برشوری صاحب، سوال تو بنتا ہے


\"saleemبرشوری صاحب کی تازہ تحریر \”سوال صرف سوال ہی کا نہیں\” بہت خوبصورت ہے اور مکالمے کو بڑھاوا دیتی ہے اور وہ بھی عین اس وقت جب سوال کو مارنے اور اس کو بچانے کی جنگ میں بہت تیزی آئی ہوئی ہے۔ برشوری صاحب بہت قابل احترام ہیں کیونکہ وہ اپنے طبقے کے ان لوگوں میں سے ہیں جو \”سوال\” کو جائز نہ سمجھتے ہوئے بھی امن کا دامن مضبوطی سے تھامے ہوئے ہیں اور پولیس مقدمے، قتل اور پھانسی کی دھمکی کی بجائے سوال کے خلاف دلیل دیتے ہیں۔ اب یہ لبرل طبقہ یعنی سوال اٹھانے والوں اور سوال کرنے کے حق کا دفاع کرنے والوں پر ہے کہ وہ سوال سے دستبردار ہو جائیں یا پھر اس بات کی وضاحت کریں کہ سوال جائز ہے اور بنتا ہے۔

بصد احترام، میں برشوری صاحب سے اختلاف کرتا ہوں۔ انہوں نے لکھا کہ \”فرقے، فسادات، بداخلاقی، مناظرے، چیلنج، بیس اور آٹھ رکعت، نوروبشر، مختارکل، شان صحابہ\” والے مسائل اور زخم ان کے اپنے ہیں وہ ان کے حل پر لگے ہوئے ہیں اور ایک دن حل ہو بھی جائیں گے۔ تو اس سلسلے میں عرض ہے کہ آپ کے جو دوست ان مسائل میں الجھے ہوئے ہیں ان میں کچھ بندوق کے زور پر سب کو \”راہ راست\” پر لانے کو تل گئے ہیں۔ ساری خرابی وہیں سے شروع ہوتی ہے اور سوالات بھی اسی سے پیدا ہوتے ہیں۔ ہم صرف یہ کہتے ہیں کہ سارے مسئلے یقین اور عقیدے کے ہیں اس لئے ذاتی ہیں اور یہ ہر شخص کے اپنے اختیار میں رہنے دئے جائیں۔ کسی گروہ یا ریاست کو آپ کے ان مسائل میں دخل اندازی کا حق نہیں ہونا چاہیئے۔ بالکل ایسے ہی ریاست یا کسی گروہ کو دوسروں کے عقیدے میں دخل اندازی کا حق بھی نہیں ہونا چاہیئے۔ ہمیں اپنی اگلی نسل کی تربیت ایسی کرنی ہے کہ وہ دوسروں کے عقیدے کے باریے میں فکرمند نہ ہوں بلکہ اس کا دل سے احترام کریں۔

یہ جو زبردستی راہ راست پر لانے اور سوال کا حق ختم کرنے کی مہم ہے اس نے ہمارے ان گنت بچوں کو برین واش کر دیا ہے اور ابھی بھی یہ کام زور شور سے جاری ہے کیونکہ ہر فرقہ دوسرے پر غالب آنا چاہتا ہے۔ یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ بچوں کی برین واشنگ کا کام کہاں کہاں اور کیسے کیسے ہو رہا ہے۔ یہ بھی کوئی چھپا راز نہیں کہ مذہب کی بنیاد پر انسانوں میں تفریق کی اس مہم کو مذہبی ریاستوں کی بھرپور سرپرستی حاصل ہے۔ جس میں پاکستان۔ ایران اور سعودی عرب نمایاں ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ نوجوان بم بن گئے ہیں اور لاشوں کے ڈھیر لگا رہے ہیں۔ سوال اس پر نہیں اٹھ رہے کہ فرقے کیوں ہیں یا رکعت بیس ٹھیک ہیں یا آٹھ بلکہ سوال تو یہ ہے کہ آٹھ والے کو بیس والے کی اتنی زیادہ فکر کیوں ہے کہ نوبت مرنے مارنے تک پہنچی ہوئی ہے۔

مزید برآں یہ سمجھنا کہ آپ کے بیان کردہ مسائل \”فرقے، فسادات، بداخلاقی، مناظرے، چیلنج، بیس اور آٹھ رکعت، نور و بشر، مختار کل، شان صحابہ\” حل ہو جائیں گے تو اس کا امکان بالکل نہیں ہے۔ ایک مسئلہ جو پچھلے ڈیڑھ ہزار میں حل نہیں ہوا بلکہ پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہوا ہے اس کے حل ہونے کے امکانات اب بھی نہیں ہیں۔ باقی مذاہب مثلاً عیسائیت کی تاریخ بھی یہی سبق لئے چیخ رہی ہے کہ عقیدے کے مسائل ہر انسان کے ذاتی ہیں اور یہ مسائل اسی وقت حل ہوئے ہیں جب ان کو ذات تک محدود کیا گیا ہے۔ انہیں ریاست کے دائرہ کار اور اختیار سے باہر کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ سوال اٹھانے والوں کی ایک تجویز یہ ہے کہ تاریخ سے سیکھیں اور وہ ماڈل اپنائیں جس کو کامیابی حاصل ہو چکی ہے۔ ورنہ سوالات تو اس وقت تک اٹھتے رہیں گے جب تک مذہب اور عقیدے کی بنیاد پر لاشیں گرنے کا خوف رہے گا۔

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 125 posts and counting.See all posts by salim-malik

One thought on “برشوری صاحب، سوال تو بنتا ہے

  • 30-06-2016 at 3:57 am
    Permalink

    آپ نے کہا”ایک مسئلہ جو پچھلے ڈیڑھ ہزار میں حل نہیں ہوا بلکہ پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہوا ہے اس کے حل ہونے کے امکانات اب بھی نہیں ہیں۔” مکرمی عرض یہ ہے کہ اگر ڈیڑھ ہزار سال میں کوئی ایک مسئلہ اگر حل ہو ہی گیا ہے تو اسے دوبارہ سے متنازع بنا کر اس قوم کی کوئی خدمت نہیں کی جا رہی۔

Comments are closed.