اگر مجھے یقین ہوتا۔۔۔۔  


\"safdarگر مجھے اس کا یقیں ہو میرے ہمدم، میرے دوست کہ میں ماضی کی نوحہ خوانی کی بجائے اسلاف کی عظمت کا قصید گو بن جاؤں تو میرے شہروں کا امن واپس آ جائے گا۔۔۔ واللہ، خالق کی قسم، میں ان مولویان کرام کی شان میں سارے اسمائے صفات کھپا دیتا۔ گر مجھے اس کا یقیں ہوتا کہ کسی خاص فرقے، کسی خاص مسلک کو بلاچون و چرا مان لینے سے میرے وطن کی بہنیں بیٹیاں گاڑی کی سیٹوں سے باندھ کر جل مرنے سے بچ جائیں گی تو واللہ میں اپنے ذہن کے گوشوں میں اٹھتے ہر سوال کی گردن گھونٹ کر تیرے ہر معقول و منقول کو نہ صرف مانتا بلکہ اس کا مبلغ بن جاتا۔ گر مجھے اس کا یقیں ہو کہ میرے سیکولرزم ترک کرنے سے وطن عزیز غربت کے منحوس چکر سے نکل جائے گا، دنیا بھر کے خزانے اڑ اڑ کر ملک کی گلیوں میں جمع ہو جائیں گے تو واللہ میں کہتا کہ مجھے طالبان کا نظام حکومت چاہیے۔ گر مجھے اس کا یقیں ہو کہ میرا لبرلزم عائلی نظام کو بکھیر رہا ہے اور لوگ دکھی ہیں تو ایک لمحہ میں تائب ہو کر رجعت پسند، مشرقی اقدار کا دیوانہ بن جاتا۔

گر مجھے اس کا یقیں ہوتا کہ میری گلیوں میں پھیلی نحوست، میرے فرد کی مرتی پیداواری صلاحیت، میرے لوگوں کی زوال پزیر تعلیمی حالت کا موجب میرا تقلید سے انکار ہے تو میں ایک منٹ توقف نہ کرتا اور روایت پرست بن جاتا۔ گر مجھے اس کا یقیں ہو کہ مشرق کی پائندہ روایات سے میری بغاوت وہ وجہ ہے جس کی وجہ سے میری بہنیں مائیں زندہ جہنم میں جلنے پر مجبور اور ہر حق سے محروم ہیں تو میں تقدیس مشرق کی ثناخوانی کے لیے اپنا ہر فقرہ وقف کر دیتا۔

گر مجھے اس کا یقیں ہو کہ نظریہ پاکستان کو عقائد کا حصہ مان لینے اور ہندو اور ہندوستان کو اپنا دشمن مان لینے سے میرا ملک قوموں کی برادری میں اپنا سر فخر سے اٹھا کر کھڑا ہو سکتا ہے تو میں لمحہ بھر بھی دیر نہ لگاتا اور اپنی انسانی دوستی کو تج دیتا جو مجھے دنیا کے ہر انسان سے محبت کے تعلق میں پروتی ہے۔ گر مجھے اس کا یقیں ہو کہ طالع آزماؤں کو برابھلا کہنے اور آمریت کے خلاف ہونے کی وجہ سے ہم پر وہ نااہل حکمران مسلط ہوتے ہیں جن کو عوام کے مسائل کی فکر نہیں بلکہ اپنا پیٹ بھرنے سے غرض ہے تو میں جمہوریت کے خلاف ایسی طولانی تقریریں کرنے والا بن جاتا کہ اوریامقبول جان میرا شاگرد بننے کو ترستا۔

گر مجھے اس کا یقیں ہو کہ سرمایہ دارانہ نظام کومیرا بہتر نظام تسلیم کرنا ہی دودھ اور شہر کی نہروں کے بہنے میں رکاوٹ ہے تو میں سوشلزم یا مذہبی حکومت کے موعودہ معاشی نظام کا گرویدہ ہو کر ان کے گن گاتا۔ گر مجھے اس کا یقیں ہو کہ صرف ایٹم بم ہی ہماری بقا کا ضامن ہے تو میں اس کے برعکس خیالات سے تائب ہوتا اور جناب مجید نظٓامی کی قبر کا مجاور بن جاتا۔ گر مجھے اس کا یقیں ہو کہ ممتاز قادری کو قاتل سمجھنا، محسود کو ظالم سمجھنا، جماعت اسلامی کو فکری دہشت گرد خیال کرنا، ڈاکٹر اسرارکو کم فہم سمجھنا، طاہرالقادری کو اقتدار واختیار کا بھوکا خیال کرنا میرے وہ جرم ہیں جن کی سزا میرے راشد رحمانوں، سبین احمدوں، آرمی پبلک سکول کے بچوں، باچا خان یونیورسٹی کے معصوم طالبعلموں، گلشن اقبال پارک کے مظلوموں کو مل رہی ہے اور میرے ان جرائم کو ترک کرنے سے جامعات محفوظ ہو جائیں گی، سکول بچوں کی کلکاریوں سے مہکیں گے، پارک نوجوان جوڑوں کے محبت بھرے جذبات سے مہک اٹھیں گے تو میں ایک لمحہ کی تاخیر کیے بنا ان تمام معزز ہستیوں کی مدح سرائی میں زمین آسمان ایک کر دیتا۔

گر مجھے اس کا یقیں ہو کہ میری رجائیت میرے لوگوں کی یاسیت کا خاتمہ کر سکتی ہے تو میں اپنے مایوس دل کو ضرور کہیں دفن کر آتا اور امید کے دل خوش کن نغمے گاتا۔ گر میرا ظواہر سے دور ہو جانا زلزلوں کو دعوت دیتا ہے اور میری توبہ سب سونامیوں کو ٹال سکتی ہے تو میں احباب کے بیان کردہ سب اوامر و نواہی کو سینے سے لگا لیتا۔

گر مجھے اس کا یقیں ہو…  مرے ہمدم مرے دوست… گر مجھے اس کا یقیں ہو…  کہ ترے دل کی تھکن…  تری آنکھوں کی اداسی، ترے سینے کی جلن… .. مری دلجوئی، مرے پیار سے مٹ جائے گی… گر مرا حرفِ تسلی وہ دوا ہو جس سے… جی اٹھے پھر ترا اجڑا ہوا بے نور دماغ… . تری پیشانی سے دھل جائیں یہ تذلیل کے داغ…  تری بیمار جوانی کو شفا ہو جائے… گر مجھے اس کا یقیں ہو مرے ہمدم مرے دوست… . روز و شب، شام و سحر میں تجھے بہلاتا رہوں… . میں تجھے گیت سناتا رہوں… . ہلکے شیریں… . آبشاروں کے، بہاروں کے، چمن زاروں کے گیت… . آمدِ صبح کے، مہتاب کے، سیاروں کے گیت… . تجھ سے میں حسن و محبت کی حکایات کہوں… پر مرے گیت ترے دکھ کا مداوا ہی نہیں… . نغمہ جراح نہیں، مونس و غم خوار سہی

گیت نشتر تو نہیں، مرہمِ آزار سہی… ترے آزار کا چارہ نہیں نشتر کے سوا… اور یہ سفاک مسیحا مرے قبضے میں نہیں… اس جہاں کے کسی ذی روح کے قبضے میں نہیں

ہاں مگر ترے سوا، ترے سوا۔۔۔۔ ترے سوا۔۔۔!


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

2 thoughts on “اگر مجھے یقین ہوتا۔۔۔۔  

  • 27-06-2016 at 4:15 pm
    Permalink

    تو کیا آپ کے سیکولر ازم اختیار کرنے سے آپ کے ملک میں امن آ گیا ہے؟ دنیا جہان کے خزانے اڑ اڑ کے آپ کے وطن میں جمع ہو گئے ہیں؟ غربت دور ہو گئی ہے؟ معاشرتی انصاف ملنا شروع ہو گیا ہے؟ تصویر کے دوسرے رخ کو چھپانا بھی خیانت کے زمرے میں آتا ہے شاید۔

  • 27-06-2016 at 6:58 pm
    Permalink

    پر دوست میرے لبرلزم اور سیکولرزم میں نہ ایسے وظائف ہیں نہ ایسے وعدے، میرے لبرلزم اور سیکولرزم میں کہیں یہ زعم نہیں کہ میں فقط چند خیالات پر ایمان لے آئوں اور میری دنیا و عاقبت سنور جائے گی۔ میرے لبرلزم اور سیکولرزم میں دو جمع دو چار کی معروضیت ہے، میرا لبرلزم کہتا ہے کہ آپ معیشت کو اوپن کریں، ہمسایوں سے تجارتی تعلق بنائیں، فرد کی پیداواری صلاحیتوں کو بہتر کریں، علم میں رسوخ حاصل کریں آپ کی معاشی حالت ضرور بدلے گی۔ لیکن آپ کی روایت کہتی ہے کہ یہ چند وظائف پڑھ لیں،، آپ مالا مال۔۔۔ بھائی یہاں تصویر کا صرف ایک ہی پہلو ہے، کیونکہ لبرلزم اور سیکولرزم ایسی کسی جادوئی طاقت کو نہیں مانتے جو لمحوں میں زندگی بدل دے وہ صرف یہ کہتے ہیں کہ انسان کی ہر حالت اسے کے اعمال کی دین ہے۔ خوش رہیں۔

Comments are closed.