دہشت گردوں کی کمر مت توڑئیے


ejaz awanاعجاز اعوان

دہشت گردوں کی کمر مت توڑئیے۔ کبھی سانپ کی دم پر چھڑی مارنے سے بھی سانپ مرتا ہے، اس کے سر پر چوٹ لگائی جاتی ہے۔ ان کی ان تربیت گاہوں کو ختم کیجئے جہاں سے یہ لوگ تربیت لے کر آتے ہیں۔ وقت نے ثابت کیا ہے کہ دہشت گردوں کے ٹھکانے اب بھی محفوظ ہیں۔ ان کی تربیت گاہوں میں اب بھی دہشت گرد تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ تربیت کا یہ نظام ، ان کے ٹھکانے ، ان کی فنڈنگ کا سلسلہ ، سب حسب معمول جاری ہے۔ ضرورت ہے تو اس امر کی کہ ان کی جڑوں پر وار کیا جائے۔ پچھلے برسوں میں جن دہشت گردوں کو ختم کیا گیا ان کی جگہ ان سے زیادہ بے رحم جانشینوں نے لے لی۔ ہر حملہ پہلے سے زیادہ خوفناک ثابت ہوا۔ یہ کامیابی نہیں ہے۔ ہشت پا بلکہ ہزار پا عفریت اپنی جگہ پر موجود ہے۔ محفوظ ہے۔ پاکستان پر مزید حملے کرنے کا سوچ رہی ہے۔ تیاری کر رہی ہے۔ اس کی جڑ کاٹئے۔ شاخیں نہیں۔ دہشت گرد ہر بار اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔چند ایک دہشت گردوں کو مار دینے سے یہ مصیبت نہیں ختم ہونے والی…. ثابت ہوا ہے کہ یہ لوگ شمالی یا جنوبی وزیرستان میں نہیں بیٹھے جہاں پاک فوج ایک سال سے ضرب عضب نام کے آپریشن میں مصروف ہے۔ پاک فوج کو مصروف رکھنے کے لئے محض ایک چھوٹی سی پہاڑی پر بیٹھے چند دہشت گرد ہی کافی ہیں۔ اگر اعدادوشمار اکٹھے کئے جائیں تو شوال کی پہاڑیوں پر اتنے درخت نہیں ہوں گے۔جتنے دہشت گرد اس چھوٹی سی جگہ پر مارے جا چکے ہیں۔ یوں محسوس ہو رہا ھے جیسے پاک فوج کو شوال میں مصروف کر رکھا ہو اور خود یہ دہشت گرد کسی اور جگہ پر محفوظ بیٹھے ہوں۔ حیرت ہے کہ پچھلے چھ سات برسوں میں ان حملہ آوروں نے جتنے بھی حملے کئے ان سب میں بہت حد تک مماثلت پائی جاتی ہے۔ یہی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ لوگ جس تربیتی کیمپ سے تربیت پا کر آتے ہیں اس کیمپ تک پاکستان کی رسائی ابھی تک نہیں ہو پائی۔ یہ پاکستان کی ایک بہت بڑی ناکامی ہے کہ وہ ابھی تک دہشت گردی کے اس کیمپ تک نہیں پہنچ پائے جہاں سے پاکستان کی اہم ترین تنصیبات اور تعلیمی اداروں پر حملوں کی گھناونی منصوبہ بندی کی جاتی ہے اور جہاں دہشت گردوں کو فول پروف اعلیٰ معیار کی تربیت دی جاتی ہے۔ اسی طرح پاکستان کی رسائی ان لوگوں تک بھی نہیں ہو پائی جو لوگ ان حملوں کی ریکی کرتے ہیں تفصیلات اکٹھی کرتے ہیں اور مقامی لوگوں سے رابطہ کر کے اپنے مشن کے لئے سہولت کار تلاش کرتے ہیں۔ حیرت ہے کہ اگر ہم پاکستان کی مشرقی سرحد کی طرف دیکھیں تو پاکستان فوج کی کارکردگی شاندار ہے۔ کہا جاتا ہے کہ متعدد بار بھارتی فوج مشقوں کے بہانے پاکستانی سرحد کے قریب آئی تو ہر بار پاک فوج کو عین اسی مقام پر مستعد اور تیار حالت میں دیکھا۔ ہم نے یہ بھی پڑھ رکھاہھے کہ ایک بار اسرائیلی طیارے کہوٹہ پر بمباری کے لئے فضا میں اڑے تو پاک فضائیہ کا ہر طیارہ ان کے استقبال کے لئے فضا میں تھا۔ لیکن مغربی سرحد کی جانب دیکھیں تو پاکستان کے حصے میں ناکامیاں ہی ناکامیاں آئی ہیں۔ ڈیورنڈ لائن سے میلوں اندر آ کر دہشت گرد کارروائی کر جاتے ہیں لیکن ہم بے بسی سے دیکھنے کے علاوہ کچھ نہیں کر پاتے۔ اس سرحد پر ہماری ہمدردی اور پیارے بھرے جذبات کا یہ عالم ہے کہ ایک مرتبہ طورخم بارڈر پر پاکستان نے لوہے کا گیٹ نصب کر دیا تو افغان پولیس اپنے ٹریکٹروں کے زریعے یہ گیٹ اکھاڑ کر لے گئی اور ہمارے فوجی جوان مسکراتے ہوئے افغانیوں کا لاڈ پیار دیکھتے رہے۔ بھلا کبھی واہگہ بارڈر پر پاکستان یہ سب کر دیکھے…. پاک فوج کرے بھی تو کیا۔ 27500 مربع میل کا علاقہ ہے۔ جس پر سوائے دہشت گردوں کے اور کسی کی حکمرانی نہیں۔ خود پاکستان حکومت اس علاقے کو اپنی عملداری میں شامل کرنے سے ہچکچا رہی ہے۔ فاٹا میں اصلاحات کے نام پر جو کمیٹی بنائی گئی ان میں فاٹا سے کسی کو شامل کرنے کی زحمت ہی نہیں کی گئی نہ اس کمیٹی کا کوئی اہم اجلاس ہو پایا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس علاقے کو باقاعدہ طور پر بندوبستی علاقہ بنا دیا جاتا۔ دیگر حصوں کی طرح یہاں بھی تحصیل اور ضلع بنائے جاتے۔ میرانشاہ میں ایک اعلیٰ درجے کا بین الاقوامی انٹرنیشنل ایئر پورٹ بنا دیا جاتا تاکہ دہشت گردی کی جانب مائل قبائلی اپنی معاشی سرگرمیوں سے چند روپے کماتے۔ لیکن ایسا کچھ نہیں ہو پایا۔ جب تک برائی کو جڑ سے نہیں اکھاڑا جائے گا۔ باچا خان یونیورسٹی اور اے پی ایس پشاور جیسے سانحے ہوتے رہیں گے، پاکستانی عوام مرتے رہیں گے۔


Comments

FB Login Required - comments

4 thoughts on “دہشت گردوں کی کمر مت توڑئیے

  • 22-01-2016 at 5:07 pm
    Permalink

    madrisay band karaeen

  • 22-01-2016 at 9:01 pm
    Permalink

    مولوی عزیز جب تک حکومت کو عزیز رہے گا کسی کے کان پر جوں نہیں رینگے گی

  • 22-01-2016 at 11:36 pm
    Permalink

    اعجاز بھائی آپ کی طرف سے باقاعدہ لکھنا کافی overdue تھا. بہت خوشی ہوئی کہ آپ نے اس طرف قدم بڑھایا ! 🙂

    • 23-01-2016 at 11:11 am
      Permalink

      بہت شکریہ ڈوک صاحب

Comments are closed.