جدید تحقیق، عورت اورمیڈیا کی منافقت


\"zafarکہانی ایک فرانسیسی اخبار کے رپورٹر کے بیسویں صفحے پر شائع ہونے والے ایک تعزیتی خط سے شروع ہوتی ہے۔ پہلے مگر کہانی کے مرکزی کرداروں کا تعارف لازم ہے۔جرمن سائنس دان ڈاکٹراور ینٹ ڈیل (Orient Dell) جرمنی کے شہر ٹاٹلون سے تعلق رکھتے تھے۔ڈاکٹر ڈیل جینڈر سائنس (Gender Science) میں پی ایچ ڈی تھے۔ انہوں چالیس سال عورت پر تحقیق کی تھی۔ اس تحقیق میں ڈاکٹر ڈیل نے عورتوں کے مختلف جسمانی، ذہنی، نفسانی، سماجی اور نفسیاتی عوامل کا جائزہ لیا ہے۔2003 میں ڈاکٹر ڈیل نے اپنی دو جلدوں پر مشتمل تحقیقی مقالہ (Deranged University of Rio de Janeiro ) میں جمع کرایا۔ شنید ہے کہ اس مقالے میں ڈاکٹر صاحب کے کچھ نتائج پر یورپ کے حقوق نسواں کی چند تنظیموں نے بہت شور مچایا اور یونیورسٹی کو سخت دباﺅ کے بعد ڈاکٹر ڈیل کا مقالہ رد کرنا پڑا۔ڈاکٹر اپنی چالیس سالہ تحقیق کے یوں رد کئے جانے پر بہت دلبرداشتہ ہوئے اور اس مقالے کو آکسفورڈ یونیورسٹی پریس سے انفرادی طور پر شائع کروانے کی کوشش کرنے لگے۔ بہت حد تک معاملات طے پا گئے لیکن اس کی بھنک بھی حقوق نسواں کے تنظیموں کو پڑ گئی اور انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کو دباﺅ میں لا کر مقالہ شائع کرنے پرسخت ترین نتائج کی دھمکیاں دیں۔ ڈاکٹر ڈیل کا مقالہ شائع کرنے سے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے بھی معذرت ظاہر کی۔ آکسفورڈ پریس کے انکار پر ڈاکٹر ڈیل کو ایسا دلی صدمہ پہنچا کہ ایک صبح اپنے فلیٹ میں مردہ پائے گئے۔ڈاکٹر ڈیل کی موت کے نو دن بعدان کی ہمسایہ خاتون نے پولیس کو فون کر کے فلیٹ سے بدبو آنے کی شکایت کی۔پولیس نے ڈاکٹر کی لاش مردہ خانے میں جمع کروا دی اور ڈاکٹر کے لواحقین کی تلاش شروع کر دی۔بہت چھان پھٹک کے بعد پولیس کو ڈاکٹر ڈیل کے ایک رپورٹر بھانجے کا ٹیلی فون نمبر ملا جو فرانس میں رہائش پذیر تھا۔چار دن کے انتظار کے بعد داکٹر ڈیل کا رپورٹربھانجا بل رڈ(Bull Red) مردہ خانے پہنچا اور یوں ڈاکٹر ڈیل کی کہانی اختتام کو پہنچی۔

بل ریڈ کو اپنے دفتری مجبوریوں کی وجہ سے واپس فرانس جلدی جانا تھا۔ وہ پولیس کی معیت میں ڈاکٹر ڈیل کے فلیٹ پہنچا۔ سامان کا جائزہ لینے کے بعد اس نے پولیس سے درخواست کی کہ یہ سامان اس کے لئے فرانس لے جانا ممکن نہیں ہے اس لئے یہ کسی اولڈ ہاﺅس کو دیا جائے۔ بل ریڈ نے ڈاکٹر کے فلیٹ سے صرف چند کتابیں ایک ڈبے میں ڈال کر اپنی گاڑی میں رکھیں اور واپس فرانس چلا گیا۔مہینہ ڈیڑھ گزرنے کے بعد ایک دن بل کو خیال آیا کہ اسے ڈاکٹر ڈیل کی کتابیں اپنی لائبریری میں لگا دینی چاہیں۔اس نے ایک ایک کر کے کتابیں نکالنی شروع کیں اور متعلقہ خانوں میں لگانی شروع کر دیں۔یہیں پر بل کے ہاتھ ڈاکٹر ڈیل کا مقالہ لگا۔ بل نے اس کو سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور باقی کتابیں ترتیب سے اپنی لائبریری میں لگا دیں۔رات دیر بل نے ڈاکٹر ڈیل کے مقالے کی ورق گردانی شروع کی۔ وہ جوں جوں اس دیکھتا گیا توں توں حیران ہوتا رہا۔ اس نے فوراََ کاغذ قلم نکال کر اہم نکات نوٹ کرنا شروع کئے۔ اگلی صبح وہ دفتر پہنچا تو سیدھے اپنے ایڈیٹر کے سے ملاقات کی درخواست کی۔ ملاقات میں اس نے ایک کالم ایڈیٹر کے سامنے رکھا۔ایڈیٹر نے کالم پڑھا تو حیران رہ گیا۔ اس نے بل سے پوچھا کہ یہ کیا ہے۔ بل کو چونکہ اس معاملے کا علم نہیں تھا کہ ڈاکٹر کا مقالہ کہاں کہاں سے رد ہو چکا ہے اس لئے اس نے ایڈیٹر کو بتایا کہ یہ اس کے ماموں کی چالیس سالہ تحقیق کے تنائج ہیں۔ اس نے ایڈیٹر کو کہا کہ وہ اس مقالے کے نتائج پر تین چار اقساط کے کالم لکھنا چاہتا ہے تاکہ دنیا کو پتہ چل سکے کہ ڈاکٹر ڈیل کی تحقیق کے کیا نتائج تھے۔ بل کو امید تھی کہ اگر ڈاکٹر کے چالیس سالہ نتائج کا دنیا کو علم ہو جائے تو پبلشر ہاتھوں ہاتھ اس کی کتاب شائع کرنے کے لئے لائن میں لگ جائیں گے۔ طویل بحث کے بعد بل کا ایڈیٹر اس کا کالم شائع کرنے پر راضی ہوا۔

اسی بارے میں: ۔  وزیراعظم صاحب، میں غلام ابن غلام حاضر ہوں

اگلی صبح فرانس کے ایک اخبار کے بیسویں صفحے پر بل کا کالم ’ ایک تعزیتی خط انکل ڈیل کے نام‘ سے شائع ہوا۔بل کے مطابق ڈاکٹر ڈیل نے قرار دیا تھا کہ مرد کا دماغ 1260 مکعب سینٹی میٹر ہے جبکہ عورت کا دماغ مرد کے دماغ کے مقابلے میں 130 درجے کم یعنی 1130 مکعب سینٹی میٹر ہے۔ ڈاکٹر ڈیل اپنی تحقیق میں ثابت کیاتھا کہ کوئی عورت جب رومانی ناول پڑھتی ہے تو وہ تصور کی دنیا میں اس سے متاثر ہوتی ہے اور اس پر شہوانی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں ۔ڈاکٹر ڈیل کے بقول ایک شادی شدہ جوڑا اگر برہنہ حالت میں ایک دوسرے کو دیکھ لیں تو ان کے دماغ کے نیورونز اس سے شدید متاثر ہوتے ہیں اور ان کی ازدواجی زندگی متاثر ہو سکتی ہے۔ڈاکٹر ڈیل نے مزید قرار دیا تھا کہ مخصوص شکل کی سبزیاں اور پھل جیسے کھیرے، گاجر اور کھیرے وغیرہ سے عورتوں میں نفسانی خواہشات کا اضافہ ہو سکتا ہے اس لئے عورتوں کو ایسی سبزیوں اور فروٹ سے دور رکھنا چاہیے۔ڈاکٹر ڈیل نے قرار دیا تھا کہ کرسی پر بیٹھنے سے عورت کے جسمانی اعضاءاس انداز میں واضح ہوتے ہیں کہ اس پر ماورائی مخلوق اثر انداز ہو سکتی ہے۔ اس لئے عورت کوشش کرے کہ کرسی کا استعمال کم سے کم کرے۔اپنی تحقیق میں ڈاکٹر ڈیل نے کہا تھا کہ عورت جب گاڑی چلاتی ہے تو اس کے اوریز متاثر ہو سکتے ہیں۔اس کا مزید کہنا تھا کہ عورت جب مرد کے برہنہ رانوں کو دیکھتی ہے تواس کے دماغ کے شہوانی نیورونز میں اسی فیصد اضافے کا امکان ہے۔ اس نے خصوصاََ عورتوں کو ہاکی اور فٹبال دیکھنے سے دور رکھنے کی سفارش کی تھی۔اس کا مزید کہنا تھا کہ کھیلوں کی وردی یا جینز شرٹ میں جب کوئی عورت دوڑ لگاتی ہے تو اس سے سماج میں مردوں پر برے اثرات پڑتے ہیں ۔

تین اکتوبر 2013 کی صبح بل ریڈ کا یہ کالم اخبار میں چھپا اور شام تک پورے یورپ میںحقوق نسواں کی تنظیموں نے آسمان سر پر اٹھا لیا۔ دباﺅ اتنا بڑھا کہ اخبار کو اگلے روز ہیڈ لائن میں اس پر معذرت کرنا پڑی۔اخبار نے اس کالم کو ریڈ بل کی جانب سے ایک مزاحیہ تحریر قرار دیا۔ بل ریڈ کو اس کی پاداش میں اپنی نوکری سے ہاتھ دھونے پڑے۔بل ریڈ اتنے ذہنی کوفت کا شکار ہوا کہ اس کو اپنے ماموں کا مقالہ جلانا پڑا۔آج تین سال گزرنے کے بعد بھی یورپ کا پورا دجالی میڈیا ڈاکٹر ڈیل کی تحقیق کے بارے میں ایک خبر تک شائع نہ کر سکا اور نہ ہی ہمارے میڈیا کو توفیق ہوئی کہ وہ ڈاکٹر بل کی تحقیق پر کوئی خبر شائع کرے یا اپنے صحافی برادری کے رکن بل ریڈ کے حق میں کوئی خبر شائع کرے۔یہ کہانی کا ایک رخ ہے۔کہانی کا دوسرا رخ یہ ہے کہ اگر جامعہ اظہر مصر کے ڈین راشد حسن خلیل شادی شدہ جوڑے کی برہنگی پر کوئی فتوی لگاتے، یا سعودی مفتی شیخ سلمان العودہ رومانوی ناول پر فتوی لگاتے، یا یمنی عالم الحبیب عمر بن محمد کرسی پر خواتین کو بیٹھنے سے منع کرتے، یا سعودی سپریم جوڈیشل کونسل کے سربراہ شیخ صالح کہتے گاڑی چلانے سے عورتوں کی اوریز کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ یا کوئی پاکستانی دانشور ایک اشتہار میں لڑکی کے بولنگ کو اخلاق باختہ قرار دیتے تو ہمارا میڈیا کیا حال کرتا؟ جبکہ یہی میڈیا ڈاکٹر ڈیل کی پوری تحقیق پر دم سادھے خاموش رہا۔

اسی بارے میں: ۔  ڈبلیو گیارہ کو شرم کیوں نہیں آتی

بات صرف یہاں تک محدود نہیں ہے۔ ہمارے میڈیا کی ذہنی غلامی کا اندازہ اس سے لگائیں کہ گزشتہ ماہ پاکستان کے ایک موقر روزنامے کو راقم نے ڈاکٹر ڈیل کی تحقیق پر بل رڈ کے خط کے ساتھ ایک کالم بھیجا جس کے جواب میں ایڈیٹر محترم نے راقم کا مذاق اڑاتے ہوتے جواب میں لکھا، ’ ہم معذرت خواہ ہیں کہ ہم آپ کا کالم شائع نہیں کر سکتے۔ہمیں محسوس ہو رہا ہے کہ ڈاکٹر ڈیل پدرسری معاشرے کے اس یرقان زدہ ذہنیت کا حامل تھا جس میں عورت کو جنسی تلذذ کا ایک آلہ سمجھا جاتا ہے۔مشکل یہ ہے کہ ڈاکٹر ڈیل کی آسیبی آنکھوں نے عورت میں جنس،تلذذ ، اشتہا انگیزی، عشق، رغبت اور برائی کے سواکچھ نہیں دیکھا۔ یہ ایک نفسیاتی اڑچن ہے جو شہوت کے گرد گھومتی ہے اور عورت کو انسان کی بجائے جسم، رانوں، کولھوں اورپستانوں میں تقسیم کر کے محدب عدسے سے دیکھنے کی عادی ہے۔ڈاکٹر ایسے نرگاﺅکی ذہنی ساخت عورت کی تخلیق کو محض مرد کی تسکین اور افزائش نسل کے لئے دیکھتی ہے۔ یہ وہ فکری قحط ہے جو کالے اور سفید میں بٹی ہوئی ہے ۔ آپ کا ڈاکٹر شاید اس بنیادی اصول سے بھی ناواقف تھا کہ ایک بہتر سماج میں انسانوں کو رنگ، نسل، جنس، زبان،عہدہ، سماجی خیالات اور ثقافتی شناخت کی بنیاد پر ایک دوسرے پر کوئی برتری حاصل نہیں ہوتی۔آپ ازراہ کرم اپنا کالم (Deranged University of Rio de Janeiro ) کو ہی ارسال کریں۔ادارتی عملہ آپ سے التماس کرتاہے کہ (Orient ) اے سی کی ٹھنڈی ہوا میں (Dell) کے لیپ ٹاپ پر (Red Bull) پیتے ہوئے کوئی بہتر تحریر ارسال کریں‘۔

محترم ایڈیٹر کو راقم نے جوابی ای میل میں صرف اتنا عرض کیا کہ، ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہو گی لیکن بہرحال مجبور ہیں کہ بات یوں بنتی نظر آ رہی ہے جیسے ہم کریں تو مجرا اور آپ کریں تو ….


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 151 posts and counting.See all posts by zafarullah

3 thoughts on “جدید تحقیق، عورت اورمیڈیا کی منافقت

  • 29-06-2016 at 9:43 am
    Permalink

    Sir app ne Dr.sab k letter ko post likh r ferz pura Kr diya Jo k ek journalist ka hota hy..ab perhny waly he Na smjna chahy Tu Allah he haddayt dy..very well done ? keep it up..

  • 29-06-2016 at 2:13 pm
    Permalink

    آپ نے بھی مزاحیہ کالم تو نہیں لکھا؟

  • 01-07-2016 at 12:49 am
    Permalink

    Sarcasim at its best…?

Comments are closed.