مسمی نامہ


\"inam-rana-3\"من کہ مسمی ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوا۔ اللہ نے مجھے ذہانت سے نوازا تھا سو کرتے کرتے ایک دن میں سول سروس میں جا پہنچا۔ مسمی ایک ہوشیار اور سمجھدار افسر تھا سو کامیاب بھی تھا۔ انگریز کی بنائی سول سروس میں تب عقل باقی تھی کہ مجھ جیسے ابھی جونئیر ہی تھے۔ سو میری خداداد صلاحتیوں کو پرکھتے ہوے مجھے بلوچستان میں لگایا گیا۔ مسمی نے اپنے انتخاب کی لاج رکھی۔ میں نے بگٹی ہوں یا مزاری، مری یا مینگل سب کو خوش رکھا۔ میں نے سب کو یہ احساس دلایا کہ میں تو بس انکا ہی ہوں اور اپنی افسری باقی رکھی۔ کیا پوچھا، کہ میں نے عوام کیلیے کچھ خاص کیا؟ آپکا یہ سوال ایک لبرل سازش ہے اور آئین پاکستان سے غداری۔

خیر تو میں ایک کامیاب افسر تھا۔ ضیا کا مذہبی دور ہو یا مشرف کا لبرل، میرا سودا بکتا رہا، میرا مطلب افسری قائم رہی اور میں اچھے عہدوں پہ رہا۔ مسمی کی \”اے سی آرز\” گواہ ہیں کہ مسمی ایک بہترین سول سرونٹ تھا جس نے دوران ملازمت کبھی خوئے بغاوت نہیں دکھائی اور نہ کبھی کچھ ایسا کیا کہ سینیر یا حکومت کی جبیں پہ شکن آتی۔ مسمی ہر دور میں بہترین پوسٹ لیتا رہا۔ سول سرونٹ ہوتے ہوے ٹی وی پروگرام کئیے اور مقبول ہوا۔ مقبول سے یاد آیا کہ گورنر خالد مقبول کی مداح میں کالم بھی لکھے۔ بھلے آدمی تھے مگر جب سے گورنر نہیں رہے طبیعت میں ان کے لیے کالم کی آمد نہیں ہوتی اور کالم تو ہے ہی آمد۔ خیر سب تھا مگر بس زندگی میں ایک کمی تھی، ایک بے نام بے کلی۔ ہر سول سرونٹ کی طرح قدرت اللہ شہاب میرے آئیڈیل تھے۔ مسمی نے انکا بغور مطالعہ کیا بلکہ شہاب نامہ پر تحقیق کی تو آشکار ہوا کہ اب اتنی ہی مقبولیت مسمی نامہ کو ملنی چاہیے۔ مجھے یہ گیان ہوا کہ کمی ایک بزرگ کی تھی سو میں بزرگ کی تلاش کو نکلا۔ کیا کہا، شہاب نے تو بنگال میں سرکاری گودام غریبوں میں بانٹ دیا، میں نے بلوچستان میں کیا بانٹا؟ آپ مجھے سیفما کے ایجنٹ لگتے ہیں۔

خیر تو صاحبان نظر نے مجھے اور میں نے انکو اپنا لیا۔ مسمی نے پا لیا کہ دراصل مجھے اس قوم کی اصلاح کیلیے چن لیا گیا ہے۔ میں سارا دن ٹھاٹھ سے افسری کرتا، شام کو کلب میں بہترین پائپ میں بہترین تمباکو پیتا اور پھر صاحبان نظر سے مل لیتا۔ وہ جو گمنام تھے، پردے میں تھے، سارا دن روزہ رکھ کر عبادت کرتے؛ بس منتظر تھے کہ کب کوئی افسر انکو ملے جو انکے چیتاونیاں اس قوم کو پہنچائے۔ عذاب کی وعید میرے کالم کا بہترین حصہ ہوتی تھی۔ صاحبان نظر سے ملتا، وہ ہاتھ اٹھا اٹھا کر دعائیں مانگ رہے ہوتے رو رہے ہوتے اور مجھے دیکھتے ہی کہتے مسمی جا، جا کر کہ تھے اس قوم سے کہ عذاب آیا کہ آیا۔ سو میں ان غائیبین کے پیغام کالم میں لکھتا اور ریڈرشپ بڑھتی جاتی۔ خوشنما وعدہ اور بدترین عذاب، اپنا حلقہ بڑھانے کیلیے اس سے بہتر کیا تھا۔ مگر پھر کچھ ناخلف لوگوں نے مسمی کا مذاق اڑانا شروع کر دیا کہ شاہد مسعود کی قیامت، کامران خان کا مارشل لا اور تیرا عذاب آ ہی نہیں رہا۔ سچ کہوں تو میں خود زرا تذبذب میں پڑ گیا۔ اس لبرل طبقے نے فیس بک پر مجھے اتنا رگیدا کہ میں ایک صاحب نظر کے سامنے رو پڑا۔ انھوں نے کہا رو مت، پائپ میں تمباکو اور کالم میں عذاب کم کر دے بس۔ اس موقع پہ مسمی کی سی ایس پی تربیت بھی کام آئی۔ اب ملک میں جو بھی آفت آتی میں طالبان کی طرح فورا کلیم کر لیتا۔ سو جو زلزلہ، سیلاب، سیاسی ابتری آئی میں نے فورا لکھا، میں نے کہا تھا نا۔ اب میں اور مشہور ہوا اور اللہ کا کرم کے دینی طلبا کے پاس فون میں انٹرنیٹ آ گیا۔ سو میں انکا ترجمان بن گیا اور سود، فحاشی، لبرلزم پہ لکھ کر زید حامد سے زیادہ مقبول ہو گیا۔ مسمی اس سے زیادہ سمجھدار بھی ہے اس لیے کبھی سعودیہ یا ایران میں قید بھی نہہیں ہوا اور تشریف پہ کوڑے بھی نہیں لگے۔ آخیر مسمی عزت کے ساتھ ایک اعلی مرتبے سے ریٹائر ہو گیا۔ کیا پوچھا، کہ کیا میں نے زندگی بھر تنخواہ سود سے بھرپور بینکوں کے ذریعے وصول کی؟ دوران ملازمت ایسے صدہا چیک میرے دستخط سے جاری ہوئے جو سودی لین دین سے مملو تھے؟ آپ مجھے \”ہم سب\” کے لکھاری لگتے ہیں۔ اگلے پروگرام میں آپ کے کالم کی تصویر لگا کر وہ الزام لگاؤں گا جو آپ نے سوچا بھی نہیں ہو گا، ہاں۔

خیر تو کچھ دن ہوے مسمی بہت پریشان تھا کہ ریٹنگ نہیں مل رہی۔ مسمی نے اہل خانہ کو وظیفہ پڑھنے کی تلقین کی اور خود ٹی وی پر کچھ اچھے ریٹنگ والے پروگرام کی تلاش کی کہ شاید کوئی آمد ہو۔ اتنے میں ایک اشتہار چلا اور مسمی خوفزدہ ہو گیا۔ مسمی نے فورا سکرین کے پاس جا کر موٹے شیشے کی عینک سے اشتہار دیکھا۔ توبہ توبہ۔ مگر مکمل یقین ضروری تھا۔ مسمی نے فورا انٹرنیٹ پہ اشتہار لگایا اور پانچ سو پچیس دفعہ بار بار لگا کر ہر اینگل سے دیکھا۔ آخر جب گاندھی آسن میں سر ٹانگوں میں سے نکال کر نوے اعشاریہ تین کے اینگل سے دیکھا تو غش کھا گیا۔ بیٹیوں جیسی ایک لڑکی گیند کرانے کو پورے ایک اعشاریہ دو سیکنڈ بھاگی اور میں نے دیکھا اسکے پاس کئی گیندیں ہیں۔ اسی پر بس کہاں کہ ان ذلیل لوگوں کے کہنے پر جب وہ آدھے سیکنڈ کیلیے اچھلی تو میں نے سر کے بانوے اعشاریہ تین کے اینگل سے دیکھا کہ یہ انتہائی فحش منظر تھا۔ مسمی غش کھا گیا اور بیہوشی میں بھی مسمی کو بس اچھلتی گیندیں نظر آتی رہیں۔ جب کچھ دیر بعد ہوش آیا تو مسمی انتہائی غصے میں تھا۔ فورا اس فحاشی اور اوریانی کے خلاف مہم چلانے کا ارادہ کیا اور اگلے ہی پروگرام میں یہ مہم شروع کر دی۔ اب میرے کالم اور پروگرام اسی موضوع پر ہیں اور ریٹنگ ہائی۔ گو کچھ گندے ذہن میری نظر اور نیت پر انگلی اٹھا رہے ہیں مگر یہ گمراہ لوگ کیا جانیں کہ دوسروں کو برائی سے بچانے کیلیے کیا کیا کرنا پڑتا ہے۔ بیٹیوں کی عمر کی بچی پر ورنہ کوئی غلط نظر بھی ڈالتا ہے؟ ویسے بھی یہ سیکولر ہیں اور آئین پاکستان کے غدار۔ ان پر آرٹیکل چھ کا مقدمہ چلنا چاہیے جو میرے دور کے صدر مشرف پر چلانے کی بات مسمی نے دوران ملازمت تو کبھی نہیں کی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

انعام رانا

انعام رانا لندن میں مقیم ایک ایسے وکیل ہیں جن پر یک دم یہ انکشاف ہوا کہ وہ لکھنا بھی جانتے ہیں۔ ان کی تحاریر زیادہ تر پادری کے سامنے اعترافات ہیں جنہیں کرنے کے بعد انعام رانا جنت کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ فیس بک پر ان سے رابطہ کے لئے: https://www.facebook.com/Inamranawriter/

inam-rana has 36 posts and counting.See all posts by inam-rana

One thought on “مسمی نامہ

  • 29-06-2016 at 4:40 am
    Permalink

    ویسے جس دن عذاب آگیا اس دن تو سب کو مسمی نامہ یاد آئے گا.. دوسرے بیٹیوں جیسی بیٹیاں جب پاکستان جیسے ملک میں گهر سے باہر اس طرح قدم نکالتی ہیں تو اس کے بعد کیا انجام ہوتا وہ بهی بتایا مسمی نے، ذرا اس پر بهی کوئی تبصرہ ہو جائے.. لیکن جب اپنے پر پڑے تب مزہ نہیں آتا، صرف رونا آتا ہے..

Comments are closed.