پیپلز پارٹی کی منفی سیاست


\"edit\"پاکستان تحریک انصاف کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی الیکشن کمیشن کو ایک پٹیشن میں وزیراعظم نواز شریف کے علاوہ شہباز شریف ، اسحاق ڈار ، کیپٹن صفدر اور حمزہ شہباز کو اسمبلیوں کی رکنیت سے نااہل قرار دینے کی درخواست کی ہے۔ ان درخواستوں میں پاناما پیپرز کے حوالے سے معلومات کو بنیاد بنا کر یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ قومی دولت چرانے کے جرم میں میاں نواز شریف ملک کا وزیراعظم بننے کے اہل نہیں رہے۔ دونوں پارٹیوں کا موقف ہے کہ انہوں نے ٹھوس دستاویزی شواہد اور ثبوت کے ساتھ یہ درخواستیں دائر کی ہیں اور الیکشن کمیشن سے کہا گیا ہے کہ وزیراعظم اور ان کے چار عزیز آئین کی شقات 62 اور 63 کے تحت صادق اور امین نہیں رہے، اس لئے انہیں فوری طور پر نااہل قرار دیا جائے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان ایک طرف الیکشن کمیشن سے وزیراعظم کی نااہلی کی درخواست پر غور کرنے کی استدعا کر رہے ہیں لیکن اس بارے میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے الیکشن کمیشن کو ن لیگ کمیشن قرار دے کر اپنے عدم اعتماد کا اظہار بھی کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ وہ عید کے بعد سڑکوں پر احتجاج کرنے اور وزیراعظم کے استعفیٰ کےلئے تحریک چلانے کا اعلان بھی کر رہے ہیں۔

پیپلز پارٹی بھی اپنے طور پر تضادات کا شکار ہے۔ یوں لگتا ہے کہ تحریک انصاف کی نعرے بازی کی مقبول سیاست کا مقابلہ کرنے کےلئے پیپلز پارٹی کے قائدین کسی حد تک حکومت مخالف بیان دینے اور یہ ظاہر کرنے پر مجبور ہیں کہ وہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے ساتھ کسی قسم کا معاہدہ نہیں کر سکتے۔ تحریک انصاف کے بعد الیکشن کمیشن میں وزیراعظم کی نااہلی کی درخواست سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی واحد وفاقی اور عوامی جماعت ہونے کی دعویدار یہ پارٹی بھی اب اپنا اصل مدمقابل تحریک انصاف کو سمجھنے لگی ہے۔ یعنی ملک میں اپوزیشن کی نمبر ایک جماعت بننے کےلئے وہ جارحانہ رویہ اختیار کر رہی ہے۔ یہ سیاسی حکمت عملی ایک لحاظ سے اس احساس شکست کا پرتو بھی ہے جو 2013 کے قومی انتخابات میں ناکامی کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کا مقدر بن چکا ہے۔

پاناما پیپرز اور اس کی تحقیقات کےلئے ٹی او آرز TOR`s کے حوالے سے پارٹی نے جو حکمت عملی اختیار کی ہے وہ بدستور اس کی شکست خوردہ ذہنیت کو نمایاں کر رہی ہے۔ ملک میں چار بار حکومت کرنے والی پارٹی سے عام انتخابات سے دو برس کی دوری پر وزیراعظم کی نااہلی کےلئے الیکشن کمیشن میں درخواستیں دائر کرنے کی توقع نہیں کی جاتی۔ بلکہ یہ امید کی جاتی ہے کہ وہ گزشتہ بار انتخابات میں ناکامی کو کامیابی میں بدلنے کےلئے ٹھوس تنظیمی اور سیاسی اقدامات کرے گی۔ پیپلز پارٹی کی موجودہ حکمت عملی سیاسی پسماندگی کا مظاہرہ بھی ہے اور اس بات کا اعلان بھی کہ وہ اب خود کو مسلم لیگ (ن) کے مدمقابل قومی جماعت سمجھنے کا حوصلہ نہیں کر پاتی۔ یہ طرز عمل ملک کے سیاسی عمل اور جمہوری نظام کےلئے کوئی اچھی خبر نہیں ہے۔

الیکشن کمیشن کو دی جانے والی درخواستوں پر عملی طور سے ابھی غور ہی نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ کمیشن کے اراکین کی مدت پوری ہو چکی ہے اور نئے ارکان کا تقرر ابھی نہیں ہو سکا ہے۔ یوں بھی کمشین کے صوبائی ارکان سیاسی طور سے مقرر کئے جاتے ہیں۔ اس لئے وزیراعظم اور ملک کے سب سے بڑے صوبے کے وزیراعلیٰ کی نااہلی کے معاملہ پر کمیشن کوئی فیصلہ کرنے کا اہل نہیں ہو سکتا۔ یوں بھی وزیراعظم کی نااہلی کےلئے سب سے بڑی دلیل پاناما پیپرز میں نواز شریف کی بیٹوں اور صاحبزادی کا نام سامنے آنا ہے۔ دنیا بھر کے ماہرین قانون اس بات پر متفق ہیں کہ کسی آف شور کمپنی کا مالک ہونا اس وقت تک جرم نہیں ہے جب تک یہ ثابت نہ کر دیا جائے کہ کسی شخص نے ٹیکس چوری کرنے یا ناجائز دولت کو چھپانے کےلئے آف شور کمپنی بنائی تھی۔

اس ایک نکتہ سے قطع نظر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ الیکشن کمیشن صرف اس صورت میں کسی شخص کو ’’صادق اور امین‘‘ نہ سمجھتے ہوئے فیصلہ صادر کر سکتا ہے جب ملک کی کوئی عدالت اس کے خلاف اس قسم کا فیصلہ دے چکی ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف نے اعلیٰ قانون دانوں کی مدد سے یہ ضخیم درخواستیں تیار کر کے الیکشن کمیشن کو بھجوائی ہیں لیکن دونوں پارٹیاں یہ سمجھنے سے قاصر رہی ہیں کہ نہ تو الیکشن کمیشن عدالت کا رول ادا کر سکتا ہے اور نہ وہ کوئی سیاسی ادارہ ہے۔ اس لئے عدالتی حکم لینے یا سیاسی فیصلہ کروانے کےلئے ایک غیر متعلقہ ادارے سے رجوع بنیادی طور پر غلط رویہ ہے۔ عین ممکن ہے کہ یہ طریقہ جان بوجھ کر اختیار کیا گیا ہو۔ کیونکہ اصل مقصد الیکشن کمیشن کے دائرہ کار میں کسی کارروائی کی تکمیل نہیں ہے بلکہ اس قسم کی درخواستوں کے ذریعے کچھ مزید عرصہ سیاسی بیان بازی کا موقع حاصل کرنا ہے۔

سیاسی نقطہ نظر کے علاوہ اخلاقی بنیادوں پر بھی آئین کی متنازعہ شقات 62 اور 63 کے تحت الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کرنا ناجائز رویہ ہے۔ اسمبلی کا رکن بننے کی اہلیت یا اس کےلئے نااہل ہونے کے حوالے سے صادق اور امین ہونے کی شرط سابق فوجی آمر جنرل ضیاء الحق کے دور میں آئین کا حصہ بنائی گئی تھی۔ اب یہ بات جاننے کےلئے تاریخ یا سیاست کا ماہر ہونے کی ضرورت نہیں ہے کہ ضیاء الحق کے بیشتر اقدامات کا مقصد پیپلز پارٹی کی قیادت کو سیاست سے دور کرنا تھا۔ اس کے نزدیک ذوالفقار علی بھٹو کی پارٹی اس کے آمرانہ اقتدار کےلئے سب سے بڑا خطرہ تھی، اس لئے وہ اس گمراہ کن پروپیگنڈا کا سہارا لیتا رہا تھا کہ پیپلز پارٹی دین سے بیزار لوگوں کا گروہ ہے جو ملک میں اسلامی نظام کا راستہ روکنا چاہتے ہیں۔

ضیاء الحق کی موت کے بعد اگرچہ بے نظیر بھٹو دو بار مختصر مدت کےلئے وزیراعظم بنیں لیکن وہ متنازعہ شقات کو ختم کروانے کےلئے سیاسی حمایت حاصل نہیں کر سکیں۔ 2008 سے 2013 تک آصف علی زرداری کی نگرانی میں یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف کی حکومتیں فوج کے ساتھ ’’ورکنگ ریلیشن شپ‘‘ اور مصالحانہ سیاست کے زیر اثر ایسے اختلافی معاملات کو چھیڑنے سے پرہیز کرتی رہی تھیں۔ وگرنہ آئین کی شقات 62 اور 63 میں اچھا مسلمان ہونے کےلئے جو شرائط مقرر کی گئی ہیں وہ مضحکہ خیز حد تک افسوسناک ہیں۔ ان ہی شرائط کا سہارا لے کر جب بعض “اسلام پسند“ ریٹرننگ افسران نے امیدواروں کی درخواستیں لیتے ہوئے اسلامیات کا امتحان لینا شروع کیا تھا تو پورے ملک میں ایک ہنگامہ بپا ہوگیا تھا۔ اس کے باوجود ملک کی منتخب قومی اسمبلی فوجی عدالتوں کے قیام کےلئے تو پلک جھپکتے متفق ہو جاتی ہے لیکن ایسی شرائط کو آئین سے نکالنے پر بات کرنے کو تیار نہیں ہے، جو صرف سیاسی مقاصد کےلئے آئین کا حصہ بنائی گئی تھیں۔ اس پس منظر میں جب پیپلز پارٹی انہی شقات کے تحت نواز شریف کو نااہل کروانے کےلئے کوشش کرتی ہے تو اس کی سیاسی کم نظری اور بے چارگی عیاں ہوجاتی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی اب تک اپنے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو نااہل قرار دینے پر سپریم کورٹ اور اس کے سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کو معاف کرنے کےلئے تیار نہیں ہے۔ اس کا موقف اصولی طور پر درست ہے کہ سیاسی فیصلے عدالتوں میں نہیں بلکہ بیلٹ پیپرز کے ذریعے انتخاب میں یا اسمبلی کے فلور پر اکثریت کی بنیاد پر ہونے چاہئیں۔ اب یہ پارٹی خود کو اس قدر مجبور اور بے بس محسوس کر رہی ہے کہ الیکشن کمیشن سے ایک ایسے شخص کو وزارت عظمیٰ سے ہٹانے کی درخواست کر رہی ہے جسے وہ انتخابات میں شکست دینے میں ناکام ہو چکی ہے۔ اس سیاسی ہار کا بدلہ لینے کا باوقار طریقہ تو یہ ہے کہ 2016 کے انتخابات کی تیاری کی جائے اور نواز شریف اور ان کے خاندان کی غلطیاں سامنے لا کر ووٹروں کو اپنی طرف متوجہ کیا جائے۔

اس مقصد کیلئے 2013 کے انتخابات میں شکست کے فوراً بعد حکمت عملی تیار کرنے اور کام کا آغاز کرنے کی ضرورت تھی۔ اگرچہ پارٹی کے ڈی فیکٹو سربراہ آصف علی زرداری کو سیاست کا ’’پی ایچ ڈی‘‘ قرار دیا جاتا ہے لیکن لگتا ہے وہ خود بھی اسی اندیشے کا شکار ہیں کہ اگر بے نظیر کا بیٹا بلاول حقیقی معنوں میں ایک ’’بھٹو‘‘ کی طرح پارٹی پر حاوی ہو گیا تو خود ان کا خاندان کہاں جا کر سیاست کرے گا۔ تاہم اگر پیپلز پارٹی نے اپنا کھویا ہوا وقار بحال کرنا ہے اور ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے سیاسی منشور کو آگے لے کر چلنا ہے تو انہیں تحریک انصاف سے تحریک لینے کی بجائے اپنی تاریخ سے سبق سیکھنے ، محنت کرنے اور آئندہ انتخابات کی تیاری کرنے کی ضرورت ہے۔ الیکشن کمیشن کے ذریعے وزیراعظم کو ’’نااہل‘‘ قرار دلوانے کی خواہش سیاسی شکست کے اظہار کے سوا کچھ نہیں ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 674 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali