خوبصورت دنیا، نفرت کا خیمہ اور تعصب کی آندھی


\"husnain\’ہم بہت تکلیف دہ اور دل آزار وقت میں زندگی بسر کر رہے ہیں، ہمارا ملک تباہی کے دہانے پر ہے، لوگوں کے دماغوں اور ان کی زبان میں نفرت ہی نفرت چھپی ہوئی ہے اور اس سے بچنے کی کوئی بھی صورت نظر نہیں آ رہی۔ مجھے یہ تو نہیں معلوم کہ مسقبل کیسا ہو گا، لیکن خاموشی بہرحال اس مسئلے کا حل نہیں ہے۔ بجائے آپس میں لڑنے اور ایک دوسرے پر الزامات دھرنے کے، حکومت کو چاہئیے کہ وہ ملک پر توجہ دے، لوگوں پر نظر رکھے اور اس چیز کو یقینی بنائے کہ ملک میں رہنے والی تمام کمیونیٹیز محفوظ ہیں۔ ہمیں اس وقت آپس میں متحد ہونے اور اپنی حفاظت کرنے کی ضرورت ہے۔ اہل سیاست کو یہ بات واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ ملک سب کا ہے، اور یہ کام ذرا جلد ہونا چاہئیے، بہرحال اس سے پہلے ہو جانا چاہئیے جب تک ہم خود کو دوبارہ سن اسی کی دہائی میں زندہ رہتے محسوس کریں۔\’

یہ ایک آن لائن پیٹیشن کا ترجمہ تھا جو change.org پر درج کروائی گئی ہے۔

\’میری بیٹی روتے ہوئے سکول سے واپس آئی اور اس نے مجھے بتایا کہ سکول میں ایک دیوار پر میرا نام لکھا تھا اور ساتھ یہ لکھا تھا کہ تم فوری طور پر اپنے ملک واپس جاؤ، رومانیہ تمہارا ملک ہے، تم وہیں رہو!\’

\"IMG_3682\"\’مجھ سے اگلی میز پر تین لڑکے بیٹھے تھے اور وہ ویٹریس کو لگاتار تنگ کر رہے تھے۔ وہ کہہ رہے تھے، یہ تم اتنی خوش کیوں ہو، تمہیں تو اداس ہونا چاہئیے، اب تمہارا یہاں کوئی کام نہیں، تم جلد ہی پولینڈ واپس چلی جاؤ گی، واپس جاؤ نمک حرامو، اپنے ملک میں واپس جاؤ۔\’

\’مجھے بریکزٹ کے بیس گھنٹے کے اندر اندر تین بار مختلف لوگوں نے پاکی کہہ کر مخاطب کیا، مجھے قحبہ کہا گیا، مجھے کہا گیا کہ میں فوراً اپنے ملک واپس جاؤں، وہ بہت خوش تھے کہ انہوں نے علیحدگی کے لیے ووٹ دیا۔ اور وہ اس بات پر مصر تھے کہ یہ ملک میرا نہیں ہے۔\’

\’کل رات میرے ایک سکھ دوست کو (شاید اس کی ڈاڑھی کی وجہ سے) کہا گیا کہ تمہیں تو اب تک جہاز میں ہونا چاہئیے تھا، واپس! واپس پاکستان کے راستے پر، ہم نے تمہیں بھیجنے کو ہی تو ووٹ دیا ہے۔ لندن دوبارہ صرف گورے لوگوں کا ہو گا، ہم نے اسے پھر سے ایک پاک ملک بنانا ہے۔\’

سعیدہ وارثی کے مطابق انہوں نے تقریباً تمام ویک اینڈ مختلف تنظیموں اور ان لوگوں سے رابطے میں رہ کر گزارا ہے جو نسل پرستی اور نفرت پھیلانے کے خلاف کام کرتے ہیں، وہ لوگ مستقل اس چیز پر نظر رکھتے ہیں کہ نسل پرستی کے حوالے سے کہاں کیا کام ہو رہا ہے اور انہوں نے بھی بہت مایوس کن صورت حال بتائی ہے۔ \"FullSizeRender(1)\"لوگوں کو گلیوں میں روکا جاتا ہے اور انہیں کہا جاتا ہے کہ دیکھو، ہم نے علیحدگی کے لیے ووٹ دیا ہے، اب تم چلے جاؤ، تمہاری بھلائی اسی میں ہے کہ تم واپس جاؤ۔ اور یہ سب بات ان لوگوں سے کی جا رہی ہے جو تین یا چار نسلوں سے وہیں رہتے ہیں۔ چاہے وہ پورے خاندان ہوں یا کوئی ایک آدمی، سب کو روکا جاتا ہے، کسی کا کوئی لحاظ نہیں۔ سعیدہ وارثی کے مطابق گلیوں کا ماحول بہرحال کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ لندن کے مئیر صادق خان بھی معاملے کی سنجیدگی کا احساس کرتے ہوئے نفرت کی اس لہر کو روکنے کے لیے پورے طریقے سے کوشاں ہیں اور ان کے اپنے الفاظ میں وہ \”حد سے زیادہ محتاط\” ہیں کیوں کہ لندن اور گردونواح میں نفرت کی آندھیاں چل رہی ہیں۔

تو یہ طے پایا کہ نفرت کسی کی میراث نہیں ہے۔ نفرت کسی کو کسی سے بھی اور کسی بھی وجہ سے ہو سکتی ہے۔ بہرحال یہ ایک انسانی جذبہ ہے جو ہمارے دلوں میں موجود ہے۔ ہو سکتا ہے آپ کو صنف مخالف سے نفرت ہو، نفرت ان سے بھی کی جا سکتی ہے جو آپ کے ہم خیال نہ ہوں۔ اگر آپ گورے ہیں تو کالے رنگ کے خلاف نفرت آپ کے دل میں ہو سکتی ہے۔ اگر آپ عبادت گزار ہیں تو گناہ گاروں کو آپ برا سمجھ سکتے ہیں، بلکہ گناہ گار بھی عبادت گزاروں سے بغض رکھ سکتے ہیں۔ پھولوں سے نفرت کی جا سکتی ہے اگر آپ کو ان سے الرجی ہے، بچوں کے شوروغل سے تنگ آ کر ان کو ناپسند کرنا بھی ایک معاشرتی رویہ ہے۔ کسی بھی اقلیت سے عقیدے کی بنا پر نفرت کرنا ایک نارمل سی بات ہے۔ دماغ میں جاری رہنے والی جنگ سے کسی کو فرار نہیں، اچھے اور برے دونوں قسم کے خیالات سےانسانی رویے \"IMG_3683\"تشکیل پاتے ہیں، اہرمن اور یزداں ازل سے برسرپیکار ہیں اور یہی تعصبات ہم سب کے دلوں میں پائے جاتے ہیں۔

ہمیں بچپن سے یہ سکھایا جاتا ہے کہ ان تعصبات پر قابو کیسے پانا ہے۔ تعلیمی نصاب ہمارے یہاں عموماً ایسا رکھا جاتا ہے کہ جس کو پڑھ کر ہم اپنی تاریخ پر فخر کر سکیں اور دماغوں میں سوالات کم سے کم پیدا ہوں۔ دوسرے ممالک میں بھی کسی حد تک یہ ہوتا ہو گا، خود پر اور اپنی تاریخ پر فخر کون نہیں کرنا چاہتا۔ بعض اوقات کسی کا دماغ اس سطح سے باہر آنے پر آمادہ نہیں ہو پاتا، یہ بھی ذاتی سی بات ہے، تمام تر تعصبات رکھ کر بھی ایک اچھا کاروباری انسان بنا جا سکتا ہے یا اپنے خاندان کے لیے ایک محبت کرنے والا فرد ہوا جا سکتا ہے، معاشرہ ہر فرد کو اپنی رائے رکھنے کی پوری آزادی دیتا ہے۔

مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جب کوئی فرد اپنے نظریات دوسروں پر مسلط کرنا شروع کر دے۔ ہماری تہذیب ہمیں سکھاتی ہے کہ جو انسان عمر میں ہم سے زیادہ ہو اس کی بات ادب سے سننی ہے، اس کے سفید بالوں کا احترام کرنا ہے، اس کی بزرگی کو مقدم رکھ کر اس کے ماضی کے معاملات سے درگزر کرنا ہے اور وہ جو کچھ بھی کہے، شخصی احترام کے دائرے میں رہتے ہوئے اس سے اختلاف کرنا ہے۔

ایک محترم صحافی نے آج کل ان لوگوں کے خلاف محاذ کھولا ہوا ہے جو ان کے جیسی سوچ نہیں رکھتے۔ اچھی بات ہے، مکالمہ زندگی ہے، بڑی سے بڑی جنگ بھی آخرکار میز کے اردگرد بیٹھ کر باہم صلاح مشورے سے ختم ہوتی ہے لیکن جنگ چھیڑی ہی کیوں جائے؟ بازاری طریقوں کی بجائے مکالمہ کیوں نہ ہو؟ جو طبقہ آپ سے متفق نہیں اس پر الحاد کے الزامات لگانا، ٹی وی پر بیٹھ کر باآواز بلند ان کے خلاف نفرت کے جذبات کو ہوا دینا، ایک ہی ویب سائیٹ کے پانچ سنیپ شاٹ دکھا دینا جب کہ اس پوری سائیٹ پر کچھ بھی ایسا نہ ہو جو آپ کے مقدمے کی بنیاد ہے، کہاں کا انصاف ہے؟ ایک ٹی وی پروگرام ذاتی نفرت کے ایجنڈے پر نہیں چلایا جا سکتا۔ جس طرح کسی بھی سوچ کے خلاف تعصب آپ کا حق ہے عین اسی طرح فریق مخالف بھی اس کا حق دار ہے۔ ذاتی بغض و عناد اگر ابلاغ عامہ کے پروگرام میں چھلکے گا تو وہ سیدھا سیدھا انتشار کو دعوت دینے والی بات ہے، نفرت کے بیج بو کر امن و آشتی کی فصل کاٹنے کی امید رکھنا بے کار ہے۔

\"IMG_3684\"برطانیہ کے انگریزوں اور ہمارے دوستوں کے معاملات ایک سے ہیں، بات موقع ملنے کی ہے، جس کو اپنا زور چلانے کا موقع جب ملے گا وہ فوراً دوسروں کو اپنے راستے پر لانے یا راستے سے بھگانے کی کوشش کرے گا۔ عام آدمی تک تو چلیے یہ بات سمجھ آتی ہے لیکن وہ افراد جو معاشرے کی فکری سمت متعین کرتے ہوں، ان سے غیر ذمہ داری کی امید نہیں کی جا سکتی۔ عام آدمی تو بریکزٹ کے فوراً بعد مسلمانوں کے گھروں میں نفرت انگیز پوسٹر بانٹنا شروع کر دیتا ہے، پولش لوگوں کو اپنے ملک واپس جانے کی دھمکیاں دیتا ہے، مسلمان عورتوں تک کو گالیاں دیتا ہے اور اپنے ہی ملک میں رہنے والے زرد یا کالے رنگ کے انسانوں تک کو نہیں بخشتا، مگر وہ عام آدمی ہے، اس پر قابو پایا جا سکتا ہے، سکاٹ لینڈ یارڈ تک اس پر قابو پانے کے لیے متحرک ہے لیکن معاشرے کے اعلی ترین ذہن اگر ایک بار نفرتوں کی جنگ میں گھر جائیں تو ان پر کوئی بھی ادارہ قابو نہیں پا سکتا اور اظہار رائے پر پابندی ہی اس کا حل قرار پاتی ہے جو بہرحال ایک خطرناک انجام ہے۔

جہالت کی آندھی مضبوط سے مضبوط عمارت کو گرا سکتی ہے اور جہاں عمارت بھی دور دور تک نظر نہ آئے، صرف خیمے ہوں جو اپنے اپنے بانسوں کی کمزوری کی وجہ سے لرزتے رہتے ہوں؟ تیز ہواؤں سے بچنے میں ہی عافیت ہے، خیموں کی طنابیں جتنی بھی زمین میں گڑی ہوں، ہوتی بہرحال عارضی ہی ہیں، خسارے کا سودا مگر انسان کی فطرت ہے!


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 348 posts and counting.See all posts by husnain