عمران خان، جامعہ حقانیہ اور ریاست پاکستان


\"mujahidتحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے گذشتہ روز ایک متنازع مدرسے کی وکالت کے دوران یہ فتوی جاری کیا ہے کہ جو لوگ حقانیہ کو جاری کیے جانے والے فنڈز کی مخالفت کررہے ہیں وہ پاکستانی معاشرے سے ناآشنا ہیں جب کہ مدرسہ اپنے نظام میں اصلاحات کے لیے تیار ہے۔ دارلعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کی طالبان، حقانی نیٹ ورک اور کئی فرقہ پرست گروہوں میں وہی حیثیت ہے جو لوہے کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کے درمیان میں پڑے ہوئے ایک طاقت ور اور بڑے مقناطیس کی ہوتی ہے۔ حقانیہ نے نہ صرف ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی موت کا بھرپور سوگ منایا اور احتجاج کیا بلکہ الیاس کشمیری سے لے کر ملا منصور اختر تک شدت پسندوں کی ہلاکتوں پر نوحہ خواں دارالعلوم حقانیہ کے بارے میں شاید عمران خان کچھ بھی نہیں جانتے اور پاکستان سمیت افغانستان اور جنوبی ایشیا میں فروغ عسکریت پسندی میں جیسا مرکزی کردار اس دارالعلوم کا ہے شاید کسی دوسرے مدرسے کا نہیں۔ دارلعلوم حقانیہ وہ واحد مدرسہ ہے جس کی وساطت سے افغانستان، پاکستان کے قبائلی علاقوں اور شام عراق میں سب سے زیادہ سفاک قرار دئیے جانے والے اُزبک مجاہدین متعارف ہوئے۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ انیس سو نوے میں دارالعلوم حقانیہ کے مدارالمہام مولانا سمیع الحق کی درخواست پر اُزبکستان حکومت نے ایک ہزار اُزبک مجاہدین کو جامعہ حقانیہ میں تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے روانہ کیا۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے اِن اُزبک مہمان طلبا کی رہائش اور خوراک کے لیے بھاری فنڈز جاری کیے۔ جب افغانستان میں القاعدہ اور طالبان مضبوط ہوئے تو دارالعلوم حقانیہ نے اِنہیں افغانستان جہاد پر روانہ کردیا۔ اُزبک مجاہدین نے اپنے وطن سے بھی اپنے کئی ساتھی منگوا لیے اور یوں چیچن مجاہدین کی طرح اُزبک مجاہدین بھی اس جہاد میں شامل ہو گئے۔ جب پاکستانی فورسز نے قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن شروع کیا تو پاکستانی سپاہیوں کی گردنیں کاٹنے کا کام سب سے پہلے اِنہی اُزبک مجاہدین نے شروع کیا۔ اُزبک جنگجوﺅں نے سینکڑوں پاکستانی فوجیوں کو ذبح کیا ہے اور تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ مل کر پاکستانی سیکورٹی فورسز اور پاکستان کے اندر آئی ایس آئی کے مراکز، مہران بیس کراچی، کراچی ائرپورٹ سمیت بڑے بڑے حملے کیے جن میں سینکڑوں پاکستانی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

اس میں شک نہیں کہ دارالعلوم حقانیہ کو پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے افغان جہاد میں استعمال کرنے کے لیے تیار کیا اور کراچی کے بڑے مدارس جامعہ اسلامیہ بنوری ٹاون، جامعہ رشیدیہ، جامع فاروقیہ ، جامعہ اسلامیہ نیو ٹاون، پنجاب میں جامعہ کبیر والا، راولپنڈی کے مدارس مع لال مسجد اور اسی طرح پشاور اور کوئٹہ سے لے کر منبع العلوم میران شاہ تک کو جہادی بیس کیمپوں کے طور پر استعمال کیا گیا۔ اور ہزاروں نوجوان طلبہ کو جہاد افغانستان میں جھونک دیا گیا۔ لیکن اِن تمام مدارس میں مرکزی کردار جامعہ دارالعوم حقانیہ کا ہے جو نہ صرف افغانستان کے لیے جہادی فراہم کرتا رہا بلکہ سینٹرل ایشیا اور دنیا کے دوسرے خطوں سے بھی مجاہدین کو اکٹھا کرکے افغانستان میں طالبان اور القاعدہ کو افرادی قوت فراہم کرتا رہا ہے۔

\"24528718\"افغان جہاد، طالبان، القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان، پاکستانی فرقہ پرست گروہوں میں شامل رہے تمام ’حقانی‘ جامعہ حقانیہ کے وابستگان ہیں وہ چاہے حقانی نیٹ ورک کے اکابرین ہوں یا طالبان کی سابق کابینہ کے ارکان یا اُزبک اور چیچن مجاہدین کی شکل میں پاکستان، عراق، شام اور لیبیا میں دولت اسلامیہ کے لیے لڑتے ہوئے جنگجو، اِن کی جڑیں جامعہ حقانیہ میں پیوست ہیں اور مولانا سمیع الحق نے لاتعداد مرتبہ اِنہیں نہ صرف اپنا شاگرد قرار دیا ہے بلکہ اِن کی ہر صورت مدد کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

جامعہ حقانیہ کا ترجمان مجلہ ’الحق‘ اس بات کا شاہد ہے کہ کس طرح مولانا سمیع الحق اور جامعہ حقانیہ کے وابستگان نے اُسامہ بن لادن، ایمن الظواہری، ملا محمد عمر، مولانا جلال الدین حقانی، شیخ خالد محمد، ابو مصعب الزرقاوی، الیاس کشمیری، قاری نیک محمد، بیت اللہ محسود، حکیم اللہ محسود اور دیگر جہادی لیڈروں کے ساتھ ہزاروں صفحات پر محبت و عقیدت کا اظہار کیا ہے اور اِن کے مخالفین (بشمول پاکستان) کے ساتھ کس قدر بیزاری اور نفرت کا اظہار کیا ہے۔ خود عمران خان کے لیے اور اِن کی سابقہ بیوی جمائمہ خان اور اُن کے خاندان کے لیے جس قدر نفرت کا اظہار حقانیہ کے مجلے الحق میں ملتا ہے اس کی کوئی مثال نہیں دی جا سکتی۔ واضح رہے کہ عمران خان کی جماعت تحریک انصاف نے  300 ملین روپے کی خطیر رقم جس مدرسے کو فراہم کی ہے وہ مدرسہ اتفاق رائے سے عمران خان کو یہودیوں کا ایجنٹ اور اسلام دشمن قرار دے چکا ہے۔

دارالعلوم حقانیہ کے پاکستانی معاشرے اور پاکستانی ریاست پر اثرات شاید عمران خان کی نظر سے اوجھل ہوں لیکن انہیں کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کا کھوج اس مدرسے ملتا ہے جب کہ پاکستانی سیکورٹی فورسز کے سینکڑوں جوانوں کے گلے کاٹنے کی شروعات اسی تاریخی مدرسے کے طلبہ سے ہوئی اور پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث دہشت گرد اسی مدرسے کے اکابرین کے ممدوح تھے اور آج بھی ہیں۔ حقانی نیٹ روک کی تمام تر جزئیات اسی مدرسے سے جڑی ہوئی ہیں جہاں حقانیوں نے تعلیم پائی اور پھر افغان جہاد سے لے کر پاکستان اور اطراف میں دہشت گردی کی بڑی بڑی وارداتوں کی منصوبہ بندی کی۔ عمران خان کا دعوی ہے کہ مدرسہ اصلاحات کے لیے تیار ہے لیکن مدرسہ کا ترجمان مجلہ الحق پورے خطے میں خالص جہادی اصلاحات کی فکر میں غلطاں ہے اور اس بات کا برملا اعلان کرتا ہے کہ جب تک جہاد افغانستان کے فیوض و برکات کو تسلیم کرنے سے انکار کیا جاتا رہے گا پاکستان کے مسائل اور عالم اسلام کی کسمپرسی کا مداوا نہیں ہوسکتا۔ عمران خان کے مدنظر معلوم نہیں کس قسم کی اصلاحات ہیں جن کو اختیار کرنے کے لیے مدرسہ حقانیہ تیار ہے لیکن مدرسہ حقانیہ اپنی ترجیہات کو لاتعداد مرتبہ پیش کرچکا ہے جس میں پاکستان کو ساری دنیا سے مقابلے کے لیے تیار ہوجانا چاہیے، اُسامہ بن لادن کو پاکستان کا محسن اور اسلام کا ہیرو تسلیم کیا جائے، ملا عمر کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے پاکستان کی افواج کو طالبان کے شانہ بشانہ نیٹو اور امریکی افواج کے خلاف جہاد کرنا چاہیے، پاکستانی حکومت ضرب عضب کو ختم کردے کیوں کہ ضرب عضب عالم اسلام کے کونے کونے سے آئے ہوئے اسلامی مجاہدین کے خلاف ایک سازش ہے، پاکستان کو ہندو بھارت کے خلاف کھلا اعلان جنگ کردینا چاہیے اور بوقت ضرورت ایٹمی اسلحہ استعمال کرنے سے بھی گریز نہیں کرنا چاہیے، پاکستان کو امریکہ اور نیٹو ممالک کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات منقطع کرلینا چاہیے اور افغانستان کے طالبان جنگجوﺅں کے ساتھ مل کر افغانستان کو غیر ملکی افواج کے قبضے سے خالی کروایا جائے، پاکستان میں عورتوں کو گھروں میں پابند کیا جائے اور عورتوں کے سیاست میں حصہ لینے پر پابندی عائد کی جائے، ملک میں طالبان طرز کا اسلامی نظام نافذ کیا جائے اور تصویر کشی پر مکمل پابندی عائد کردی جائے، عالم اسلام کے کونے کونے سے جہاد کی غرض سے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں مقیم مسلمان مجاہدین کی مدد کی جائے اور اِنہیں کسی قسم کی گزند نہ پہنچائی جائے، پاکستان کشمیر، فلسطین، برما اور دنیا کے دیگر علاقوں میں جہاں اسلامی تحریکیں چل رہی ہیں اِن کی کھلم کھلا مدد کا اعلان کرے اور مجاہدین کو اِن تحریکوں کی مدد کے لیے روانہ کیا جائے۔ اسی طرح کی لاتعداد تجاویز اور مطالبات کو جامعہ حقانیہ کی طرف سے پیش کیے جاتے ہیں، اِن کے بارے میں تو علم ہوتا رہتا ہے لیکن آج تک جامعہ حقانیہ کی طرف سے یہ کبھی نہیں کہا گیا کہ وہ کسی حکومت کی طرف سے پیش کردہ اصلاحات کو تسلیم کرنے کے بارے میں غور کرے گا۔ عمران خان معلوم نہیں کن اصلاحات کا حوالہ دے رہے ہیں؟

اصل مسئلہ یہ ہے کہ پاکستانی ریاست شدت پسندی کے سامنے سرنگوں ہونے کے اشارے دے رہی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ ریاست کی بیرونی تنہائی اِسے مجبور کررہی ہے کہ وہ اپنی حکمت عملی کو تبدیل کرے۔ پاکستان میں روزافزوں شدت پسندی کے سامنے بند باندھنے کی تمام کوششیں رائیگاں معلوم ہونا شروع ہوگئی ہیں کیوں کہ شدت پسندوں کی طاقت نمایاں طور پر اپنا اظہار کرتی نظر آرہی ہے۔ خیبر پختونخواہ میں سرکاری تعلیمی اداروں کا کوئی پرسان حال نہیں اور حکومت کے پاس اِن اداروں کی بہتری پر خرچ کرنے کے لیے پھوٹی کوڑی نہیں جب کہ دوسری طرف شدت پسندی کے مراکز کو کروڑوں روپے کی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

One thought on “عمران خان، جامعہ حقانیہ اور ریاست پاکستان

  • 29-06-2016 at 10:51 am
    Permalink

    Bhetreen tehreer hy.imran khan sab Ko fund release se phele zror sochna chaye or itni brri raqam ko education sector me lgana chahye

Comments are closed.