استنبول پھر خون میں نہا گیا


\"VIDEO

کل رات استنبول میں تین خود کش حملہ آوروں نے دھماکے کرکے 36 افراد کو ہلاک اور ڈیڑھ سو کے لگ بھگ لوگوں کو زخمی کردیا۔ زخمیوں میں بعض کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔ دنیا بھر سے اس حملہ کی مذمت کی جا رہی ہے۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لئے باہمی تعاون کو فروغ دیا جائے۔ اگرچہ ابھی کسی گروہ نے اس حملہ کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے لیکن وزیر اعظم بن علی یلدرم نے کہا ہے کہ یہ دولت اسلامیہ کے دہشت گردوں کا کام لگتا ہے۔ حملہ آور مسلح تھے اور انہوں نے فائرنگ سے لوگوں کو نشانہ بنانے کے بعد خود کو دھماکے سے اڑا لیا ۔

گرمیوں کی چھٹیوں کے آغاز سے فوری پہلے دنیا کے نہایت مصروف ائیر پورٹ پر اس حملہ کا واحد مقصد خوف کو عام کرنا اور ترکی کی معیشت پر شدید ضرب لگانا ہی ہو سکتا ہے۔ دولت اسلامیہ کو شام اور عراق میں شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔ متعدد علاقے اس کے قبضے سے واگزار کروائے جا رہے ہیں۔ گزشتہ روز ہی عراق کی حکومت نے فلوجہ کے اہم شہر سے داعش کے جنگجوؤں کو مار بھگانے کا اعلان کیا تھا۔ شام کی فوج بھی روس کے فضائی تعاون اور فوجی امداد کے بعد داعش سے اپنے علاقے واپس لینے کے لئے مستعدی سے پیش قدمی کررہی ہے۔ دولت اسلامیہ کے خلاف شام میں سیرین فریڈم آرمی اور کرد پیش مرگہ بھی مسلسل اپنی جد وجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس لئے یہ امید کی جا رہی ہے کہ داعش کو شام اور عراق سے مار بھگایا جائے گا۔ لیکن اس کامیابی کو دہشت گردی کے خاتمہ سے تعبیر کرنا ممکن نہیں ہے۔ داعش کے حامی جہادی عناصر شام اور عراق میں شکست کے بعد وہیں اپنے ہمدرد لوگوں میں چھپ جائیں گے اور تخریبی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھیں گے یا وہ مشرق وسطیٰ کے دیگر جنگ زدہ ملکوں میں جا کر شورش اور جنگ جوئی کا سلسلہ جاری رکھ سکتے ہیں۔ اس بات کے شواہد سامنے آتے رہے ہیں کہ داعش نے لیبیا اور یمن وغیرہ میں اپنے پاؤں جمانا شروع کردئے ہیں۔

لیکن دہشت گردوں کا سب سے بڑا ہتھیار سوشل میڈیا کے ذریعے پرپیگنڈا اور دور دراز ملکوں میں نوجوان مسلمانوں کو گمراہ کرتے ہوئے انہیں اپنے دہشت گردی کے منصوبہ کا حصہ بنانا ہے۔ وہ اس مقصد میں کسی حد تک کامیاب بھی ہو رہے ہیں۔ حال ہی میں اورلانڈو ، امریکہ میں عمر متین کا ہم جنس پرستوں کے ایک کلب پر حملہ اسی حکمت عملی کا نتیجہ تھا۔ امریکی پولیس ایسے شواہد تلاش نہیں کرسکی کہ داعش نے عمر متین کو براہ راست مدد فراہم کی ہو لیکن اس کا خیال ہے کہ عمر متین انٹر نیٹ کے ذریعے معلومات حاصل کرکے شدت پسندی کی طرف مائل ہؤا تھا۔ اس سے قبل جنوری میں سان برنانڈینو کا سانحہ اور مارچ میں برسلز ائر پورٹ اور میٹرو پر حملے بھی اسی قسم کے لوگوں نے کئے تھے جو کسی نہ کسی وجہ سے معاشرے سے نالاں تھے ۔ ان کی ناراضگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے داعش یا اس قسم کے دیگر انتہا پسند گروہوں نے انہیں اپنے مقصد کے لئے استعمال کر لیا تھا۔ نومبر میں پیرس میں ہونے والے حملوں کے بارے میں اگرچہ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ان کی منصوبہ بندی دولت اسلامیہ کی مرکزی قیادت نے کی تھی اور اس مقصد کے لئے بعض دہشت گرد پناہ گزینوں کے روپ میں یورپ پہنچے تھے۔ لیکن انہیں بھی ان حملوں کے لئے مقامی شدت پسند عناصر کی حمایت اور تعاون حاصل تھا۔

ترکی میں شام سے 20 لاکھ کے لگ بھگ مہاجرین پناہ لئے ہوئے ہیں۔ اس لئے ترکی خاص طور سے داعش کے حملوں کے نشانے پر ہے۔ پناہ گزینوں کے روپ میں جنگجو کوئی حملہ کرنے کے لئے روانہ کردئے جاتے ہیں اور ان کا سراغ لگانا بھی آسان نہیں ہوتا۔ کل رات ہونے والے حملے استنبول میں سال رواں کے دوران دہشت گردی کا چوتھا واقعہ تھا۔ اس میں سب سے زیادہ ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔ اسی ماہ کے شروع میں استنبول کے وسط میں ایک دھماکہ میں 11 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

ترک صدر اردگان کا یہ مطالبہ جائز اور درست ہے کہ اس قسم کی دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لئے دنیا بھر کو متحد ہو کر مقابلہ کرنا ہوگا۔ امریکہ اور مغربی ممالک اگرچہ دہشت گردی کی مذمت کرتے ہیں لیکن ان کا تعاون شام اور عراق میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں تک محدود ہے۔ امریکہ یا یورپ میں کوئی حملہ ہونے کی صورت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کی فضا پیدا کی جاتی ہے یا قومی سطح پر کنٹرول کو بہتر بنانے اور دوسرے ملکوں سے لوگوں کی آمد کو روکنے پر زور دیا جاتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ جیسے انتہا پسند امریکہ میں مسلمانوں کے داخلہ پر پابندی لگانے اور ملک میں آباد مسلمانوں کو مشتبہ قرار دینے کی کوششیں شروع کردیتے ہیں۔

گزشتہ برس کے دوران یورپ میں شامی مہاجرین کی کثیر تعداد میں آمد کے بعد سے پورے بر اعظم میں انتہا پسند گروہوں کو سیاسی قوت حاصل ہوئی ہے اور یہ گروہ لوگوں کی رائے پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ اس طرح مقامی مسلمان آبادیوں میں بے چینی اور احساس محرومی پیدا ہوتا ہے ۔ بعض نوجوان انتقام کے جذبہ سے بھر جاتے ہیں اور دہشت گردوں کا آلہ کار بنتے ہیں۔ دہشت گردی اب کسی ایک ملک یا عقیدے کا مسئلہ نہیں ہے۔ مسلمانوں اور اسلام پر اس کا الزام عائد کرکے دوریاں اور بد اعتمادی کی فضا پیدا کی جاتی ہے۔ اسی ماحول میں انتہا پسندوں کو پنپنے کا موقع ملتا ہے۔

استنبول کا حملہ داعش کی طرف سے اپنی طاقت کے مظاہرے کے علاوہ ترکی کی معیشت کو نقصان پہنچانے کی کوشش بھی ہے۔ استنبول دنیا کے تین مصروف ترین ہوائی اڈوں میں شامل ہے اور یہاں سے ہر سال چھ کروڑ سے زائد لوگ سفر کرتے ہیں۔ دنیا کو یہ سمجھنے کی غلطی نہیں کرنی چاہئے کہ صرف ترکی ہی دہشت گردوں کے نشانہ پر ہے۔ ان گروہوں کا ٹارگٹ کوئی ایک ملک نہیں ہے بلکہ وہ اپنے اقدامات سے خوف اور نفرت میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں اور انہیں جہاں موقع ملتا ہے، وہ حملہ کرتے ہیں۔ اس مزاج کو شکست دینے کے لئے نفرت اور خوف کے خلاف سینہ سپر ہونا ضروری ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 673 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali