ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے


ریاض داوی ایڈوکیٹ


\"Riaz یہ بات ہمارے حکمرانوں اور بیوروکریسی کو سمجھنا چاہیے کہ ریاست کا کردار ایک ماں کی طرح ہوتی ہے۔ ریاست کی طاقت عوام کو دبانے یا غیر ضروری طور پابند بنانے کے لیے نہیں ہوتی بلکہ یہ طاقت عوامی مفاد میں استعمال کرکے عوام کو آسانیاں اور آزادیاں دینے کے لیے ہوتی ہے۔ ایک ریاست بنیادی طور تین اہم فرائض کے لیے وجود میں آتی ہے۔
1۔ پہلا فرض ریاست کا یہ ہے کہ ریاست کے وجود کو قائم رکھنے کے لیے اور ریاست کے باشندگان کے تخفظ کے لیے ریاست کو بیرونی خطرات سے محفوظ کرے۔ یعنی ریاست کے جغرافیائی سرحدات کا بیرونی حملہ آوروں سے تخفظ کرنا۔ اس کے لیے ریاست مختلف قسم کے اقدامات کرتی ہے۔ فوج بناتی اور پالتی ہے۔ دوسرے ممالک کے ساتھ اپنے تخفظ کے حوالے سے سفارتی تعلقات بناتی ہے۔معاہدات کرتی ہے اور گروہ بندی کا حصہ بنتی ہے۔

2۔ دوسری اہم ذمہ داری ریاست کے اندر امن و امان کا قیام کرنا ہے۔ طاقتور اور شرپسندوں کے مقابلے میں کمزوروں اور لاچاروں کو تخفظ دیناہے۔ اور قانون وآئین کا نفاذ کرکے بلاتفریق انصاف فراہم کرنا ہے۔ یعنی اندرونی طور پر ریاست میں امن و امان قائم کرنا اور بدامنی، افراتفری اور بغاوتوں کو ختم کرنا ہے۔ اس کے لیے ریاست عدلیہ، پولیس اور دوسرے قانون نافذ کرنے والے ادارے بناتے ہیں۔

3۔ پہلے دو فرائض کے بعد تیسری ذمہ داری فلاحی اور جمہوری ریاست کا قیام کرنا ہے۔ یعنی عوامی مفاد کے لیے تمام ایسے اقدامات اور قانون سازی کرنا جس کے ذریعے ریاست کے شہریوں کی زندگیاں آسان ہوجائے۔ مثلاً شہریوں کی صحت، تعلیم، کاروبار و روزگار، روٹی، کپڑا، مکان وغیرہ کے لیے کام کرنا تاکہ ریاست کے شہری بہتر طور پر زندگی گزار سکے۔ اس کے لیے ریاست وقتاً فوقتاً عوام دوست پالیسیوں کا اجراء کرتی ہے اور نئے رونما ہونے والے حالات کے مطابق قانون سازی کرتی ہے۔ ان تمام پالیسیوں اور قوانین کے نفاذ کے لیے حکمران، بیوروکریسی اوردوسرے ریاستی ادارے کام کرتے ہیں تاکہ ان کے ثمرات عوام تک حقیقی معنوں میں پہنچ سکے۔

لیکن ریاست کے پاس جو طاقت ان تین کاموں کے لیے موجود ہے وہ دراصل عوام کی طرف سے ریاست کو ملی ہے۔ یعنی عوام کی طرف سے تفویض کردہ ہے۔ عوام نے یہ طاقت صرف اپنے آپ کو تخفظ دینے کے لیے دی ہے۔ کیونکہ منظم ریاست کے بغیر زندگی گزارنا ممکن نہیں۔ لیکن اس ریاستی طاقت کا غلط، آزادانہ اور طرفدارانہ استعمال بھی ہوتا ہے۔ اور حکمران اس طاقت کے نشے میں بد مست ہوکر عوام کے خلاف اس طاقت کو استعمال میں لاتے ہیں۔ یا پھر دانستہ طور پر یا غیر دانستہ طور پر۔ لیکن دوسروں صورتوں میں یہ عوام کے ساتھ زیادتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں اس کا یہ مطلب ہوا کہ جدید دور میں عوام کو سب سے بڑا خطرہ خود ریاستی طاقت کے غلط اور بے جا استعمال سے ہے۔ اور یہ وہی طاقت ہے جو عوام کی تفویض کردہ ہے۔ اس صورت حال میں عوام کے حقوق کے تخفظ کے لیے چیک اینڈ بیلینس اور احتساب وجواب دہی کا نظام بنایا جاتا ہے۔ تاکہ ریاستی جبر، لاپرواہی، غفلت، بے حسی، تاخیر، عدم دلچسپی، غیر ذمہ داری اور دوسرے نااہلیوں سے عوام کو تخفظ مل جائے۔ اس لیے قانون و آئین کے ذریعے اختیارات کو تقسیم کیا جاتا ہے۔ کیونکہ ایک جگہ تمام اختیارت کے ہونے سے احتساب کا عمل ناممکن ہوجاتا ہے۔ اس کے علاوہ ایک ادراے کو دوسرے ادارے کے سامنے جوابدہ بنایا جاتا ہے۔ اس لیے آئین اداروں کے اختیارات کی تشریخ اور حدودات کا تعین کرتی ہے تاکہ تمام ادارے اپنے حد میں رہ کر عوامی مفاد میں کام کریں نہ کہ ریاستی طاقت کا غلط استعمال کرے۔ یہی ایک حل ہے کہ ریاستی طاقت کے غلط اور عوامی مفاد کے خلاف استعمال کو روکا جاسکے۔ یعنی ایک طرف اختیارات کو مختلف اداروں میں تقسیم کیا جائے اور دوسری طرف جواب دہی اور احتساب کا عمل وجود میں آئے۔

اسی بارے میں: ۔  راتوں رات امیر ہونے کا خواب اوراقدار کا زوال

اگرچہ یہی اُصول پاکستان میں بھی رائج ہے اور Separation of powers کے ذریعے اداروں میں اختیارات کی تقسیم کی گئے ہے جو بنیادی طور پر تین ہیں۔ انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ۔ لیکن پاکستان میں بدقسمتی سے ان اختیارات کی تقسیم کے بعد بھی حالات بہتر نہیں۔ حکمران اور بیوروکریسی عوام دوست نہیں۔ بلکہ ریاستی طاقت، انتظامی عہدوں اور اداروں کے اختیارات کو عوام کے خلاف دانستہ یا غیردانستہ استعمال کیا جاتا ہے۔ عوام کو ستانے اور دبانے، بے جا تنگ کرنے اور رُلانے کے لیے یہ سلسلہ جاری ہے۔ اس لیے کہا جاتا ہے کہ ریاست کے عوام کو اب بڑا خطرہ خود ریاست کی طاقت سے ہے اور یہ وہی طاقت ہے جو عوام نے ریاست کو خود کے تخفظ کے لیے تفویض کی تھی۔

چونکہ تہذیب یافتہ دور میں ریاست ایک فلاحی اور اصلاحی ریاست ہوتی ہے اور ایک ماں کی طرح اپنے شہریوں کی خفاظت کرتی ہے۔ اس لیے جدید دور میں حکمران اور بیوروکریسی عوام کو جوابدہ ہوتے ہیں اور ہونے چاہیے۔ جس طرح ماں کو اپنے بچوں کی ضروریات کا بغیر جانے پتہ ہوتا ہے۔ اس طرح ریاست کو بھی اپنے شہریوں کے ضروریات کا پتہ ہونا چاہیے۔ لیکن تمام تر آئینی و قانونی تخفظات کے باوجود بھی ادارے اور بیوروکریسی عوام دوست نہیں۔ اس لیے ہمارے پاس دو ہی راستے ہیں کہ یا تو حکمران اور بیوروکریسی ازخود ٹھیک ہوکر عوامی مفاد میں کام کرنا شروع کریں۔ یا پھر جواب دہی، احتساب اور سزاو جزا کے عمل کو مزید مضبوط اور فعال بناکر حکمرانوں اور بیورکریسی کو عوام دوست بنایاجائے۔ ازخود بہت کم لوگ ٹھیک ہوں گے۔ یا ٹھیک ہونا چاہتے ہیں۔ وہ لوگ جن کا ضمیر زندہ ہو یا خوف الہیٰ کی وجہ سے اپنی طاقت کا غلط استعمال نہ کریں۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ زیادہ تر لوگ ازخود ٹھیک ہونے والے نہیں۔ کیونکہ خوف الہیٰ کا فقدان ہے اور ضمیروں کے جاگنے کا سلسلہ بہت ست روی کا شکار ہے۔ اکثر ہمارے بیوروکریٹ اور حکمرانوں کے ضمیر تب جاگتے ہیں جب ان کے پاس اختیار نہیں ہوتا۔ یا وہ اختیار سے الگ کردئیے جاتے ہیں۔ اس کے لیے پھر ایک ہی آپشن سزاء وجزا اوراحتساب کا بچتا ہے۔

اسی بارے میں: ۔  نکاح اور جنازہ کون پڑھائے گا؟

اس وجہ سے ہمیں ایک موثر اور مربوط احتسابی نظام کی ضرورت ہے۔۔ لیکن صرف نظام سے بھی کام نہیں چلے گا کیونکہ ہمارے پاس پہلے سے احتساب اور سزاء جزاء کے ادارے و قوانین موجود ہیں۔ لیکن پھر بھی حکمرانوں اور بیوروکریسی کو لگام نہیں ڈالی جاسکی۔

1۔ اب اس کے بعد ہمارے پاس ایک ہی راستہ رہتا ہے کہ ہم عوام خود اداروں، بیوروکریسی اور حکمرانوں کا احتساب کریں اور اداروں کی نگرانی کریں۔ ان پر کھڑی نظررکھیں۔

2۔ ہمیں خود کو معلومات تک رسائی کے قانون کے تخت، میڈیا کے ذریعے اور ڈائیلاگ کے ذریعے پہلے خود میں آگاہی و بیداری پھیلانے کی ضرورت ہے اور پھر اپنے حقوق کی ڈیمانڈ کے لیے مشترکہ طور پرکام کرنے کی ضرورت ہے۔

3۔ ہمیں ووٹ کے درست استعمال کو بھی سیکھنا ہوگا اور جمہوریت سے اصلی معنوں میں فائدہ اُٹھانے کے لیے جمہوریت کو سیکھنے کی ضرورت ہے۔ اپنے منتخب نمائندگان تک اپنی آواز پہنچانے کی ضرورت ہے۔ اگر وہ ناکام رہتے ہیں تو ووٹ کے ذریعے ان سے انتقام لیا جاسکتا ہے۔

4۔ بیوروکریسی کے اختیارات کو کم کر منتخب نمائندوں کے اختیارات میں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ بیوروکریسی عوام کو جوابدہ نہیں۔ یا پھر بیوروکریسی کو بھی عوام کے سامنے جوابدہ ٹھرانا چاہیے۔

5۔ اس کے علاوہ شعور و آگاہی پھیلانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ لوگوں کو اپنے حقوق کا پتہ ہو۔

6۔ جواب دہی و احتساب کے لیے سیمنارز، واک، ڈائیلاگ کا انعقاد ضروری ہے۔ اس کے علاوہ اپنے حقوق کو اجاگر کرنے کے لیے کالم، خطوط اور آرٹیکلز لکھنا ضروری ہے۔

7۔ تمام دستیاب فورمز کو استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔ مثلاً کمپلینٹ بکس سے لے کر ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ تک ہر دروازے پر دستک دینے کی ضرورت ہے۔ ناظم اعلیٰ، ڈپٹی کمشنر، کمپلینٹ سیل، اداروں کے اندر کے انتطامی اور نگرانی کے فورمز، صوبائی اور وفاقی محتسب، پرنٹ اور الیکٹرنک میڈیا کا استعمال، پرامن اور قانونی احتجاج، انسانی حقوق کے ادارے، انسانی حقوق کے ڈاریکٹوریٹ، ہیومن رائٹس سیل، چیف منسٹر کمپلینٹ سیل، عدلیہ اور بے شمار دوسرے ادارے جو ہمارے پاس موجود ہیں لیکن ہم ان فورمز کو استعمال نہیں کرتے۔

8۔ اپنے حق کے لیے لڑنے کا طریقہ سیکھنے اور حوصلہ پیدا کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ کیونکہ یہ ایک صبرآزما کام ہے۔

جب عوامی دباو اور پریشر بڑھے گا تو حکمرانوں اور بیوروکریسی میں خود کو حالات کے مطابق ڈھلنے کا رجحان پیدا ہوگا۔اس لیے ضروری ہے کہ ریاست کو ماں بنانے کی کوشش کی جائے یعنی ہمیں بھی ریاست سے لگاؤ ہونا چاہیے اور ریاست بھی ماں کی طرح کردار اپنائے۔ اس کام میں دیر نہ کریں ورنہ پھر حب الوطنی میں کمی آئے گی اور مایوسی اور بے چینی عوام کو کچھ اور سوچنے پر مجبور کرے گی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ریاض داوی ایڈووکیٹ کی دیگر تحریریں
ریاض داوی ایڈووکیٹ کی دیگر تحریریں