امریکہ میں مقیم خواتین گھریلو تشدد سے کیسے بچیں


پچھلے ہفتے ڈاکٹر سہیل نے ای میل میں ‌ اپنا نیا آرٹیکل پڑھنے کے لیے بھیجا جو طلاق کے موضوع پر لکھا گیا تھا۔ انہوں ‌ نے بہت سلجھے ہوئے اور شائستہ الفاظ میں ‌ بہت مشکل باتیں ‌ آسان کرکے سمجھائی ہیں۔ میں ‌ نے سوچا کہ اس نہایت اہم موضوع پر ان مشکل حالات کا سامنا کرنے والی خواتین کو بنیادی عملی معلومات حاصل ہونی چاہئیں۔

امریکہ میں ‌ کافی ساری خواتین دوسرے ملکوں ‌ سے یہاں ‌ شادی ہوکر آتی ہیں۔ خاص طور پر جنوب ایشیائی معاشرے میں ‌ کم عمر لڑکیوں ‌ کی ارینجڈ شادیاں ‌ ہوتی ہیں۔ انڈیا اور بنگلہ دیش ان دس ممالک کی لسٹ میں ‌ شامل ہیں جہاں ‌ سب سے زیادہ بچپن میں ‌ شادیاں ‌ ہو رہی ہیں۔ ان ممالک سے آئے ہوئے مہاجرین والدین اپنے امریکی بیٹوں کے لیے اپنے گاؤں یا شہروں میں ‌ انڈین مووی پردیس کی طرح‌ واپس جا کر لڑکیاں ‌ لاتے ہیں۔

ہیروئن شاہ رخ خان کی ہی بنے، اس لیے اس فلم میں ‌ یہ دکھایا گیا تھا کہ وہ منگنی کے بعد آئی تھیں اور ان کو سمجھ آگئی تھی کہ ان کا منگیتر ایک اچھا آدمی نہیں ‌ ہے لیکن اصل زندگی میں ‌ زیادہ تر خواتین کو یہ موقع نہیں ملتا اور وہ شادی ہو کر آتی ہیں۔ ایک نئے ملک میں ‌ ان کو نئی زبان سیکھنے میں، گاڑی چلانا سیکھنے میں ‌ اور اپنے نئے ملک کے قوانین سمجھنے میں ‌ وقت لگتا ہے جس دوران ان کے دو تین بچے بھی ہو جاتے ہیں اور ایک پرتشدد بندھن سے نکلنا اور بھی مشکل ہوجاتا ہے۔

کچھ اپنے حالات کو اپنی قسمت سمجھ کر قبول کرلیتی ہیں۔ کافی خواتین مار پیٹ برداشت کرتی ہیں اورہر سال کئی خواتین قتل ہوجاتی ہیں۔ ہمارے اپنے شہر نارمن میں ‌ مسجد کی سنڈے اسکول ٹیچر کو اس کے شوہر نے پیٹ میں ‌ چھریاں ‌ مار کر قتل کردیا تھا۔ اس واقعے سے ایک ہفتہ پہلے وہ اپنی دوستوں ‌ کو یہ بتاتے سنی گئی تھیں کہ میرے شوہر بہت اچھے آدمی ہیں اور مجھے مال میں ‌ شاپنگ کراتے ہیں۔

اگر آپ ایک پرتشدد شادی میں ‌ ہیں تو فوری طور پر مدد طلب کریں۔

Call the National Domestic Violence Hotline for advice from a professional: 800-799-SAFE (7233) or 800-787-3224/TDD.

اگر آپ نے ایک پرتشدد شادی سے نکلنے کا فیصلہ کرلیا ہے تو احتیاط سے پلان بنانا ضروری ہے۔ لیکن اگر آپ کی جان کو خطرہ ہے تو پلان بنانے پر وقت ضائع کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ اگر آپ حمل سے بھی ہیں تو فوری طور پر ڈومیسٹک وایولینس کاؤنسلر اور اٹارنی سے بات کریں ‌ تاکہ ان حالات سے فرار کا مناسب موقع اور طریقہ طے کیا جاسکے۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں دنیا میں ‌ حاملہ خواتین کی موت کا سب سے بڑا سبب ان کے شوہروں ‌ کے ہاتھوں ‌ ان کا قتل ہے۔

1۔ ایک ایسا قانون دان ڈھونڈیں جو گھریلو تشدد کے کیسز میں ‌ ماہر ہو۔ ان سے گھر چھوڑنے کے محفوظ طریقے کے بارے میں ‌ پوچھیں۔ اگر آپ کے پاس پیسے نہیں ‌ ہیں تو امریکی ریاستیں بغیر معاوضے کے قانونی امداد فراہم کرتی ہیں۔ گھریلو تشدد کی شکار خواتین کو ہمیشہ ایسا وکیل مل سکتا ہے جو ان کو بغیر فیس لیے قانونی مدد فراہم کرے۔ پیسوں کی کمی کو گھریلو تشدد سے باہر نکلنے کے لیے اپنے راستے کی رکاوٹ نہ سمجھیں۔ آپ کی اور آپ کے بچوں ‌ کی زندگی سب سے زیادہ اہم ہے۔

2۔ اگر مناسب ہو تو عارضی سول یا کرمنل رسٹریننگ آرڈر حاصل کریں جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آپ کے متشدد شوہر کو عدالت کی طرف سے یہ حکم دیا جائے گا کہ وہ آپ اور آپ کے بچوں ‌ کے گرد طے شدہ فاصلے کے دائرے میں قدم نہیں رکھ سکتے اور فون، ای میل، عام ڈاک یا اور کسی بھی طریقے سے آپ سے رابطہ نہیں کرسکتے۔ یہ ریسٹریننگ آرڈر حاصل کرنے میں ‌ پولیس یا اٹارنی آپ کی مدد کرسکتے ہیں۔

3۔ اپنی حفاظت کریں۔ خواتین کا شیلٹر، دوست کا گھر یا اپنا نیا گھر تلاش کریں جہاں ‌ احتیاط سے منتقل ہونے کی منصوبہ بندی کریں اور اپنے متشدد شوہر کو اس گھر کا پتا مت دیں۔ امریکی قانونی نظام میں ‌ گھریلو تشدد سے فرار کے لیے راستے موجود ہیں۔

4۔ مندرجہ ذیل کاغذات جمع کریں جو آپ اپنے متشدد شوہر کو چھوڑ کر اپنے ساتھ لے جا سکیں۔
آپ کا برتھ سرٹیفکٹ
ڈرائیونگ لائسنس
پاسپورٹ
گرین کارڈ

ورک پرمٹ یا ملازمت کی اجازت کے کاغذات
سوشل سیکیورٹی کارڈ
ہیلتھ انشورنس کا کارڈ
اپنی گاڑی کے کاغذات
اپنے مکان کے کاغذات
گھریلو تشدد سے فرار کے قانونی کاغذات
اپنی دوائیں

پیسے
چیک بکس
کریڈٹ کارڈ
بینک کارڈ اور اسٹیٹمنٹ
اپنے کپڑے، جوتے اور ذاتی استعمال کی اشیاء
اپنے زیورات
اپنے بچوں ‌ کے کپڑے اور کھلونے

5۔ ایک نیا موبائل فون حاصل کریں جس کا نمبر اپنے متشدد شوہر کو نہ دیں۔ اپنا نمبر کالر آئی ڈی پر بلاک کریں ‌ تاکہ جن لوگوں ‌ کو بھی آپ فون یا ٹیکسٹ کریں ان کو آپ کا نمبر دکھائی نہ دے۔ صرف اپنے قابل بھروسا دوستوں یا خاندان کے افراد کو دیں۔

6۔ اگر آپ ایک نئے گھر میں ‌ اکیلی منتقل ہورہی ہیں تو گھر کے باہر سیکیورٹی سسٹم لگوائیں۔ اپنے نئے پڑوس کو سمجھیں اور اس پر نظر رکھیں۔ ڈاک کے لیے پوسٹ آفس باکس رکھیں جہاں جاکر آپ ڈبے میں ‌ سے اپنی ڈاک لے سکتی ہیں۔ اس سے آپ کے گھر کا پتہ خفیہ رکھنے میں ‌ مدد ملے گی۔ حالات ٹھنڈے ہوجانے کے بعد بھی کچھ عرصہ اسی طرح‌ کریں۔ پوسٹ آفس کو بھی ہدایت کریں ‌ کہ وہ آپ کی اجازت کے بغیر کسی کو یہ انفارمیشن نہ دیں۔

7۔ رسٹریننگ آرڈرز کے کاغذات اپنے بچوں ‌ کے اسکول میں ‌ جمع کرائیں تاکہ آپ کے متشدد شوہر کو ان سے ملنے کی اجازت نہ ملے اور وہ ان کو طلاق کے پروسس کے دوران اغوا کرنے کی کوشش نہ کرسکیں۔

8۔ اگر آپ جاب کرتی ہیں تو اپنے ساتھ میں ‌ کام کرنے والے افراد کو اپنی صورت حال سے آگاہ کریں ‌ تاکہ وہ آپ کے متشدد شوہر کو آپ کے بارے میں کوئی انفارمیشن نہ دیں۔

اگر آپ ایک متشدد رشتے میں ‌ بندھی ہوئی ہیں تو یہ جانیں کہ تشدد وقت کے ساتھ ساتھ بگڑتا چلا جاتا ہے۔ جب ایک حد پار ہوجاتی ہے تو واپس نہیں جاسکتے۔ تشدد دائرے کا سفر ہے جس میں ‌ ہر مار پیٹ اور جھگڑے کے بعد ہنی مون فیز ہوتا ہے جس میں ‌ آپ کے شوہر معافی تلافی کرتے ہیں، آپ کو قیمتی چیزیں دلاتے ہیں۔ یہ کچھ دن چلتا ہے پھر سے تناؤ شروع ہوتا ہے اور آپ کو معلوم ہے کہ کچھ اور ہفتوں ‌ کے بعد یہ سائکل پھر سے دہرایا جائے گا۔ متشدد شوہر اپنی بیویوں ‌ کو اس تعلق میں ‌ باندھے رکھنے کے لیے خوفزدہ کرتے ہیں اور دھمکیاں ‌ بھی دیتے ہیں۔ شادی محبت اور اعتماد کا رشتہ ہے جو دو اجنبیوں ‌ کو ایک گھر بنانے میں ‌ مدد کرتا ہے۔ ایک مرتبہ اعتبار ختم ہوجائے تو وہ جوڑنا بہت مشکل کام ہے۔

نیویارک کے ایک کیس میں ایک پاکستانی صاحب نے اپنی بوڑھی بیوی کو اس بات پر مارا پیٹا کہ انہوں ‌ نے بکری کے گوشت کے بجائے دال پکائی تھی۔ اس تشدد کے نتیجے میں ‌ ان کی موت واقع ہوئی جس جرم پر ان صاحب کو 18 سال کی جیل ہوئی۔ شوہر کے گھر سے جنازہ ہی نکلنا چاہیے، یہ ان خاتون نے سچ کردکھایا۔ لیکن کیا ہمیں ‌ اپنے بیٹوں ‌ اور بیٹیوں ‌ کو ایسی زندگی کی مثال دینی چاہیے؟

ایک متشدد شادی سے نکلنا آسان کام نہیں ہے، خاص طور پر اگر آپ کو یہ یقین دلادیا گیا ہو کہ آپ میں ‌ ہی ساری خرابیاں ‌ ہیں اور آپ اس بدسلوکی کی خود ذمہ دار ہیں۔ لیکن آپ کرسکتی ہیں۔ آپ کی صورت حال میں ‌ پھنسے بہت سارے لوگ ایسا کرچکے ہیں اور وہ صحت مند اور پر مسرت زندگی گذار رہے ہیں۔ امریکہ میں ‌ بہت سارے حکومتی اور نجی ادارے گھریلو تشدد کی شکار خواتین کی مدد کرتے ہیں۔ اگر آپ اپنے شوہر کے بل بوتے پر ویزا حاصل کرکے آئی ہیں اور آپ کو ڈر ہے کہ اگر اس آدمی کو چھوڑا تو ملک بھی چھوڑنا پڑے گا، تو ایسا نہیں ‌ ہے، اس کے بارے میں ‌ آپ امیگریشن کے وکیل سے بات کریں۔

اس موضوع پر مزید معلومات کے لیے انٹرنیٹ پر بہت مواد موجود ہے۔ مندرجہ ذیل ویب سائٹ سے آپ کو مزید انفارمیشن مل سکتی ہے۔
https://www.womenslaw.org/

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں