مسٹر افلاطون علی اعجاز


شاید میں دوسری یا تیسری جماعت کا طالب علم تھا جب فیروزسنز کی چھاپی ہوئی کتاب سو بڑے آدمی پڑھی۔ یہ مائیکل ایچ ہارٹ نہیں، کسی اور کی کتاب کا ترجمہ تھا۔ میں نے اس میں پہلی بار سکندر اعظم، سقراط، بقراط اور افلاطون کا نام پڑھا۔

اتفاق سے ان ہی دنوں میں نے ایک فلم مسٹر افلاطون کا پوسٹر دیکھا۔ خانیوال میں دو سینما تھے۔ شبنم اور پیلس۔ ان کی فلموں کے پوسٹر شہر بھر میں لگائے جاتے تھے۔ دلچسپ بات یہ کہ ایک ٹکٹ میں دو شو دیکھے جاسکتے تھے۔

میں نے امی سے فرمائش کی کہ میں فلم مسٹر افلاطون دیکھنا چاہتا ہوں۔ امی نے منع کیا۔ کیا سیدوں کے خاندان کا بچہ سینما جائے گا؟ مجھے یہ نزاکتیں معلوم نہیں تھیں۔ میں مسٹر افلاطون کو دیکھنا چاہتا تھا۔

میں ضدی بچہ نہیں تھا لیکن فلم دیکھنے کے لیے ضد کی۔ امی مجبور ہوگئیں۔ انھوں نے میرے تایازاد بھائی حیدر کو بلاکر کہا کہ مجھے فلم دکھا لائیں۔ نیکی اور پوچھ پوچھ۔ حیدر بھائی مجھے ایک دن اسکول سے آنے کے بعد سہ پہر کو شبنم سینما لے گئے۔

سینما میں تین درجے تھے۔ ایک گراؤنڈ فلور، ایک گیلری اور پھر باکس۔ سینما والا حیدر بھائی کا دوست یا واقف تھا۔ اس نے ہمیں باکس میں بٹھایا۔ کچھ دیر ہم نے وہاں فلم دیکھی۔ پھر کوئی سرکاری افسر یا صاحب لوگ آگئے تو ہمیں گیلری میں بھیج دیا گیا۔

میں بار بار حیدر بھائی سے پوچھتا رہا کہ مسٹر افلاطون کب تشریف لائیں گے؟ حیدر بھائی ہنستے رہے۔ وہ جس شخص کو مسٹر افلاطون بتارہے تھے، میں اسے ماننے کو تیار نہ تھا کیونکہ وہ یونانی زبان کے بجائے پنجابی بول رہا تھا۔ مجھے بعد میں پتا چلا کہ اس کا نام علی اعجاز تھا۔

انٹرویل میں ہم باہر نکلے اور حیدر بھائی نے مجھے شیزان کی بوتل پلا کر میری مایوسی دور کرنا چاہی۔ میں نے ان سے کہا کہ گھر چلیں۔ انھوں نے کہا کہ ٹکٹ کے پیسے پورے کیے بغیر واپس کیوں جائیں؟

بہت مشکل سے فلم ختم ہوئی۔ مجھے پنجابی نہیں آتی تھی اس لیے کچھ سمجھ نہیں آیا۔ کچھ دیر بعد دوسری فلم شروع ہوگئی۔ مزید تین گھنٹے سینما میں بیٹھنا پڑا۔ مجھے یاد ہے کہ دوسری فلم ندیم اور بابرا شریف کی سنگدل تھی۔ میں ان دونوں کو جانتا تھا کیونکہ ان کی فلمیں ٹی وی پر آتی تھیں۔

میں نے بعد میں فلم سالا صاحب وی سی آر پر دیکھی اور اس میں ننھے اور رنگیلے کے ساتھ مسٹر افلاطون کو بھی پہچان گیا۔ بعد میں انھیں ٹی وی ڈرامے خواجہ اینڈ سن میں بھی دیکھا۔ عجیب بات ہے کہ بیالیس تنتالیس سالہ علی اعجاز فلموں میں ہیرو آرہے تھے اور ڈرامے میں بوڑھے بنے ہوئے تھے۔

مجھے ان کا مقبول ڈراما دبئی چلو یاد نہیں لیکن جب میں خود چند درہم کمانے دبئی گیا تو علی اعجاز بہت یاد آئے۔ میرا خیال ہے کہ جس طرح ٹی وی پر ننھے کی کمال احمد رضوی کے ساتھ جوڑی بنی تھی، فلموں میں علی اعجاز ان کے جوڑی دار تھے۔

علی اعجاز نے بھرپور زندگی گزاری۔ سو سے زیادہ فلموں میں کام کیا۔ دوستیاں خوب نبھائی ہوں گی۔ عشق بھی لڑائے ہوں گے۔ ایسی افلاطونی زندگی کے بعد موت کا زیادہ دکھ نہیں ہوتا۔ اداسی ضرور ہوتی ہے۔ وہ ان کے چاہنے والوں کو ہورہی ہوگی۔ میں بھی اس اداسی میں شریک ہوں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

مبشر علی زیدی

مبشر علی زیدی جدید اردو نثر میں مختصر نویسی کے امام ہیں ۔ کتاب دوستی اور دوست نوازی کے لئے جانے جاتے ہیں۔ تحریر میں سلاست اور لہجے میں شائستگی۔۔۔ مبشر علی زیدی نے نعرے کے عہد میں صحافت کی آبرو بڑھانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔

mubashar-zaidi has 158 posts and counting.See all posts by mubashar-zaidi