میڈیا، خواتین اور فحش زاویے


\"adnan-khan-kakar-mukalima-3b4\"

وہ ساعت قوم کی خوش قسمتی کی گھڑی تھی جب ہم یونیورسٹی کی استادی چھوڑ کر پاکستان کی سول سروس میں آ گئے۔ حق تو یہی ہے کہ سول سروس کا امتحان پاس کرنے والے کو کسی نوبل انعام حاصل کرنے والے سے بڑا عالم سمجھا جانا چاہیے۔ ہمارا یہ طرہ امتیاز رہا ہے کہ حق بات کہنے میں ہم کبھی نہیں شرماتے ہیں خواہ اس کا نتیجہ کچھ بھی کیوں نہ نکلے۔ ظاہر ہے کہ جیسے ہم جری ہیں، ویسے ہی بڑے عالم بھی ہیں۔

ایک دن ہم مہمان خصوصی بن کر ایک کرکٹ میچ دیکھنے چلے گئے۔ سوئے اتفاق کہ وہ زنانہ کالج میں ہونے والا کرکٹ میچ تھا۔ یہ بس قسمت کا ہی پھیر ہے کہ قوم کو سدھارنے کی غرض سے ہم جس کالج میں بھی پرنسپل سے کہہ کہلوا کر مہمان خصوصی بنتے ہیں، وہ بیشتر اوقات زنانہ کالج ہی نکلتا ہے۔ آج کل یہ کم بخت نام بھی تو ایسے رکھے جاتے ہیں کہ نیک نگاہ رکھنے والے کو بغور تفصیلی جسمانی جائزہ لیے بغیر سمجھ ہی نہیں آتی ہے کہ کون مرد ہے اور کون عورت۔ ہم نے پورا ٹی ٹوینٹی میچ دیکھا اور جب واپس آئے تو برحق طور پر آگ بگولہ ہو چکے تھے۔ واشگاف الفاظ میں آپ کو حق بات بتاتے ہیں کہ قوم کی اخلاقیات کا کس طرح میٹھے زہر کے ذریعے جنازہ نکالا جا رہا ہے۔

جدید تعلیم کی وجہ سے لڑکیاں بری طرح گمراہ ہوتی جا رہی ہیں۔ اس صورت حال کا ہم ذاتی طور پر کئی سال سے بغور مشاہدہ کر رہے ہیں۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ جیسے جیسے ہمارا تجربہ، دانش اور عمر بڑھتے جا رہے ہیں، ویسے ویسے یہ لڑکیاں زیادہ جنس زدہ ہوتی جا رہی ہیں۔ خاص طور پر ساٹھ سال کی عمر میں سول سروس سے ریٹائرڈ ہونے کے بعد سے تو ہمارا مشاہدہ یہی ہے کہ لڑکیاں اب ایسے حلیے میں نظر آنے لگی ہیں کہ وہ جنسی طور پر نہایت ہی زیادہ پرکشش اور ہیجان خیز ہو چکی ہیں۔ ان کے گھر والوں نے ان کو گمراہ میڈیا کے حوالے کر کے بے مہار چھوڑ دیا ہے۔ لڑکیوں کا یہ کام نہیں ہے کہ جسمانی طور پر اچھل کود والے کھیل کھیلیں۔ کوئی بھی صالح مرد اس حالت میں انہیں دیکھ کر بہک سکتا ہے جس کا گناہ ان بہکی ہوئی لڑکیوں کے سر ہی ہو گا۔

\"Charya_004\"

یہ دلیل غیر منطقی اور لایعنی ہے کہ وہ ایسے کھیل زنانہ کالج کی چار دیواری کے اندر کھیلتی ہیں۔ برائی کو آغاز سے ہی نہ روکا جائے تو ایک چھوٹا سا چشمہ ایک تند و خیز بے قابو دریا بن جاتا ہے۔ آج یہ کالج میں کھیلیں گی، تو کل یونیورسٹی میں یہی کرتوت دکھاتی پائی جائیں گی اور پھر قومی یا خدا نخواستہ بین الاقوامی سطح کے مقابلوں میں بھی شرکت کریں گی جس میں ٹی وی والے بھی ہوتے ہیں جو کہ لائیو کوریج کے ذریعے یہ جنسیت زدہ کھیل پوری دنیا کو دکھا دیں گے۔ اگر ورزش کے نام پر یہ جسمانی اچھل کود کرنا ہی ہے، تو اپنے کمرے کا دروازہ مضبوطی سے بند کریں، اور کمرے میں ہی سٹاپو وغیرہ کھیل لیں۔ سٹاپو ایک مناسب روایتی اور مشرقی کھیل ہے۔ بچپن میں ہم خود یہ کھیلتے رہے ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اس کا کوئی قومی یا بین الاقوامی ٹورنامنٹ نہیں ہوتا ہے جسے ٹی وی دکھائے۔ کم از کم ہمیں تو لاکھ کوشش کے باوجود ایسا ٹورنامنٹ دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا ہے۔ ہاں جمناسٹک وغیرہ کے ٹورنامنٹ اکثر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ شکر ہے کہ ابھی پاکستانی لڑکیاں جمناسٹک کی طرف متوجہ نہیں ہوئی ہیں ورنہ ان کو دیکھ کر بھِی غلیظ ذہن والے لوگ اسی طرح ٹی وی پر چپکے ہوتے جیسے کہ وہ بھارتی یا امریکی لڑکیوں کو دیکھ کر کرتے ہیں۔

ٹی وی کی بات آئی ہے تو یہ یاد دلاتا چلوں کہ اس ٹی وی اور ڈرامے سے ہمارا تعلق گزشتہ تین دہائیوں سے ہے اور ہم اس پر ایک ماہر کی حیثیت سے رائے دے سکتے ہیں۔ جب ہم ابھی نام بنا رہے تھے اور ساتھ ساتھ حق حلال کی تنخواہ کے علاوہ کچھ اضافی آمدنی بھی مطلوب تھی تو ہم نے ٹی وی پر خوب ڈرامے لکھے اور خدا کے فضل سے خوب نام اور مال کمایا۔ ان دنوں ہم اس قدر مقبول تھے کہ سرکاری دفتر میں حاضری لگانے کے بعد ہمارا سارا وقت نگار خانوں میں ہی گزرتا تھا۔ ہمارا تجربہ ہے کہ یہ کمرشل میڈیا، حرام کا پیسہ کمانے کی غرض سے قوم کے اخلاق تباہ کرنے سے رتی برابر بھی نہیں کتراتا ہے۔ علما نے نے اسے درست ہی حرام قرار دیا تھا۔ ہماری رائے میں اس سے پیسہ کمانا بھی مطلق حرام ہے۔ ڈرامے کے ڈائریکٹر مصنفین سے ذو معنی ڈائیلاگ ڈلواتے ہیں۔ اصرار کر کے ڈرامے میں نوجوان اور طرحدار لڑکیوں کے کردار لکھواتے ہیں جو عشق معشوقی کرتی پھرتی ہیں اور نوجوان نسل کو گمراہ کرتی ہیں۔ اور اسی پر بس نہیں، غضب خدا کا کہ کیمرہ مین ایسے ایسے ہیجان انگیز زاویوں سے ان کی فلمبندی کرتے ہیں کہ دیکھ کر دل تھم تھم سا جاتا ہے۔ وہاں بھی ہم نے اپنی کارکردگی کے خوب جھنڈے گاڑے۔ ہمارے ڈائیلاگ بھی ڈائریکٹر کو خوب پسند آتے تھے اور کیمرہ مین بھی ہمارے بتائے ہوئے زاویے سے ان کرداروں کی فلم بندی کر کے بجز داد و تحسین کے کچھ اور نہیں کہہ پاتا تھا۔ خدا کے فضل سے ہمیں اس میدان کا بھی استاد مانا گیا۔ واقعی سول سروس کے امتحان میں وہی شخص کامیاب ہو سکتا ہے جو ہرفن مولا ہو۔

بہرحال بات ہو رہی تھی شو بزنس کی گمراہی کی۔ کسی بھی نیک اور اچھے شخص کو ایسا برا میڈیا دیکھنا ہی نہیں چاہیے جس میں ایسا گھٹیا رومان اور جنسیت بھری ہوئی ہے جو کہ ہماری معاشرتی اقدار کے خلاف ہے۔ آپ ہماری بات کو جھٹلا نہیں سکتے ہیں کیونکہ ہم بتا چکے ہیں کہ ہم خود اس شو بز کا اپنی جوانی کے تیس برس تک حصہ رہے ہیں اور اسے اندر باہر سے خوب جانتے ہیں اور ذاتی طور پر اس کے تمام برے پہلوؤں سے کماحقہ واقف ہیں۔

تو بات ہو رہی تھی خواتین میں جنسیت کی اور کھیلوں کی۔ یہ کھیل کود مردانہ کام ہے۔ خواتین کو بس یہی روا ہے کہ کشیدہ کاری اور امور خانہ داری میں مہارت حاصل کریں۔ لیکن اس میں بھی احتیاط برتنی لازم ہے۔ بہتر ہے کہ نائلون کا ایک فرد واحد کی گنجائش والا پورٹیبل خیمہ لے کر اسے اپنے کمرے میں نصب کر لیں اور سارے کام اسی کے اندر بیٹھ کر کیا کریں تاکہ کسی نامحرم کی نگاہ ان پر نہ پڑ پائے۔ رات کو سونے کے وقت اس سے باہر نکلا کریں لیکن نکلنے سے پہلے خوب تسلی کر لیں کہ باہر گہرا اندھیر چھا چکا ہے اور انہیں کوئی نہیں دیکھ سکتا ہے۔

ہر شخص اپنے آئی لیول پر دیکھنے کا عادی ہوتا ہے، یا چند انچ نیچے دیکھ لیتا ہے۔ اب خدا نے پورے مین سٹریم میڈیا میں ہمیں ہی یہ ژرف نگاہی بخشی ہے جس پر پہلی نگاہ میں ہی خواتین کی فحاشی عیاں ہو جاتی ہے۔ آنکھ دیکھی مکھِی کون نگلے میاں؟ ویسے بھی اب ہم ساٹھ سے اوپر کے ہو چکے ہیں اور نہ تو اعصاب میں وہ دم باقی رہا ہے اور نہ ہی قویٰ ویسے مضبوط ہیں جیسے شو بز کے زمانے میں ہوا کرتے تھے۔ یہی آئی لیول پر سیدھے دیکھ پانے والی قدرتی صلاحیت ہے جو ہمیں سب سے پہلے وہ سب کچھ دکھا دیتی ہے جس طرف دیکھتے ہوئے کوئی بھی با حیا شخص شرما کر رہ جاتا ہے۔

ان فحش زاویوں پر مبنی نظاروں کو بند کیا جائے ورنہ وہ وقت دور نہیں ہے جب ہم پاگل ہو جائیں گے۔ قوم کی تباہی اب زیادہ دور نہیں دکھائی دے رہی ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 635 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

2 thoughts on “میڈیا، خواتین اور فحش زاویے

  • 28-06-2016 at 5:34 pm
    Permalink

    ماما مقبول جان کو اس آرٹیکل سے کوئی فرق نہیں پڑنا۔ کیونکہ وہ تو اس وقت بھی اپنی ’’ڈیوٹی‘‘ پر حاضر ہے ۔ اب وہ او ایس ڈی ہیں۔ ان کے ذمہ اس وقت کام انتشار پھیلانا، دہشت گردوں کی حمایت کرنا،پاکستانی معاشرے کو تقسیم کرنا تاکہ حکومت کرنا آسان ہوجائے ۔

  • 28-06-2016 at 9:17 pm
    Permalink

    آخر میں لکھتے کہ صاحب کشف جائے نماز پر بھیٹے رورہے تھے اورانگشت شہادت مارگلہ کی پہاڑیوں کی طرف کرکرے اس عذاب کی بشارت دے رہے تھے جس میں صرف موصوف اوران کے پیر صاحب ہی بچ پائے گے

Comments are closed.