’ہم سب‘ اور ’وہ سب‘


razi uddin raziراشد رحمان انسانی حقوق کے لیے سرگرم رہتے تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی ان لوگوں کے لیے وقف کررکھی تھی جن کی کہیں کوئی شنوائی نہ ہوتی تھی۔ جہاں قانون نافذ کرنے والے ادارے اورانصاف فراہم کرنے والی عدالتیں بے بس ہوجاتی تھیں وہاں سے راشد رحمان کا کام شروع ہوجاتاتھا۔ کسی کو نجی جیل سے برآمد کرواتے،کسی کو قانونی تحفظ فراہم کرتے،کبھی مزدوروں کی بات کرتے ،کبھی صحافیوں کے حقوق کے لیے میدان میں آتے ۔شہر کی سیاسی،سماجی، ثقافتی سرگرمیوں میں بھرپورحصہ لیتے تھے۔ایک متحرک نوجوان جو کبھی مزدوروں کے جلسے میں موجود ہوتا، کبھی خواتین کے حقوق کی بات کرتا،تو کبھی بھٹہ مزدوروں کے لیے میدان میں آجاتا۔ اقلیتوں سے تعلق رکھنے والوں کی جب کہیں داد رسی نہ ہوتی تو وہ راشد رحمان سے مدد طلب کرتے۔ دو سال پہلے روزنامہ جنگ اور جیو پر براوقت آیااوراس ادارے کو ملکی سلامتی کے لیے خطرہ قراردیاجانے لگا تو کسی کے اشارے پر بہت سی نام نہاد تنظیمیں احتجاجی مظاہرے کرنے لگیں۔ ایک ایسا ماحول بن گیا کہ کوئی جنگ اور جیو کے حق میں بات کرنے کو بھی تیار نہ تھا ۔ ایسے میں ہوا کے مخالف رخ پر ایک جلسہ ملتان پریس کلب میں منعقد کیا گیا جس کامقصد صرف یہ تھا کہ کسی ادارے کے خلاف کوئی یک طرفہ مہم چلا کر اس کے کارکنوں کامعاشی قتل نہ کیا جائے۔اس جلسے میں بہت کم لوگ شریک ہوئے ۔خودصحافی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے نام نہاد لیڈروں میں بھی اتنی جرات نہیں تھی کہ وہ ہوا کے مخالف چل سکیں۔ راشد رحمان البتہ اس جلسے میں موجودتھے انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں ریاستی جبر کی مذمت اور کارکن صحافیوں کی حمایت کا اعلان کیا ۔اسی رات نامعلوم افراد نے ان کے دفتر میں گھس کران کی زندگی کاچراغ گل کردیا۔ راشد رحمان ان دنوں ذکریا یونیورسٹی کے ایک زیرحراست پروفیسرکے وکیل صفائی بھی تھے۔ اس نوجوان پروفیسر کو محکمانہ چپقلش کے نتیجے میں ایک ایسے مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا کہ اب کوئی بھی وکیل اس کی پیروی کے لیے تیارنہیں تھا۔ راشد رحمان نے یہ ذمہ داری خود سنبھال لی۔ انہیں انتہا پسندوں کی جانب سے قتل کی دھمکیاں بھی دی جارہی تھیں لیکن یہ دھمکیاں اس نوجوان کو پہلی بار تو نہیں ملی تھیں ۔ سوانہوں نے دھمکیوں کی پرواہ کیے بغیر ملزم کی پیروی جاری رکھی۔ راشد رحمان ک اقتل دراصل ایک پیغام تھا ان لوگوں کے لیے جو انصاف کی بات کرتے ہیں ،انسانی حقوق کی بات کرتے ہیں اور اس ملک کو چند گروہوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے جانے کی راہ میں رکاوٹ سمجھے جاتے ہیں۔اس واقعہ کے بعد ایک سناٹا طاری ہو گیا۔ خود انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی کھل کر راشد رحمان کے قتل کی مذمت نہ کرسکیں۔ راشد کے قتل کے تیسرے روزقل خوانی کے بعد مختلف شہروں سے آئے ہوئے راشد رحمان کے دوست تعزیت کے لیے حسن پروانہ کالونی ملتان میں واقع ان کی رہائش گاہ پرپہنچے توانہوں نے دیکھا کہ راشد رحمان کے گھر کے موڑ پر بینڈ باجا اورڈھول بجایا جا رہا تھا اوراس کی آواز راشد رحمان کے گھر تک آ رہی تھی۔ معلوم ہوا کہ یہ شادیانے صبح سے بجائے جارہے ہیں۔ مہمانوں نے راشد رحمان کے عزیز و اقارب سے جب دریافت کیا کہ کیا گردونواح میں شادی کی تقریب ہے تو انہوں نے اس پر لاعلمی کا اظہار کیا۔ کچھ دیر کے بعد ڈھول باجوں کی آواز ختم ہوگئی اورجب تعزیت کرنے والے راشد کے گھر سے باہرنکلے تو گلی کی نکڑ پر کوئی بھی موجود نہیں تھا۔ یہ ڈھول باجے والے کون تھے؟ کہاں سے آئے تھے؟ کس تقریب کے لیے آئے تھے؟ اوروہ سب اب کہاں چلے گئے تھے، اس بارے میں اہل محلہ کو کچھ علم نہیں تھا۔
اہل محلہ تو نہیں جانتے تھے لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ وہ سب کون تھے۔ ہماری اور ان کی لڑائی ازل سے جاری ہے اور ابد تک جاری رہے گی۔ایک جانب ہم سب ہیں جنہیں قتل ہونا ہوتا ہے اور دوسری جانب وہ سب ہیں جو ہمیں قتل کر کے شادیانے بجاتے ہیں ۔ ہم سب روشنی کے علمبردار ہیں۔ جوآزادی کی بات کرتے ہیں، جو انسانی حقوق کااحترام کرتے ہیں، جو یہ چاہتے ہیں کہ اس معاشرے میں موت کا رقص نہ ہو، خون کی ہولی نہ کھیلی جائے اور دوسری جانب وہ سب ہیں جوہماری سوچ پر پہرہ لگانا چاہتے ہیں۔ جو اس معاشرے کو تاریکی میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔ جو صرف اپنے آپ کو درست اور باقی سب کو غلط سمجھتے ہیں، وہ فتوے عائد کرتے ہیں، قتل کے فرمان جاری کرتے ہیں۔ ہم سب اکثریت میں ہیں اور وہ اقلیت میں ،لیکن وہ دلیل کی بجائے ہتھیار کی زبان استعمال کرتے ہیں، وہ کبھی ہمیں غیرملکی ایجنٹ قراردیتے ہیں، کبھی فاشسٹ لبرل کا طعنہ دیتے ہیں، وہ چن چن کر ہمارے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں، ہماری آواز کودباتے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ ہم خوفزدہ ہوجائیں گے، ہم بات کرنا چھوڑ جائیں گے، ہم لکھنا ترک کر دیں گے، لیکن وہ سب نہیں جانتے کہ ہم سب اس ظلم اور جبر کے خلاف صدیوں سے مزاحمت کر رہے ہیں۔ ہم سب لڑنا تو نہیں جانتے لیکن مقابلہ ضرور کر سکتے ہیں۔ ہم نے صدیوں پہلے بھی ان کا مقابلہ کیا، ہر عہد میں ہم سب کی آواز دبانے کی کوشش کی گئی لیکن یہ آواز کل بھی نہیں دبائی جا سکی تھی اب بھی نہ دبائی جا سکے گی۔ ہم سب مرتے رہیں گے لیکن یہ سفر جاری رہے گا۔


Comments

FB Login Required - comments