوں کی شدید دل آزاری ہوئی ہے۔

ہم سب پاکستانی مسلمان، خاص طور پر اوریا مقبول جان صاحب، زیادہ تر مدرسہ مالکان اور وہ ساسیں جن کی بہوئیں فیملی پلاننگ کی وجہ سے صحت مند اور قدرے سکھی زندگیاں گزار رہی ہیں یہ جانتے ہیں کہ فیملی پلاننگ حرام ہے، گناہ کبیرہ ہے اور مسلمانوں کے خلاف ایک سازش ہے۔ یہ خاص طور پر پاکستانی ساسوں کے خلاف ایک سازش ہے۔ بچوں کی تعداد سے بہو کا دف مارنے کا اپنا ہی مزا ہے۔ فیملی پلاننگ کی وجہ سے بہو چند برسوں میں ہی فارغ اور صاف ستھری ہو کے بیٹھ جاتی ہے اور ساس اپنا زمانہ یاد کر کے کوسنے دیتی رہتی ہے جب اسے یہ سہولت اور اس کے نتیجے میں ملنے والی فرصت میسر نہیں تھی کیونکہ بچوں میں کہیں وقفہ ہی نہیں تھا۔

مولانا طارق جمیل صاحب ایک شریف آدمی ہیں۔ ان کا کام وعظ و نصیحت ہے۔ یہی ان کا پروفیشن ہے۔ ٹی وی پر آنا بھی اچھا لگتا ہے۔ جب چیف جسٹس صاحب نے فیملی پلاننگ پر کانفرنس کرانے کا اعلان کیا تو وزیراعظم صاحب جو ویسے ہی یہودی سازش کو پہچاننے میں ہمیشہ ناکام رہے ہیں، انہوں نے بھی کانفرنس میں شمولیت کا ارادہ ظاہر کر دیا۔ اب مولانا صاحب کو جب ایک تقریر کی دعوت ملی جس میں چیف جسٹس اور وزیراعظم نے سٹیج پر بیٹھا ہونا تھا تو انہوں نے حامی بھر لی۔ اس دنیا کا ناپائیدار ہونا اپنی جگہ بالکل ٹھیک ہے لیکن تقریر کرنے کے ایسے مواقع کون چھوڑتا ہے۔ مولانا طارق جمیل صاحب نے حامی بھر لی اور پہنچ گئے کانفرنس میں۔ مولانا صاحب کے تقریب میں پہنچنے سے لوگوں میں خوف پیدا ہو گیا کہ فیملی پلاننگ جیسی لعنت کہیں حلال ہی نہ ہو جائے۔

تو ہم سب کا فرض ہے کہ فوراً لوگوں کو بتائیں کہ فیملی پلاننگ حرام ہے۔ اس کے نتائج اچھے نہیں نکلتے۔ بچوں کی تعداد کم ہونے سے کئی فیملیز کے غربت کی چکی سے نکل جانے کا ڈر ہوتا ہے۔ اس دنیا میں لوگوں کی زندگی بہتر ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اس طرح سے لوگ اس دنیا میں اگر اطمینان کا سانس لینے لگ جائیں گے تو وہ اس کو اپنا مسکن سمجھنا شروع کر دیں گے اور بہت بڑا پرابلم ہو جائے گا۔ اب جو غریب لوگ ہیں ان کے پاس اپنے بچوں کے لیے خوراک، رہائش، تعلیم اور صحت جیسی سہولتیں نہیں ہوتیں تو یہ امیر لوگوں کے لیے ایک اچھا موقع ہوتا ہے کہ وہ انہیں صدقات اور خیرات وغیرہ دے کر ثواب کماتے ہیں۔

اسی طرح لوگ یتیم خانوں اور مدرسوں کو بھی عطیات دیتے ہیں اور اپنی آخرت سنوارتے ہیں۔ اگر فیملی پلاننگ کا رواج پڑ گیا اور فیملی سائز چھوٹا ہو گیا تو مدرسوں کا رواج ٹھپ ہو جائے گا۔ ظاہر ہے اگر کسی فیملی کے ایک یا دو بچے ہوں اور وہ ان کی خوراک، رہائش اور تعلیم وغیرہ افورڈ کر سکتے ہوں تو کون اپنے بچے کو خیراتی مدرسے میں بھیجے گا۔ مولوی صاحبان بے چارے سچے ہیں جب وہ فیملی پلاننگ کی مخالفت کرتے ہیں۔ فیملی پلاننگ کی حمایت کرنا اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہو گا۔ مدرسے ہیں تو ہمیں ایک اور بڑی سہولت حاصل ہے۔ مدرسے نہیں ہوں گے تو ہمیں کون بتائے گا کہ کون کون سا مسلمان ہم میں سے نہیں ہے، کون مشرک درباروں پر جاتا ہے اور کون گستاخ درباروں کو نہیں مانتا۔

ابھی فیملی پلاننگ کا رواج کم ہے تو فائدہ یہ ہے کہ بچے کرائے پر دستیاب ہیں۔ آپ اپنے گھر میں آٹھ دس سال کی لڑکی یا لڑکا رکھ لیں اور اس کے والدین کو چند ہزار روپے ماہانہ بھیجتے رہیں۔ اس فیملی پر احسان بھی ہو گا اور آپ کو گھر میں ایک غلام کی سہولت بھی میسر ہو گی۔ اسے ماریں پیٹیں جتنے گھنٹے مرضی کام کروائیں، کوئی روک ٹوک نہیں ہو گی۔ بچوں کی تعداد کم ہو گئی تو یہ سہولت ناپید ہو جائے گی۔

فیملی پلاننگ کے رواج سے عورتیں آپ کے ہاتھ سے نکل جائیں گی۔ ظاہر ہے اگر پندرہ سال کی عمر سے لے کر پچاس سال کی عمر تک ایک عورت دس بارہ مرتبہ حمل سے ہو گی اور اتنے بچوں کی پرورش میں لگی رہے گی تو ہی اتنی کمزور ہو گی کہ قابو میں رکھی جا سکے۔ ورنہ تو اس کے پاس اپنے متعلق سوچنے کا، کوئی کاروبار کرنے کا یا پھر نوکری وغیرہ کرنے کا وقت نکل آئے گا اور ظاہر ہے اس سے عورت ”تھرتھلی پا“ دے گی۔ پورا معاشرہ بے راہ روی کا شکار ہو جائے گا۔ پھر زلزلے سمیت نہ جانے کون کون سے عذاب آئیں گے۔

اس لیے اس قوم کو اگر عذاب سے بچانا ہے تو فیملی پلاننگ جیسی لعنت کو اس ملک میں رواج نہ پانے دیں۔ کروڑوں بچوں کو سکول میسر نہیں، کروڑ بچوں کے قد اور دماغ خوراک کی کمی کی وجہ سے چھوٹے رہ جائیں گے۔ چھوٹے بڑے شہر کے ہر چوک پر درجنوں بچے اور بچیاں بھیک مانگ رہے ہیں۔ یوں سمجھو کہ رونق لگی ہوئی ہے۔ ظاہر ہے یہ سب تو قسمت کی باتیں ہیں۔ مسلمانوں کی تعداد میں تو اضافہ ہو رہا ہے اس لیے کسی بھی عالم دین کو اس طرف دھیان دینے کی ضرورت نہیں۔ فیملی پلاننگ جیسی لعنت کو پاکستان میں پھیلنے نہیں دیں گے۔

ہمارا میڈیا بھی فیملی پلاننگ کے نقصانات سے بخوبی واقف ہے۔ مثال کے طور پر یہ فیملی پلاننگ کی کانفرنس تھی جس میں چیف جسٹس اور وزیراعظم تین گھنٹے سٹیج پر بیٹھے اور تقریریں کیں۔ درجنوں وزیر اور وزیر اعلی موجود تھے۔ سارا میڈیا موجود تھا۔ دوسرے دن کے اخبارات میں پہلے صفحے پر فیملی پلاننگ یا اس کانفرنس کے مقصد کا کہیں ذکر تک نہ تھا۔ سی جے اور پی ایم کی سیاسی باتیں جو انہوں نے ضمنی طور پر اپنی تقریروں میں کی تھیں اخبارات کی سرخیوں کا متن ٹھہریں۔ سارا میڈیا اصل مضمون کو گول کر کے سرخرو ہوا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 194 posts and counting.See all posts by salim-malik