روس کا نیوکلیائی کدو بم


\"adnan-khan-kakar-mukalima-3\"

30-11-2015

ہوا یوں کہ ترکی نے غالباً اندرونی سیاسی حالات کی وجہ سے، یا پھر شامی \”تزویراتی گہرائی\” کے شوق میں، روس کا ایک نہتا بمبار گرا دیا جو کہ اس کی فضاؤں سے باہر تھا، یا زیادہ سے زیادہ پانچ سیکنڈ کے لیے اس میں سے گزرا تھا۔ یہ سٹریٹیجک ڈیپٹھ کا شوق بھی مروا دیتا ہے۔

ادھر روسی صدر پوتن اس پر شدید ناراض ہوئے اور ترکی سے معافی مانگنے کا مطالبہ کر دیا۔

اس پر ایردوان صاحب نے فرمایا کہ \”یہ تو ہمارا فرض تھا، معافی کیسی؟ اور دیکھو، میں ڈرتا ورتا کسی سے نہیں ہوں، لیکن آئندہ شام کی فضا میں ترکی کا کوئی لڑاکا یا بمبار جہاز اگر مجھے اڑتا ہوا نظر آیا تو نہایت سختی سے پیش آؤں گا۔ اور یہ مت سمجھنا کہ تمہارے جدید ترین ایس 400 طیارہ شکن میزائلوں سے گھبرا کر میں نے یہ فیصلہ کیا ہے۔ بس یہی سوچ کر یہ حکم جاری کیا ہے کہ پہلے سے مرے کو کیا مارنا۔\”

غالباً اس پر شکر ادا کیا جانا چاہیے کہ روس میں پوتن حکمران ہیں، کوئی مغضوب الغضب جنگجو نہیں، ورنہ اس وقت ہم تیسری جنگ عظیم سے لطف اندوز ہو رہے ہوتے اور انٹرنیٹ بند ہوتا اور ہم سب ٹی وی پر بریکنگ نیوز دیکھ رہے ہوتے۔ حالانکہ وہاں روس میں ایک لیڈر نے صدا تو بلند کی تھی کہ ترکی پر ایٹم بم مار دیا جائے، لیکن اس مرد مجاہد کی بات پر کسی نے توجہ ہی نہی کی۔  دنیا میں سب سے بڑی ایٹمی طاقت ہوتے ہوئے، اور کم و بیش آٹھ ہزار ایٹمی ہتھیار رکھتے ہوئے بھی، پوتن نے فیصلہ کیا کہ ایٹم بم مارنے کی بجائے زیادہ مہلک وار کیا جائے۔ انہوں نے کدو بم استعمال کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

ترکی میں انطالیہ کا صوبہ اپنی زرعی پیداوار اور ساحلوں کی وجہ سے مشہور ہے۔ وہ روس کو کدو، گوبھی، شلجم مولی وغیرہ برآمد کرتے ہیں اور روس سے سیاح درآمد کرتے ہیں۔ اب پوتن نے جہاز گرائے جانے کے بعد اچانک یہ محسوس کیا کہ ترکی سے اچھِی کوالٹی کے کدو نہیں آ رہے ہیں اس لیے بارڈر پر ترک پھل سبزی کی چیکنگ زیادہ سخت ہونی چاہیے۔ سو کدو وغیرہ سے لدے ہوئے ہزاروں ترک ٹرک بارڈر پر روک دیے گئے اور ساری پھل پھلاری سڑنے لگی۔ ادھر بحری جہازوں پر بھی یہی معاملہ پیش آیا۔ انطالیہ کے ممبران پارلیمنٹ کا اندازہ ہے کہ اس علاقے کو ساڑھے چھے ارب ڈالر سے زیادہ کا کدو اور سیاح لڑ گیا ہے۔ اور ترک جی ڈی پی کو تین فیصد کا نقصان پہنچنے کا امکان ہے۔

اس پر ایردوان صاحب نے فرمایا کہ \”گو کہ یہ ہمارا فرض تھا، لیکن اب ہمیں اس پر دلی افسوس ہے۔ غم کی شدت سے ہمارے دل کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے ہیں اور مستقبل میں ایسا نہ ہو تو کیا ہی بات ہو۔ دیکھو ہم تو روس سے بس یہی کہتے ہیں کہ چلو اس معاملے پر بات کر کے مک مکا کر لیتے ہیں۔ ہم دونوں ایک دوسرے سے لڑ مر کر اور اپنا رشتہ ختم کر کے محلے داروں کے دل تو خوش نہ کریں۔ چلو ایسا کرتے ہیں کہ پیرس میں ہونے والی اقوام متحدہ کی ماحول کی تبدیلی والی کانفرینس میں مل کر سارے گلے شکوے ختم کریں اور پھر سے ایک ہو جائیں\”۔

ایردوان صاحب تو اتنے دکھی ہوئے کہ انہوں نے شام سے روسی پائلٹ کی لاش ترکی منگوائی ہے اور اسے مشرقی یونانی آرتھوڈاکس چرچ کی ایک باوقار تقریب میں سرکاری اعزازات کے ساتھ ہونے والی آخری رسومات ادا کر کے روس بھیجا گیا ہے۔ غالباً اس جوانمرگی پر ہی صدر ایردوان کا دل نرم پڑا ہوا تھا۔ انہوں نے پوتن صاحب کو کئی فون بھی کیے کہ چلو بات کرتے ہیں لیکن پوتن صاحب تو اکڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے فون اٹھانے کی زحمت ہی نہیں کی۔ ایردوان صاحب نے دو مرتبہ سندیسہ بھیجا کہ چلو کہیں سکون سے مل بیٹھتے ہیں لیکن پوتن نے ملنے سے انکار کیا ہوا ہے۔

پوتن صاحب ہیں کہ ان کے مزاج ہی نہیں ملتے ہیں۔ لیکن ہیں بہرحال عقل کے پورے ہی۔ یہاں پاکستان کا جہاز اگر بھارت نے اس طرح گرا دیا ہوتا، تو یہاں کے سارے بم نما کدو اس وقت مل کر انڈیا پر ایٹم بم مارنے کے  لیے جلوس نکال چکے ہوتے اور جلوس کے راستے کی ہر چیز کو تباہ کر چکے ہوتے۔ لیکن پوتن صاحب محض کدو بم استعمال کر کے ہی ترکی کا ناطقہ بند کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔

اور وہ جو بابا فرید کہہ گئے ہیں کہ چھٹا رکن ٹک، یعنی لقمہ، ہوتا ہے، تو وہی ٹک اب وہ ایردوان سے چھین کر تڑپانے میں لگے ہوئے ہیں۔

پنج رکن اسلام دے، تے چھیواں فریدا ٹُک

جے نہ لبھے چھیواں، تے پنجے ای جاندے مُک

یعنی

فرید پانچ رکن اسلام کے، اور چھٹا لقمہ ہے

اگر یہ چھٹا نہ ملے تو پانچ کے پانچ ختم ہو جاتے ہیں

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 696 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

One thought on “روس کا نیوکلیائی کدو بم

Comments are closed.