سیکس، میڈیا اور ریٹنگ


ہماری تعلیم مکمل ہونے کے بس قریب ہی تھی۔ خوش گمانی ایسی تھی کہ ہم نے بڑے فخر سے اپنے آپ کو ‘میڈیا سکالر’ بھی کہنا شروع کر دیا تھا۔ آخری سمیسٹر چل رہا تھا اب تو یہ ہمارا ‘حق’ بن گیا تھا کہ ہمیں میڈیا ایکسپرٹ کہہ کر پکارا جائے۔
ان ہی دنوں ہمیں ایک مخصوص سبجیکٹ پڑھانے ایک پروفیسر دوسری یونیورسٹی سے آتی تھیں۔ وہ ایک خوش شکل خاتون تھیں اور کبھی کبھار مسکرا بھی لیا کرتی تھیں۔ لیکن ان کی شخصیت میں ایسا رعب اور دبدبہ تھا کہ ہماری پوری کلاس ہی ان سے ڈرتی تھی۔ امتحانات قریب آئے تو سب اساتذہ نے ہمیں اپنے اپنے پیپر پٹرن بتا دیے لیکن ان میڈم نے کہا کہ میں پیپر کی جگہ آپ سے ایک اسائنمٹ لوں گی۔ ہم سب بہت خوش تھے کہ چلو پیپر سے جان چھوٹ گئی، بس ایک اسائنمنٹ کاپی پیسٹ کر کے دے دیں گے لیکن جب اسائنمنٹ کا عنوان ہمارے سامنے آیا تو ہم سب ‘سکالرز’ کے ہوش اُڑ گئے۔ پہلے تو عنوان کے الفاظ ہی اتنے ٹیکنیکل تھے کے ہم یہ ہی سمجھنے سے قاصر تھے کے اس میں پوچھا کیا گیا ہے؟
پھر ‘سکالرز’ کے اُڑے ہوئے ہوش دیکھ کر میڈم نے تھوڑی وضاحت کی تو بس اتنی سمجھ آئی کہ پوچھا گیا ہےکہ 1947ء سے اب تک معاشرے نے میڈیا کو بدلنے میں کیا کردار ادا کیا ہے؟
ہم تقریباً پچیس سے زائد مضامین پڑھ چکے تھے لیکن کبھی کہیں یہ نہیں پڑھا تھا کہ معاشرے نے میڈیا کو تبدیل کیا ہو! سوائے ایک دو تھیوریز کے, جن میں ‘ایکٹو آڈینس’ کی بات کی گئی تھی۔ اسائنمٹ کی پریزینٹیشن کے بعد جب نتائج آئے تو پوری کلاس فیل تھی۔ پھر میڈم کی منت سماجت کر کے دوسرا موقعہ لیا اور پھر سے اسائنمٹ بنائی، جس میں ہم اللہ اللہ کر کے صرف پاس ہوئے اور اسی کو غنیمت جانا۔
پروفیشنل زندگی میں آنے کے بعد مجھے آہستہ آہستہ سمجھ آنا شروع ہوا کہ ہر بار میڈیا ہی ایجنڈا سیٹ نہیں کرتا۔ بہت بار ایجنڈا سیٹنگ معاشرے اور صارفین کی طلب اور ضرورت کے مطابق ہوتی ہے۔ ہم اکثر دیکھتے ہیں مختلف چینلز اور فیس بک پیجز پر خبر سنسنی خیز طریقے سے دی جاتی ہے کیونکہ لوگ سادہ خبر کو عام سمجھتے ہیں اور بہت بار ایسی خبریں دی جاتی ہیں، جن کے بارے میں لوگ زیادہ جاننا چاہتے ہیں ۔ زیادہ صارفین کی دوڑ میں مختلف ویب سائٹس ایسے مخصوص الفاظ کا چناؤ کرتی ہیں، جن کے بارے ہیں خیال کیا جاتا ہے کہ لوگ ان الفاظ کو زیادہ ٹائپ کر کے مختلف ذرائع سے مواد ڈھونڈتے ہیں۔
جب کوئی ایک ڈرامہ، فلم یا جوڑی ہٹ ہو جائے تو اسی سے ملتی جلتی کہانیوں پر ڈرامے اور فلمیں بننے لگتی ہیں، ان ہی جوڑیوں کی طلب بڑھ جاتی ہے۔ میڈیا ریٹنگ کا دارومدار آڈینس اور ویورشپ پر ہی ہوتا ہے۔ میڈیا کی کامیابی میں معاشرہ بہت بڑا کردار ادا کرتا ہے۔ جب میں ایک ای پیپر کے لیے نیوز آرٹیکلز لکھتی تھی تو مجھے یہ تاکید کی گئی تھی کہ ہیڈلائنز انتہائی دلکش اور جاذب نظر ہونی چاہئیں۔ ایک بار مجھے اموجی ایمجز پر ایک آرٹیکل لکھنے کا موقع ملا، جس میں اموجی ایمجز استعمال کرنے والوں کی شخصیت کے بارے میں بتایا جانا تھا۔ اس کی ہیڈلائن لفظ ‘سیکس’ سے شروع کی گئی۔ اس آرٹیکل میں سیکس سے متعلق کوئی بات نہیں تھی صرف لفظ ‘جینڈر کی جگہ سیکس استعمال کیا گیا تھا۔
جب اس نیوز آرٹیکل کی ویورشپ دیکھی گئی تو وہ ہزاروں میں تھی۔ ہمارے ہاں ہمیشہ میڈیا کو ہی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے کہ میڈیا نے معاشرہ خراب کر دیا ہے اور میڈیا معاشرے میں فحاشی پھیلا رہا ہے وغیرہ وغیرہ۔
مگر معاشرے کی عادات پر بہت ہی کم تنقید کی جاتی ہے۔ سارا ملبہ میڈیا پر ہی ڈال کر بات ختم کر دی جاتی ہے۔ جب یوٹیوب بین کر دی گئی تھی تو لوگ پراکسی لگا کر یوٹیوب استعمال کر رہے تھے۔
گزشتہ کچھ عرصے سے پورن فلموں تک دسترس انتہائی مشکل بنا دی گئی ہے لیکن پھر بھی پاکستان سب سے زیادہ پورن فلمیں دیکھنے والے ممالک کی فہرست میں شامل ہے۔
ہم ایک حد تک میڈیا پر تنقید کر سکتے ہیں کہ میڈیا نے ‘معاشرے کو تباہ’ کرنے میں کردار ادا کیا ہے لیکن ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ معاشرہ خود بھی ‘تباہی کے راستے ڈھونڈتا’ رہا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

سدرہ المنتہیٰ کی دیگر تحریریں
سدرہ المنتہیٰ کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں