کھول دو! سارے بارڈر کھول دو!


\"adnan-khan-kakar-mukalima-3b4\"افغانستان کے اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ خیبر پختون خواہ افغانوں کا ہے،افغان شہری خیبرپختون خواہ میں جہاں چاہیں رہ سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ خیبرپختون خواہ کی زمین پر کوئی بھی افغانیوں سے مہاجر کارڈ طلب کرنے کا مجاز نہیں۔ طورخم بارڈ اور افغان مہاجرین کو زبردستی بے دخل کرنا دو الگ مسائل ہیں اور پشتونوں کو صرف افغان مہاجرین سے غرض ہے۔

محمود خان اچکزئی کےبیان پروزیراعلیٰ پرویزخٹک نے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ محمود اچکزئی نے تمام پاکستانیوں کے سر شرم سے جھکا دیے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے لوگوں نے1947 میں پاکستان کے حق میں فیصلہ دیا، خیبرپختونخوا کے عوام محمود خان اچکزئی کے بیان کی مذمت کرتے ہیں۔ کیا خیبرپختونخوا کے بغیرپاکستان کا تصورکیا جاسکتا ہے؟

\"wagha-border\"

اس کو دیکھتے ہوئے جاٹوں کے ممتاز لیڈر جناب مولا جٹ صاحب نے بیان جاری کیا کہ جس طرح برطانوی راج کے صوبہ سرحد نے پختونوں کو تقسیم کیا تھا، ویسے ہی قیام پاکستان کے وقت پنجابیوں کو تقسیم کیا گیا ہے۔ یہ پنجابیوں کے ساتھ صریح ناانصافی ہے اور ان کو بھی وہی حقوق ملنے چاہئیں جو کہ پختونوں کو حاصل ہیں اور بھارت کے ساتھ سرحد کو بھی ویسے ہی کھول دیا جائے جیسا کہ افغانستان کے ساتھ سرحد کھلی ہوئی ہے۔ مشرقی پنجاب کے سکھ اور ہندو بھی پنجابی ہیں اس لیے ان کو کوئی پاسپورٹ ویزا اور اجازت نامہ رکھے بغیر پنجاب، بلکہ پورے پاکستان میں کہیں بھی رہنے اور روزی روٹی کمانے کی اجازت دی جائے۔ اگر دوبارہ بھارتی حکومت نے مشرقی پنجاب پر ظلم ستم کیا تو لاکھوں سکھوں کو بھی پاکستان میں ویسے ہی بلا روک ٹوک آباد ہونے کی اجازت دی جائے جیسا کہ افغانوں کو پاکستان میں ملی ہوئی ہے۔ مولا جٹ صاحب نے کہا کہ پنجاب کی سرزمین پر کوئی بھِی مشرقی پنجاب کے سکھوں سے کاغذات طلب کرنے کا مجاز نہیں ہے۔ مولا جٹ کے اس بیان پر دربار صاحب امرتسر کے سنت بھائی کھڑک سنگھ گیانی جی نے بھی ان کی پرزور تائید کی ہے اور کہا ہے کہ دنیا کی کوئی قوت پنجابیوں کو تقسیم نہیں کر سکتی ہے اور وہ پنجاب کی \"taftan-border\"تقسیم کو نہیں مانتے ہیں۔

ادھر پنجگور سے بھی قہر بلوچ صاحب نے احتجاج کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ تافتان بارڈر پر ناجائز طور پر ان کے پاسپورٹ اور ویزے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ وہ بھی بلوچ ہیں اور تافتان کے دوسری طرف بھی بلوچستان ہے۔ اس لیے ایرانیوں کو بھی پورے ملک میں پاسپورٹ اور ویزے کے بغیر رہنے اور کام کرنے کی پوری آزادی دی جائے۔ قہر بلوچ صاحب نے کہا کہ بلوچستان کی سرزمین پر کوئی بھِی ایرانیوں سے کاغذات طلب کرنے کا مجاز نہیں ہے۔ زاہدان سے پارس بلوچ نے ان کی تائید کی ہے اور کہا ہے کہ کوئی بھی بلوچ قوم کو تقسیم نہیں کر سکتا ہے۔

امر کوٹ سے رانا شمشیر سنگھ نے مطالبہ کیا ہے کہ راجھستان کی سرحد کو کھولا جائے کیونکہ سرحد کے دونوں طرف راجپوت آباد ہیں اور دنیا کی کوئی طاقت بھی راجپوتوں کو الگ نہیں کر سکتی ہے۔ راجھستان سے کوئی شخص بھی سندھ میں آ کر آباد ہو سکتا ہے اور کسی کو ان سے کارڈ یا پاسپورٹ ویزا وغیرہ طلب کرنے کی جرات نہیں کرنی چاہیے۔ جے گڑھ سے رانا بیتاب سنگھ نے ان کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ راجپوتوں کی تقسیم ناممکن ہے۔

سوست سے حاجی گل مست نے مطالبہ کیا ہے کہ خنجراب پر سے پاسپورٹ کنٹرول ختم کر دیا جائے۔ اس وقت گلگت بلتستان کے رہائشیوں کو بغیر ویزا صرف پندرہ دن کے لیے چین میں قیام کی اجازت ہے۔ یہ بارڈر کنڑول ہٹا دیا جائے اور یہ لوگ وہاں چین میں جتنے دن مرضی رہیں اور چینی کسی ویزے پاسپورٹ کے بغیر جتنے دن مرضی گلگت بلتستان میں رہیں اور کاروبار کریں۔

ادھر سید عارف علی شاہ صاحب نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے رہائشیوں کے لیے پاسپورٹ اور ویزے کی پابندی ختم کی جائے اور ساداتِ پاکستان کو بھی بغیر کسی کاغذی کارروائی کے بغیر سعودی عرب جانے اور رہائش پذیر کی اجازت ہونی چاہیے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ان کا تعلق مکہ شریف سے ہے اور عربوں کو دنیا کی کوئی طاقت تقسیم نہیں کر سکتی ہے۔ ان کی تائید استاد اعجاز اعوان صاحب اور میاں آصف صاحب نے بھی کی۔ اعوان اور ارائیں لیڈروں نے واضح کیا کہ ان کے قبائل بھی صدیوں پہلے سر زمین عرب سے ہی ہندوستان آئے تھے اور ان کو اپنی پس ماندہ عرب برادری پر ویزے پاسپورٹ کی روک ٹوک بالکل پسند نہیں ہے۔

مرزا ظاہر دار بیگ نے ازبکستان اور تاجکستان وغیرہ کے لوگوں کو پاکستان میں کسی کاغذی کارروائی کے بغیر رہنے کی اجازت دیے جانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ مغل اور ترک ان وسطی ایشیا کے ممالک سے ہی پاکستان میں آ کر آباد ہوئے تھے اور ان \"torkham\"قوموں کو تقسیم کرنے کی سازش کی گئی ہے جسے وہ ناکام بنا دیں گے۔

ابھی بیانات کا سلسلہ جاری ہے کیونکہ جس طرح سے پاکستانی لوگ اپنے بزرگ باہر سے امپورٹ کرنے کے عادی ہیں اس کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ اس خطے میں کوئی مقامی آبادی کبھی بھی وجود ہی نہیں رکھتی تھی اور کم از کم بھی نوے فیصد پاکستانیوں کے اجداد سرزمین عرب اور ماورا النہر سے تشریف لائے ہیں۔ سو ویزا کیا اور پاسپورٹ کیسا؟ بھلا کون بے حیا اپنے بھائیوں سے گھر آنے کا اجازت نامہ طلب کرتا ہے؟

کھول دو! سارے بارڈر کھول دو!

یا ممکن ہے کہ قبائل یا ذات برادری کا دور ختم ہو چکا ہو، اور اب نیشن سٹیٹس کا دور ہو، جس میں ہر ریاست اپنی سرحدوں میں آنے جانے والوں کا شجرہ نسب نہیں بلکہ اس کی اپنی ذاتی شناخت کو دیکھ کر سرحد میں آنے کی اجازت دیتی ہو۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 755 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

2 thoughts on “کھول دو! سارے بارڈر کھول دو!

  • 01-07-2016 at 2:56 pm
    Permalink

    اچکزئی صاحب اوریا مقبول جان کے ہم نوا ہو گئے۔ ان کا نعرہ ہے: ہم نہیں مانتے ان سرحدوں کو

  • 02-07-2016 at 10:25 pm
    Permalink

    پمحمودخان اچکزئی کے بیان پرجناب وصی بابا نے تفصیل سے صورتحا کی وضاحت کرتے ہوئے اپنی رائے دی ہے۔محمودخان کے سیاق وسباق سے ہٹ کر انٹرویو کو بنیاد بنا کرآپ نے پورا مضمون لکھ دیا۔جس طرح لاہور اورملتان میں رہائش پذٰیر کاکڑ بٹ، چوہدری،گجریا ارائیں نہیں بن سکتا بلکہ کاکڑ ہی رہتا ہے اسی طرح ڈیورنڈ کے اس پار رہنے والے نسلی طور پر افغان ہی رہیں گے آپ کو لفظ افغان سے کوئی کوئی مسئلہ ہے تو پھر کچھ نہیں کہا جاسکتا۔جہاں تک سرحدیں کھولنے کا معاملہ ہے تو یادرکھنا چاہئیے کہ سرحدوں پر آہنی طبعی اورنظریاتی باڑیں لگانے سے مرحوم سوویت یونین کو بھی کوئی فائدہ نہیں پہنچا تھا۔افغانستان اورافغان پناہ گزینوں کے معاملے میں ایک بات کو مدںطر رکھنا ضروری ہے کہ اس محاذ پرمنفی پراپیگنڈہ بہت زیادہ ہے۔مستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے اگر ہم عسکریت پسندی کی بجائے افغانستان کو صنعت اورزرعی شعبے میں برآمدات پر توجہ دیں تو ملک کو اس سے نقصان نہیں بلکہ فائدہ ہی پہنچے گا۔۔اسلام آباد کو کابل میں محمد صادق جیسے سفیروں کی اس وقت اشد ضرورت ہے جو تلخیوں اورنفرتوں کو کم کرنے کیلئے کچھ کر سکتے ہیں۔۔ڈیورنڈ کے اس پار رہنے والے افغان اسی طرح پاکستانی شہری ہیں جس کے طرح واہگہ بارڈر کے اس پار رہنے والے پنجابی پاکستانی ہیں۔ اوریہی بات محمودخان اچکزئی نے بھی کی۔ایک آخری بات ۔۔۔2009میں کابل کے ایک ریستوران میں اپنے سکول ،کالج اورپھر یونیورسٹی کے ہم جماعت اوراس وقت افغان کسٹمز،جنہیں افغانی گمرک کہتے ہیں، کے وائس ڈائریکٹر جنرل نے منرل واٹر کی بوتل مجھے تھماتے ہوئے کہا تھا کہ یہ کابل کے نواح میں قائم فیکٹری میں بنتی ہے اور اس کے مالک گوجرانوالہ کے ایک شیخ صاحب ہیں ان کا کہنا تھا کہ کابل کے اس نئے صنعتی عللاقے میں زیادہ ترفیکٹریاں لاہور،سیالکوٹ اورگوجرانوالہ کے سرمایہ کار ہی گارہے ہیں۔

Comments are closed.