روس کا ٹماٹر میزائل اور ترکی


\"adnan-khan-kakar-mukalima-3\"27-11-2015

بھیا ڈھکن فسادی نہایت خوش تھے۔ آتے ہی روس اور ترکی کا معاملہ چھیڑ بیٹھے۔

بھیا: دیکھا تم نے ترکوں کی غیرت کو؟ روسی بار بار ان کی سرحد کی خلاف ورزی کرتے تھے۔ پہلے تو ترکوں نے انہیں پیار سے سمجھایا بجھایا، لیکن جب روسی نہ مانے، تو انہوں نے میزائل داغ کر روس کا جہاز ہی گرا دیا۔

ہم: بھیا لیکن وہ جہاز تو شام کی سرحد کے چار کلومیٹر اندر جا کر گرا ہے۔

بھیا: بھائی وہ ہوائی جہاز ہے، گدھا گاڑی نہیں ہے۔ روسی جہاز تو سمند خیال سے بھی تیز اڑاتا ہے۔ میزائل لگ کر بھی زمین تک پہنچتے پہنچتے اپنے زور میں ہی چار کلومیٹر طے کر گیا۔

ہم: لیکن روس کا تو شامی فضاؤں کے معاملے پر نیٹو سے معاہدہ ہوا تھا، اور اس کے تحت ہوائی جہاز کو اس طرح نشانہ بنانا غلط ہے۔ اسی وجہ سے بمبار کے ساتھ حفاظت کے لیے فائٹر جہاز نہیں تھے۔

بھیا: ارے معاہدے میں یہ تو نہیں تھا کہ روسی جہاز دندناتے ہوئے ترک علاقے میں گھومتے رہیں گے۔ ترکوں نے پانچ منٹ میں دس وارننگ دیں، لیکن روسی ڈھٹائی پر اترے رہے تو دن سے میزائل داغ کر ان کو خاک چٹا دی۔ اس طرح کوئی جنگی جہاز دوسرے ملک کی فضا میں جائے گا تو اسے گرائیں گے نہیں تو کیا اس کی پوجا کریں گے؟

\"bhaya

ہم: لیکن ترکوں کا اپنا دیا ہوا ڈیٹا کہتا ہے کہ روسی جہاز صرف سترہ سیکنڈ تک ترک فضاؤں میں رہا۔ تو یہ پانچ منٹ تک دس وارننگ کیا جہاز کے ہوائی اڈے سے اڑتے ہی دی جانے لگیں تھیں؟

بھیا: روسیوں کو کچھ بنانا کہاں آتا ہے۔ ان کے ہوائی جہاز بھی گدھا گاڑی کی رفتار سے اڑتے ہیں۔ ترک جہاز جو فاصلہ سترہ سیکنڈ میں طے کرتے ہیں، وہ روسی جہاز پانچ منٹ میں طے کرتا ہو گا۔

ہم: لیکن روسی تو دعوی کر رہے ہیں کہ جس وقت جہاز کو نشانہ بنایا گیا تو وہ شامی سرحد کے ایک کلومیٹر اندر تھا۔

بھیا: جھوٹ کے پاؤں تو نہیں ہوتے۔

ہم: پاؤں سے یاد آیا، جب روسی ہواباز پیراشوٹ سے اتر رہے تھے، تو ان کو ترکمان جنگجووں نے فائرنگ کر کے نشانہ کیوں بنایا؟ ان کو نیچے اترنے کے بعد زندہ گرفتار کیوں نہیں کیا گیا؟ یہ ترکمان ترک حکومت کے زیر اثر ہیں، اور ترک وزیراعظم نے ان کو اپنا بھائی کہا ہے۔

بھیا: ترکمانوں نے انہیں ڈرانے دھمکانے کی غرض سے ہوائی فائرنگ کی ہو گی۔ ترکوں نے انہیں کہا ہوا ہے کہ کسی دشمن سے ہتھیار ڈلوانے کے لیے اس پر سیدھی فائرنگ کی بجائے ہوائی فائرنگ کر کے اسے ڈرایا جائے تاکہ وہ ہتھیار ڈال دے اور وہ صحیح سلامت گرفتار ہو جائے۔ یہ محض اتفاق تھا کہ روسی ہواباز اس وقت ہوا میں تھے جب انہیں ڈرانے کے لیے ہوائی فائرنگ کی گئی۔ ورنہ ترکمانوں کی نیت تو صحیح سلامت گرفتاری کی تھی۔

ہم: جون 2012 میں ایک ترک جنگی جہاز شام کی فضاؤں میں پانچ منٹ تک اڑتا رہا تھا جس پر اسے وارننگ دی گئی تھی۔ وہ باہر نکل گیا اور چند منٹ بعد واپس شامی حدود میں پہنچ گیا تو اسے طیارہ شکن توپوں سے فائرنگ کر کے گرا دیا گیا تھا۔  اس پر اس وقت کے ترک صدر عبداللہ گل نے کہا تھا کہ لڑاکا جہاز بھول چوک سے سرحدوں کے اندر باہر ہوتے رہتے ہیں۔ ہمسایہ ممالک کو ایسے معاملات پر تحمل کا ثبوت دینا چاہیے۔ اور اس وقت کے وزیراعظم ایردوان نے کہا تھا کہ مختصر مدت کے لیے کی جانے والی سرحدی خلاف ورزی کسی بھی صورت میں حملے کا جواز نہیں ہو سکتی ہے۔ وہاں پانچ منٹ بھی کم تھے، اور یہاں سترہ سیکنڈ بھی بہت ٹھہرے ہیں۔

بھیا: شامی تو ہیں ہی خون آشام۔ وہ تو جنگ کرنے کے بہانے ڈھونڈتے ہیں۔

ہم: اس وقت صدر بشار الاسد نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ کاش ایسا نہ ہوا ہوتا۔ ترک حکومت نے کیا کیا ہے؟ سنا ہے روسیوں نے معافی کا مطالبہ کیا ہے؟

بھیا: ارے شامی تو کمزور ہیں، معافی مانگ گئے۔ ورنہ ان کو پتہ تھا کہ بہادر ترک ان کے ساتھ کیا سلوک کرتے۔ روس کے معاملے پر ترک معافی مانگنے کی بجائے نیٹو کو بلانے چلے گئے تھے کہ لڑائی کی تیاری پکڑو۔ ہمیں بچا لو۔

ہم: ویسے طاقت کی بات ہے تو روسی اپنے ایٹمی میزائلوں سے چاند کو بھی چند بار تباہ کر سکتے ہیں، ترکی تو کافی چھوٹا اور نزدیکی ملک ہے۔ روسیوں کی طاقت کم تو نہیں ہے۔ یہ خبر بھی ہے کہ ترک عوام اس پر احتجاج کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ یہ اے کے پی پارٹی کا احمقانہ جنگی قدم ہے اور وہ اس کے خلاف ہیں۔

بھیا: وہ روسی ایجنٹ ہوں گے۔ وہ احمق یہ نہیں جانتے کہ اگر روسی جہاز اسی طرح داعش کے سرحدی ٹھکانے تباہ کرتے رہے، تو اس کی تیل کی تجارت ختم ہو جائے گی اور سپلائی روٹ تباہ ہو جائیں گے اور داعش جنگ ہار جائے گی۔ ترکی کبھی بھی اس کی اجازت نہیں دے گا۔

ہم: کیا ترکی داعش کی حمایت کرتا ہے؟ ابھی چند دن پہلے ہی تو داعش نے پیرس پر حملہ کر کے ایک ڈیڑھ سو لوگ مار دیے ہیں اور ترکی نے اس کی مذمت کی تھی۔

بھیا: بھلا ترکی کب داعش کی حمایت کرتا ہے۔ وہ تو بس سڑکوں اور تجارتی گزرگاہوں کو محفوظ بنانے کی بات کر رہا ہے۔

ہم: کیا ترکی اب روس سے معافی مانگ لے گا؟

بھیا: ہرگز بھی نہیں۔ صدر ایردوان ایک نہایت غیر مند شخص ہیں۔

ہم: لیکن وزیراعظم داوداولو تو اس واقعے پر اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر روس سے کشیدگی کم کرنے کی بات کر رہے ہیں۔

بھیا: وہ تو بھائی چارے میں کہہ دیا ہو گا۔ روسی کوئی جواب دینے کی ہمت نہیں رکھتے ہیں۔ بہادر ترکوں سے وہ جنگ نہیں چھیڑیں گے۔

ہم: روسی صدر پوتن تو کہہ چکے ہیں کہ وہ جنگ نہیں کریں گے۔

بھیا: دیکھا ؟ ڈر گئے نہ۔

ہم: لیکن روسی حکومت ترکی پر اقتصادی پابندیاں لگانے لگی ہے۔ ترکی کے پاس اپنا تیل گیس نہیں ہے۔ تقریباً ساٹھ فیصد گیس وہ روس سے لیتا ہے۔ سال کے تیس لاکھ روسی سیاح ترکی جاتے ہیں جن سے ترکی خوب پیسے کماتا ہے۔ ترک تعمیراتی شعبہ، ٹیکسٹائل انڈسٹری اور زراعت کا شعبہ اپنا کافی زیادہ مال روس کو برآمد کرتے ہیں۔ روس ترکی کا دوسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ ان پابندیوں کا ترکی پر بہت برا اثر ہو گا۔

بھیا: کیا خاک اثر ہو گا؟ ترک گرم خون والے لوگ ہیں۔ کسی اور ملک سے تجارت کر لیں گے۔ اس سال گیس کہیں اور سے مل جائے گی۔

ہم: بھیا ابھی ترکی میں عین دسمبر میں برف گرتی ہو اور ساٹھ فیصد گھروں اور فیکٹریوں کی گیس بند ہو جائے، تو پھر گرم خون بھی ٹھنڈا ہو جائے گا۔ کہیں اور سے گیس آتے آتے کئی سال لگ جائیں گے۔  ٹھٹھرے ہوئے ترک عوام اپنی حکومت سے خود ہی نمٹ لیں گے۔  روسی وزیراعظم کے ایک نائب جینادی اونیشچنکو نے اپنے عوام کو کہا ہے کہ روسی عوام، ترکی کا ٹماٹر خریدتے ہوئے یہ سوچ لیں کہ اس کا منافع اس میزائل کا حصہ بنے گا جو کہ روسی لوگوں کو مارا جا رہا ہے۔  روس ایٹمی میزائل نہیں مار رہا ہے۔ ۔وہ ٹماٹر کا میزائل مار رہا ہے۔ اور سردی میں جب یہ ٹھنڈا ٹھار میزائل لگے گا، تو ایٹمی میزائل ہی کی سی تاثیر کا حامل ہو گا۔

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 635 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

One thought on “روس کا ٹماٹر میزائل اور ترکی

Comments are closed.