حسین نقی کون؟ اور پیپلز پارٹی کی بہادر کارکن لڑکیاں کون؟


 

حسین نقی کا نام میں نے پہلی مرتبہ کراچی یونیورسٹی میں 1969۔ 70 میں اس وقت سنا جب میں نے بائیں بازو کی امیدوار کی حیثیت سے اکنامکس سوسائٹی کی نائب صدر کا انتخاب جیتا تھا۔ این ایس ایف کا جو بھی کارکن مجھے مبارکباد دینے اتا، یہی کہتا کہ حسین نقی کے سات سال بعد کراچی یونیورسٹی میں این ایس ایف جیتی ہے۔ ساتھ ہی مجھے یہ بھی بتایا جاتا کہ وائس چانسلر اشتیاق حسین قریشی نے انہیں یونیورسٹی سے نکال دیا تھا لیکن نکالے جانے کی صحیح وجہ حسین نقی نے خود ہمیں تین دسمبر 2018 کو کراچی پریس کلب میں اپنے اعزاز میں ہونے والی تقریب میں بتائی۔

اب یہ تو بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ جب سے چیف جسٹس نے غالب کے الفاظ میں حسین نقی سے ”پوچھتے ہیں وہ کہ غالب کون ہے؟“ والا معاملہ کیا ہے۔ ترقی پسند صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن دل گرفتہ ہیں اور ملک کے مختلف پریس کلبوں میں چیف جسٹس کو یہ بتانے کے لئے کہ حسین نقی کون ہیں، ان کے اعزاز میں تقریبات کا انعقاد ہو رہا ہے لیکن پہلے یہ تو بتا دیں کہ حسین نقی کراچی یو نیورسٹی سے کیوں نکالے گئے تھے۔ کراچی یونیورسٹی کے ہاسٹل میں مقیم چند بلوچ طلبہ کو کسی جھگڑے کے نتیجے میں یونیورسٹی سے نکالنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ حسین نقی ان کی سفارش کے لئے وائس چانسلر اشتیاق حسین قریشی کے پاس پہنچے جو بلوچوں سے بھی پہلے حسین نقی کو نکالنے کے خواہشمند تھے چنانچہ انہوں نے حسین نقی سے سودے بازی کی کہ اچھا بلوچوں کو نہیں نکالتے، تمہیں نکال دیتے ہیں۔

حسین نقی بخوشی اس قربانی کے لئے تیار ہو گئے اور یونیورسٹی سے نکل کر صحافت کے کوچے میں داخل ہو گئے۔ یہ منہاج برنا اور نثار عثمانی جیسے ترقی پسندوں کی مزاحمتی صحافت کا دور تھا۔ 1973 میں جب میں نے روزنامہ مساوات سے اپنی صحافتی زندگی کا آغاز کیا تو اپنے سینیئر ساتھیوں کو جن ترقی پسند صحافیوں کو اپنا استاد مانتے دیکھا، ان میں حسین نقی کا نام نمایاں تھا۔

1974 ء میں میری شادی احفاظ الرحمن سے ہو گئی اور میں نے انہیں ہمیشہ حسین نقی کا ذکر بے حد محبت اور احترام سے کرتے ہوئے سنا۔ جو لوگ احفاظ کی نظریاتی اوراخلاقی سخت گیری سے آگاہ ہیں، وہ جانتے ہیں کہ یہ کوئی معمولی بات نہیں تھی۔ ہم کراچی میں رہتے تھے اور حسین نقی لاہور میں۔ اب اسے اتفاق ہی کہا جائے گا کہ اس ساری غائبانہ محبت اور عقیدت کے باوجود میری کبھی حسین نقی سے ملاقات نہیں ہوئی اور ہوئی تو اس وقت جب وہ صحافت چھوڑ کر ہیومین رائٹس کمیشن میں اور میں عورت فاؤنڈیشن میں کام کرنے لگی تھی۔ کام ہم کہیں بھی کریں، ہمارا نظریاتی پس منظر ہمیں ایک دوسرے سے جوڑے رکھتا ہے۔ چیف جسٹس نے حسین نقی سے جو کچھ کہا، اس کی وجہ سے یہ تعلق اور مضبوط ہو گیا ہے۔

کراچی پریس کلب میں انہیں زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا، بہت سے قصے سنائے گئے لیکن سب سے پر تاثیر اور مزے کی باتیں وہ تھیں جو انہوں نے اپنے نرم ملائم لہجے میں خود اپنی تقریر میں کیں۔ ایک بات جس کا دوسرے مقررین نے بھی ذکر کیا تھا کہ بائیں بازو کے بہت سے لوگوں کی طرح حسین نقی بھی بھٹو کے حامی تھے مگر بھٹو نے اقتدار میں آنے کے بعد انہیں قید میں ڈال دیا۔ بائیں بازو اور بھٹو کے love and hate والے تعلق سے تو ہم سب واقف ہیں۔ حسین نقی کا کہنا تھا ’اقتدار عوامی لیگ کو ملنا چاہییے تھا کیونکہ اس نے اکثریتی نشستیں حاصل کی تھیں۔ مگر انتخابات سے قبل شیخ مجیب الرحمٰن نے زرعی اصلاحات اور بیورو کریسی میں بنگالیوں کا تناسب آبادی کے حساب سے بڑھانے کا عزم ظاہر کر کے جاگیردار طبقے اور بیوروکریسی کو اپنے خلاف کر لیا تھا اور بھٹو اقتدار کی خاطر ان طبقوں کے ساتھ مل گیا‘۔

اس کے بعد ضیا ءالحق نے تو مظہر علی خان اور حسین نقی کو ویو پوائنٹ میں ایک اداریہ لکھنے کے جرم میں شاہی قلعے بھجوا دیا تھا۔ اسی شاہی قلعے میں جس کا نام سنتے ہی ہمیں حسن ناصر یاد آ جاتا ہے، پاکستان کا چی گیوارا جو محنت کشوں کی تقدیر سنوارنے کی تمنا لے کر حیدرآباد دکن کی شہزادوں جیسی زندگی چھوڑ کر آیا اور شاہی قلعے میں ایوبی آمریت کے تشدد کا شکار ہو کر جان کی بازی ہار گیا۔ جی ہاں اسی شاہی قلعے میں حسین نقی کو بھی رکھا گیا تھا۔

حسین نقی نے شاہی قلعے میں ذاتی تکالیف اور صعوبتوں کے بارے میں ایک لفظ نہیں کہا لیکن بڑے دکھ سے پیپلز پارٹی کی ان خواتین کا ذکر کیا جو اسی زمانے میں شاہی قلعے میں قید تھیں اور جنہیں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔ اور یہی وہ بات ہے جو اس دن سے کانٹے کی طرح میرے دل میں چبھ رہی ہے۔ ہم نے ٹارچر کے خلاف عالمی معاہدے پر دستخط کر رکھے ہیں۔ ضیا دور کے بعد اتنی مرتبہ پیپلز پارٹی اقتدار میں رہی لیکن کبھی کسی نے ان خواتین کا ذکر نہیں کیا۔ کیا کوئی محقق یا پھر کوئی انویسٹیگٹو صحافی ان خواتین کی کہانیاں کھوجنے کی کوشش کرے گا؟ وہ کون تھیں؟ ان پر اور ان کے خاندان پر کیا گزری؟ اگر وہ اپنی سیاسی وابستگی کی بنا پر تشدد کا نشانہ بنی تھیں تو ان کی پارٹی نے ان کے لئے کیا کیا؟ میں سمجھتی ہوں کہ خواتین کے حقوق کی تحریک کی رہنماؤں اور کارکنوں کو بھی اس بارے میں آواز اٹھانی چاہییے۔ سیاسی وابستگی یا انسانی حقوق کے لئے آواز اٹھانے پر ریاستی مشینری کسی کو بھی تشدد کا نشانہ نہیں بنا سکتی۔

 

  

 

 

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں