ایردوان کی معافی: سو پیاز اور سو جوتے


\"adnan-khan-kakar-mukalima-3\"

پچھلے ہفتے ہمارے ایک ترک دوست نے بتایا تھا کہ ایردوان نے چند روز پہلے ایک عوامی تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’یہ پوٹن ہم سے چاہتا کیا ہے؟ معافی منگوانا چاہتا ہے؟ مانگ لیتا ہوں۔ آئی ایم سوری‘۔ ہمیں یقین نہ آیا۔ ایسا مرد مجاہد اور عزم کا راسخ شخص کیسے معافی مانگ سکتا ہے جو کہ واشگاف انداز میں یہ اعلان کر چکا تھا کہ معافی کا سوال ہے تو روس ہم سے معافی مانگے۔

 چوبیس نومبر 2015 کو صدر ایردوان نے روس کا بمبار جہاز گرانے کا حکم دیا جو کہ امریکی مفاہمت کے باعث لڑاکا طیاروں کی حفاظت کے بغیر شامی علاقے میں بمباری کر رہا تھا۔ روس اور نیٹو کی پالیسی تھی کہ وہ ایک دوسرے کے جہازوں کا سامنا نہیں کریں گے تاکہ براہ راست جنگی تصادم کی صورت حال پیدا نہ ہو سکے۔ ایسی صورت حال میں یہ روسی بمبار محافظ لڑاکا طیاروں کے بغیر شامی سرحدی علاقے میں بمباری کے مشن پر تھا۔ اس علاقے میں ترکی کی ایک چار کلومیٹر چوڑی نوک اندر شام میں داخل ہو رہی ہے۔ بمبار طیارہ اس نوک سے زیادہ سے زیادہ چھے سیکنڈ میں گزر گیا ہو گا۔ ایسی صورت حال کو عام طور پر نظرانداز کیا جاتا ہے۔ ترکی کے اپنے دیے گئے ڈیٹا کے مطابق یہ جہاز ترک فضا میں سترہ سیکنڈ تک رہا جب کہ ان کا دوسرا موقف یہ بھی تھا کہ اسے پانچ منٹ میں دس مرتبہ وارننگ دی گئی۔ روسی اس سے انکاری ہیں اور کہتے ہیں کہ طیارہ شامی سرحد کے دو ڈھائی کلومیٹر اندر ہی رہا تھا اور ترکی کی حدود میں داخل نہیں ہوا تھا۔ بہرحال ایردوان کے حکم پر طیارہ گرا دیا گیا جو کہ شامی سرحد کے چار کلومیٹر اندر جا کر گرا۔

اس کے پس منظر میں غالباً دو معاملات ہیں۔ پہلا یہ کہ کردوں سے نمٹنے کے لیے ترکی اس علاقے میں ترکمانوں اور داعش کی بھرپور مدد کر رہا ہے اور شامی کردوں پر براہ راست بمباری بھِی کرتا رہا ہے۔ ایسی صورت حال میں جب روس جنگ میں کودا تو اس نے داعش پر شدید بمباری شروع کی اور داعش کے بڑھتے ہوئے قدم پہلے تھمے اور پھر داعش نے پسپائی اختیار کرنا شروع کر دی۔ اس صورت حال میں صدر ایردوان اس روسی بمباری کو کسی بھی قیمت پر روکنا چاہتے تھے۔ لیکن ہوا یہ کہ روس نے یہ جہاز گرانے پر شدید ترین رد عمل دیا اور اپنا وہ جدید ترین فضائی دفاعی میزائل نظام ’ایس چار سو‘ شام میں نصب کر دیا جو کہ ابھی تک سرزمین روس سے باہر نہیں نکلا تھا۔ اس کے بعد سات ماہ گزر گئے ہیں لیکن کوئی ترک طیارہ اس علاقے کی طرف نہیں گیا ہے جبکہ اس سے پہلے وہ روٹین میں وہاں بمباری کرتے تھے۔

\"erdogan-putin\"

معاملے کی دوسری جہت اندرونی ترک سیاست تھی۔ صدر ایردوان قانونی مجبوری کی وجہ سے چوتھی مدت کے لیے وزیراعظم ترکی نہیں بن سکتے ہیں۔ اب وہ صدر ہی رہ سکتے ہیں۔ اب ان کے پاس دو آپشن ہیں۔ یا تو وہ بظاہر بے اختیار صدر بن کر آصف علی زردری صاحب کے انداز میں کٹھ پتلی حکومت چلائیں، یا پھر صدر کے اختیارات میں اضافہ کر دیا جائے اور وزیراعظم کے اختیارات بھی اسے دے دیے جائیں۔ اختیارات میں اس اضافے کے لیے آئینی ترمیم کی ضرورت ہے۔

آئنی ترمیم کے ایجنڈے پر ایردوان کی اے کے پی پارٹی نے جون 2015 کا الیکشن لڑا مگر ایک ایسی ٹوٹی پھوٹی پارلیمان وجود میں آئی جو حکومت سازی کے لیے کسی پارٹی کو مطلوبہ اکثریت نہ دے سکی۔ نومبر میں دوبارہ الیکشن ہوئے۔ اس مرتبہ اے کے پی پارٹی نے حکومت سازی کے لیے مطلوبہ اکثریت حاصل کر لی مگر وہ اکثریت اتنی نہیں تھی کہ اس کے بل پر آئین میں ترمیم کی جا سکتی۔ ہاں اگر بیس کے قریب دوسری پارٹیوں کے اراکین کو ساتھ ملا لیا جاتا، تو پارلیمان سے ہٹ کر براہ راست عوامی ریفرینڈم میں آئینی ترمیم کے لیے سند قبولیت حاصل کی جا سکتی تھی۔

ترک ہمارے بھائی ہیں۔ انہوں نے قسمت بھی ہمارے جیسی پائی ہے۔ جب جب پاکستان میں مارشل لگا، انہی دنوں ترکی کو بھِی مارشل لا کا سامنا کرنا پڑا۔ بدقسمتی سے ترک بھی ہم جیسی جذباتی قوم ہی ہیں۔ کوئی لیڈر چند جذباتی نعرے لگا دے، تو قوم ہیجان کا شکار ہو کر اس کے پیچھے چل پڑتی ہے۔ ہماری قوم کی طرح ہی وہ کسی حکمت عملی کے عملی نتائج نہیں دیکھتی ہے، بلکہ وقتی ہیجان پیدا کرنے والوں کی ڈگڈگی کے پیچھے لگ کر ناچنے لگتی ہے۔ شاہد آفریدی اور مصباح وہاں ہوتے تو ترک بھی ٹھوس نتائج دینے والے مصباح کی بجائے دس میچوں میں دو چار سکور بنانے اور گیارہویں میں تیز ففٹی بنا دینے والے آفریدی ہی کو ہیرو مانتی۔

تو جب نومبر کے اواخر میں اس روسی جہاز کو گرانے کا فیصلہ کیا گیا، تو اس کا ایک داخلی محرک بھی موجود تھا۔ صدیوں پرانے دشمن روس سے معمولی سی معرکہ آرائی سے زیادہ ترک قوم کو ایردوان کے پیچھے اور کیا امر کھڑا کر سکتا ہے؟ ترک اور روسی اٹھارہویں صدی سے جنگیں لڑتے چلے آ رہے ہیں۔ سو ایک معمولی سی محاذ آرائی سے اگر اتنی مقبولیت مل جائے جو کہ صدارتی ریفرینڈم کی راہ ہموار کر دے، تو اس سے اچھی اور کون سی بات ہے؟

طیارہ گرا دیا گیا۔ مگر کوتاہ اندیش ایردوان یہ دیکھنے سے قاصر رہا کہ روسی صدر پوٹن بھی مرد آہن ۔۔۔ یا دوسرے لفظوں میں سرپھرا۔۔۔ مشہور ہے۔ پوٹن نے ایردوان سے معافی مانگنے کا مطالبہ کر دیا۔ پوٹن نے اسے ایک دوست اور اتحادی کی جانب سے کمر میں خنجر بھونک دینے کے مترادف قرار دیا۔ ایردوان نے اس کے جواب میں معافی مانگنے کو خارج از امکان قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر معافی کی ایسی ہی ضرورت ہے تو روسیوں کو معافی مانگنی چاہیے۔

ایردوان نے اس سارے معاملے میں یہ پہلو نظرانداز کر دیا تھا کہ ترک معیشت کا روس پر بہت زیادہ انحصار ہے۔ ترکی کی آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ سیاحت ہے اور سب سے زیادہ سیاح روس سے ترکی جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ترکی میں پیدا ہونے والے پھلوں اور سبزیوں کی بڑی مارکیٹ روس ہے۔ ترکی تیل اور گیس کی پیداوار میں خودکفیل نہیں ہے اور اپنی ضرورت کی پچاس فیصد کے قریب گیس روس سے درآمد کرتا ہے جس پر اس کی صنعت کا بھی دار و مدار ہے، اور اناطولیہ کے سرد ترین برفیلے موسم سرما میں یہ گھروں کو بھی گرم رکھتی ہے۔ ترکی کی معیشت میں ایک اہم حصہ تعمیراتی شعبے کا بھی ہے۔ درجنوں ترک تعمیراتی کمپنیاں اور ہزاروں مزدور روس میں کاروبار کر رہے ہیں۔

صدر پوٹن نے روسی سیاحوں کو ترکی جانے سے روک دیا اور ترکی سے پھلوں سبزیوں کی درآمد پر پابندی لگا دی، اور ترک تعمیراتی کمپنیوں کو کام کرنے سے روک دیا۔ مگر اس نے گیس کی روس سے ترکی برآمد کو جاری رکھا۔ اگر گیس پر بھی پابندی لگا دی جاتی تو دسمبر میں ہی ایردوان کو گھٹنے ٹیکنے پڑ جاتے۔ بہرحال، پوٹن نے ترکی سے تقریباً تمام درآمدات کو بند کر دیا گیا، اور برآمدات پر سوالیہ نشان برقرار رکھا گیا۔

سردیاں تو ترک معیشت نے نکال دیں مگر جب گرمیاں آئیں تو وہ تباہ ہونے لگی۔ انطالیہ کے خوبصورت ریتلے ساحل روسی سیاحوں سے تو محروم تھے ہی، ایردوان کی جانب سے کردوں اور داعش سے چھیڑ خانی کے نتیجے میں دہشت گردی کے واقعات کو دیکھ کر دوسری سب سے بڑی سیاحتی قوم، برطانیہ بھی ترکی کی بجائے دوسرے ملکوں کا رخ کرنے لگی۔ انطالیہ میں جون میں ہوٹلوں کے ستر فیصد سے زیادہ کمرے آباد ہونے چاہئیں تھے، مگر بیس فیصد بھی آباد نہ ہو پائے۔

وہ ریفرینڈم جس میں مقبولیت کی خاطر یہ طیارہ گرایا گیا تھا، اب بھوکے پیٹ ناراض ترکوں کو دیکھتے ہوئے خارج از امکان دکھائی دے رہا تھا۔

اب کل اس ایردوان نے جو روس سے معافی کا مطالبہ کر رہا تھا، روسی صدر پوٹن سے تحریری معافی طلب کر لی ہے۔ لکھ کر دے دیا ہے کہ مجھے معاف کر دیں۔

بہرحال چھوڑیں یہ ترکی روس کی باتیں۔ ایک دیسی کہانی سنتے ہیں۔

کہتے ہیں کہ ایک جاٹ کو پیاز چرانے کے جرم میں قاضی کے سامنے پیش کیا گیا۔ قاضی نے کہا کہ یا تو سو پیاز کھاؤ یا سو جوتے۔ جاٹ صاحب نے سوچا کہ دن رات پیاز ہی کھاتے ہیں، تو کیا مشکل ہے، یہ تو اپنی موج لگ جائے گی۔ اس نے پیاز کھانے پر آمادگی ظاہر کر دی۔

پانچ چھے روکھے پیاز کھا کر ہی اس کی حالت بری ہو گئی۔ اس نے دوسری سزا کی درخواست کی۔ درجن بھر چھتر تشریف پر پڑے تو اس کا منہ بھی اتنا ہی لال ہو گیا۔ کہنے لگا کہ اس سے بہتر ہے کہ پیاز ہی کھا لوں۔ دوبارہ پیاز کھانے لگا تو اسے دوبارہ جوتے کھانا زیادہ آسان لگا۔ یوں کرتے کراتے جب سزا ختم ہوئی، تو معلوم ہوا کہ اس نے سو پیاز اور سو جوتے دونوں کھا کر دگنی سزا بھگت لی ہے۔

خدا ہماری اور ہماری عزیز قوموں کو ایسے کوتاہ بین راہنماؤں سے محفوظ رکھے جو کہ پیازوں کے بھی شیدائی ہیں اور جوتوں کے بھی شوقین۔

اس معاملے پر گزشتہ مضامین

 روس کا کدو بم نومبر 2015

روس کا ٹماٹر میزائیل اور ترکی نومبر 2015

امت کا پاسبان ہے طیب ایردوان فروری 2016

 صدر ایردوان کی حکمت مئی 2016


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 696 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

3 thoughts on “ایردوان کی معافی: سو پیاز اور سو جوتے

  • 28-06-2016 at 1:27 pm
    Permalink

    وہ ریفرینڈم جس میں مقبولیت کی خاطر یہ طیارہ گرایا گیا تھا، اب بھوکے پیٹ ناراض ترکوں کو دیکھتے ہوئے خارج از امکان دکھائی دے رہا تھا۔

  • Pingback: امت کا پاسبان ہے طیب ایردوان - ہم سب

  • 28-06-2016 at 4:53 pm
    Permalink

    مجھے حیرت ہوتی کہ لبرلز کو ترک صدر سے دشمنی کیا ہے جو اس پر پھبتیاں کسے جا رہے ہو۔ بے چارے ایردووان کا قصور صرف یہ ہے کہ پاکستان کے جماعتیے اس کی حمایت کرتے ہیں۔۔اور لبرلز یہ قصور معاف کرنے کو تیار نہیں۔ حیرت یا حیرت۔۔یہاں سب ہی رد عمل کی نفسیات کا شکار ہیں

Comments are closed.