اوریا مقبول جان صاحب کی خدمت میں


\"farnood\"اوریا مقبول جان صاحب نے 21  جون 2016 کی رات اپنے پروگرام ’’حرف راز‘‘ میں الحاد کو موضوع بحث بنایا۔ پروگرام کا عنوان تھا

’’ملحدین کی اصل پہچان کیا ہے‘‘

جبکہ پروگرام کے آغاز میں مشتے نمونہ از خروارے کے طور پہ ’’ہم سب‘‘ پہ شائع ہونے والے پانچ کالموں کے شاٹس دکھائے گئے، جن میں سے دو کالم ہمارے تھے۔ ہمارے کالم کے عنوان یہ ہیں

۱۔بیچ شلوار اور دستار کے

۲۔ اسلامی نظریاتی کونسل ، بس کردے ہنسائے گا کیا۔

پہلی بات۔!

کوئی بتا سکتا ہے کہ ’’ھم سب‘‘ کا الحاد کے فروغ سے کیا تعلق ہے؟ اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ کیا آپ کو واقعی نہیں پتہ کہ الحاد کو فروغ دینے کے لیے کون سی ویب سائٹس کام کررہی ہیں؟ کیا آپ واقعی ان پیجز سے لاعلم ہیں جو اپنے عنوان اور مضمون میں الحاد ہی کے پرچارک ہیں؟ کیا واقعی آپ کو خبر نہیں کہ اہانت اور تذلیل کا برتاؤ کن مقامات سے ہورہا ہے؟ یہ تجاہلِ عارفانہ ہو یا تعارف جاہلانہ ہو، بہر دو صورت مبارک قبول کیجیے کہ یہ جنگ آپ جیت گئے۔

دوسری بات۔!

ہمارے جن کالم کے شاٹس دیے گئے ان کا الحاد سے کوئی تعلق؟ یا پھر ہمارے آج تک کے کسی بھی ایک کالم کا الحاد کے فروغ سے کوئی واسطہ؟ مذکورہ دونوں کالم ’’ہم سب‘‘ پر اور ہماری ’’دیوارِ گریہ‘‘ پہ موجود ہیں۔ کوئی بھی صاحبِ بینا محدب عدسہ لگا کر ان کا مطالعہ فرما لیں اور جہاں کہیں الحاد کا پرچار نظر آئے اسے نشان زد کر کے رہنمائی کردے۔ اس وقت تک ہم اگلی بات کی طرف بڑھ جاتے ہیں

اگلی بات۔!!

ایک سوال کے جواب میں اوریا صاحب نے فرمایا کہ جو بھی سیکولر بنیادی طور پر اسمبلی کا رکن بنتا ہے اور یہ حلف اٹھا تا ہے کہ

’’میں اللہ کو حاضر ناظر جان کر یہ حلف اٹھاتا ہوں کہ میں آئین پاکستان کا وفادار رہوں گا اور اسلامی نظریہ جو پاکستان کی اساس ہے اس پہ قائم رہوں گا اور اس کو آگے بڑھانے کے لیے ممد ومعاون ثابت ہوں گا‘‘

تو ایسا شخص میرے نزدیک منافق ہے۔ اگر وہ سیکولر ہے تو اسے آئین پاکستان کا حلف نہیں اٹھانا چاہیئے، وہ باہر رہے، وہ اپنا کام کرے جو اس نے کرنا ہے۔

سوال یہ کہ۔!

کیا اب یہ وقت آگیا ہے کہ ہم ایسے طفلِ مکتب اٹھ کر بزرگوں کو بتائیں گے کہ صاحبو۔! ایک سیکولر مسلمان بھی ہو سکتا ہے۔ یہاں تک تو بات ٹھیک تھی کہ کوئی بھی اسلامسٹ جمع رائٹسٹ سرپرستانہ منصب پر بیٹھ کر کہے کہ اگرچہ ایک سیکولر مسلمان ہی ہوتا ہے مگر اپنے خدا کے ساتھ اس کے سطحی تعلق پہ ہم افسوس کرتے ہیں، یہ بات بھی لائق ہضم تھی کہ کوئی خود کو تقدیس و غیرت کی بالائی سطح پہ رکھ کر نیچے چلنے پھرتے عاصیوں سے پوچھے کہ یہ جاوید احمد غامدی کی غیرت ایمانی ہم جیسے راسخین جیسی پختہ کیوں نہیں ہے بھلا، یہ سب ٹھیک تھا مگر اب یہ کیا کہ آپ معاملات کو الحاد کے ساتھ نتھی کر کے کوئی فرد جرم عائد کردیں؟ غالب کو یقینا ایسے ہی عالی مرتبت ایمانسٹوں سے واسطہ پڑگیا ہوگیا جو کہنے پہ مجبور ہوئے کہ

اسی بارے میں: ۔  قراردادِ مقاصد: اقلیتوں کے حقوق کا فراموش شدہ منشور

حد چاہیئے سزا میں عقوبت کے واسطے

آخر گناہ گار ہوں کافر نہیں ہوں میں

حضرت اوریا مقبول جان اس بات پر بھی انتہائی طیش میں دکھائی دیے کہ یہ ’’لوگ‘‘ کہتے ہیں کہ سوال اٹھانا چاہیئے۔ آئین پہ سوال اٹھانے کے حوالے سے بات آئی تو چیخ چلا کے فرمانے لگے کہ ’’تم کون ہوتے ہو اس (آئین) پر سوال اٹھانے والے، تم تو دراصل آئین پاکستان کے غدار ہو‘‘۔ کریز سے دو قدم مزید باہر نکل کر کھیلتے ہوئے اوریا صاحب نے فرمایا کہ ’’سلمان تاثیر آئین کی غداری کا ہی تو مرتکب ہوا تھا‘‘۔ اسی لمحے میزبان نے حکومت پاکستان کو زیرِ لب توجہ دلائی کہ غدار تو ہم نے نامزد کر دیئے باقی آپ دیکھ لیجیے کہ غدار کی سزا کیا بنتی ہے۔ فورا ہی اگلے مصرعے میں پورے گرج برس کے ساتھ اس نکتے پر للکار ہوئی کہ متفقات سے نہیں الجھنا چاہیئے، جو طے ہوچکا وہ بس طے ہو چکا۔

ایک بات پوچھوں۔؟

جب یہ معاشرہ اتفاق رائے کے ساتھ ایک جمہوری نظام کے تحت زندگی بسر کررہا ہے، اور آئین بھی اسی نظام پر استوار ہے تو پھر اوریا مقبول جان صاحب کس بنیاد پر آئے روز جمہوریت کے خلاف تقاریر فرماتے ہیں؟ کیا اجازت ہوگی کہ اسے نظم اجتماعی کو منتشر کرنے کی کوئی سازش قرار دے دی جائے؟ جان کی امان ملے تو ایک سوال اور پوچھ سکتا ہوں؟ حزب التحریر جو ایک جمہوریت دشمن تحریک ہے، جو نہ صرف پاکستان کے پورے نظم کو باطل قرار دیتی ہے بلکہ پاکستان میں کالعدم بھی قرار دی جا چکی ہے، آپ اپنے پروگرام میں اس کی حمایت کیسے کر لیتے ہیں؟ کیا یہ سوال اٹھانے کی ہی ثقافت نہیں ہے کہ جو آپ ملک بھر میں متعین اور متفق نظام پر سوال اٹھا رہے ہوتے ہیں؟ جس سوال کو آپ نے غداری سے تعبیر کیا وہی سوال کتنا اہم ہے اس کی مثال آپ ہی کے اسی پروگرام سے پیش کردیں؟ ایک کالر نے فون کر کے آپ سے ایک سوال کیا

سوال یہ تھا کہ۔!

ہمارا آئین قتل جیسے جرم کی سزا کی معافی کا اختیار بھی صدرِ پاکستان کو دیتا ہے، کیا یہ دوغلہ پن نہیں ہے؟

ترنت آپ نے فرمایا !

’’جی بالکل یہ غلط ہے، اس پر سوال اٹھتے ہیں اور بحث بھی ہوتی رہی ہے۔ اور اس پر بحث ہوتی بھی رہنی چاہیئے‘‘

اسی بارے میں: ۔  کپتان نے کرپشن کو اپنا تعصب بنا تو لیا مگر۔۔۔

یعنی کہ سبحان تیری قدرت؟ اچانک متفقہ آئینی شق 45 پہ سوال کیسے کھڑا ہوگیا؟ بحث کیسے روا ہوگئی؟ یہی فطرت کی سچائی ہے جس سے ہم نگاہیں پھیر کے کھڑے ہیں۔ ہمیں تو خیر کوئی اعتراض نہیں، کیونکہ ہمارا ایمان ہے کہ یہ ایک متفقہ آئینی شق ہی سہی مگر بحث اور تنقید سے بالاتر نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ بحث ہی اجتماعی شعور کو یہ فیصلہ کرنے میں سہولت مہیا کر سکتی ہے کہ کس کی بات درست ہے کس کی غلط۔ اور اجتماعی شعور ہی کسی نتیجے پہ پہنچے گا تو قانون سازی کا مرحلہ آسکے گا۔ قانون سازی ہی نہیں بلکہ ایک آئینی ترمیم بھی بہت طویل مباحثے مکالمے اور شعوری اتفاق کا نتیجہ ہوتا ہے۔ آپ بات کیجیے، اگر آپ کی بات درست ہے تو اجتماعی شعور اس کی گواہی کیوں نہیں دے گا؟ اگر اجتماعی شعور میری بات کو مسترد کردے، تو میرے کہے سے آپ کی طبعیت پہ کوئی فرق کیوں پڑے؟ مکالمے سے قانون سازی تک کا یہ سفر چونکہ انتہائی فطری ہوتا ہے، لہذا اس میں کسی سوال کی بنیاد پر ہم ایک دوسرے کو غدار اور منافق کہیں گے تو محتاط سے محتاط الفاظ میں بھی یہ مکالمے کی توہین قرار پائے گا۔

برسبیل تذکرہ۔!

آپ نے کہا کہ سرسید احمد خان اور شیخ الھند محمود الحسن کے زمانے میں علی گڑھ کا فاضل جب تک دارلعلوم دیوبند میں دو سال افتا کے فرائض انجام نہ دے لیتا اسے ایم اے کی سند نہیں ملتی تھی، اور دارلعلوم دیوبند کے طلبا پر لازم تھا کہ وہ علی گڑھ یونیورسٹی جا کرانگریزی سیکھیں۔ اس پر صرف اتنا ہی عرض کیے دیتے ہیں کہ ہمارے سامنے تو اس اعتماد سے یہ بات کہہ گئے، مگر کسی اور کے سامنے مت کہہ دیجیئے گا۔ لوگ اس کا دستاویزی ثبوت مانگ لیں گے۔

آخری بات۔!

پروگرام کا عنوان تھا

’’ملحدین کی اصل پہچان کیا ہے‘‘۔

میں پروگرام میں ہونے والی گفتگو میں سنجیدگی کے ساتھ وہ نکات تلاش کر رہا ہوں جن سے مجھے علم ہوسکے کہ ملحدین کی اصل پہچان کیا ہے. یعنی کہ لفافہ کچھ تھا مضمون کچھ تھا۔ عنوان کچھ تھا نمونے کچھ تھے۔ خیر جو بھی تھے، اہل علم کو مگر یہی زیبا ہے کہ وہ لکھے اور کہے پہ جایا کریں. علمی اخلاقیات میں انہیں کبھی اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا گیا جو نیتوں میں جھانکنے کی جسارت فرماتے ہیں. حضور.! ایسا نہیں کرنا چاہیے، یہ بری بات ہوتی ہے.


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

5 thoughts on “اوریا مقبول جان صاحب کی خدمت میں

  • 28-06-2016 at 9:35 am
    Permalink

    المیہ یہ ہے کے ہمارے دائیں بازو کے لکھاری اور بائیں بازو کے مصنفین دونوں ہی اپنے اپنے خیالات میں غلو کرتے ھیں ۔ جمہوری نظام اور خلافت کا نظام ایک دوسری ضد نہی ھیں ۔ اس چیز کو قائداور اقبال خوب جانتے تھے ۔ اگر تشکیل پاکستان کے وقت چھپنے والے اسوقت کے سکالرز کی کتابوں کا مطالعہ کیا جاۓ تو حق روز روشن کی طرح سامنے آجاۓ گا ۔سیکولر سکالرز جن حقوق کی بات کرتے ھیں ان میں سے اکثر تو دین نے پہلے ہی متعیں کردے کردئیے ھیں ۔

  • 28-06-2016 at 5:46 pm
    Permalink

    عمدہ تحریر۔

  • 29-06-2016 at 1:31 am
    Permalink

    بہت ترس آتا ہے ان بے چارے لبرل فاشسٹ پر بے چارے عدم برداشت شدت پسندی کا. طعنہ دے دے کر بڑے ہو گئے اور اک بے چارے اوریا صاحب کا موقف ان سے برداشت نہیں ہو رہا انکی سمجھ نہیں آرہا کے کوئ ان سے زیادہ پڑھا لکھا آدمی ان سے زیادہ کامیاب آدمی دیندار کیسے ہو سکتا ہے اللہ رسول کی بات کیسے کر سکتا ہے اور بے چارے سو کالڈ لبرلز کو دین کی الف ب کا بھی علم نہیں نہ ہی شریعت سے دور دور کا کوئی واسطہ ہے انکا اپنی جہالت اور سب کچھ پتہ ہونے کی غلط فہمی کے باعث اکثر ایسی بات کر جاتے ہیں کہ الامان الحفیظ اگر کوئ اوریا صاحب جیسا آدمی انکو کچھ سمجھائے تو انکو آگ لگ جاتی ہے کیونکہ کوئ دلیل تو ہوتی نہیں بس جہالت ہی جہالت ہے افسوس صد افسوس

  • 29-06-2016 at 1:41 am
    Permalink

    اوریا نے لبرلز کو عریاں کر دیا ہے یہی تکلیف ہے انکو

  • 03-07-2016 at 5:55 am
    Permalink

    ?secular is also a muslim” How”

Comments are closed.