سارہ کی کرکٹ نئے عہد کی تصویر ہے


\"zeeshanکیو موبائل کا ایک اشتہار کمرشل میڈیا پر آیا ہوا ہے جس میں یہ دکھایا گیا ہے ایک لڑکی (سارہ ) کو کرکٹ کھیلنے کا جنون ہوتا ہے، اس شوق میں اس کی ماں اس کی مددگار ہوتی ہے مگر باپ کو لڑکیوں کے کرکٹ کھیلنے پر اعتراض ہے۔ ماں اپنی اجازت سے بیٹی کو چناؤ کے مرکز بھیجتی ہے اور باپ ماں کے اس فیصلے پر اعتراض تو نہیں کرتا مگر ہنوز اپنی ضد پر قائم رہتا ہے۔ لڑکی مرکز جاتی ہے، وہاں بہترین کارکردگی پر اس کا چناؤ ہوتا ہے اور وہ قومی کرکٹ ٹیم کا حصہ بن جاتی ہے۔ قومی ٹیم کا حصہ بننے پر اہل محلہ لڑکی کے والد کو مبارک باد دیتے ہیں کہ آپ کی بیٹی بہت باصلاحیت ہے اور اہل محلہ کا نام روشن کر رہی ہے۔ باپ کو خوشی ہوتی ہے مگر ہنوز وہ اپنی بیٹی کے کرکٹ کھیلنے کا حامی نہیں ہوتا جبکہ اس کی بیوی (لڑکی کی ماں) کھلم کھلا اپنی بیٹی کے ساتھ ہوتی ہے۔

چناؤ کے بعد سب سے پہلا میچ آسٹریلیا کی ٹیم کے ساتھ ہوتا ہے، لڑکی کی میچ وننگ کارکردگی کی بنیاد پر پاکستانی ٹیم میچ جاتی ہے۔ سارہ کی ماں خوشی سے جھوم اٹھتی ہے اور باپ کو اپنے فیصلے پر شرمندگی ہوتی ہے کہ جی ہاں لڑکیاں بھی کرکٹ کھیل سکتی ہیں اور ملک و قوم کا نام روشن کر سکتی ہیں۔ اس ٹی وی کمرشل کو دیکھ کر دو قسم کے عوامی جذبات سامنے آئے ہیں جنہوں نے ترقی پسندوں اور رجعت پسندوں کا درمیان نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

-عوام کی اکثریت اس کمرشل کو دیکھ کر آبدیدہ ہو جاتی ہے، لڑکی اور اس کی ماں کے حسن انتخاب کی تعریف کرتی ہے۔ یہ ایک جذباتی منظر ہوتا ہے اور ایسے ہی زندگی کے اسباق ہمارے اپنے گھروں میں بھی ہیں۔ میں اپنی بات کرنے کے بجائے محترم صحافی دوست رؤف کلاسرا کی بات کروں گا۔ وہ کہتے ہیں کہ جب انہوں نے صحافت کا شعبہ پسند کیا تو ان کے بڑے بھائی (جو سرائیکی ثقافت میں باپ کے برابر ہوتا ہے ) ڈاکٹر نعیم کلاسرا نے اس فیصلہ کو ناپسند کیا۔ کلاسرا نے اپنی آرزو کی جستجو کی، نتیجہ یہ نکلا کہ وہ آج پاکستان کا صف اول کا صحافی اور ملک کے معروف ترین لوگوں میں شمار ہوتا ہے۔ کلاسرا کہتے ہیں کہ جب وہ کامیابی کی منزل پر پہنچے تو ان کے بھائی کے سامنے جب بھی اس کی تعریف ہوتی اور کہا جاتا کہ آپ رؤف کلاسرا کے بھائی ہیں تو انہیں بہت خوشی ہوتی۔ کلاسرا کے اپنے الفاظ ہیں \”بیس برس بعد اپنی وفات کی شام 2013 میں وہ میرے پاس اسلام آباد میں تھے۔ مجھے کہا روفی یار جب میرے ڈاکٹر دوست تمہارا نام اچھے لفظوں میں لیتے ہیں تو مجھے بہت فخر محسوس ہوتا ہے۔ ا چھا لگتا ہے جب وہ پوچھتے ہیں آپ روف کے بھائی ہیں۔ \”۔۔۔ کلاسرا سوال اٹھاتے ہیں \”تو کیا میں اپنے خاندان اور سب سے بڑھ کر باپ جیسے بھائی کی نافرمانی کا مرتکب ہوا ہوں جیسے وہ بچی ہوئی ہے جو باپ کی مرضی کے برعکس کرکٹ کھیلتی ہے۔۔۔؟\”

\"sara\"– عوام میں کچھ رجعت پسند افراد کو لڑکی کی دوڑ فحاشی، اور اپنی آرزو کی جستجو گھر سے بغاوت محسوس ہوئی۔ حیرت اس بات پر ہے کہ کمرشل میں جس لڑکی نے ایکٹنگ کی اس کی عمر کلاس نہم دہم کی بچیوں کی عمر کی ہو گی۔ اس عمر کی بچیاں ہمارے گھروں، محلہ، اور عزیز و اقارب میں چھوٹی بچیاں سمجھی جاتی ہیں۔ جب ہم ان کے گھر جاتے ہیں تو اپنی ثقافت کے اعتبار سے ان کے سر پر ہاتھ رکھتے ہیں۔ دوسری طرف کمرشل میں لڑکی گھر سے بھاگ کر نہیں جا رہی۔ اس کی ماں کی مرضی شامل ہے۔ وہ باپ کے سامنے جاتی ہے جسے اس کے گھر سے باہر جانے پر اعتراض نہیں بلکہ اس کے بطور کرکٹر کیریئر پر اعتراض ہے۔

خاندان جبر کا نام نہیں، خاندان اپنے ممبران کے باہمی خوشگوار اشتراک عمل کا نام ہے۔ خاندان کے ہر فرد کو اپنے ٹیلنٹ کے اظہار کا حق حاصل ہے۔ والدین بچوں کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں اور سارہ کامیاب ہوئی۔ جنہیں سکول کی عمر کی بچی کے دوڑنے پر فحاشی نظر آئے وہ اپنے رشتہ داروں، گھروں، اور محلہ میں لڑکیوں کو کس نظر سے دیکھتے ہوں گے، لمحہ فکریہ ہے۔

اس کمرشل پر میری عزیز دوست رامش فاطمہ کا تبصرہ تھا۔ \”نئے صنعتی عہد کی شروعات کا پیغام دیتی کارپوریٹ کمرشل\”۔ ایک منفرد تبصرہ فیس بک پر محترم سلمان حیدر کا تھا وہ لکھتے ہیں \” اگر ہم اس اشتہار میں غیر موجود فحاشی کو نظرانداز کر دیں تو اس میں کچه اہم چیزیں ایسی موجود تهیں جن پر بات کرنے کی ضرورت ہے. مثلاً خاندان اور اس میں اختیار کی کشمکش، نسل اور جنس کی بنیاد پر ابلاغ کا فقدان نیز ماں کا باپ اور بچوں کے درمیاں رابطہ کار کا کردار، غیر روایتی پیشوں میں جانے والی خواتین کے مسائل اور دیگر بہت سی چیزیں ایسی ہیں جن پر بات ہونی چاہئیے تاکہ انہیں سمجها جا سکے لیکن بد قسمتی سے اس کام کے لیے نہ فیس بک مناسب فورم ہے اور نا کمرشل ٹی وی پر سنجیدہ مباحث کی فی الوقت کوئی گنجائش نظر آتی ہے \”۔ یقینا ضروری ہے کہ ان سوالات پر آواز اٹھائی جائے۔ اگر مسائل موجود ہیں تو انہیں حل کرنا ضروری ہے۔

مسائل کا حل ان کے حل کی آرزو، مسائل کے صحیح فہم اور صحیح منصوبہ بندی میں ہے۔ اگر خواتین کو سماجی زندگی میں مسائل کا سامنا ہے تو انہیں سنجیدگی اور ذہانت سے حل کیا جائے۔ اگر مسئلہ کا حل یہ ہے کہ \”چونکہ خواتین مسائل کا سامنا کر رہی ہیں اس لئے خواتین کی سماجی زندگی ختم کر دی جائے\” ہے تو کیا ہم نہیں جانتے کہ سکول و مدرسہ میں چھوٹی عمر کے بچوں کو جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے تو کیا تعلیم پر پابندی لگا دی جائے؟ کیا ہم نہیں جانتے کہ اوریا مقبول کے عصر حاضر میں رومانوی کردار طالبان و داعش نے معصوم شہریوں کو عبادت گاہوں بازاروں ائیرپورٹ تھانے چھاؤنی اور تفریحی مقامات سمیت ہر جگہ نشانہ بنایا ہے، تو کیا عوام مسجد سکول بازار ائیرپورٹ تھانہ کچہری چھاؤنی اور تفریحی مقامات پر جانا چھوڑ دیں۔ ان گنت مصائب اس ملک میں پائے جاتے ہیں تو کیا مسئلہ کا حل یہ ہے کہ عوام کو کسی قید خانہ میں ڈال کر ان پر کسی خدائی فوجدار گروہ کا پہرا بٹھا دیا جائے ؟

سب سے اہم بات جو میں اس تحریر کی مدد سے اٹھانا چاہتا ہوں وہ خواتین میں اپنی وقار، صلاحیت اور ذمہ داری کے احساس سے متعلق ہے۔ کم از کم اب ہماری خواتین کو تو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ رجعت پسند انہیں کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ ایک طالبان و داعش نواز شخص کو سکول کی عمر کی بچیوں کے دوڑنے میں فحاشی نظر آتی ہے۔ ایک مولانا یہ سمجھتا ہے کہ محض ایک آئس کریم سے لڑکیاں پٹ جاتی ہیں۔ پھر ان کے سپورٹرز میں بھانت بھانت کی بولیاں ہیں اور وہ سب عورت کو کمزور کردار کی شخصیت ثابت کرنے میں مصروف ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ اس کے ساتھ ہر وقت شیطان رہتا ہے جو مردوں کو زنا کی ترغیب دیتا ہے اور عورتیں فتنہ اور شیطان کے دھوکوں میں سے ایک دھوکہ ہیں۔ کوئی ان کی تمام سرگرمیوں کو گھروں میں محبوس کرنا چاہتا ہے تو کوئی مہنگے ترین سگار، مغربی لباس، قیمتی گھڑی، اور امارت پسند طرز زندگی کے ساتھ ایک سانس میں کہہ رہا ہوتا ہے کہ خواتین کا فیشن اور پہناوا دراصل کارپوریٹ کمپنیوں کی سازش ہے، یہ آزادی اور خودداری کے حصول کی جستجو دراصل سرمایہ داروں کی چال ہے وغیرہ وغیرہ۔

خواتین کے حقوق کی جدوجہد میں خود خواتین کا کردار بہت اہم ہے۔ جب تک خواتین خود ان رجعت پسند اذہان کو اپنے قوت ارادہ سے نہیں جھٹلائیں گی جو انہیں فتنہ، شیطان کا دھوکہ، کمزور کردار کی حامل، اور گھر کا مال و اسباب و خدمت گزار سمجھتے ہیں تب تک ان کی زندگی کے مسائل ختم نہیں ہوں گے۔ ضروری ہے کہ وہ ان لوگوں کو پہچانیں، ان کی آئیڈیالوجی کو سمجھیں، اور اسے فکری و عملی طور پر ناقص ثابت کریں۔ خواتین کے حقوق کی جدوجہد میں خواتین کا کردار ہی مرکزی ہے۔ ہم جس پدرسری ثقافت کی روایات سے بندھے چلے آئے ہیں اس کی جڑیں آج کے صنعتی عہد میں کھوکھلی ہو چکی ہیں۔ تنا سوکھ گیا ہے اور ٹہنیاں و پتے زرد ہو چکے ہیں۔ وہ وقت دور نہیں جب یہ پورا خزاں زدہ درخت اپنی جڑوں سمیت انہی کے سر پر جا گرے گا جو اس کی آبپاری کر رہے ہیں۔ اس ملک کی خواتین زیادہ عرصہ مجبور و مہقور اور مظلوم و محبوس نہیں رہیں گی۔ وہ دن جلد آنے کو ہے جب وہ آزادی، مساوات اور انصاف کی ثقافت میں مردوں کے شانہ بشانہ ہوں گی-


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ذیشان ہاشم

ذیشان ہاشم ایک دیسی لبرل ہیں جوانسانی حقوق اور شخصی آزادیوں کو اپنے موجودہ فہم میں فکری وعملی طور پر درست تسلیم کرتے ہیں - معیشت ان کی دلچسپی کا خاص میدان ہے- سوشل سائنسز کو فلسفہ ، تاریخ اور شماریات کی مدد سے ایک کل میں دیکھنے کی جستجو میں پائے جاتے ہیں

zeeshan has 132 posts and counting.See all posts by zeeshan