سوال، اختلاف اور دلیل…. مکالمہ کیسے کیا جائے؟


\"wajahat\"اگر بات ہی کرنا ہے تو کیوں نہ اچھے لوگوں کی بات کی جائے۔ بعض انسانوں میں کوئی ایک خوبی ذات کا اتنا بڑا منطقہ گھیر لیتی ہے کہ شخص اور صفت میں فاصلہ نہیں رہتا۔ نام استعارہ بن جاتا ہے اور خوبی کو ایک نام مل جاتا ہے۔ یوسف میں حسن آ جاتا ہے۔ بات کے موضوعی ہونے سے ڈرنا چاہئے لیکن محسوس یہ ہوتا ہے کہ خوبی کی ایک تعریف شاید یہ ہے کہ اس کا دوسری اچھائی سے تصادم نہیں ہوتا۔ گویا خوب وہی ہے جو ہم آہنگی کی طرف بڑھتا ہے، جس میں تضاد کو سمجھنے کی جستجو پائی جاتی ہے اور جس میں اس قدر وسعت پیدا ہوجائے کہ ٹکراؤ، نفرت اور تصادم کے لئے جگہ نہ بچے۔ تو آیئے، تین نام لیتے ہیں۔ محی الدین ابو الکلام آزاد، فیض احمد فیض اور عبد الستار ایدھی۔ اچھائی پر کسی کا اجارہ نہیں، اچھائی کے بہت سے نام ہوتے ہیں۔ اچھائی کی بہت سی صورتیں ہوتی ہیں۔ اگر آپ چاہیں تو اپنے تین پسندیدہ نام لے لیجئے۔ مجھے یقین ہے کہ آپ جو نام لیں گے، وہ نہایت اچھے لوگ ہوں گے۔ یقیناً ان میں بہت سی خوبیاں ہوں گی۔ میں نے اپنے تین نام لئے مگر یہ نام آپ کے تین پسندیدہ ناموں کے مقابلے میں نہیں رکھے۔ جنہیں آپ نے بڑا جانا، وہ بھی یقیناً بہت بڑے ہیں۔ بات کو سمجھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تین صفات ہیں اٹکاؤ، انکار اور لگن۔ یہ تین مختلف راستے ہیں۔ سلوک کی تین راہیں ہیں، جینے کے تین اسلوب کہہ لیجئے۔

آئیے، اٹکاؤ کی کہانی سنیں۔ 1946 کے انتخابات کے بعد پنجاب میں حکومت سازی ہورہی تھی۔ مولانا آزاد سیاسی معاملات دیکھنے کے لئے لاہور تشریف لائے۔ عبدالمجید سالک لکھتے ہیں کہ ریلوے سٹیشن پر مہر صاحب کی معیت میں مولانا سے لمبی بات چیت ہوئی۔ مولانا ایجاز کی کیفیت میں تھے۔ علم پر اختصار کا غلبہ ہو رہا تھا۔ رسان سے فرمایا کہ دنیا میں کار اور شغل اٹکاؤ کے معاملات ہیں۔ توجہ فرمایے کہ اسی عہد میں کئی ہزار میل کے فاصلے پر بہٹھا سارتر بھی یہی لکھ رہا تھا کہ ہم انسان اپنے انتخابات سے متعین ہوتے ہیں۔ غالب نے کوئی سو برس پہلے کہہ رکھا تھا \”واماندگی شوق تراشے ہے پناہیں \”۔ اور رابرٹ فراسٹ بھی ایک شاعر گزرا ہے۔ لکھتا تھا \”جنگل میں دو راستے نکلتے ہیں۔ سارا فرق راستے کے انتخاب کا ہے\”۔ تو 1946 کے موسم گرما کی پرسکون صبح میں مولانا آزاد نے لاہور ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر بیٹھے \”اٹکاؤ\” کا لفظ استعمال کیا۔ سالک صاحب کہتے ہیں، \”میں نے چونک کر پوچھا کہ مولانا یہ الہلال، البلاغ کی صحافت، کانگریس کی صدارت اور غبار خاطر کا ادب عالیہ؟ تو مولانا نے فرمایا \”ہاں بھائی اٹکاؤ ہی تو ہیں\”۔ دیکھئے اگر انتخاب کا معاملہ شعور کی سطح پر پہنچ جائے تو دوسروں کے انتخاب کے لئے جگہ پیدا ہوجاتی ہے۔ رواداری جنم لیتی ہے۔ اختلاف رائے کو مسترد کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ سوچ اور رویے میں وسعت پیدا ہوتی ہے۔ خیال رہے کہ یہ وہی مولانا آزاد ہیں جنہوں نے ترک موالات کی اسیری کے دوران انگریز کی عدالت میں وہ بیان دیا تھا جسے برصغیر پاک و ہند کی جدوجہد آزادی میں \”قول فیصل\” کہتے ہیں۔ انکار کا وقت آیا تو انکار پر شرح صدر سے قیام مگر یہ کہ اپنے انکار کی حدود بھی معلوم ہیں اور مؤقف کا شعور بھی موجود ہے۔

اب انکار ہی کی ایک دوسری صورت دیکھیے۔ کیا یہ بات حیران کن نہیں کہ بیسویں صدی کے اردو ادب میں فیض صاحب حرف انکار کا استعارہ ٹھہرے۔ دوسروں کے لئے بھی جرات انکار کی دعا کی۔ اس پر یہ زاویہ بھی مد نظر رہے کہ فیض دھیمے لہجے کا شاعر۔ جیسے صحراؤں میں ہولے سے چلے باد نسیم۔۔ فیض نرم روی کا نشان، دست صبا جیسا سبک استعارہ، فیض شائستگی کی تصویر، شعر کی چشمک ہو یا سیاسی اختلاف، فیض دل آسائی کا مجسمہ۔۔۔ عسکری صاحب نے بھی لکھ دیا کہ \”فیض ایسے شریف آدمی ہے کہ وہ منہ سے کہہ دیں گے تو میں مان لوں گا۔ انھیں قسم اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے\”۔ دوسری طرف فیض کی استقامت کا یہ عالم کہ کسی مجلس میں سوال کیا گیا کہ فیض صاحب، کیا کوئی ایسا نصب العین بھی ہوسکتا ہے جس کے لئے جان دی جا سکے۔ ایک لفظ میں جواب دیا، \”انقلاب\”۔ ایک طرف ایقان کا یہ عالم اور دوسری طرف ظرف کا یہ عالم کہ محبوبیت فیض کا غالب رنگ ٹھہرا۔

عبدالستار ایدھی ہمارے درمیان موجود ہیں اور یہ کہنا مشکل ہے کہ کیا ہمارے عہد میں دنیا کے کسی خطے میں کوئی اور ایسا شخص بھی موجود ہے جس نے بغیر کسی امتیاز کے انسانوں کی خدمت کو اس رنگ میں ایمان کا درجہ دیا ہو اور اس پر عمل میں ایسی استواری دکھائی ہو۔ سوچ اور عمل میں ایسی یک رنگی پہلے دھن کی صورت اختیار کرتی ہے اور پھر یہ لگن زندگی کا طور بن جاتی ہے۔ ایک مجلس میں بات ہو رہی تھی۔ تنویر جہاں نے کہا کہ شاید ایدھی صاحب کو اس برس نوبل انعام مل جائے۔ اس پر کسی نے کہا کہ اب ایدھی صاحب نوبل انعام سے ماورا ہوگئے ہیں۔ اب ایدھی صاحب خود ایک انعام ہیں۔ وہ لگن کے اس درجے کو پہنچ گئے ہیں جہاں سانس میں سُر پیدا ہوجاتا ہے اور سُر میں خوشبو اترتی ہے۔ اس سُر کی خوشی ارد گرد رہنے والے انسانوں میں اتر جاتی ہے۔ مؤقف تو ایدھی صاحب نے بھی اختیار کیا۔ طعنہ بھی سنا اور دشنام بھی سہا، ان کی عیب جوئی بھی کی گئی مگر ہوتا یہ ہے کہ یہ سب مرحلے امتحان کا درجہ رکھتے ہیں۔ اچھائی امتحان پر اس لئے غالب آتی ہے کہ خارجی نصب العین اندر کی روشنی میں بدل جاتا ہے۔ تو دیکھئے اٹکاؤ، انکار اور لگن روشنی کے دائرے ہیں، روشنی کی سرحدوں میں لکیر کھینچنا بہت مشکل ہوتا ہے۔

معاشرے میں ہر آواز رزق کا درجہ رکھتی ہے اور اختلاف کی آواز کو تو رزق میں بھی نعمت سمجھنا چاہئے۔ اختلاف اس زاوئیے کو سامنے لاتا ہے جسے ہم پہنچ نہیں سکتے۔ اس امکان کو ظاہر کرتا ہے ہم جس کا احاطہ نہیں کر پائے۔ اختلاف کی خوبی یہی ہے کہ اپنی رائے کا اظہار اس درجے کو نہ پہنچے جہاں دوسرے کا حق اظہار مجروح ہو، اختلاف کا امکان ختم ہو جائے۔ اختلاف میں سوال کا مقام محترم ہے۔ سوال کے ساتھ دلیل کی ضرورت پیش آتی ہے۔ واقعاتی شواہد پیش کیے جائیں، اعداد و شمار درست ہوں، استدلال میں منطقی ربط موجود ہو، اصول قانون کی پابندی کی جائے۔ لیکن یہ بھی خیال رہے کہ دلیل تو کچہری میں دی جاتی ہے۔ عدالت ضمیر میں لگتی ہے۔ انسان محض دلیل سے قائل نہیں ہوتے، دلیل تسلیم کرانے کے لئے دل جیتنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ سوال کا بیج پھینکا گیا، اب رک جائیے، مخاطب کا اپنا علم، مشاہدہ اور تجربہ موجود ہے۔ دلیل میں جان ہے تو اکھوا پھوٹے گا، پتے نکلیں گے، پھل لگے گا۔ دلیل کا زور یہی ہے کہ سننے والے کے دل کو چھو لے۔ دلیل میں محض اصول حقیقت کام نہیں آتا۔ اگر محض لفظ قائل کر سکتے تو ہم سینیکا سے بڑے مقرر نہیں ہیں، یسوع مسیح سے بڑا حکایت کہنے والا کون ہو گا۔ قلم کی دنیا میں جو سنگ میل تراشے جا چکے، ان سے کس کو انکار ہے مگر یہ کہ ہیرے کا جگر کاٹنے کے لئے پھول کی پتی کی ضرورت پڑتی ہے۔ دلیل کے تیشے کو پھول کی پتی میں بدلنا ہی وہ ہنر ہے جہاں مولانا آزاد کے اٹکاؤ، فیض کے انکار اور عبدالستار ایدھی کی لگن کی حدیں ایک بڑے دھارے میں یوں باہم مل جاتی ہے کہ لہریں گننے کا کام پیچھے رہ جاتا ہے۔ انسانیت آگے بڑھ جاتی ہے۔ کس قدر اس حباب میں دم ہے….


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

3 thoughts on “سوال، اختلاف اور دلیل…. مکالمہ کیسے کیا جائے؟

  • 28-06-2016 at 2:14 am
    Permalink

    بہت پر مغز و بامعنی تحریر

  • 28-06-2016 at 7:44 am
    Permalink

    واہ
    آب زر سے لکھے جانے کے لائق

  • 29-06-2016 at 5:57 pm
    Permalink

    مکالمہ اس معاشرے میں کیسے فروغ پاے جس معاشرے کا المیہ یہ نہ ہو کہ وہاں اوریا مقبول جیسے سقہ بند دانشور جنم لیتے ہیں بلکہ اصل المیہ یہ ہو کہ اوریا جان کے مقابلے اس سے بڑے اوریا میدان دانش میں اترتے ہوں
    دل کو چھو جانا۔۔۔پھر تو اوریا کی باتیں طالبان کی دل چھو جاتی ہے اور جس معاشرہ میں فیض انکار کا استعارہ بنیں جس کی پوری شاعری بنگالیوں کی استحصال پہ خاموش تھی وہاں طاہر القادری کی انقلابیت اور کیانی جمہوریت پسندی پہ کسی شاہبہ نہیں ہونی چاہیے

Comments are closed.