’’راجہ گدھ‘‘ کے کچھ فکر انگیز پہلو


\"Lubabaمیں نے اس ناول کا آج سے دو سال پہلے مطالعہ کیا اور ایک بار اختتام کو پہنچ کر اگلی بار پھر ایک ہفتے کے فرق سے مطالعے کی غرض سے اٹھا لیا۔ بانو قدسیہ کے اس معرکۃالآرا ناول کی اشاعت 1981 میں ہوئی۔ یہ ناول اپنے عنوان کے اعتبار سے دو الفاظ کا مرکب راجہ اور گدھ ہے۔ جس میں راجہ بادشاہ اور گدھ بمعنی مردار پرندے کے ہیں۔ بانو آپا نے راجہ گدھ کو علامتی طور پر لیا ہے کہ گدھ مردہ اجسام کو کھاتا ہے، کیوں کھاتا ہے؟ کیا یہ اس کی سرشت میں داخل ہے؟ کیا انسان کے میل نے اسے اس کا عادی بنا دیا۔ اس ناول کے موضوع کو گدھ کی ان خصوصیات کو جو مردار کھاتا ہے کچھ انسانوں کی جبلت کے لیے علامت کے طور پر لیا ہے۔ مکمل طور پر کہانی کئی نظریات کے محور میں گردش کرتی ہے ایک فرائیڈ کا نظریہ انسانی جبلت، جہاں انسان کی اشتہا کا کسی بھی صورت میں پایہء تکمیل ہونا ضروری ہے۔
مگر مصنفہ کہتی ہیں کہ ایسی اشتہا عشقِ لاحاصل کی جستجو ہے۔
’’مانے نہ مانے کوئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اصل پاگل پن کی صرف ایک وجہ ہے۔۔۔۔ صرف ایک وجہ، عشق لاحاصل۔۔۔۔ عشق لاحاصل۔۔۔۔۔۔۔ عشق لاحاصل۔ ‘‘
دوسرا نظریہ حرام اور حلال رزق سے انسان میں پیدا ہونے والی بائیلوجیکل تبدیلی جو مابعد الطبیعات اور انسانی نفسیات کے تغیر کا بڑا سبب بنتی ہے جس کے نتائج دور تک دکھائی دیتے ہیں اور آنے والی کئی نسلیں یا تو ہمہ وقت یا پھر کسی ایک نسل کی تباہی کا ذمہ دار ٹھہرتی ہے۔ مصنفہ ناول میں امیر طبقہ کے اس گھرانے کو پیش کرتی ہیں جو بیوروکریسی کے سبب اپنی عائلی زندگی کی چپقلش میں اولاد کو زندہ درگور کر دیتا ہے۔ سیمی اسی گھرانے کی لڑکی جو اس کہانی کا اہم کردار اسی چپقلش اور بے توجہی کا شکار ہوکر حالات کے ہاتھوں محبت میں ناکامی کی وجہ سے خودکشی کرلیتی ہے۔ دراصل کہانی آفتاب قالین ساز گھرانے کا دولت مند خوش شکل نوجوان، سیمی حسین اور امیر طبقے سے تعلق، قیوم دیہاتی نوجوان کی محبت کی تکون ہے جس میں سیمی و آفتاب ایک دوسرے سے اور قیوم سیمی سے محبت کرتا ہے مگر آٖفتاب اپنے خاندان کے دباؤ میں آکر ان کی مرضی سے شادی رچا لیتا ہے۔ سیمی اس صدمے کو برداشت کی ناقابلِ انتہا حالت تک پہنچ جاتی ہے اور قیوم سے محض اس لیے غلط مراسم قائم کر لیتی ہے کہ شاید آفتاب اور قیوم دونوں نے ہاسٹل میں ایک ساتھ رہتے ہوئے ہم جنسی وقت گزارا ہو، اس کے باوجود بھی وہ خود کشی جیسے انتہائی قدم سے باز نہ آسکی مگر والدین نے پھر بھی پلٹ کر خبر نہ لی۔ کہانی ایک دوسرا موڑ لیتی ہے جہاں پروفیسر سہیل جو گورنمنٹ کالج لاہور میں ان تینوں کے سوشیالوجی کے پروفیسر ہوتے ہیں، کی ملاقات قیوم سے ہوتی ہے۔ پروفیسر سہیل قیوم کی حالت السر کو دیکھ کر مختلف یوگا کی مشقیں کرنے کی تجاویز دیتے ہیں۔ قیوم کی یہ حالت پے درپے مختلف عورتوں سے کیے گئے ناجائز تعلقات کی بناء پر ہوتی ہے جہاں اس کا جسم اور روح بری طرح متاثر ہوچکی ہوتی ہے۔ قیوم معاشرے کا وہ فرد ہے جس کی شومئی قسمت دیکھئے کہ وہ جس عورت کی طرف بڑھتا ہے وہ پہلے کسی نا کسی سے وابستہ ہوتی ہے اور یوں قیوم کے اس سے تعلقات گدھ کے علامتی معنی کو پورا کرتے ہیں۔ مصنفہ اس کا جواز یوں سامنے لاتی ہیں کہ اس کی پچھلی نسلیں ایسے کسی جرم اور رزقِ حرام کی مرتکب ہوئیں۔

کہانی اہنے انجام کو آفتاب کی پاکستان واپسی پر اس کے بیٹے کی حالت پر ختم ہوجاتی ہے، جہاں وہ بیٹے کو پاگل پن کی کیفیت میں لے کر آتا ہے۔ اب وہ بیٹے کو اس حالت دیوانگی میں دیکھ کر اذیت و کرب تا عمر برادشت کرے گا جو اس کا سیمی کے ساتھ کی گئی زیادتی کا مکافاتِ عمل ہے۔
مصنفہ کا اسلوب سادہ اور جدید وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہے۔ انگریزی زبان کے الفاظ کی اردو میں آمیزش چونکہ آج کا رواج ہے سو ناول میں الفاظ کا بکثرت استعمال ملتا ہے جس سے تعلیم یافتہ اور اپر کلاس کی نمائندگی حقیقت کا رنگ بھرنے اور کہانی میں ماحول کی آبیاری کے لئے انتہائی ضروری تصور کی جاتی ہے۔ نئے سائنسی علم کے مطابق غذا معدے تک پہنچ کر نا صرف جسمانی بلکہ ذہنی تبدیلیوں کا بھی مؤجب بنتی ہے جو انسان سے ضبطِ نفس یعنی برداشت و صبر چھین لیتی ہے۔
ناول انتہائی فکر انگیز پہلوؤں کا ادراک کرواتا ہے جن پر مذہبی نظریہ سمجھ کر توجہ نہیں دی جاتی۔ اخلاقِ فضیلہ سے پہلو تہی اخلاقِ رذیلہ کو جنم دیتی ہے جہاں شاہین و عقاب پیدا نہیں ہوتے بلکہ راجہ گدھ پیدا ہوکر سماج کو اپنی لپیٹ میں لے کر ٹھکانے لگا دیتے ہیں۔ علامتی ( Metahphor) افسانہ نگاری میں تحریر کیا گیا یہ ناول مکمل طور پر علامتی نہیں جس سے قاری تک رسائی آسان اور آج کے قاری کے ذہن کی تسکین کا بھی سبب ہے جو تصورات کے بجائے حقیقت کی دنیا کا باسی ہے۔ بلاشبہ یہ ناول ایک نفسیاتی ناول اور کلاسیکل ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

لبابہ نجمی کی دیگر تحریریں
لبابہ نجمی کی دیگر تحریریں

2 thoughts on “’’راجہ گدھ‘‘ کے کچھ فکر انگیز پہلو

  • 29-06-2016 at 12:28 am
    Permalink

    اچھا فکری تجزیہ ہے بس ایک کمی ہے کہ بہت ہی کم یعنی مختصر تجزیہ ہے☺

  • 08-07-2016 at 2:22 am
    Permalink

    کمال تحقیق اور تجزیہ ہے. بانو آپا ثانی نہیں

    آپنے بھی خلاصہ میں خوب نبھایا ہے، لبابہ

Comments are closed.