پاکستان کے مسائل کا حل


\"mujahid

پاکستان کی سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے ایک تازہ ٹی وی انٹرویو میں بعض اہم باتیں کی ہیں جن سے سبق سیکھتے ہوئے  ملک کی حکمت عملی ترتیب دینے میں مدد لی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ بات طے ہے کشمیر کا تنازعہ جنگ سے حل نہیں ہو سکتا۔ اس نتیجے پر پہنچنے کے بعد ضروری ہے کہ دوسرے طریقوں سے یہ معاملہ حل کرنے کے لئے پالیسی ترتیب دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی خارجہ پالیسی صرف ردعمل تک محدود ہے۔ ہم خود کوئی مقصد متعین کرکے اس کے لئے کام نہیں کرتے۔ اسی طرح گزشتہ چھ دہائیوں میں نفرت کا پیغام عام کیا گیا ہے جس کی وجہ سے ہم اپنے ہمسایوں کے ساتھ تنازعات کا شکار ہیں۔

حنا ربانی کھر 2011 سے 2013 کے دوران ملک کی وزیر خارجہ رہی تھیں۔ ان کا یہ مشورہ قابل غور ہے کہ کشمیر کے معاملہ پر ملک میں نیا مزاج استوار کرنے اور اسے حل کرنے کے لئے دشمنی اور تصادم کی بجائے دوستی و مفاہمت کا ماحول پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ کشمیر کے مسئلہ پر پاکستان کی پالیسی ابھی تک اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عمل درآمد اور بھارت کے ساتھ فوجی مقابلہ کرنے پر استوار ہے۔ یہ دونوں اقدام ناقابل عمل ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ کشمیری عوام کی اکثریت بھی استصواب کے تحت کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کروانے کی بجائے ، خود اپنے علاقوں کے بارے میں خود مختارانہ فیصلے کرنے کی بات کرتی ہے۔ یہ الزام بھی عام طور سے سننے میں آتا ہے کہ پاکستان اور بھارت اپنے اپنے زیر انتظام کشمیری علاقوں میں مفاد پرست کشمیری لیڈروں کے ذریعے صرف اسلام آباد اور نئی دہلی کے اختیار کردہ مؤقف کی حمایت میں آواز بلند کرواکے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان علاقوں کے لوگ صرف ان کے مؤقف کی حمایت کرتے ہیں۔ یہ تاثر غلط بھی ہے اور کشمیر کے مسئلہ کو الجھانے کا سبب بھی بن رہا ہے۔ حنا ربانی کھر کا یہ مؤقف بالکل درست ہے کہ اگر ہم جانتے ہیں کہ اس مسئلہ کو فوجی تصادم سے حل نہیں کیا جا سکتا اور اقوام متحدہ اس حوالے سے غیر مؤثر اور غیر متعلق ادارہ کی حیثیت اختیار کرچکا ہے تو اسے حل کرنے کا ایک ہی طریقہ باقی رہ جاتا ہے کہ بھارت کے ساتھ تعلقات بحال کئے جائیں ، دشمنی کا رشتہ ختم کرکے دوستی کا رشتہ استوار کیا جائے اور مختلف شعبوں میں تعاون کے ذریعے ایسا ماحول پیدا کیا جائے کہ متنازعہ امور پر مل جل کر بات کی جا سکے اور مسائل کا حل تلاش کرنا ممکن ہو سکے۔ پالیسی میں ایسی تبدیلی کے بغیرہم اپنے علاقے میں بدستور مشکلات میں گھرے رہیں گے۔

\"hina-khar\"

سابق وزیر خارجہ نے تصادم کی حکمت عملی کی وضاحت کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ہم نے گزشتہ 60 برس کے دوران اپنے بچوں کو صرف نفرت کرنا سکھایا ہے۔ اسی نفرت کی وجہ سے پاکستان نے بھارت کے ساتھ دشمنی کا تصور عام کیا ہے اور اب اسی کے نتیجے میں افغانستان کے ساتھ تنازعہ اور تصادم کی کیفیت پیدا کی جا رہی ہے۔ اس طرح ہم خود کو اپنے ہمسایوں کے ساتھ مسلسل تصادم کی کیفیت میں مبتلا کئے ہوئے ہیں۔ پاکستان کے اکثر دانشور بھی اس افسوسناک صورت حال کی طرف اشارہ کرتے رہتے ہیں کہ بھارت دشمنی میں ملک کی نصابی کتابوں میں مسخ شدہ تاریخ پڑھائی جاتی ہے اور ہندوؤں کے علاوہ دیگر اقلیتی گروہوں کے خلاف نفرت انگیز مواد شامل کیا گیا ہے۔ اس کے نتیجے میں ایک طرف بھارت کے ساتھ دشمنی اور مخالفت کا تعلق استوار ہوتا رہا ہے تو دوسری طرف ملک کی اقلیتوں کو عوام کے غیظ و غضب کا نشانہ بننا پڑتا ہے۔ ملک کے مذہبی گروہ اور میڈیا کا بہت بڑا حصہ بھی ان غلط معلومات کی بنیاد پر ہی نفرت کا پروپیگنڈا کرنے میں مصروف رہتا ہے۔ پاکستان کو جس صورت حال کا سامنا ہے ، اسے تبدیل کرنے کے لئے یہ رویہ بدلنے اورپالیسی تبدیل کرنے کے علاوہ نصاب اور سوچ کا طریقہ بدلنے کی بھی ضرورت ہوگی۔

حنا ربانی کھر کا کہنا ہے کہ پاکستان اس وقت مؤثر اور با مقصد پالیسی پر عمل کرنے کی بجائے ’رد عمل‘ کی پالیسی اختیار کرتا ہے۔ اسی لئے اس کا اپنا کوئی نظریہ سامنے نہیں آتا۔ ملک کی خارجہ پالیسی کو قومی مفادات کے حصول کے لئے ایک مؤثر ہتھیار بنانے کی ضرورت ہے۔ لیکن یہ مقصد اسی وقت حاصل کیا جا سکتا ہے جب حکومت ملک کے دیگر اہم اداروں کے مشورہ سے خارجہ پالیسی کو ترتیب دے اور اس کی بنیاد ہمسایوں اور دنیا کے دیگر ملکوں کے ساتھ دوستی اور تعاون کی راہ ہموار کرنا ہو۔

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 674 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali