عریانی کا خوف اور اس کے عریاں اثرات


\"jamshedمسلم ممالک میں کیا جانے والا سب سے بڑا سروے ورلڈ ویلیو سروے تھا ۔ جب اس سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ مسلم ممالک ڈیموس سے نہیں ایروس سے خوفزدہ ہیں ۔ یعنی جمہوریت اور جمہوری اقدار سے زیادہ انہیں یہ خوف لاحق ہے کہ جدید نظام ہائے سیاست اپنے ساتھ بے حیائی اور عریانیت لائیں گے ۔

ہمارے ہاں سیکولرازم کے خلاف ہونے والے پروپیگنڈا میں جہاں سیکولرازم کو لادینیت کا مترادف قرار دیا جاتا ہے وہاں اسے عریانیت اور بے حیائی سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ لوگوں کو شاید لادینیت کا مطلب ٹھیک سے سمجھ نہ آئے لیکن وہ عریانیت کا تصور نہ صرف اچھی طرح بلکہ بہت اچھی طرح باندھ سکتے ہیں ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ دبانے والوں نے یہ تصور اور اس کا شوق عوامی اذہان پر کابوس کی طرح سوار کردیا ہے ۔ اس کا تجربہ ہمیں کچھ یوں ہوا ۔

ملتان میں ہمیں جس مدرسے میں ہمیں دینی تعلیم کے حصول کے لئے بھیجا گیا وہ یونیورسٹی کے قریب تھا ۔ یونیورسٹی میں مخلوط نظام تعلیم تھا اور مدرسے میں یونیورسٹی کو گناہ کا اڈا کہا جاتا تھا ۔ مدرسے میں لڑکوں میں جذبہ شہادت بیدار کرنے کے لئے سارا دن حوروں کے قصے سنائے جاتے لیکن کون ہے جو حُور کا تصور باندھنے کے لئے عورت کا محتاج نہ ہو ؟ لہٰذا اساتذہ کرام کی جب بھی ’آنکھ لگتی‘ لڑکے مدرسے کی چھت پر چڑھ کر اُس وقت تک یونیورسٹی میں جھانکتے رہتے جب تک اُن کی ٹانگیں سُن نہ ہوجاتیں یا پھر پکڑے نہ جاتے ۔ جو کوئی جماعت سے غائب ہوتا چھت پر پکڑا جاتا ۔ مولانا صاحبان ان ملزمان کو سزا دیتے تو فرطِ شوق سے استفسار کرتے رہتے ، ’’کیا دیکھا ۔ کیا دیکھا ‘‘۔

آئے روز یہ واقعات پیش آنے لگے تو ایک نابغہ روزگار نے یہ تجویز پیش کی کہ بیت الخلا کی تمام کنڈیاں اندر سے توڑ دی جائیں ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ پکڑے جانے کے خوف میں مبتلا لڑکے زیادہ وقت بیت الخلا میں گذارنے لگے تھے ۔ مولانا کا خیال تھا کہ لڑکے لڑکیوں کا تصور باندھ کر بیٹھے رہتے ہیں ۔ اگر کنڈیاں توڑ دی جائیں گی تو جلق لگانے سے باز رہیں گے ۔ پھر کنڈیاں توڑ دی گئیں اور لڑکے ایک بار پھر چھت سے پکڑے جانے لگے ۔

اس کے بعد یہ بھی طے پایا کہ صبح کے وقت ہر لڑکے کی قمیض کا پلو اٹھا کر معائنہ کیا جائے کہ کہیں کسی نے خواب میں لڑکی سے ملاقات تو نہیں کی اور اگر کی ہوتو اس کی موقع پر ٹانگیں توڑ دی جائیں گی ۔ ایک آدھ کی واقعی توڑ دی گئی لیکن ہر بار ٹانگیں توڑنے کا فریضہ نبھاتے ہوئے  مفتی صاحب مسلسل یہی پوچھتے رہے ، ’’ کسے دیکھا ؟ کیا ہوا؟‘‘۔

ہمارے ایک دوست کی ٹانگ ایک بار ٹوٹنے سے بال بال بچی اور اس نے ایک روز احساسِ گناہ سے کانپتے ہوئے ہمیں بتایا ، ’’یار خواب میں حُور کبھی نہیں آئی ۔ ہمیشہ لڑکی ہی آتی ہے ‘‘۔

بڑے ہوئے ، باہر کا سفر کیا تو پتہ چلا کہ اگر کہیں بھی حلال کھانا دستیاب نہ ہو تو ریڈ لائٹ ایریا (بازارِ حسن ) اور کسینوز میں ضرور مل جاتا ہے ۔ ہمارے ایک دوست ایک ملٹی نیشنل کمپنی کے کرتا دھرتا ہیں اور اکثر بیرون ملک دوروں پر رہتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ سُرخ روشنیوں کے جس بازار سے گذریں ہر طرف سے اہلاً و سہلاً اور مرحبا کی صدائیں بلند ہونے لگتی ہیں ۔

پھر جو بیرونِ ملک نہیں جاسکتے ان کا قصہ بھی ہر خار پر وا ہے ۔ ان کا اعمال نامہ ہر سال گوگل فراہم کرتا ہے ۔عریاں مواد دیکھنے والوں میں ہر سال ہمارا پہلا نمبر ہوتا ہے۔ کئی سال ہوگئے کوئی ہم سے یہ اعزاز چھین نہیں پایا ۔ ہم ڈیموس سے لڑرہے ہیں اور ایروس نے ہمیں چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے۔ فرائیڈ ٹھیک کہتا تھا کہ ہم جو کچھ دبائیں گے اُسی میں گھر جائیں گے ۔ ہم جس سے خوفزدہ ہونگے ہر طرف ہمیں وہی دکھائی دے گا ۔

فرائیڈ پر آپ کو اعتراض ہوسکتا ہے کہ وہ یہودی تھا اور ، بقول یوسفی ، ’ ذہن کو بھی ناف کا ضمیمہ سمجھتا تھا‘ اس لئے بے حیا تھا لیکن اس سے پہلے بھگت کبیر سائیں فرما گئے ہیں ’’اپنو آپ ہی بسرو‘‘ یعنی ’’ تم اپنے آپ کو پھیلا کر دیکھتے ہو ۔ جو تمہارے اندر ہوگا باہر وہی دکھائی دے گا‘‘۔ اس پر بھی آپ کو اعتراض ہوسکتا ہے کیونکہ کبیر سائیں ہمہ دین تھے ہندو انہیں ہندو اور مسلمان مسلمان سمجھتے تھے لیکن میاں محمد بخش ؒ بھی یہی فرما گئے ہیں کہ دنیا کے شیش محل میں ہر ایک اپنا ہی عکس پھیلا کر دیکھتا ہے ۔

 آپ نے فرما دیا اور ہر ہم نے مان لیا کہ آپ کو ایک معصوم اشتہار میں کیا دکھائی دیتا ہے ۔ اب کسی ایماندار لمحے میں بیٹھ کریہ سوچیں کہ یہ سب کیوں دکھائی دیتا ہے ؟


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔