سندھ پولیس میں سیاسی مداخلت پر چیف جسٹس کا ازخود نوٹس


\"chiefچیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی نے صوبائی انتظامیہ کی جانب سے سندھ پولیس میں مبینہ طور پر سیاسی مداخلت کا ازخود نوٹس لے لیا۔
چیف جسٹس نے معاملے پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے چیف سیکریٹری سندھ، سیکریٹری داخلہ اور آئی جی سندھ پولیس کو 4 جولائی کو عدالت پیش ہوکر اپنا موقف پیش کرنے کا حکم دیا۔
جسٹس انور ظہیر جمالی نے حکام سے، چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کے بیٹے بیرسٹر اویس شاہ کے اغوا کے بعد سینئر سپرنٹندنٹ (ایس پی) ساو¿تھ ڈاکٹر فاروق احمد کے تبادلے کے حوالے سے بھی وضاحت طلب کرلی۔
واضح رہے کہ چیف جسٹس نے اویس شاہ کے اغوا کے بعد کراچی میں مختلف حکام سے الگ، الگ ملاقاتوں میں انہیں اویس شاہ کی بازیابی کے لیے موثر اور ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی تھی۔
بیرسٹر اویس شاہ کو رواں ماہ کلفٹن کے علاقے سے اغوا کیا گیا تھا، جس کے بعد پولیس نے ان کے اغوا کو شدت پسندوں کی رہائی کے لیے ’بارگیننگ چِپ‘ قرار دیا تھا۔اویس شاہ کے اغوا کے چند روز بعد ہی کراچی میں معروف قوال امجد صابری کی ہلاکت کا بھی واقعہ پیش آیا، جس کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی تھی۔دونوں واقعات کے بعد کراچی میں جرائم پیشہ افراد اور دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن کے حوالے سے سوال اٹھائے گئے تھے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔