رمضان کا روحانی پہلو اور رمضان ٹرانسمشن


\"kaleem\"سچی بات تو یہ ہے کہ کل سے پہلے میں نے کبھی رمضان ٹرانسمشن کے نام پر مچایا جانے والا اودھم نہیں دیکھا تھا۔ کل رات ٹی وی کے ریموٹ سے کھیلتے ہوئے ایک چینل پر رمضان ٹرانسمشن کا خصوصی پروگرام دیکھا تو کچھ دیر کے لئے رک گیا۔ کالم کی طوالت کا اندیشہ نہ ہوتا تو قارئین کی تفنن طبع کے لئے اس پروگرام کا آنکھوں دیکھا حال ضرور لکھتا۔ چلا چلا کر پروگرام کے میزبان کا گلا بیٹھ چکا تھا لیکن موصوف شائد یہ نہیں جانتے کہ اونچی آواز میں بولنے سے بات میں دانش نہیں پیدا ہوتی۔ جب سے ابصار عالم پیمرا کے سربراہ بنے ہیں تب سے اس ادارے میں کچھ جان محسوس ہو رہی ہے۔ رمضان المبارک سے پہلے تمام ٹی وی چینلز کو نشریات کے لئے چند رہنما اصول بھی بتائے گئے تھے کچھ ٹی وی چینلز تو ان رہنما اصولوں کی پابندی کر رہے ہیں لیکن اکثریت تاحال ان پر عملدرآمد نہیں کر رہی۔ بہت سے چینلز کو شوکاز نوٹس جاری ہوئے اور بعض جو سزا بھی دی گئی لیکن ایک بڑے ٹی وی چینل پر بیٹھے مداری پر جوں ہی ہاتھ ڈالا گیا تو سندھ ہائی کورٹ نے فورا اس مظلوم کی اشک شوئی کرتے ہوئے حکم امتناعی جاری کردیا تاکہ عوام اس نورانی چہرے کی زیارت اور علم کے بحر بے کراں سے محروم نہ ہوجائیں۔

رمضان کے نام پر جو میلے ٹھیلے ٹی وی سکرینوں پر ہو رہے ہیں ان کو دیکھ کر تو خود رمضان پریشان ہوگا کہ یہ میرے ساتھ ہو کیا رہا ہے۔ افسوسناک بات تو یہ ہے کہ بیس کروڑ کی آبادی میں سے اس پروگرام کے خلاف صرف نو سو پچاس شکایات موصول ہوئی ہیں۔ یعنی خود عوام بھی بھارتی فلمی شوز اور کامیڈی سرکس جیسے شوز کی چکا چوند میں گم ہیں۔ لیکن رمضان کا حقیقی فلسفہ کیا ہے یہ کسی کو معلوم ہی نہیں۔

رات گہری ہو چکی تھی اور میں یہ سوچ رہا تھا کہ صورت حال یہ ہی رہی تو آنے والی نسلیں رمضان کے حقیقی مقصد سے روشناس نہیں ہوں سکیں گی۔ اسی شش و پنج میں ایک خیال آیا اور میں نے میزبان رسول ﷺ حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے خانوادے کے ایک مرد درویش سے رجوع کیا۔ پو چھا حضور رمضان کیا ہے؟ ملکوتی چہرے پر مسکان ابھری اور فقیر گویا ہوا!!!

ارکان اسلام پر غور کیا جائے تو ان کی ایک حیثیت انفرادی ہے اور دوسری اجتماعی، تفکر کیا جائے تو اسلام کا پیغام یہ ہے کہ انفرادی سوچ سے نکل کر اجتماعی سوچ کو اختیار کرو اس لئے پانچ وقت مسجد میں اکٹھے ہوکر نماز با جماعت ادا کرتے ہیں۔ نماز جمعہ، عیدین اور حج بھی اس کی واضح مثالیں ہیں۔ اسی طرح رمضان بھی ایک اجتماعی پروگرام ہے، ایسا پروگرام کہ ساری امت مسلمہ اللہ کے لئے پورا دن بھوکی پیاسی رہتی ہے۔ اس لئے کہ اللہ یہ چاہتا ہے کہ صبح سے شام تک بھوکے رہو۔ انسان اس بھوک پیاس کے آداب سے بھی واقف ہے۔ اس کو یہ معلوم ہے کہ روزہ رکھ کر آدمی جھوٹ بولے یا بے ایمانی کرے (کسی دوسرے انسان کو اس کے حق سے محروم کرے یا اس کو نقصان پہنچائے)تو روزہ نہیں ہوتا۔ طبی ماہرین بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ روزے کی بدولت انسانی صحت اچھی رہتی ہے۔ ایک اور فائدہ روزے کا جو روحانی نقطہ نظر سے ہے وہ یہ ہے کہ انسان جب اللہ کے لئے بھوکا پیاسا رہتا ہے تو اس کے اندر اللہ کے انوار ذخیرہ ہو جاتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے کہ’’روزے کی جزا میں خود ہوں‘‘۔

9 رمضان تک ہر روزہ دار کی روح اللہ تعالیٰ کے انوار اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے نور نبوت کے انوار سے معمور ہو جاتی ہے۔ روزہ دار نے دو عشروں تک جو روشنیاں اپنے اندر ذخیرہ کی ہیں تیسرے عشرے میں ان کا استعمال زیر بحث آتا ہے جس کے لئے اعتکاف کا پروگرام دیا گیا ہے۔ اعتکاف کے عشرے کی طاق راتوں میں لیلتہ القدر ہے جس کے بارے میں قرآن پاک میں فرمایا گیا ہے۔ ’’ہم نے قرآن کو نازل کیا لیلتہ القدر میں۔‘‘ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ’’ لیلتہ القدر ایک ہزار مہینوں سے افضل ہے‘‘۔ ایک ہزار مہینوں سے افضل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ یہ رات 30ہزار دن اور 30ہزار راتوں سے بہتر ہے۔ علم لدنی کے حامل اولیا اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں پر انسانی حواس کی رفتار میں اضافے کی طرف واضح اشارہ ہے۔ یعنی اس رات کے دوران انسان کے حواس اتنا سفر کر سکتے ہیں جتنا انسانی حواس ایک رات میں طے کر لیتے ہیں۔

قارئین! انسانی حواس ایک رات میں کتنا سفر طے کرلیتے ہیں اس کا اندازہ آپ اس بات سے کر سکتے ہیں کہ انسان نیند کی حالت میں خواب کے دوران ایک لمحے کے ہزارویں حصے میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچ جاتا ہے، اور اگرکوئی دوسرا شخص خواب دیکھتے ہوئے انسان کا پیر ہلا دے تو ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں وہ دوبارہ چارپائی پر موجود ہوتا ہے۔ یعنی رمضان کے آخری عشرے میں اگر ذہن مرتکز ہو جائے، اللہ تعالیٰ سے ربط قائم ہو جائے تو انسانی حواس کی رفتار ساٹھ ہزار گنا تک بڑھ جاتی ہے۔ اس ذہنی مرکزیت اور رفتار سے انسان کو’’ مرتبہ احسان ‘‘حاصل ہو جاتا ہے۔ حضورؐ کا ارشاد ہے کہ مرتبہ احسان کے دو درجے ہیں ایک درجہ یہ ہے کہ بندہ محسوس کرے کہ مجھے اللہ دیکھ رہا ہے اور اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ بندہ یہ محسوس کرے کہ میں اللہ کو دیکھ رہا ہوں۔‘‘دراصل رمضان کا مقصد یہی ہے کہ انسان مرتبہ احسان پر فائز ہوجائے۔

محترم قارئین!ذرا سوچئے کہ انسان زبانی کلامی نہیں بلکہ حقیقی طور پر یہ محسوس کر لے کہ اللہ اس کو دیکھ رہا ہے تو اس دنیا سے جھوٹ، فریب، فرائض سے غفلت، چوری، ڈکیتی، ناحق قتل و غارت، ماں باپ کی نافرمانی، ملاوٹ، دولت پرستی، کسی کو نقصان پہنچانے یا اس کا حق مارنے یا اس طرح کے دیگر شیطانی طرز فکر کے تحت انجام پانے والے اعمال ختم ہو جائیں گے یا غیر معمولی حد تک کم ہوجائیں گے اور یہ دنیا امن و سلامتی اور خوشحالی کا گہوارہ بن جائے گی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

One thought on “رمضان کا روحانی پہلو اور رمضان ٹرانسمشن

  • 30-06-2016 at 10:31 pm
    Permalink

    Ramzan kay mutaliq itna Taleemi or Taqeeqi Mazmoon bohat kam parhny ko mila . Is column sy Kaleem sb ke Sayasat k sath sath Rohaniyat pa gahri Nazar ka pata chalta ha.

Comments are closed.