ایمن الظواہری کے خاندان کی رہائی کے لیے اغوا کیا گیا: علی حیدر گیلانی


\"gilani\"سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی حیدر گیلانی کا کہنا ہے کہ القاعدہ ان کے بدلے ایمن الظواہری کے خاندان کی چند عورتوں کو رہا کروانا چاہتی تھی۔ تین سال تک اغوا کاروں کے چنگل میں رہنے والے علی حیدر گیلانی نے برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیا۔ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے بیٹے کا کہنا تھا کہ وہ تین سال تک القاعدہ کے قبضے میں رہے۔ القاعدہ ان کے بدلے ڈاکٹر ایمن الظواہری کے خاندان کی چند عورتوں کی رہائی اور بھاری رقم کا مطالبہ کر رہی تھی۔ علی حیدر گیلانی نے بتایا کہ اغوا کے بعد انہیں تقریباً اڑھائی ماہ تک فیصل آباد رکھا گیا۔ جولائی 2013 کو انہیں براستہ موٹروے بنوں سے وزیرستان لے جایا گیا ، راستے میں انہیں برقع بھی پہنایا گیا۔ سابق وزیراعظم کے صاحبزادے کا کہنا تھا کہ راستے میں دس چوکیاں آئیں لیکن صرف ڈرائیور کا شناختی کارڈ دیکھ کر چھوڑ دیتے تھے ، مسافروں کی چیکنگ نہیں ہوتی تھی۔ علی حیدر گیلانی کا کہنا تھا کہ انھیں جسمانی تشدد کا نشانہ نہیں بنایا گیا لیکن ذہنی دباو¿ اور ہر وقت زنجیروں سے باندھے رکھتے تھے۔ اغوا کاروں نے انہیں 14 ماہ تک ایک کمرے میں بند رکھا جہاں سورج کی روشنی کا گزر بھی نہیں تھا۔ علی حیدر گیلانی کے مطابق انہیں رواں برس ہی پاکستان کے قبائلی علاقہ جات سے افغانستان منتقل کیا گیا تھا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔