ڈے ژا وو


\"khawarایک شام میں دوستوں کے ساتھ سڑک کنارے موجود ڈھابے پر کھانے کے اِنتطار میں بیٹھا ہوا تھا۔ حالاتِ حاضرہ، سیاست، کھیل وغیرہ پر بھرپور تبصرے جاری تھے۔ دہکتے کوئلوں پر تیار ہوتے بار بی کیو کی خُوش بو بھوک بڑھائے جا رہی تھی۔ اچانک مُجھے محسوس ہوا کہ ابھی ہوا کا جھکڑ چلے گا، پتے سرسرائیں گے اور میرا موبائل فون بجے گا۔ میں جیسے جیسے اِن چیزوں کے ہونے کے بارے میں سوچ رہا تھا یا یہ کہنا چاہیے کہ سوچ خود بخود آ رہی تھی، یہ سب واقعتاً ہوتا چلا جا رہا تھا۔ جھکڑ چلا، پتے سرسرائے اور میرا فون بج اٹھا۔ یہ سب پانچ سیکنڈ کے اندر اندر ہوا۔ مُجھے لگا یہ سب میں پہلے بھی دیکھ چُکا ہوں۔ کہیں اور نہیں، اِسی مقام پر، اِسی ڈھابے پر ، دوستوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے، بار بی کیو بنتے ہوئے، ہوا، پتے اور فون، یہ سب کُچھ پہلے ہو چُکا ہے۔ لیکن کب؟ اِس کا جواب دینے سے میرا ذہن قاصر تھا۔

ایسا میرے ساتھ پہلے بھی ہو چُکا تھا۔ یہ احساس صرف چند لمحوں پر محیط ہوتا ہے۔ اور ایک ہی بات ذہن میں آتی ہے کہ ” یار! ایسا ہوتے ہوئے تو میں پہلے بھی دیکھ چُکا ہوں۔ سائنس فِکشن انگریزی ڈرامے اور فِلمیں دیکھنے کا نُقصان یہ ہوتا ہے کہ اِنسا ن اپنے آپ کو کسی نا کسی زاویے سے سُپر ہیومن سمجھنے لگتا ہے۔ جب ایسا دو چار بار ہوا تو ایک مرتبہ تو میں بھی یہی سوچ بیٹھا ۔ مزید یہ کہ شاید میرے اندر کوئی خاص صلاحیت پروان چڑھنے لگی ہے اور میں جلد ہی مُستقبل میں جھانکنے کے قابل ہو جاﺅں گا۔ یہاں تک کہ میں اپنے والد صاحب سے بھی پوچھ بیٹھا کہ کہیں ہمارے خاندان میں کوئی بُزرگ بابا جی تو نہیں گُزرے کہ جن کی معرفت بذریعہ ڈی این اے مُجھ میں مُنتقل ہونے لگی ہو۔ والد صاحب نے سکنٹ ( سیکنڈ) لگائے بغیر نفی میں جواب دے کر اِس اُمید پر بھی پانی پھیر دیا۔

آخر خود ہی معاملہ کھوجنے کی ٹھانی۔ معلوم ہوا اِس کیفیت کو ” ڈے ژا وو“ کہا جاتا ہے۔ فرانسیسی زبان کا لفظ ہے اور معنی ہیں اِس کے ” پہلے سے دیکھا ہوا“۔ یہ سب ہمارے پیچیدہ دماغ کی کارروائی ہوتی ہے۔ شروع میں اِس کیفیت کو ” شیزوفرےنیا ( دِماغی بیماری جس میں مریض کو اُلجھے خیالات، بے چینی، عجیب آوازیں سُننا اور ایسی شخصیات سے ملنا جو صرف اُس کی ذہنی اِختراع کا نتیجہ ہوتی ہیں، کا سامنا کرنا پڑتا ہے) سے جوڑا جاتا تھا۔ لیکن بعد کی تحقیق نے اِس بات کی نفی کر دی۔ اگر آپ کو بھی ایسا لگتا ہے کہ کوئی منظر جو آپ ایک مخصوص وقت میں دیکھیں، اور آپ کو لگے کہ آپ یہ پہلے بھی دیکھ چُکے ہیں تو اِس کی یہ وجوہات ہو سکتی ہیں۔

ہر دوائی کے عام طور پر کُچھ سائیڈ ایفکٹ ضرور ہوتے ہیں۔ کسی سے بلڈ پریشر ہائی ہو جاتا ہے تو کسی سے پیٹ خراب۔ اِسی طرح بعض اوقات کُچھ مُختلف ادویات کو ایک ساتھ لینے سے دماغ کے یاداشتی حصے زیادہ شدت سے تحریک پکڑ جاتے ہیں چُنانچہ دوائی کے اثر اور برقی محرکات (اِلیکٹروڈ سٹمیولیشن) کی وجہ سے آپ کو اِس کیفیت سے گزرنا پڑتا ہے۔

1943 میں امریکی ڈاکٹر رابرٹ ایفرون نے یہ تحقیق پیش کی کہ دماغ میں اِنفارمیشن ، سِگنلز کی صورت میں موصول ہوتی ہے۔ یہ سِگنل دِماغ کے دونوں طرف کنپٹی کے اندر کے اُس حصے میں جہاں بولنے سے تعلُق رکھنے والے حصے بھی شامِل ہوتے ہیں، موصول ہوتے ہیں۔ یہ سِگنل پہلے دِماغ کے بائیں اور پھر دا ئیں حصے میں مِلی سیکنڈ کے وقفے سے ایک ہی وجود گردانتے ہوئے داخل ہوتے ہیں۔ اگر یہ وقفہ بڑھ جائے تو آپ کا دِماغ دوسرے سِگنل کو ایک الگ واقعہ تصور کر لیتا ہے۔ مِثال کے طور پر آپ ایک باغ میں کھڑے ہیں۔ آپ درخت ، پھول ، پتے سب کُچھ دیکھ رہے ہیں اور آپ کا دِماغ یہ معلومات پہلے اپنے بائیں اور پھر دا ئیں حصے میں اِکٹھا کر رہا ہے۔ اب آپ نے ایک مالی کو دیکھا جس کے ہاتھ میں پانی کا پائپ ہے اور وہ کُچھ پودوں کو اُس سے سیراب کر رہا ہے۔ اچانک آپ کو احساس ہوتا ہے کہ یہ منظر آپ پہلے بھی دیکھ چُکے ہیں۔ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ، ایسا اِس لیئے ہوا کہ اِس منظر کا پہلا سِگنل تو آپ کے دِماغ نے بائیں حصے میں وصول کر لیا لیکن دا ئیں حصے میں پہنچنے والا سِگنل کُچھ مِلی سیکنڈ مزید لیٹ ہو گیا چنانچہ آپ کے دِماغ نے اِس ایک منظر کو دو الگ الگ مناظر کے طور پر محفوظ کر لیا۔ اب منظر تو وہی ہے لیکن جب دوسرا سِگنل (تھوڑا سا لیٹ) آپ کی میموری میں سیو ہوا تو آپ کو لگا یار! یہ تو میں پہلے بھی کہیں دیکھ چُکا ہوں، یار! یہ منظر وہی ہے جو تم نے کُچھ مِلی سیکنڈ پہلے دیکھا تھا۔ کیا زمانہ آ گیا ہے، آپ کا اپنا دِماغ ہی آپ کے دِماغ کی دہی بنا دیتا ہے اور آپ کو پتہ بھی نہیں چلتا۔

ایک اور وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ آپ نے خواب میں کُچھ دیکھا ہو اور وہ حقیقی زندگی میں آپ کے ساتھ ہو جائے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ خواب بھول جاتے ہیں یا جاگنے کے کافی دیر بعد یاد آتے ہیں۔ لیکن ڈے ژا وو کی کیفیت میں وہ خواب آپ کو یا د نہیں آتا مگر پھر یہ لگتا ہے کہ ایسا پہلے ہو چُکا ہے۔ لیکن اگر آپ کو خواب بھی یاد رہتا ہے اور وہی کُچھ آپ کے ساتھ واقعہ بھی ہو جاتا ہے تو یقین کریں آپ بہت پہنچے ہوئے ہیں، مُجھے دُعاﺅں میں یاد رکھیئے گا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

خاور جمال

خاور جمال پیشے کے اعتبار سے فضائی میزبان ہیں اور اپنی ائیر لائن کے بارے میں کسی سے بات کرنا پسند نہیں کرتے، کوئی بات کرے تو لڑنے بھڑنے پر تیار ہو جاتے ہیں

khawar-jamal has 23 posts and counting.See all posts by khawar-jamal