سوشل میڈیا دانشور اور عریانی


\"rabiaکافی عرصہ ہوا، ٹی وی نہیں دیکھا، اگر دیکھا بھی تو خبروں کی حد تک.

کیا ہٹ ہے، پتا نہیں چلتا۔

ہاں شام میں ذرا فراغت پر سوشل میڈیا سے دن بھر کی خبروں کی جانکاری مل جاتی ہے۔

سوشل میڈیا بھی کمال کی چیز ہے، پچھلے زمانے کی پھاپےکٹنی کی طرح ہر خبر کو الگ نظرئیے سے پیش کرتا ہے اور گھر گھر میں بآسانی پھیل جاتا ہے، قطع نظر اس کے، کہ اس سے کسی کی دل آزاری ہوگی، تہمت لگے گی،الزام آئے گا اور یا پھر کسی کی عزت، جان بھی جاسکتی ہے۔  صرف یہی نہیں سوشل میڈیا پر آپ کی پوسٹ آپ کی ذہن، سوچ کی عکاس ہے،

ہماری خبروں کی دنیا سے وابستگی نئی نہیں. ہم نے میڈیا میں رہتے ہوئے بھی کئی اخلاقی اقدار کو سیٹھوں کے کہنے پر پامال ہوتے دیکھا، لیکن ریٹنگ کا معاملہ تھا جناب۔ گندہ ہے تو کیا ہوا دھندا ہے، بالآخر ملازمت کو خیر باد کہا۔

لیکن سوشل میڈیا پر تو کوئی کسی کو کچھ کہہ بھی نہیں سکتا، جہاں یہ نعمت ہے وہیں زحمت بھی ہے.

گھر بیٹھے مختلف ویب سائٹس پر خبروں، کالم اور بلاگ کے انبار سمیت اخبارات آن لائن مل جاتے ہیں۔

لائیو ٹی وی، اور کچھ لوگ تو خبروں کی آزادنہ ترسیل کے لیے اپنی تخلیقات بھی شامل کرلیتے ہیں…

اس تمہید کی وجہ یہ ہےکہ سوشل میڈیا پر عروج پانے والے کچھ کالم نگار اور بلاگر ہتھے سے تقریباً اکھڑ چکے ہیں۔ جو ان کے دل و دماغ میں آتا ہے، صفحہ قرطاس پر بکھیر دیتے ہیں، نہ چھاپنے والا جاننا چاہتا ہے نہ کوئی پیمرا نامی قومی ادارہ حرکت میں آتا ہے۔ نہ ہی سوشل میڈیا استعمال کرنے والے عوام لکھنے والے سے پوچھتے ہیں کہ میاں کیا کیچڑ اچھال رہے ہو…

ماروی سرمد اور حافظ حمداللہ کے الفاظ اور کردار آپ کے سامنے ہیں کوئی ڈھکے چھپے نہیں۔ صرف اک سوال یہ کہ جب دونوں میں تُوتُو میں میں ہورہی تھی تو پروگرام کٹ کیوں نہیں کیا گیا؟

اس کے بعد سوشل میڈیا پر دونوں کے مخالف اور حامی سرگرم ہوگئے، ویڈیو کو بار بار شئیر کیا گیا اور ایسے ایسے بیانات رائے اور تبصرے آنے لگے کہ سماجی موضوعات پر لکھنے والا ہمارا قلم بھی شرم محسوس کرنے لگ گیا۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اس معاملے کو چینل کی ریٹنگ کے لیے استعمال کیا جانے لگا…

دستار اور شلوار کا معاملہ حل نہیں ہوا تھا کہ مفتی قوی اور قندیل کا اسکینڈل آگیا، متنازع خاتون کی حرکات اور الفاظ نے مفتی صاحب کی عزت کے پول کھول دئیے، لوگوں نے تو اسکینڈل سے اپنے جزبات گرمانے اور قندیلیں جلانا شروع کردیں.

پھر وہی تبصرے اور عمدہ ذہنیت کے عکاس اسٹیٹس، جہاں مفتی صاحب اپنی ٹوپی کے ذریعے محترمہ کے غیر شرعی بال چھپانے میں مکمل ناکام دکھائی دیئے، وہیں قندیل بلوچ نے سوشل میڈیا پر کچھ ویڈیوز اپلوڈ کر کے مفتی صاحب کے خلاف ایک نیا تنازعہ کھڑا کر دیا جس کہ بعد مفتی قوی کو روئیت ہلال کمیٹی کی رکنیت سے بھی فارغ کر دیا گیا…

یہ دنیا خصوصاً ہمارا معاشرہ آخر کس ڈگر پر رواں ہے؟ کسے روکیں کسے سمجھائیں.. والدین بچوں کے لیے پریشان رہتے تھے یہاں تو مفتی صاحبان بھی کچھ کم نہیں نکلے.

ارے رکئیے صاحب…

جس مدعے کی جانب توجہ دلانے کے لیے لکھنے بیٹھے وہ ابھی باقی ہے۔۔۔

آپ نے کیو موبائل کا ایڈ تو دیکھا ہی ہوگا،

کیا کہا کونسا والا…

اسکا مطلب اکثریت نہیں جانتی

اچھا آپ نے اوریا مقبول جان کا کرکٹ کے اشتہار کے حوالے سے پروگرام دیکھ….

کونسا؟ اکثریت یہ بھی نہیں جانتی

مبشر زیدی اور وسعت اللہ والا تو پروگرام دیکھا ہی ہوگاَ، کونسا؟ یہ بھی نہیں معلوم

اوریا کا عریانی والا آرٹیکل پڑھا، کیا کہا… روز گار کے دھندوں نے وقت ہی نہیں دیا۔۔۔

اطلاعاً عرض ہے کہ یہ آجکل ہاٹ ایشو ہے، ہر مردو زن لبرل اور مذہبی سوچ رکھنے والا اس آگ پر ہاتھ سینک رہا ہے. اور اس کمال طریقے سے ایشو کے مندرجات، پروگرام کے حصوں، ایک دوسرے کی ذہنیت اور لڑکی کے بارے میں زبان دراز کی جارہی ہے کہ اللہ کی پناہ۔

صرف ایک سوال کیا آپ کے کالم اور آرٹیکل آپ کی ماں بہنیں پڑھتی ہیں؟ ان سے اس موضوع پر آپ کی کتنی بات ہوئی؟ ہوسکتا ہے کہ جواب نا میں ہو اور ہاں بھی ہوسکتا ہے کیونکہ کچھ خواتین بھی تو کالم یا بلاگ لکھتے بھول گئیں، کہ وہ کس سوچ کا پرچار کر رہی ہیں۔ جناب عرض یہ ہے کہ آپ لبرل ہوں یا مذہبی، عورت ہوں یا مرد آپ سے گزارش ھے کہ ذرا الفاظ کا چناو مناسب کرلیں، ہر اک کی ٹانگ کھینچنے کے چکر میں سرعام اپنے کپڑے مت اتاریں۔۔۔

لیکن نہیں اتنے شاندار گھٹیا الفاظ وذہنیت سے مزین آرٹیکلز لکھے جارہے ہیں کہ الامان الحفیظ… آرٹیکلز اور ویڈیوزپر شئیر تو بنتا ہے، دھڑا دھڑ شئیرنگ، تبصرے اور آراء، پھر وہی سب ہی اعلی ظرفی کرتے ہوئے اپنے گندے ذہنوں اور دلوں کا گند انڈیل رہے ہیں… ہر اک کو ریٹنگ کی فکر ہے کوئی ویڈیو پر ریڈنگ چاہتا ہے، کوئی کالم پر، کوئی کمرشل پر، کوئی فیس بک اسٹیٹس پر، کوئی اخبار میں، کوئی نیوز چینل پر۔ ۔  اگر خیال نہیں تو صرف اس لڑکی کا نہیں جس نے ایڈ / کمرشل کیا، اس بیٹی کی عزت کتنی آسانی سے اچھالی جارہی ہے

وہ وہ بیان کیا جارہا ہے کہ اللہ کی پناہ اور ایسے الفاظ۔ ۔

اوریا مقبول جان نے اپنی سوچ کے مطابق کمرشل دیکھا تبصرہ کرنے والوں نے اسے مزید تجزیاتی بنیادوں پر پیش کیا کہ اگر کسی کو سمجھ نہیں آئی تو ان کے تبصروں سے افادہ حاصل کریں، سمجھ لیں، دیکھ لیں، رمضان میں اپنی آنکھوں کو، کانوں کو، روح کو، سیراب کرلیں اور جو کچھ نہ کرسکیں وہ الفاظ سے تقویت حاصل کریں، حیرت تو یہ ہے کہ اک خاتون فرط جذبات میں مردوں کے اوصاف، جسم کی نمائش پر لکھ گئیں، اور مزے لینے والوں نے ان کی بھی ایسی تیسی کردی۔

اک صاحب تو پرانے قصے نکال بیٹھے، مولوی سے لے کر عیاش اوباش تک کو سحر زدہ لفظوں میں لپیٹا، جیسا کہ ان کالم نگار کے الفاظ تو آسمانی صحیفے ہیں، دوسروں کی اوقات دکھانے کے چکر میں ننگ دھڑنگ ناچ رہے ہیں اور ان کے پروانے، مداح واہ واہ کرکے اپنی خباثت کو تقویت دے رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اب اک طوفان بدتمیزی چل رہا ہے، مرد و زن کی برہنہ تصاویر ڈال کر لکھا جارہا ہے کہ تصویر میں حُسن تلاش کریں اور یا پھر اپنی ذہنیت۔ ۔

کس قسم کی تعلیمات اور خبر لوگوں تک کیسے پہنچائی جارہی ہے؟ اب بھی وقت ہے، سر دھنیے صاحب، سر دھنیے کہ اپنی آنے والی نسل کو لیکر ہم آپ کس جانب جا رہے ہیں۔ ۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ربیعہ کنول مرزا

ربیعہ کنول مرزا نے پنجاب اور پھر کراچی یونیورسٹی میں تعلیم پائی۔ صحافت میں کئی برس گزارے۔ افسانہ نگاری ان کا خاص شعبہ ہے

rabia-kanwal-mirza has 20 posts and counting.See all posts by rabia-kanwal-mirza

One thought on “سوشل میڈیا دانشور اور عریانی

  • 30-06-2016 at 10:34 am
    Permalink

    محترمہ ربیعہ کنول مرزا صاحبہ

    بہترین اسلوبِ بیاں پر آپ مبارکباد کی مستحق ہیں۔

    آپ نے بہت عمدگی سے ما فی الضمیر بیان کیا۔

    میں محترم وجا ہت مسعود صاحب کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے ایسے اہم مضمون کو “ہم سب” میں جگہ دی-

    درحقیقت ، مکالمے کوسنجیدگی اور شائستگی سے آگے بڑھانا چاہیے۔

    مزہبی اور سیکولر دونوں جانبین کے شدّت پسند کالم نگار مکالمے کو غلط رخ پر لے جانے کے ذمّہ دار ہیں۔

Comments are closed.