احمد ہمیش ۔۔۔۔۔ خطوط کے آئینے میں


\"naseerاحمد ہمیش ایک عمدہ کہانی کار اور اردو نثری نظم کے پہل کاروں میں سے تھے۔ بقول ان کے اردو کی پہلی باقاعدہ نثری نظم 1961ء میں انہوں ہی نے لکھی تھی جو \”اور یہ بھی ایک ڈائری\” کے عنوان سے ماہنامہ نصرت لاہور 1962ء میں شائع ہوئی تھی۔ بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ وہ اچھے غزل گو بھی تھے۔ ان جملہ اصناف کے علاوہ وہ ایک سوانحی ناول بھی لکھ رہے تھے جو \”مکر چاندنی\” کے عنوان سے ان کے اپنے جریدے سہ ماہی \”تشکیل\” میں قسط وار شائع ہوتا رہا۔ معلوم نہیں مکمل ہوا یا نہیں۔ \”تشکیل\” ان کی وفات سے کچھ سال قبل بند ہو گیا تھا۔ اس جریدے کی پیشانی پر \”ادب کا شاک انگیز استعارہ\” لکھا ہوتا تھا اور وہ واقعی ان کے دوستوں اور بدخواہوں، سب کے لیے شاک انگیز ہوتا تھا۔ احمد ہمیش کی زندگی میں تو لوگ بڑی جلدی ان سے گریزاں ہونے لگتے تھے لیکن یوں لگتا ہے جیسے بعد از مرگ بھی یار لوگ ان کے بارے میں کچھ کہنے یا لکھنے یا ان کے ساتھ اپنے ادبی تعلقات کا ذکر کرنے سے شرماتے اور گھبراتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اکادمی ادبیات اسلام آباد میں ان کے لیے اعترافی جلسے (ریفرنس) میں حمید شاہد کے علاوہ کسی بھی قابلِ ذکر شاعر و ادیب نے شرکت نہیں کی تھی۔ اس ریفرنس کی صدارت کے لیے مجھے بلایا گیا تھا۔ غالباً کوئی اور آمادہ نہیں ہوا ہو گا ورنہ اکادمی ادبیات، نیشنل بک فاؤنڈیشن، ادارہ برائے قومی زبان وغیرہ جیسے سرکاری اداروں کے کرتا دھرتا مجھ جیسے گوشہ گیر عامی کو ایک ناظر و سامع کے طور پر بھی بلائے جانے کا اہل نہیں سمجھتے۔ خیر مجھے معلوم تھا کہ راولپنڈی/ اسلام آباد کے احباب میں سے کوئی بھی سامنے نہیں آئے گا اور وہی ہوا۔ افسوس کہ وہ تمام احباب جو احمد ہمیش کی زندگی میں ان کے رسالے کا چلتا پھرتا اشتہار تھے اور ان کے رسالے سے جی بھر کر فیض یاب ہوئے، ان میں سے کوئی بھی ریفرنس میں موجود نہیں تھا۔

احمد ہمیش سے میرے ادبی تعلقات کا آغاز نوے (90) کی دہائی میں ہوا تھا۔ میں تعلقات بنانے اور بڑھانے میں جتنا سست رَو ہوں احمد ہمیش اتنا ہی تیزی سے تعلقات ایک انتہا پر لے جانے اور توڑنے میں مشہور تھے۔ سچی بات یہ ہے کہ میں بھی شروع شروع میں محتاط تھا اور ان کے مزاج کی بوقلمونی کے باعث ڈرتا تھا، لیکن بعد میں یہ خدشات غلط ثابت ہوئے۔ میرے ساتھ انہوں نے آخر تک ایک احترام کا رشتہ برقرار رکھا۔ میں حیران تھا کہ وہ کس قدر جلد میری طبع اور مزاج کو سمجھ گئے تھے، جو ابھی تک کئی قریبی دوست بھی نہیں جان پائے۔ 1997ء میں لکھے گئے ان کے ایک خط کا اقتباس دیکھیے جس سے دوستوں کے حوالے سے ان کی زیرکی، زودحسی، دروں بینی اور خودآگاہی و ایجابی کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے:

\”ناصر جی! میں بہ خوبی سمجھ سکتا ہوں کہ آپ نے تعلق خاطر کی سطح پر کسی طرف داری کا خیال کیے بغیر مجھے بے حد عزیز رکھا۔ میرے معاملے میں آپ نے اس ظرف سے بھی کام لیا کہ وزیر آغا سے میرے تنازعہ کو نظرانداز کیا۔ جب کہ آپ نے وزیر آغا سے احترام کا رشتہ رکھا۔ اس تہذیبی رواداری کا جواب نہیں۔ نصیر احمد ناصر! میرے پیارے دوست! یہاں میں ایک اعتراف کرتا ہوں کہ میں اکثر رنج اور غصہ کی حالت میں اپنی نفرت کو ایک انتہا پہ پہنچا دیتا ہوں۔ ایسے میں ذرا بھی ظرف سے کام نہیں لیتا۔ اپنی اس کم ظرفی سے میں نے بہت دکھ اٹھائے ہیں۔ اس کے برعکس جب میں آپ کی شخصیت پر ایک نظر کرتا ہوں تو یہ دیکھ کر حیران ہوتا ہوں کہ آپ میں انتہائی انکسار ہے اور آپ عالی ظرف بھی ہیں۔ یہاں تک کہ اگر کسی کے غلط رویہ سے آپ کو شدید اذیت بھی پہنچتی ہے تو آپ جواب میں اُس سے نفرت کا اظہار تو نہیں کرتے بس اُس سے لاتعلق ہو جاتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ اگر کسی بات پر آپ کو بہت افسوس اور دکھ ہوتا ہے تو اُسے آپ خود پر جھیل جاتے ہیں، کسی سے کچھ کہے سنے بغیر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ بس ایک درخواست ہے کہ کسی غیر متعلق سطح پر آپ مجھ سے بدگمان نہ ہوں۔ اس لیے کہ آپ سے تو راست دل کا معاملہ ہے۔ میں اپنے جھگڑالو مزاج کے تحت لوگوں سے مسلسل لڑتا رہوں یہاں تک کہ انہیں اور خود کو لہولہان کر لوں، مگر آپ کے لیے میرے دل میں ایک خاص جذبہ ہے اور وہ قائم رہے گا۔\”

خود ایک رسالے کا ایڈیٹر ہوتے ہوئے کسی دوسرے رسالے کی پذیرائی کرنا اور اسے اپنے رسالے پر فوقیت دینا بڑے دل گردہ کا کام ہے۔ لیکن احمد ہمیش میں یہ خوبی تھی۔ جب میں نے 1997ء میں \”تسطیر\” شروع کیا تو انہوں نے اس کے لیے اپنی غیر مطبوعہ نظمیں بھجوائیں، اس کے خریدار بنائے اور اپنے رسالے سے زیادہ اس کا تذکرہ کیا۔ اگر کسی نے ادبی رسائل پر تبصروں میں تسطیر کا ذکر نہ کیا یا سرسری کیا تو مجھے بتائے بغیر اس سے لڑ پڑے۔ یہاں تک کہ جب میرے اُس وقت کے کچھ بہت قریبی احباب نے ان کے رسالے \”تشکیل\” پر مضامین لکھے، اس کی خبریں لگوائیں، خریدار بنوائے جبکہ ان احباب نے تسطیر کا کبھی نام لیا نہ اس کے لیے عملاً کوئی کام کیا سوائے اپنی تخلیقات شائع کروانے کے، تو احمد ہمیش نے دور بیٹھے ہوئے اس منافقت کو محسوس کیا اور مجھ سے خطوط میں اس کا برملا اظہار کیا۔ میں نے ایسی باتوں کا کبھی نوٹس لیا نہ کبھی دوستوں سے گلہ گزار ہوا۔ خاموشی سے اپنے کام میں مگن رہا۔ ظاہر ہے یہاں ان احباب کا نام لینا مناسب نہیں لیکن احمد ہمیش کی شخصیت کا یہ ایک انفرادی پہلو ہے اور کم از کم میری حد تک سچ ہے۔ اسی دور کے ایک خط میں لکھتے ہیں:

\”منافقت خواہ محبوبہ کی ہو خواہ دوست کی، جب ظاہر ہوتی ہے تو ذہن کو بڑی اذیت ہوتی ہے۔ ٹھیک ہے میں ایک انتہا پر محبت کرتے ہوئے اور ایک انتہا پر نفرت کرتے ہوئے زندگی گزار دوں گا، زیادہ سے زیادہ یہی ہو گا نا کہ لہولہان ہو کے مر جاؤں گا مگر درمیانہ انداز سے، مکاری سے اور مصلحت سے زندگی نہیں گزار سکتا۔\”

احمد ہمیش کی شخصیت کا ایک اور انوٹھا اور دل فریب پہلو یہ بھی تھا کہ وہ \”تشکیل\” میں چھپنے والی شاعرات کے عشق میں بڑی جلدی مبتلا ہو جاتے تھے۔ اور ان معاشقوں کو چھپانے کے بجائے تخلیقی انداز میں ان کا اعتراف کرتے تھے۔ عورت ہمیشہ ان کا خاص موضوع اور مسئلہ رہی ہے۔ ایک مکتوب میں لکھتے ہیں:

\”1995ء کے دوران مَیں ایک عورت کے عشق میں مبتلا ہوا تو اس کی پہل اُسی نے کی۔ اُس نے ایک نظم \”آج میں تم میں جاگوں گی\” لکھ کر مجھ پر زبانی اور تحریری سطح پر یہ تاثر قائم کیا کہ وہ مجھ پر مر مٹی ہے اور میرے سوا کسی کو نہیں جانتی۔ ظاہر ہے میں اُس کے ٹرانس میں آ گیا۔ وہ مجھ سے ٹیلی فون پر طویل مکالمے کرتی، نسوانیت کے بےشمار حربے آزماتی مگر بتدریج مجھ پر منکشف ہوا کہ وہ صرف ادبی رسائل میں چھپنے چھپانے اور مقبولیت کے لیے بہ یک وقت کئی لوگوں خاص کر مدیروں سے ایک ہی وقت میں ایک ہی فریکوئنسی سے مکالمے کر رہی تھی۔\”

آگے کئی مدیروں اور ادیبوں کے نام ہیں لیکن شکر ہے کہ ان میں نصیر احمد ناصر مدیرِ تسطیر کا نام نہیں۔ حالانکہ اُس شاعرہ کی نظمیں \”تسطیر\” میں بھی شائع ہوتی رہی ہیں۔ احمد ہمیش کے بیان میں کس حد تک سچائی ہے یہ کہنا مشکل ہے لیکن مذکورہ خاتون نے، اُس فریکوئنسی میں جس کا ذکر احمد ہمیش نے کیا ہے، کم از کم مجھ سے کبھی کوئی بات نہیں کی تھی۔ تاہم یہ درست ہے کہ اُس شاعرہ میں بلا کی تخلیقی آگ اور جودت تھی مگر وہ شہابِ ثاقب کی طرح جل بجھ کر منظرِ ادب سے غائب ہو گئی۔

احمد ہمیش کو زیادہ تر لوگ نثری نظم کے حوالے سے جانتے ہیں لیکن جیسا میں نے پہلے کہا ہے وہ ایک عمدہ غزل گو بھی تھے۔ وہ اس خیال سے غزلیں چھپوانے سے گریز کرتے رہے کہ مبادا غزلوں کی اشاعت کو نثری نظم میں ناکامی سمجھ لیا جائے۔ اپنی غزل آمادہ و دلدادہ کیفیت کا اظہار انہوں نے کئی خطوط میں کیا۔ 2000ء کے خطوط سے چند اقتباسات ملاحظہ کیجیے:

\”ناصر میری سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ آجکل ہر روز ایک غزل ہو رہی ہے اور بھور سمے ایسی قیامت کی آمد ہوتی ہے کہ کوئی وقفہ دیے بغیر ذرا ہی دیر میں کم از کم بارہ اور زیادہ سے زیادہ 35 اشعار کی غزل کہہ جاتا ہوں۔\”

\”پیارے ناصر! میرے معاملہ میں ایک عجیب بدنصیبی ہے کہ میں نے شعر و نثر اگر بہت نہیں تو کم بھی نہیں لکھا۔ مگر میرے بدخواہ سیاق و سباق سے ہٹ کر کچھ اس طرح کی باتیں کرتے ہیں کہ احمد ہمیش نے لکھا ہی کیا۔ ایک کہانی \’مکھی\’ لکھی اور دو چار نثری نظمیں لکھیں اور بس۔ جہاں تک غزلوں کا تعلق ہے تو میرے پاس پچاس غزلیں ہیں۔ غزل کا ایک مجموعہ شائع ہو سکتا ہے۔ پھر بھی مخالفین یہ کہہ سکتے ہیں نثری نظم میں بات نہیں بنی تو اب احمد ہمیش غزلیں کہہ رہے ہیں۔\”

مفاد پرستی اور آنکھ اوٹ پہاڑ اوٹ ایک وبا خیز رویہ بن چکا ہے جو ادب اور ادیب کو اندر ہی اندر دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔ اسے ختم کرنے کے لیے \”حشرات کُش لفظوں\” کی ضرورت ہے۔ اس کالم کا مقصد محض خطوط کے آئینے میں احمد ہمیش کی شخصیت کے چند گوشے سامنے لانا نہیں بلکہ یہ باور کرانا اور ترغیب دینا بھی مقصود ہے کہ احمد ہمیش پر لکھنا کوئی گناہ نہیں، باعثِ خجلت نہیں۔ تمام تر ادبی اور ذاتی اختلافات اور شخصی خامیوں خوبیوں کجیوں کوتاہیوں کے باوجود وہ ایک خلاق ذہن کے ادیب، شاعر تھے اور صرف پوسٹ باکس نہیں بلکہ ذہنی و قلمی طور پر متحرک مدیر تھے۔ ما بعد اجل انہیں انسان سے فرشتہ نہ بنائیے، بے شک جو وہ تھے وہی رہنے دیجیے لیکن ان کے تخلیقی کام، اچھے برے اوصاف اور ان کے ساتھ اپنے اپنے ادبی تعلقات کا اعتراف تو کیجیے۔ چپ سادھنے کی بجائے ان پر قلم اٹھائیے کہ ان پر کم لکھا گیا ہے۔ آخر میں اکادمی ادبیات سے گزارش ہے کہ احمد ہمیش کی غیر مطبوعہ نگارشات کی اشاعت کا اہتمام کرے تا کہ ان کا پورا کام قارئین، ناقدین اور محققین کے سامنے آ سکے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔