میڈیا کہے سب ٹھیک ہے


\"ihsanکچھ لوگوں کی جانب سے اکثر میڈیا کے کردار پر تحفظات کا اظہار ہوتا رہتا ہے۔ ان کا یہ فرماناہے کہ میڈیا منفی خبریں پھیلا کر پاکستان کا نام بدنام کررہا ہے۔ تاہم اگر میڈیا کسی حوالے سے کوئی خبر نہ چلائے، تو بھی یہی لوگ گلہ کرتے ہیں کہ انجلینا جولی کی فلم کی خبر نشر ہوتی ہے، کسی ظالم کے ظلم کی کیوں نہیں؟ وغیرہ وغیرہ۔

شاید یہ لوگ ٹھیک ہی کہتے ہیں۔ میڈیا واقعی پاکستان کا نام بدنام کررہا ہے۔ اس تمام تر صورتحال کو دیکھتے ہوئے میں نے سوچا کہ کیوں نہ میڈیا کو کام کرنے کا صحیح اور مستند طریقہ بتاؤں۔
ٹھیک خبریں کچھ یوں ہوں گی:
کراچی میں ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے بیٹے کو کسی نے اغوا نہیں کیا۔ کراچی ہی میں دن دیہاڑے نامعلوم افراد نے کسی بھی قوال کو فائرنگ کا نشانہ نہیں بنایا۔ اور تو اور، کسی ڈاکٹر کو قتل تو کیا، ہاتھ تک بھی نہیں لگایا گیا۔ شہر کے حالات دیکھتے ہوئے انتظامیہ نے تمام کیمرے ہٹانے کے احکامات جاری کردئیے ہیں۔ سب کچھ ٹھیک ہے، فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔

بلوچستان کے حالات دیکھتے ہوئے غیر ملکی سرمایہ کاروں نے خصوصی طور پر پورے بلوچستان میں سرمایہ کاری کی خواہش ظاہر کی ہے۔ کوئٹہ میں کوئی دھماکا نہیں ہوا ہے۔ صوبے میں گزشتہ کئی برسوں سے کوئی ناخوشگوا ر حادثہ نہ ہونے کی وجہ سے بلوچستان دنیا کے دس پُرامن صوبوں میں شامل ہے۔

پنجاب میں کسی بھی لڑکی کو زیادتی کا نشانہ نہیں بنایا گیا۔ قصور میں تو کوئی زیادتی کا لفظ استعمال کرتا ہی نہیں۔ ماڈل ٹاؤن میں پُرتشدد واقعہ سرے سے پیش آیا ہی نہیں۔ پنجاب بھر میں پولیس کے حق میں ریلیاں نکالی جارہی ہیں۔ سب کچھ ٹھیک ہے، فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

خیبر پختونخوا میں بھی وقفے وقفے سے دھماکے نہیں ہورہے۔ تعلیمی درسگاہوں کو تو کوئی میلی آنکھ سے دیکھ بھی نہیں سکتا۔ ایبٹ آباد میں کسی لڑکی کو نہیں جلایا گیا۔ سوات میں کراچی کی طرح کوئی ٹارگٹ کلنگ نہیں ہورہی۔ سیکورٹی چیک پوسٹس نہ ہونے کی وجہ سے ملکی و غیر ملکی سیاح بڑی تعداد میں سوات کا رخ کررہے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں افغان مہاجرین کے حوالے سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

قبائلی علاقوں میں بھی کوئی کشیدگی نہیں ہے۔ قبائل کے لوگ کافی خوش و خرم زندگی گزار رہے ہیں۔ قبائل میں پریس کلب کھلے اور میڈیا آزادانہ طور پر کام کررہا ہے۔ سب کچھ ٹھیک ہے، فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔

پاک افغان بارڈر پر دس سال سے کوئی کشیدگی دیکھنے کو نہیں ملی ہے۔ کسی بارڈر پر گیٹ بھی نہیں لگایا جارہا۔ ہندوستان کے ساتھ خوشگوار تعلقات ہیں۔ وزیر دفاع نے اپنے دفتر میں آرمی سے بریفنگ لی۔ پاکستان میں 2004 سے 2016 تک چار سو سے زائد ڈرون حملے تو کبھی ہوئے بھی نہیں۔

پانا لیکس میں کوئی پاکستانی شامل نہیں۔ یہ سب پاکستان کو بدنام کرنے کی بین الاقوامی سازش ہے۔ ملک کے وزیر اعظم نے اپنے وزرا کو ہدایت دی ہے کہ وزرا ذاتی غیر ملکی دوروں سے گریز کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر میں ملک میں ہوں، تو آپ باہر کیا کررہے ہیں؟ امن و امان دیکھ کر وزیر اعظم سمیت تمام اہم شخصیات نے پروٹوکول لینے سے انکار کردیا ہے۔

مجموعی طور پر ملک میں نا تو کہیں لوڈ شیڈنگ کے خلاف مظاہرے ہورہے ہیں اور نا ہی دوسرے مسائل کا سامنا ہے۔ ملک میں بجلی کی وافر مقدار میں موجودگی کو دیکھتے ہوئے حکومت نے دوسرے ممالک کو بجلی فروخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کوئی لوٹ مار نہیں ہورہی، کرپشن نہیں ہے۔ تمام سیاستدان الزامات سے پاک ہیں۔ ملک میں خوشحالی ہی خوشحالی ہے۔ سب کچھ ٹھیک ہے، فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

احسان علی خان کی دیگر تحریریں
احسان علی خان کی دیگر تحریریں