فنکاروں کی آواز میں انقلاب کی دستک


\"Hashimگزشتہ برس بھارت میں ایک تعفن، ایک سڑاند پھیلی تھی ،تعصب ،عدم برداشت،فرقہ واریت کی سڑاند۔ اس تعفن کو پھیلانے کا مرکزی کردار ادا کرنے والی غالب ریاستی قوتیں بی جے پی اور مودی سرکار کا معتصبانہ رویہ تھا۔ جب مسلمان کہلانا بھارت میں جرم تھا، گائے ذبح کرنا تو دور کی بات تھی بیف کھانے کا مطلب اپنے آپ کو دہکتی آگ میں دھکیلنا تھا۔ بی جے پی کے رہنماوں نے مسلمانوں کے خلاف تضحیک وتحقیر آمیز تقاریر کے نئے ریکارڈ قائم کئے۔ بی جے پی اور آر ایس ایس کے غنڈوں نے مسلمانوں پر بہیمانہ تشدد کیا لیکن دوسری جانب\” سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا \”کا ورد کرنے والے شرمسار تھے کہ بھارت کا چہرہ اتنا مسخ تو کبھی نہیں تھا۔

بھارت کے منہ پہ مودی سرکار کی جانب سے ملی گئی کالک کو دھونے کے لئے وہاں کے فنکاروں نے بیڑا اٹھایا اور پھر دُنیا نے دیکھا کہ کارواں بڑھتا ہی چلا گیا، ادیبوں، صحافیوں، شاعروں اور دانشوروں کو بھی فنکاروں کی آواز پر لبیک کہنا پڑا۔ بڑھتے ہوئے کارواں نے عدم رواداری، تشدد، اشتعال انگیزی کے گہرے سائے کو ختم کرنے کا فیصلہ کر ڈالا۔ یہاں قابل ذکر اور غور طلب بات یہ تھی کہ ارادہ کرنے والوں میں تعصب کی سوچ رتی برابر نہیں تھی اور یہ ہی وہ سوچ تھی جس نے ان کے ارادوں کو متزلزل نہیں ہونے دیا ۔ منزل پانے کی لگن کے دیوانوں میں شامل خواہ وہ شبانہ اعظمیٰ تھی یا جواہر لال نہرو کی بھانجی، بی جے پی کی جانب سے کتے کا خطاب ملنے والے شترو گھن سہنا تھے یا پھر شاہ رُخ خان، خواہ وہ مشہور شاعر و ادیب اشوک باجپائی یا جارج فرنینڈس تھے، سب ہی کے خیالات ایک جیسے تھے \”سیکولر ازم کا دفاع\”۔ پھر باطل قوتوں کی بنیادوں کو ہم نے لرزتے ہوئے دیکھا۔ حق کی آواز اور اس کے علمبردارں کے سامنے مودی نظریہ ریت کی دیوار ثابت ہوا۔

پاکستان کو بھی انھی کٹھن مراحل اور منفی رویوں کا سامنا کرتے ہوئے ایک طویل عرصہ گزر گیا ہے لیکن کوئی حق کی آواز اُٹھانے کے لئے تیار نہیں۔ غالب ریاستی قوتوں کی یہ کامیابی ہے کہ عوام کو دہشت گردی کے خوف میں مبتلا رکھا جائے اور انھیں بنیادی سہولتوں کی چکی میں اس قدر پیس دیا جائے کہ ان کو سر اُبھارنے کا موقع نہ مل سکے۔ کراچی میں ایک تسلسل سے اچھے کردار اور اچھی شہرت کے حامل افراد کا قتل عام جاری ہے۔ آج تک نہ قاتل کا پتہ لگ سکا نہ مقتول کو یہ خبر ہوئی کہ مجھ کو کس جرم میں مارا گیا ہے۔ لیکن ہر دلعزیز امجد صابری قوال کے قتل نے اس خوف کے بت کو توڑا ہے جس کے نتیجے میں فخر عالم جیسے بہادر اور قائدانہ صلاحیت رکھنے والے فنکار نے حق کی آواز کو بلند کیا ہے۔ اُن کی آواز کو لبیک کرتے ہوئے تمام فنکاروں نے ان کا ساتھ دیا ہے۔ فخر عالم کی جانب سے حکومت وقت سے کیا جانے والا مطالبہ ہی روشنی کی وہ کرن ہے جو کئی برسوں سے چکی میں پسی ہوئی بد نصیب عوام کو گھپ اندھیروں سے نکالنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ اگرچہ فخر عالم نے حق گوئی کا بیڑا بدمست حاکموں کے خلاف اُٹھا ہی لیا ہے تو ہمارے خیال میں امجد صابری قوال شہید کے قتل کو بنیاد بنا کر اور آئین پاکستان کے آرٹیکل 4 کے مطابق \”ہر شہری کے بنیادی اور نا قابل تنسیخ حق پر\” فخر عالم اُس وقت ہی عملدرآمد کرانے میں کامیاب ہو سکیں گے جب ان کی تحریک کی حد صرف فنکاروں تک محدود نہ رہے۔

خود فخر عالم اپنی سیاسی وابستگی اور سیاسی لوگوں سے شناسائی کو بالائے طاق رکھ کر صرف شہریوں کو برابری کے حقوق دلانے کی جدوجہد کریں تو سیاسی شعبدے بازیوں اور بازیگروں سے پریشان حال عوام ٹی وی فنکار فخرعالم کی قیادت کو خوش آمدید کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرے گی۔ اور پھر وہی صورتحال بنتی چلی جائے گی جو گزشتہ برس بھارت میں تھی جہاں ہر سو پھیلے ہوئے تعفن کے خاتمے کی ابتدا فنکاروں نے کی اور انتہا بہار کے الیکشن نے کی تھی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔