گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کی بجھتی امیدیں


صوبائی وزیر تعمیرات ڈاکٹر محمد اقبال نے نعرہ مستانہ بلند کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ آئندہ گلگت بلتستان میں یکجہتی کشمیر منانے والوں کی ٹانگیں توڑدیں گے۔ وزیر تعمیرات ڈاکٹر محمد اقبال نے صاحب نے اخباری بیانات اور اظہار خیال میں کبھی کنجوسی سے کام نہیں لیا ہے اسی وجہ سے معمول کے بریفنگ کے علاوہ ان کی گفتگو اخبارات میں شہہ سرخیوں کا درجہ پاتی ہیں، اس سے قبل جب مسلم لیگ ن کی وفاق میں حکومت موجود تھی تب وزیرتعمیرات صاحب نے کہا تھا کہ سرتاج عزیز کمیٹی کے نام پر ہمارے تین سال ضائع کرا دیے گئے ہیں اب مزید خیر کی توقع نہیں رکھی جاسکتی ہے۔

یہی نہیں نجی ٹی وی چینل پر ثقافت کے نام پر مخلوط ڈانس کے معاملے پر جب ایم ڈبلیو ایم کی برقعہ پوش خاتون رکن نے اسمبلی میں قرارداد پیش کی تو ڈاکٹر محمد اقبال نے نہ صرف حمایت کرنے سے انکار کردیا بلکہ کہا کہ بدلتے وقت کے ساتھ کچھ چیزوں کو قبول کرنا پڑتا ہے ماضی میں عورتوں کی تعلیم بھی ثقافت نہیں تھی اب تو باقاعدہ خواتین دفتروں میں روزگار بھی کمارہی ہیں۔ گفتگو کی اسی سخاوت کے پیش نظر انہوں نے یکجہتی کشمیر کے حوالے سے یہ اعلان اسمبلی کے اجلاس میں کیا، ڈاکٹر محمد اقبال کی اس دیدہ دلیری کی تعریف کی جانی چاہیے، انہوں نے ’گناہ‘ کو اپنے دفتر میں ممنوعہ قراردیا تھا۔

یہ کوئی پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ 5 فروری یوم یکجہتی کشمیر، جو کہ سرکاری سطح پر مختص کردہ دن ہے، کے خلاف اس طرح آوازیں بلند ہوئی ہیں لیکن اب کی بار اس کا کچھ پس منظر بھی ہے جس کی وجہ سے گفتگو میں شدت آنا فطری امر ہے۔ سابق مشیر خارجہ سرتاج عزیز کی سربراہی میں گلگت بلتستان کے آئینی حیثیت کے تعین اور لوگوں کو آئینی حقوق کی فراہمی کے لئے نوازشریف نے کمیٹی قائم کردی۔ کمیٹی کے حتمی سفارشات میں گلگت بلتستان کو سینیٹ اور قومی اسمبلی میں نمائندگی دینے کی سفارش کی گئی، ان کے سفارشات جب پیش ہوئیں نوازشریف عدالت سے نا اہل قرارپائے، پھر نئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے دوبارہ کمیٹی بنانے کا فیصلہ کرلیا جس کی روشنی میں گلگت بلتستان آرڈر 2018 متعارف کرادیا گیا جو اس وقت نافذ العمل ہے، اس صدارتی آرڈیننس کے خلاف گلگت بلتستان میں اپوزیشن جماعتوں کی قیادت میں سخت احتجاج ہوا اور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے جی بی اسمبلی میں تقریر کے دوران اور اس کے بعد بھی بدنظمی پیداہوگئی۔

اس صدارتی آرڈر کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں جی بی بار کونسل نے چیلنج کیا اور سماعت سے چند روز قبل چیف جسٹس سپریم کورٹ میاں ثاقب نثار نجی دورے پر گلگت بلتستان آگئے جہاں پر انہیں نہ صرف روایتی استقبال کرتے ہوئے ٹوپی اور چوغے پہنائے گئے وہی پر انہیں جگہ جگہ جی بی آرڈر کے خلاف عوامی جذبات سے آگاہ کیا اور آئینی حقوق فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے جی بی کے آئینی حیثیت پر متعدد کیسز کی سماعت شروع کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو اپنے موقف سے آگاہ کرنے کا حکم دیدیا، دوران سماعت چیف جسٹس آف پاکستان سمیت 7 رکنی بنچ کے ریمارکس سے یہ بات واضح ہوتی رہی کہ گلگت بلتستان آئینی حقوق لینے میں حتمی مرحلے میں پہنچ گیا ہے، ریمارکس کے دوران عدالت عظمیٰ نے وفاقی حکومت پر برہمی کا اظہار بھی کیا کہ اتنے حساس معاملے پر غفلت برتی جارہی ہے۔ عدالت کے حکم پر وفاقی حکومت نے وزیر امور کشمیر و جی بی علی امین گنڈاپور کی سربراہی میں دوبارہ کمیٹی بنانے کا فیصلہ کرلیا، جس میں گلگت بلتستان سے گورنر راجہ جلال حسین مپقون اور صوبائی وزیر قانون اورنگزیب ایڈوکیٹ بھی شامل تھے۔

کمیٹی کے پاس سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات پر غور و خوض کرنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں تھا کمیٹی نے اپنی سفارشات وفاقی کابینہ میں پیش کرنی تھیں، ایک بار کابینہ میں وفاقی وزیر قانون کی عدم موجودگی کی وجہ سے معاملہ موخر ہوگیا، دوسری بار مزید مشاورت اور سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینے کا بہانہ کیا گیا بالآخر اسے موخر ہی کردیا گیا جو پی ٹی آئی حکومت کا جی بی کے حوالے سے پہلا امتحان تھا جس میں وہ مکمل ناکام ہوگئے، اسی پس منظر میں جی بی کے صوبائی وزیر ڈاکٹر محمد اقبال نے مذکورہ خطاب فرمایا تھا، گوکہ ابھی تک سپریم کورٹ آف پاکستان سے حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے اور 24 تاریخ کو دوبارہ سماعت ہوگی، سپریم کورٹ نے 7 دسمبر کو ہونے والی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل کی سربراہی میں نئی کمیٹی بنائی ہے۔

گلگت بلتستان مسئلہ کشمیر کا حصہ ہی نہیں بلکہ بذات خود ایک مسئلہ کشمیر بن گیا ہے، گلگت بلتستان کی عوام کو اس بات کا علم ہی نہیں ہے کہ ان کا معاملہ اور کیس کہاں پھنس گیا ہے، حقوق کی جدوجہد کرنی ہے تو کس سے کرنی ہے اور حقوق میں رکاوٹ ہوسکتا ہے تو کون ہوسکتا ہے بلکہ حقوق ہیں کیا؟ گزشتہ کئی سالوں سے اس بات کو آسانی سے محسوس کیا جاسکتا ہے کہ میڈیا سمیت ہر مقام اسی سوچ کو ہی جگہ ملتی رہی ہے جو پاکستان کا آئینی صوبہ ہونے کا دعویدار ہے، گلگت بلتستان کا ایک بڑا طبقہ وحدت کشمیر کا مطالبہ کرتا ہے، اور ایک بڑا طبقہ قوم پرستانہ ذہنیت رکھتا ہے، جو کہ ریاستی سوچ کے حامل ہیں، یہی وجہ ہے کہ گلگت بلتستان کا متفقہ بیانیہ ابھی تک سامنے نہیں آسکا ہے، گلگت بلتستان میں ابھی تک ماضی میں گھرا ہوا ہے کہ ہمارے اسلاف نے ڈنڈوں سے ڈوگرہ کو بھگادیا لیکن ڈوگرہ سے آزادی لینے کے بعد پے درپے جو معاہدے ہوئے ہیں وہاں پر اسلاف غافل نظر آئے، یہ بھی ایک مصدقہ اور مستند اصول ہے کہ جس قوم پر ان کی غلطیوں اور کوتاہیوں کی وجہ سے آفت آجائیں وہاں پر اپنے اسلاف کی مبالغہ آرائی شروع ہوجاتی ہے، گلگت بلتستان بھی ایسی صورتحال سے دوچار ہے۔

گلگت بلتستان میں وفاق کی طرف سے ٹیکسز عائد ہوئے تو پوری قوم یک زباں ہوکر کھڑی ہوئی کہ ہم متنازعہ ہیں ہم پر کوئی ٹیکس نہیں لگ سکتا ہے کیونکہ متنازعہ علاقے میں ٹیکس لگانا عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے، دوسری طرف وفاقی حکومت سے آئینی حقوق کا مطالبہ بھی کیا جاتاہے اور ایسے دلائل دیے جاتے ہیں جیسے پاکستان ہماری پسماندگی کا سب سے بڑی وجہ ہے ایسے دلائل کا نہ سر ہوتا ہے نہ پیر ہوتے ہیں، ہر سوال کا ایسا جواب موجود ہوتا ہے جس سے دوبارہ سوال پیدا نہیں ہوسکتا ہے۔

گلگت بلتستان میں حالات حاضرہ اور سماجی مسائل پر کالم نگاری کرتے ہوئے یہ بات خارج از امکان ہے کہ آئینی حیثیت پر کالم نہ لکھا جائے، بعض کالم نگاروں نے اس موضوع پر عشرے گزارے ہیں اور متعدد شوقین افراد اس موضوع سے ہی اپنی طبع آزمائی شروع کرتے ہیں۔ راقم نے اس موضوع پر اس سے قبل کالم میں لکھا تھا کہ گلگت بلتستان کے آئینی حیثیت کے تعین اور آئینی حقوق کی فراہمی سمیت روشن مستقبل کے لئے غیر سیاسی بنیادوں پر کمیٹی تشکیل دینے کی ضرورت ہے تاکہ معلوم پڑجائے کہ کس کے مطالبے میں کتنا وزن ہے اور کس کا مطالبہ کس بنیاد پر ہے، یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ یہاں پر آئینی حقوق کے حوالے سے ماضی میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر مطالبوں کو پروان چڑھایا گیا ہے اور اب بھی ان مطالبات سے ایک قدم پیچھے ہٹنا مذہبی تشخص ختم پر حملہ قرار دیتے ہوئے مزاحمت کی جاتی ہے، گلگت بلتستان کو اگر کسی چیز نے سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے تو وہ فرقہ واریت اور فرقہ وارانہ سوچ ہے۔

فرقہ واریت نے جہاں سینکڑوں بے گناہ لوگوں کو اجل کی راہ دکھائی ہے جن میں متعدد ایسے افراد تھے جن کی خدمات ناقابل فراموش ہے وہی پر فرقہ وارانہ سوچ نے یہاں کے مستقبل کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کردیا ہے۔ اس سے بڑا ظلم کسی شخص یا علاقے کے ساتھ کیا ہوسکتا ہے کہ اس کے مستقبل کا فیصلہ فرقہ وارانہ سوچ کی بنیاد پر کیا جائے جہاں پر دلیل یا اہمیت کوئی معنی نہیں رکھتے ہوں، ایسی صورتحال میں یقینا لوگوں کے جذبات مجروح ہوں گے اور ٹانگیں جوڑنے والا ڈاکٹر ٹانگیں توڑنے کا اعلان کریگا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں