انتہا پسندی نہیں ، دہشت گردی سے لڑیں


kazmiقبل اس سے کہ عنوان کسی کو حیرت میں مبتلا کرے نیازمندانہ عرض ہے کہ یہ تحریر مدارس یا اسلام کی متشدد اور فسادی تشریح کرنے والوں کی عذر خواہی کے لیے نہیں لکھی جا رہی بلکہ یہ کچھ تنقیدی نکات ہیں جن کا تعلق دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں قوم اور متعلقہ اداروں کے بعض رویوں اور اہل دانش کے چند ایسے مزعومات سے ہے جو اپنی میعاد پوری کر چکنے کے باوجود بڑے پیمانے پر بازار فکر میں بک رہے ہیں۔

قصہ یہ ہے کہ اسلام پسند، اسلامسٹس، دایاں بازو، مذہب کو ریاستی امور میں بنیادی دخیل ماننے والے اور اسلامی ریاست و حکومت کے نام لیوا برصغیر میں بڑے نام رہے ہیں اور کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے مسلم لیگ نے مذہب کا سیاسی استعمال کر کے ہی پاکستان حاصل کیا۔ ملک خداداد میں دائیں اور بائیں کی کشمکش چلتی رہی تاہم راوی بنیادی طور پر چین ہی چین لکھتا تھا۔ طویل عرصہ درمیان سے نکال کر سیدھا ضیا الحق صاحب پر آ جاتے ہیں جنھوں نے ریاست اور فوج کو ایک خاص رخ عطا کیا جس کا مرکزی نقطہ نجی جہاد تھا۔ مدارس شہ پا کر اس جانب لپکے اور دائیں بازو کو ایک آہنی زرہ دستیاب ہوئی۔ آخر کو اپنی بستی میں بھی قتال فی سبیل اللہ کا چلن عام ہوا اور دایاں بازو معذرت خواہ بنا رہا، ہچکچاتا رہا، ڈٹا رہا۔ یہاں تک کہ اسے بھی علم ہو گیا کہ یہ مرض نہ رکا تو اپنا وجود بھی خطرے میں ہے۔ پھر چشم فلک نے دیکھا کہ جامعہ بنوریہ سے ملی نغمے ریکارڈ ہوئے، مفتی اعظم نے کہا یہ طالبان نہیں ظالمان ہیں، اہل دیوبند کی عقل بھی کچھ واپس آئی، غامدی صاحب کو زیادہ پذیرائی ملی اور روز بروز ایسے علما کی تعداد بڑھتی ہی چلی گئی جو سر عام طالبان کو دہشت گرد کہتے اور کہلواتے۔

جب دایاں بازو ہچکچاہٹ کا شکار تھا تو ایک فکر عام ہوئی۔ ’ہمیں صرف دہشت گردی سے نہیں، انتہا پسندی سے بھی لڑنا ہے‘۔ سیاق و سباق اور مخصوص ماحول میں انتہاپسندی سے مراد سیاسی اسلام تھا۔ مودودی صاحب کو کٹہرے میں کھڑا کیا گیا، اقبال کے افکار پر بھی لے دے ہوئی، جماعت اسلامی کو ہر ایک نے ملامت کی، مولوی عبد العزیز جیسوں سے معقول شخص نے بے اعتنائی برتی اور خلافت کے نام لیواوں سے ہم نے بولنے کا حق بھی چھیننا چاہا، ہم خود بھی اس سب میں شریک رہے اور اصولی طور پر اب بھی اس سب کو اپنے وقت اور مقام پردرست سمجھتے ہیں۔

ہمارے ہاں معاملہ اب وہ رہا نہیں۔ ’سیاسی اسلام‘ یا دائیں بازو اور دہشت گردوں میں اکا دکا مثالیں چھوڑ کر واضح تفریق قائم ہو چکی ہے۔ ’انتہا پسندی‘ دس یا پانچ برس پہلے کے مقابلے میں بڑی حد تک کم ہوئی ہے۔ ہمارا اصلی مقابلہ اب دہشت گردی سے ہے اور ہمیں یہ سمجھنا ہو گا کہ اس وقت صورت حال دہشت گردی کی فکری بنیادوں کا قلع قمع کرنے سے بے نیاز ہوچکی ہے کیونکہ اس وقت دہشت گردی فکری بنیادوں پر نہیں بلکہ عملی بنیادوں پر ہو رہی ہے۔ دہشت گردی ایک سائنس اور آرٹ کا درجہ اختیار کرتے ہوے قائم بالذات ہو چکی ہے۔ اسے مذہب اور مدارس کا سہارا پسند تو ہے مگر کوئی خاص ضرورت نہیں کیونکہ مسلسل جنگ کے عمل میں نظریات کہیں پیچھے رہ جاتے ہیں اور عملی حقائق ہی میدان جنگ کا تعین کرتے ہیں۔

مثال سے سمجھیے۔ کسی شدید ترین اسلامسٹ سے پوچھیں کہ کیا یونیورسٹی یا سکول پر حملہ کر کے بچوں کو مارنا جائز ہے، جواب نہ صرف نفی میں ہوگا بلکہ ایسے عمل کی شدید مذمت بھی کی جائے گی۔ اس عمل کو مذہبی دلیل اگر دہشت گرد فراہم کریں تو اس کا رد بھی یہی اسلامسٹس کریں گے۔ مگر دہشت گرد پھر بھی اس عمل کو دہراتے جائیںگے، سبب اس کا یہ نہیں کہ وہ ایسا صرف اس لیے کرتے ہیں کہ وہ اس کو جائز سمجھتے ہیں بلکہ وہ ایسا اس لیے کرتے ہیں کہ وہ ایسا کر سکتے ہیں۔ ہم مسلسل روتے جاتے ہیں کہ دیکھو یہ جاہل مسلمان کہتے ہیں کہ بچے مارنا جائز ہے۔ نبی اکرم نے بھی یہودیوں کے بچوں کو مارنے کا حکم دیا تھا مگر ہماری توجہ کم ہی اس طرف جاری ہے کہ وہ اتنے آرام سے کیسے نقب لگا جاتے ہیں اور اس کو ہم کیسے روکیں گے۔

آرمی پبلک سکول پر حملہ ہوا تو ہم نے ’بڑا دشمن بنا پھرتا ہے‘ گایا، حملے کی برسی پر ہم نے ’دشمن کے بچوں کو پڑھایا‘ باچا خان یونیورسٹی حملے کے بعد ہم نے پھر سے انتہا پسندی کے خلاف نظریاتی محاذ کھول دیا۔ بات یہ ہے کہ مجھے بھی بہت اچھا لگتا ہے کہ عدالت لگا کر ہر خلافت پسند پہ جرح شروع کروں اور اسلامیات کے نصاب میں سورہ انفال کی موجودگی پر بحث کروں مگر مسئلہ یہ ہے کہ میں یہ نظریاتی بحث اٹھائے رکھوں گا اور دہشت گرد میرے بچے مارتے رہیں گے۔ کچھ دیر کے لیے ان نظریاتی محاذوں کی بجائے اصل محاذ یعنی حقیقی میدان جنگ پر اپنی توجہ مرکوز کریں۔ ضرب عضب کا ریکارڈ مانگیں، دہشت گردوں کی شناخت مانگیں، ذمہ داروں سے حساب مانگیں۔ یہ دیکھیں کہ دہشت گردی سے ہم جان کیسے چھڑائیں گے۔ یہ بھی سوچیں کہ اوقات ہماری اتنی بھی نہیں کہ ٹی ٹی پی کے چند ہزار فسادیوں کو غارت کریں اور لڑنا ہم تمام تر مذہبی فکر سے چاہتے ہیں۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ اس تمام افسانے میں ہم کہیں یہ بات بھول چکیں ہیں کہ ہماری لڑائی مذہب، مدارس، روایت پسندی، قدامت پسندی ’دقیانوسیت‘ یا دائیں بازو سے نہیں بلکہ دہشت گردی سے ہے۔ پہلے یہ جنگ جیتیں، لبرل اور خلافت کھیلنے کے لیے نظریاتی میدان اور وقت کھلے پڑے ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

احمد علی کاظمی

احمد علی کاظمی پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں۔ پاکستانی سیاسی و آئینی تاریخ اور سیاسی اسلام و جمھوریت کے مباحث میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ فلم بین اور کرکٹ کے تماشبین اس کے علاوہ ہیں۔ سہل اور منقح لکھنے کے قائل ہیں۔

ahmedalikazmi has 8 posts and counting.See all posts by ahmedalikazmi