سوال صرف سوال ہی کا نہیں


\"bakht....\"سوال صرف سوال ہی کا نہیں۔ یہاں سوال کی جڑوں میں اور بھی ریشے جڑے ہیں۔ سوال کہہ کر آپ جس بدبودار پودے کو اکھیڑنے والے ہیں یہاں سے نئی الجھنوں کے پرپیچ ریشے نکلیں گے۔ سوال کا مقصد اگر معاشرے کو مثبت اقدار کی طرف لے جانا ہے تو یہ سوال ہے وگرنہ تنازعات، ہنگاموں اور نئی الجھنوں میں اٹھارہ کروڑ لوگوں کو دھکیلنا بجائے خود ایک بحران ہے۔ بحران کی حدود تو بہت محدود ہیں یہ تو کائنات کے نظام کو بکھیرنا ہے۔ آپ کیوں بضد ہیں سوال سوال کر کے خلق خدا کو ایک ایندھن میں دھکیلنے کے لیے۔ تاریخ میں ایسے بہت سے سوالات ابھی دفن ہیں جن پر کبھی مکالمہ ہوا ہی نہیں۔ انہیں ڈھونڈو انہیں رگیدو۔ یہ ایسا کوئی مجہول سا سوال بھی تو نہیں۔ اس پر تاریخ بحث کرچکی ہے۔ جمہوریت فیصلہ دے چکی ہے اور ایک پوری قوم اس کی گواہ ہے۔ یہ جمہوریت کا ایسا کوئی فیصلہ بھی نہیں تھا جسے دنیا نے ناپسند کیا ہو۔ پسند کیا گیا اور پوری دنیا نے سراہا۔ گڑھے مردے اکھیڑنا اور ایک طے شدہ جنگ کو چھیڑنا یہ کیا سوال ہوا؟ سوال یا مکالمہ متفقہ اقدار یا متفقہ نتیجہ نہ دے تو ایسے مکالمہ سے خدا کی پناہ۔پھر اس مکر ر سعی کا نتیجہ کیا نکلنے والا ہے ؟ اسی پرانی ٹریک پر دوڑا کر نئی نسل کو پرانے انجام سے دوچار کیوں کرنا چاہتے ہو۔ نئی نسل کو اپنے چیلنجوں سے نمٹنے دو، پرانے مسائل میں ایک بارپھر ان کی صلاحیتیں ضائع نہ کرو۔

 یہاں صرف عقیدت کا نہیں عشق کا سوال ہے۔ یہ اس عشق کے معاملے ہیں جن کی آپ کو سمجھ ہی نہیں آئے گی، جس انداز سے سوال اٹھانے کی بات ہورہی ہے اس سے تو یہی معلوم پڑتا ہے۔ یہ وہ محبت ہے جس کو دیکھنے والی نگاہ آپ کو ملی ہی نہیں۔ ملی ہوتی تو آپ محض سوال کے ترازو پررکھ کر کائنات کی اس عظیم سچائی کو جھٹلانے کی کوشش نہ کرتے۔ کرو مباحث، اس کی دنیا بہت وسیع ہے۔ سوالات ہر ہر موضوع پر ہزاروں اٹھائے جا سکتے ہیں، مکالمے کرو، مغالطے اڑاو، سیمینار بلاؤ، جواب پر جواب لکھو،مکھی پر مکھی مارو، تیر چلاو نشتر دکھاو،لفظوں کی جگالی کرو، بازو پھیلا کر داد سمیٹو، آہ بھی سنو واہ بھی، آہ میٹھا سرور دے گی اور واہ احساس تفاخر، مگر ایک بات بس ایک بات پتھر کی لکھیر سمجھو، یہ ایمان اور عشق کے معاملے ہیں۔ ہمیں معاف رکھو۔ آپ کے سوالات آپ کو مبارک۔

میرا عشق ماپنے کے لیے آپ کو ضرورت نہیں۔ فرقے، فسادات، بداخلاقی، مناظرے، چیلنج، بیس اور آٹھ رکعت، نوروبشر، مختارکل، شان صحابہ یہ میرے مسائل ہیں مجھے ان سے خود الجھا رہنے دو۔ کبھی سلجھ جائیں گے۔ یہ میرے زخم ہیں کبھی ٹھیک ہوجائیں گے۔ مجھے اپنےزخموں سے خود لڑنے دو۔ میں اپنے ہمہ داغ داغ تن پر پنبہ خود رکھنے کی سعی میں مشغول ہوں۔ مجھے اس کے طعنے دے کر عشق سے تائب ہونے کی امید بھی نہ رکھو۔ اس کا حق میں آپ کو بالکل بھی نہیں دیتا۔

آپ کو سمجھانا نہیں چاہتا کہ آپ کو مہان کلا کار سوری قلم کار ہونے کا اعزاز یوں ہی حاصل ہوچکا ہے۔ بس ایک بات عرض کرنی تھی۔ عشق کا ایک یہ والا مفہوم بھی پیش کرنے کی جسارت کرنا چاہتا تھا۔ درد کا ایک یہ والا احساس بھی دکھانا چاہتا تھا۔ عشق آپ کے ہاں دی وداس دیکھ کر سمجھا اور سمجھایا جاتا ہوگا، درد آپ کے ہاں جگجیت کی آواز کی تان پر انیل کپور کی آنکھ کے کنارے پر تیرتے آنسو کے آدھے قطرے کا نام ہے۔ مگر عشق دنیا میں بہت لامحدود قوت، بے انتہا بےکراں سمندر کی طرح پہچانا جاتا ہے بس اسی کا ادراک کرانے کی جسارت کر رہا ہوں۔ درد دل کی اتھاہ گہرائیوں تک تیز دھار خنجر کی طرح اترتا ہے اور من اندر سے لہو لہان اور قتلے قتلے ہوجاتا ہے۔ ایک عرضی ہے جو پیش کی ہے، بس نظر کرم ہوگا آپ کا۔ مجھے اپنے در کا سوالی سمجھ کر بس ایک درخواست قبول کرلو کہ نہ کرو مزید ایسا بالکل نہ کرو۔ یہ ایمان اور عشق کے معاملے ہیں۔ ہمیں معاف رکھو۔ آپ کے سوالات آپ کو مبارک۔

بخت برشوری صاحب، یہ کون طے کرے گا کہ کون سا سوال بدبودار ہے اور کون سا خوشبودار؟ جمہوریت میں کیا ایک بار کوئی معاملہ طے ہو جائے تو وہ حرف آخر ہو جاتا ہے اور اس پر بحث پر پابندی لگ جایا کرتی ہے؟ جمہوریت تو ہے ہی مسلسل سوال اٹھانے اور جواب تلاش کرنے کا نام۔ ورنہ سوال اٹھانے پر پابندی لگائی جائے اور کسی معاملے کو طے شدہ قرار دے کر دفن کر دیا جائے، تو پھر 73 کے آئین کی تمام ترامیم بھی دفن کرنی پڑ جائیں گی کہ یہ دستور بننے کے بعد اٹھنے والے سوالات کا نتیجہ ہیں۔ نہ کسی کا عشق ناپنا چاہیے، اور نہ کسی کی نیت پر سوال اٹھانا چاہیے۔ پابندی صرف اس تحریر پر ہونی چاہیے جو کسی کو تشدد پر اکسائے: مدیر


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

4 thoughts on “سوال صرف سوال ہی کا نہیں

  • 29-06-2016 at 11:53 am
    Permalink

    عشق ضرور کریں ، مگر اس کے جملہ حقوق صرف اپنے تک محفوظ نہ کریں . آپ عشق میں قتل بھی کریں تو ایمان ، دوسرا عشق میں روے بھی تو بدعتی .
    جہاں سہی میں تحریف ہو رہی ہو وہاں غلط کو بھی برداشت کر کے دلائل سے جواب دینا سیکھیں

  • 29-06-2016 at 12:42 pm
    Permalink

    معذرت کے ساتھ جو عشق آپ کو کسی انسان کی جان لینے پر مجبور کر دے کیا اسے عشق کہنا یا سمجھنا چاہیے؟

  • 29-06-2016 at 1:41 pm
    Permalink

    ” میرا عشق ماپنے کی آپ کو ضرررت نہیں“ بجا فرمایا مگر میرا ایمان ماپنے اور نیت کی نگرانی کی بھی آپ کو ضرورت نہیں

  • 29-06-2016 at 6:33 pm
    Permalink

    یہ تو کچھ اس قسم کا یکطرفہ، نرگسیت آلودہ عشق لگتا ہے جو بعض اردو غزلگو اور ہائی اسکول کے لڑکے کیا کرتے ہیں کہ محبوب کو پتہ ہی نہیں اور آپ مجنون ہوگئے۔ ایسے عشق میں محبوب کی ضرورت ہی نہیں۔ یہ خود کفیل عشق ہے۔ یہ وہ عشق نہیں جس سے انسانی رشتے اور تہذیبی بندھن ایجاد ہوتے ہیں اور انسان ایک دوسرے سے قریب آتے ہیں خود کو ایک دوسرے کے لئے ذمہ دار بھی سمجھتے ہیں۔

Comments are closed.