اسلام میں بیوی کو مارنے کے حق کی وضاحت


\"sajid-hameed\"

آج کل قرآن کا یہ حکم کہ شوہر اپنی بیوی کو مارسکتا ہے، بحث مباحثہ کا موضوع بنا ہوا ہے۔ میرے خیال میں اعتراض جن باتوں پر اٹھایا جارہا ہے وہ آیت کے اس مفہوم پر ہے جوعلما نے آیت سے اخذ و ماخوذ کیا ہے۔ ہمارے علما کی دو قسمیں ہیں: ایک آئمہ کی تقلید کے قائل اور دوسرے غیر مقلد ۔ آئمہ کی تقلید کے قائل علما اپنے مسلک کے مجتہدین کی آراء سے گریز کرکے قرآن وسنت کا براہ راست مطالعہ کرکے از سر نو غور کرنے کو کو وبیش حرام سمجھتے ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ایسے مجتہد کم ہی پیدا ہوتے ہیں، جن کواس طرح قرآن سے اخذ علم کا حق حاصل ہو۔ غیر مقلد علما میں پھر دو قسمیں ہیں۔ ایک اہل حدیث اور دوسرے غیر مسلکی علماء۔ اہل حدیث قرآن کی آیات کو حدیث یا سلف صالحین کی ماثور تفسیر کی روشنی میں سمجھتے ہیں۔ غیر مسلکی علما کے ہاں قرآن کو عہد جدید میں سمجھنے کے طریقوں میں قدرے آزادی ہے ۔ سائنس، نئے علوم و نظریات سے پیدا شدہ سوالات کا جواب ان کے ہاں ذرا آزادانہ طریقے سے تلاش کیا جاتا ہے۔ لیکن ان میں سے بھی بعض حلقے بہت محتاط دکھائی دیتے ہیں۔ مثلا جاوید احمد غامدی صاحب کا حلقہ متن ِ قرآن اور سنت متواترہ کی حاکمیت کو ترک کرنے کو تیار نہیں ہے، خواہ جدیدیت اور عقل جدید جو کچھ مرضی کہتی رہے۔

تقلید کی وجہ سے ہم دورِ قدیم سے نکل نہیں سکتے۔ ہمیں بعض مسائل میں آج بھی ایک ہزار سال پہلے بنائی گئی رائے کی پیروی کرنا ہوتی ہے،حالانکہ نہ وہ اللہ کا حکم تھا اور نہ اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کا۔ قدما کی رائے ان کے اپنے ماحول ، سماج، تہذیب ، علوم و افکار اور نظریات پر قائم تھی۔ اگلے کسی زمانے میں یا کسی اجنبی سماج میں ان کی بات بے محل اور غیر موزوں ہوسکتی ہے ۔ اس لیے اسے ترک کرنا ازبس ضروری ہو سکتا ہے۔ صرف اللہ و رسولؐ کی بات آفاقی اور دائمی ہو سکتی ہے، جسے زمانوں اور سماجوں پر محیط سمجھا جاسکتا ہے۔

اسی طرح حدیث کی روشنی میں قرآن کو سمجھنا بلاشبہ ایک اہم اصول ہے۔ بعض اکابرین امت اس کے قائل رہے ہیں۔ لیکن اس اصول کا اطلاق کیسے ہو، اس کو اگر ذہانت اور پورے قرآن کی روشنی میں سے استعمال نہ کیا جائے تو مسائل پیدا کردیتا ہے۔ اس لیے کہ کون سی حدیث کس آیت کی تفسیر ہے یہ کام ماثور نہیں ہے۔ اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب کوئی بات کی ہوتی تو ماحول میں موجود کسی مسئلے کے حل کے لیے ہوتی تھی، چونکہ احادیث میں وہ موقع محل بیان نہیں ہوتا اس لیے ان کو سمجھنا اور مراد ِرسول کوپا لینا بسا اوقات ممکن نہیں رہتا۔ اسی طرح حقیقت تو یہ ہے کہ اصول یہ ہونا چاہیے کہ حدیث کو قرآن کی روشنی میں سمجھا جائے نا کہ حدیث کی روشنی میں قرآن کو۔ اس لیے کہ قرآن کی حدیث پر حاکمیت نصوص اور عقل دونوں سے ثابت ہے۔

عقل اور علوم جدیدہ کی روشنی میں قرآن کو سمجھنا بھی ایسا ہی ایک اصول ہے۔ یہ ہمیشہ ہر دور میں زیر استعمال رہا ہے۔ لیکن اس میں قباحت یہ ہے کہ آج کی عقل کے فیصلے کل کے عقلی فیصلوں سے رد ہوجاتے ہیں۔ فلسفے نے پچھلے دو ہزاریوں میں جس قدر کروٹیں بدلی ہیں ، وہ اظہر من الشمس ہیں۔ خاص طور سے پچھلے تین سو سال کا دورتو انقلابی رہا ہے۔ ہر صبح نئے افکار کے ساتھ طلوع ہوتی رہی، اور شام کو وہ افکار سورج کے ساتھ ہی غروب بھی ہو جاتے رہے ہیں۔

اس لیے دین کو ان تینوں اصولوں سے نقصان ہوتا ہے۔ فہم دین کی ہر سعی پر خود مآخذ دین کے اپنے پہرے ہونے چاہیں، اور ماخذ دین امت کے اجماعی فیصلے میں بس دو ہی ہیں: قرآن مجید اور سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم جو تواتر سے آئی ہے۔ ان کے علاوہ بہت سے مآخذ بلاشبہ کتب میں فہرست کیے گئے ہیں، لیکن ان پر اجماع نہیں ہو سکا، جن میں خبر واحد، قیاس اور اجماع وغیرہ شامل ہیں۔

قرآن کی معجز نما عبارت اس بات کا نہایت عظیم نمونہ ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی تھی کہ لاتنقضی عجائبہ، اس کے عجائب کبھی ختم نہیں ہوں گے۔ لیکن یہ اسی وقت ظاہر ہوں گے جب ہم قرآن کو ہر تعصب سے پاک ہو کر سمجھنے کی کوشش کریں گے۔ اس کی آیات کو اس کے سیاق سباق میں رکھ کر پڑھیں گے۔ میں اسی طرح کی چند معروضات بیوی کو مارنے کی اجازت کے ضمن میں یہاں پیش کرنا چاہتا ہوں۔ ہماری معروف آراء میں اس کے معجز نما کلام کو فراموش کیا گیا ہے۔

قرآ ن کی اس آیت کا سیاق سباق بتا تا ہے کہ یہاں میاں اور بیوی مرد و عورت کے طور پر زیر بحث نہیں ہیں بلکہ ایک نظام کے دو پرزوں کے طور پر زیر بحث ہیں۔ یہ فورم علمی نہیں ہے اس لیے علمی استدلال یہاں بیان نہیں کرسکتا، لیکن قرآن کی آیات کو پڑھنے والے اسے سمجھ جائیں گے ۔ اس رائے کے حق میں واضح اشارے لفظ قوامون علی النساء اور نشوزہن کے الفاظ میں موجود ہیں۔ جب ایک نظام زیر بحث ہوتا ہے تو اس میں فرد بحیثیت فرد زیر بحث نہیں آتا بلکہ نظام میں اس کی حیثیت زیر بحث ہوتی ہے۔ مثلا اگر کہا جائے کہ پولیس کانسٹبل سڑک پر چیف جسٹس اور وزیراعظم کابھی چالان کرسکتا ہے تو یہاں وہ میٹرک پاس محمد دین زیر بحث نہیں ہے کہ کوئی یہ کہنے لگے کہ جناب، اس ملک میں تو چیف جسٹس اور وزیراعظم کی کوئی ویلیو ہی نہیں ہے، محمد دین بھی ان کا چالان کردیتا ہے۔ یہاں محمد دین نہیں بلکہ ریاست کا نمائندہ کانسٹبل زیر بحث ہے ، خو اہ وہ محمد دین ہو یا دین محمد، میٹرک پاس ہو یا پرائمری فیل۔ اس کی حیثیت اس چوک میں یہی ہے کہ وہ وزیراعظم کا بھی چالان کرسکے۔ ٹھیک اسی طرح خاندانی نظام میں میاں بیوی مرد و عورت کے طور پر زیر بحث نہیں بلکہ ایک نظام: گھر کے نظام کے دو کارکن کے طور پرزیر بحث ہیں ۔ لہذایہ بحث یہاں غلط ہوگی کہ قرآن میں عورت کیا مقام دیا گیا ہے ۔ اگر گھر کے نظام میں بیوی کو قوام بنایا جاتا تو یہی چیز عورت کو حاصل ہو تی ۔ لہذا جس کو قوام بنایا گیا ہے اس کے اختیارات بیان ہورہے ہیں۔

اللہ تعالی نے فیملی کے اس نظام کا سربراہ بوجوہ شوہر کو بنایا ہے(دیکھیے نساء4: 34)۔ اللہ تعالی بیوی کو سربراہ بناتے تو تب بھی یہ بحث ختم نہ ہوتی، جو آ ج ہو رہی ہے ۔ پھر یہ بحث پیدا ہو جاتی کہ مرد پر ظلم ہو رہا ہے،اور یہ کہ قرآن نے مرد کو کوئی حیثیت ہی نہیں دی۔ اللہ تعالی نے مرد و عورت میں سے شوہر کو گھر کے نظام کی سربراہی دی ہے تو یہ ایسی ہی بات ہے کہ جیسے چوک پر ٹریفک کنٹرول کی سربراہی کانسٹبل کو ملی ہے۔ یہ اختیار اسے اس لیے نہیں ملا کہ وہ انسان ہونے کے اعتبار سے برتر ہے۔ یہ صرف ایک اختیار کی برتری ہے، جو ایک خاص دائرے میں اسے دی گئی ہے۔ شوہر کو بیوی پر یہ برتری بھی ایسی ہی اختیار کی برتری ہے۔ جس طرح چوک میں ہم کانسٹبل سے اپنے آپ کو فروتر یا گھٹیا نہیں سمجھتے ، اسی طرح بیوی کو بھی ایسا نہیں سمجھنا چاہیے۔ مثلا یہ کانسٹبل اگر کسی عورت کا چالان کرے تو کیا یہ مرد و عورت کی برتری کا مسئلہ ہو گا؟ یقینا نہیں۔ تو جب گھر کا قوامی ضابطگی کو قائم کرنے کیے لیے کوئی اقدام کرے تو اس میں مرد کی برتری نہیں بلکہ محض قوام ہونے کے اختیار کا استعمال ہے۔

دوسری بات یہ واضح رہے کہ جب نظام زیر بحث ہے تو اس نظام کو توڑنے والے امور بھی زیر بحث آئیں گے۔ نشوز اسی ضمن میں زیر بحث آیا ہے اور قوام (سربراہ گھرانہ) کو مارنے کی اجازت اسی جرم میں دی گئی ہے۔ جیسے ایک ملک میں سربراہ کو ملک کے باغیوں اور نظام کو سبوتاژ کرنے والوں کو سزا دینے کا حق ہوگا۔ نشوز ایسا ہی ایک جرم ہے۔ نشوز سرکشی ہے اوراس کے معنی یہ ہیں کہ بیوی اپنے شوہر، گھر، یا بچوں کے حقوق کو پامال کرنے پر تل جائے۔ یعنی اگر بیوی فیملی کی سلطنت کو تباہ کرنے پر آجائے اور تو شوہر کیا طریقہ اختیار کرے۔

چنانچہ جن چیزوں سے فیملی کا نظام بنتا ہے ۔ اگر بیوی ان کوبرباد کے درپے ہوجائے تو گھر کے سربراہ (قوام) کو تین مراحل پر مبنی حکمت عملی دی گئی ہے۔ یہ کوئی انہونی حکمت عملی نہیں ہے۔ تمام اداروں میں ان افرادکے ساتھ ملتا جلتا رویہ ہی اپنایا جاتا ہے، جو خلاف ادارہ حرکات کررہے ہوں۔ پہلا مرحلہ سمجھانے کا ہے۔ قرآن نے اس کے لیے فعظوہن (النساء4: 34 ) کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ جس کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ پوری اپنایت، ہمدردی، اخلاص کے ساتھ سمجھانا، اور یہ سمجھانا لمحے بھر کا نہیں ہوتا۔ اس لفظ کا حق صحیح معنی میں تب ادا ہو گا، جب ہر ہر پہلو سے سمجھایا گیا، بات سنی گئی ہو، اعتراضات رفع کیے گیے ہوں، او ر بات کو سمجھنے اور غور کرنے کا پورا موقع دیا گیا ہو، جو کئی ماہ پر بھی محیط ہو سکتا ہے۔ ورنہ فعظوہن کا حق ادا نہیں ہوگا۔

دوسرا مرحلہ زوجیت کے تعلق کو منقطع کرنے کا ہے۔ یہ بات چیت سے مایوس ہو جانے کے بعد کا مرحلہ ہے۔ اس کو سزا بھی کہا جاسکتا ہےاور اصلاح کا ایک مرحلہ بھی ۔ اس لیے کہ یہ عمل دونوں کردار کا حامل ہے۔ اصلاح کے اعتبار سے یہ تنبیہ ہے کہ اگر نشوز ترک نہ کیا گیا تو نتائج برے ہوسکتے ہیں، اور سزا کے اعتبار سے یہ ایک طرح کا ترک تعلق ہے۔ اس میں ترک ِنشوز کے لیے، یوں سمجھیے، سختی کی جارہی ہے۔ جیسےمعاشرے میں قیام امن کے لیے قانون پرزبردستی عمل کرایا جاتاہے۔ اسی طرح یہاں اس سختی کی تمہید ہے۔ ویسے ہی جیسے کسی بھی نظام میں افراد کے رویوں کی اصلاح کے لیے کیا جاتا ہے۔ جب کسی ادارے میں کوئی فرد خلاف ادارہ حرکات کرے گا، تواسے شو کاز نوٹس دیا جاتا ہے، وہ اپنے رویے کی وضاحت کرتا ہے،اسے سمجھایا بجھایا جاتا ہے۔ پھربھی اگر وہ باز نہ آئے تو اسے وارننگ دی جاتی ہے کہ آئندہ ایسے ہوا تو نتائج برے ہوں گے۔ ترکِ زوجیت اسی نوعیت کی تنبیہ ہے۔

یہ تنبیہ اور سزا بھی اگر بیوی کے رویے میں اصلاح نہیں لاتی تو پھر تیسرے مرحلے میں ترکِ نشوز کو زبردستی حاصل کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ یعنی خاندانی نظام کی رٹ قائم کرنے کے لیے سخت اقدام کرنا۔ اس کے لیے قرآن مجید نے واضربوھن کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ یہ اصلاح سے اگلا قدم ہےکہ فیملی کے نظام کو زبردستی درست کیا جائے گا۔ تمام اداروںمیں ایسا ہی ہوتا ہے۔ جب مجرم مذاکرات، تنبیہات سے باز نہیں آتےسرزنش سے امن قائم کیا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ آدمی یا بیوی ترک نشوز کے لیے تیار ہی نہیں ۔ وہ مجرمانہ طور پر نشوز پر قائم رہنا چاہتے ہیں۔

چوتھا مرحلہ یہ ہے کہ اس سزا کےبعد بھی امن قائم نہیں ہو، اور بات علیحدگی تک پہنچے لگے تو قرآن مجید نے دونوں کے خاندان کے بڑے لوگوں کو بیچ میں مداخلت کی اجازت دی ہے کہ وہ مسئلہ کو حل کرائیں اور صلح قائم کرا دیں۔ یہ تمام مراحل سورہ نساء کی 34 اور 35 آیت میں بیان ہوئے ہیں۔

اس تفصیل یہ بات واضح ہو گئی ہو گی کہ یہ میاں بیوی کا جھگڑا نہیں ہے، بلکہ فیملی میں قیام امن و صلح کا مسئلہ ہے۔ اس حکم کو اسی اعتبار سے دیکھنا چاہیے۔ یہ بیوی کا اپنے میاں کی بات نہ ماننے پرمارنے کا حکم نہیں ہے۔

اس جرم کو قرآن مجید نے نشوز کا نام دیا ہے۔ اس حکم کی یہی نوعیت ہے کہ جس کی وجہ سے اسی سورہ النساء کی 128 ویں آیت میں شوہر کے نشوز کو بھی مسئلہ بنایا گیا ہے۔ کیونکہ فیملی میں صلح و امن کا معاملہ شوہر کی طرف سے بھی سبوتاژ ہو سکتا ہے۔ قرآن مجید نے اس کا حل بھی تجویز کیا ہے۔ لہذا یہ کہنا کہ قرآن مجیدعورت کے ساتھ عدم برابری کا سلوک کررہا ہے تو یہ صحیح نہیں ہے۔ قرآ ن مجید نے کہا ہے کہ اگر شوہر کی طرف سے بیوی کے لیے نشوز کا اظہار ہو، تو اس میں بھی صلح قائم کی جائے گی۔ صلح کا طریقہ اسی سورہ میں آیت 34 میں بتایا گیا ہے کہ اگر دونوں خود صلح قائم نہ کرسکیں تو دونوں کے خاندان اور برادری کے بڑے لوگ اس میں مداخلت کرکے صلح کرائیں۔ اور اس خاندان کو ٹوٹنے سے بچائیں۔ یہاں جب دونوں خاندانوں کے ثالث بیٹھیں گے تو شوہر کی سزا کا فیصلہ بھی ہو سکتا ہے۔

کوئی یہاں یہ سوال کرسکتا ہے کہ بیوی کو اللہ نے شوہر کےنشوز کے بعد مارنے کی سزا کیوں نہیں دی۔ اس کی دو وجہیں ہیں، ایک وہی جوشوہر کو قوام بنانے کی بیان ہوئی ہے کہ وہ طاقت ور ہے۔ اگر بیوی اسے مارے گی تو کہیں اس سے زیادہ مار نہ کھا بیٹھے، اور دوسری وجہ قانونی ہے۔ اسے پھر کانسٹبل کی مثال سے سمجھتے ہیں۔ کانسٹبل میرا قانون توڑنے پر فورا چالان کرسکتا ہے لیکن اگر کانسٹبل قانون کی خلاف ورزی کرے تو میں کچھ بھی نہیں کرسکتا۔ مجھے بہرحال قانون کا سہارا لینا پڑے گا۔ لہذااس امر کو سمجھنا چاہیے کہ شوہر کو قوام ہونے کی بنا پر یہ عائلی حق حاصل ہے کہ وہ اضربوہن پر عمل کرسکے لیکن بیوی کو یہ عائلی حق حاصل نہیں ہے، اسے بہرحال سزا دلوانے کے لیے خاندان کے بڑے لوگوں یا حکومت کا سہارا لینا پڑے گا۔

اب رہا کہ واضربوہن کے معنی کیا ہیں؟ واضربوہن کے معنی یہ ہیں کہ انھیں مارا جاسکتا ہے۔ یہ مارنا ویسا ہی ہے جیسے باپ یا ماں اپنے بچے کو برائی کرنے پر مارسکتے ہیں۔ یہ تنبیہ و تادیب کے لیے مارنا ہے۔ اسی کی وضاحت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی کہ واضربوہن ضربا غیر مبرح ۔ یعنی تکلیف دہ مار نہ مارو۔ قرآن وحدیث کی اس بات سے یہ بات واضح ہے کہ یہ محض جھنجھوڑنے ، سخت ہاتھ لگانے اور ایک آدھ ہلکا سا تھپڑ لگا دینے سے زیادہ کی اجازت نہیں ہے،اوراس کی بھی صرف نشوز کی صورت میں اجازت ہے۔

سورہ نساء کی اسی آیت 34 میں یہ بات بھی قرآن مجید نے واضح کردی ہے کہ بیوی کے بجائے شوہر کو قوام کیوں بنایا گیا ہے۔ قرآن مجید نے اس کی دو وجہیں بتائی ہیں: ایک جبلی ہے، یعنی مرد کی طبعی ساخت اور دوسرے معاشی ہے۔ معاش کے کمانے اور بیوی کی ضروریات کو پورا کرنے کی ذمہ داری شوہر کی ہے، اسی کے ثبوت کے لیے اس کو نکاح کے موقع پر مہر ادا کرنا ہوتا ہے۔ یہ ایک وجہ ہے جو شوہر کو قوام بنانے کا باعث بنی ہے ۔ دوسری وجہ اس کی طبعی بناوٹ ہے ۔ کسی فلسفی سے پوچھا گیا کہ مرد قوام ہے یا عورت؟ اس نے کہا کہ اس کا فیصلہ تو تاریخ انسانی کے پہلے دن ہی ہو گیا تھا۔ وہ یوں کہ جب بابا آدم اور اماں حوا اپنی غار سے باہر نکلے ہوں گے تو سامنے سے شیر ان پر حملہ آور ہو گیا ہوگا۔ اماں حوا بھاگتی ہوئی غار میں جا چھپیں ہوں گی ۔ جبکہ بابا آدم نے ڈنڈا لے کر شیر کا مقابلہ کرکے مار بھگایا ہوگا۔ تب سے آدمی کی عورت پر قوامیت ثابت ہے۔ قرآن مجید نے ایسے ہی بعض مردانہ اوصاف کی وجہ سےشوہرکو قوام بنایا ہے، جو اس کی طبعی ساخت کا حصہ ہیں۔ جس طرح عورت کو اس کے بدنی اور جبلی اوصاف کی وجہ سے ماں بنایا ہے، اسی طرح شوہر کو اس کے جبلی اور بدنی اصاف کی بنا پر قوام بنایا گیا ہے۔ یہ کوئی امتیاز و تفریق کا مسئلہ ہی نہیں ہے۔ یہ ساخت و بناوٹ کے لحاظ سے کام سونپنے کا عمل ہے۔ یعنی مشین میں کون سا پرزہ کہاں فٹ آئے گا، اسے وہیں لگایا جائے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ساجد حمید کی دیگر تحریریں
ساجد حمید کی دیگر تحریریں

ساجد حمید

ساجد حمید صاحب یونیورسٹی آف سینٹرل پنجاب کے شعبہ اسلامیات کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ ہیں

sajid-hameed has 2 posts and counting.See all posts by sajid-hameed

2 thoughts on “اسلام میں بیوی کو مارنے کے حق کی وضاحت

  • 10-07-2016 at 8:26 pm
    Permalink

    محترم لکھتے ہیں: “سورہ نساء کی اسی آیت 34 میں یہ بات بھی قرآن مجید نے واضح کردی ہے کہ بیوی کے بجائے شوہر کو قوام کیوں بنایا گیا ہے۔ قرآن مجید نے اس کی دو وجہیں بتائی ہیں: ایک جبلی ہے، یعنی مرد کی طبعی ساخت اور دوسرے معاشی ہے۔” اگر یہ توجیح درست ہے تو پھر دو سوال اٹھتے ہیں۔
    ۱۔ اگر کوئی عورت اپنی طبعی ساخت میں خاصی توانا ہے اور اسکا شوہر، جو اسکے والدین کا پسند اور منظورکردہ ہے، اس عورت سے طبعی ساخت میں کمتر ہے تو کیا وہ تواناعورت اس کمزور مرد پر ان حقوق کا استعمال کرسکتی ہے جو ایک توانا شوہر کو اس عورت پر حاصل ہوتے؟
    ۲۔ کیا آپ کی رائے میں عورتوں کو معاشی بہتری کی خاطر جدوجہد کرتے ہوئے، جیسا کہ دنیا کے تمام مسلم معاشروں میں وہ کر رہی ہیں، یہ بھی لازم آتا ہے کہ وہ بہتری تک ہی خود کو محدود رکھیں اور برتری نہ حاصل کریں کیونکہ ” معاشی برتری” صرف مردوں کا حق ہے؟

  • 11-07-2016 at 10:12 pm
    Permalink

    محترم چوہدری نعیم صاحب
    آپ کا پہلا سوال ، ویسا ہی ہے جیسا اوپر سعید یاور صاحب کا تبصرہ ہے۔ دیکھیے جب کوئی قانون یا اصول بنتا ہے تو وہ عموم پر بنتا ہے۔ عام حالات کو سامنے رکھ کربنایا جاتا ہے۔اور جب بنا لیا جاتا ہے تو پھر اس کی ہر ایک کو پیروی کرنا ہوتی ہے۔ مثلا ٹریفک کا قانون ازدہام کو کنٹرول کرنے اور ٹکراؤ سے بچانے کے لیے بنائے گئے ہیں۔مثلا چوک میں ٹکراؤ کے امکانات سب سے زیادہ ہوتے ہیں، وہاں سرخ بتی نصب کردی جاتی ہے کہ لوگ اس ٹکراؤ سے بچ سکیں ۔ اگر کوئی یہ کہے کہ میں تو ٹکراؤ سے بچ کر گذر سکتا ہوں تو میں سرخ بتی کی پیروی نہیں کروں گا تو یہ بات غلط ہو گی۔ آپ دونوں احباب نے استثنائی صورتوں کی مثالیں دے کر قانون کی غلطی نکال رہے ہیں۔ یہ تنقید اس وجہ سے قابل لحاظ نہیں ٹھہرتی۔
    دوسرا سوال اہم ہے لیکن میں اس میں دو باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں ایک یہ کہ میرے مضمون میں بیان کردہ اس قانون کا عورتوں کی معاشی ترقی سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ آپ نے یہ سوال اٹھاتے وقت میرے مضمون کی اصل روح کا لحاظ ہی نہیں رکھا۔ یہ میاں اور بیوی کا معاملہ ہے، نہ کہ مرد و عورت کا۔عورت جس قدر چاہے ترقی کرے۔ اس قانون میں بندھنے کا نام معاشی ترقی سے رکنا نہیں ہے۔دین صرف یہ کہہ رہا ہے کہ کفالت کی ذمہ داری شرعی طور پر شوہرکی ہے۔ کوئی معاشرہ یا افراد یہ ذمہ داری بیوی پر نہ ڈالیں ، اس لیے کہ نکمے مرد صنف ِنازک پراس کا بوجھ لاد کر خود گھر میں آرام فرماتے رہیں گے۔ہمارے پاکستان میں بعض طبقات میں یہ چیز دیکھی جاتی ہے کہ عورت گھر گھر کام کرتی پھرتی ہے اور نکھٹو شوہر گھر میں بستر استراحت پر جلوہ افروزہوتا ہے۔
    دوسری بات یہ کہ یہاں بھی آپ نے استثناء ہی کو سامنے رکھا ہے۔ آپ کے پیش نظر چند امیر گھرانوں کی وہ قلیل التعداد عورتیں ہیں جو معاشی عمل میں آگے بڑھ رہی ہیں۔ شاید آپ کے پیش نظر عورتوں کی وہ بڑی تعداد نہیں ہے، جو سارا دن جان کھپا کر کام کرکے آتیں اور پھر گھرداری میں اپنے آپ کو ہلکان کرتی ہیں۔لاکھوں کی تعداد ان عورتوں کی ہے جو آپ کی تجویز کردہ معاشی ترقی میں گھر گھر جاکر غیروں کے گھروں میں ان کے غسل خانے، کپڑے اور فرش دھوتیں ، جس کے عوض چند سرخ نوٹوں کے ساتھ جلی کٹی باتیں سنتیں، گالیاں کھاتیں اور بعض جنسی ہوس کا نشانہ بنتیں، شام کو ٹوٹے بدن کے ساتھ گھر آتیں اور شوہر اوربچوں کے نخرے بھی دیکھتیں۔اسلام اس ظلم پر قدغن لگانا چاہتا ہے کہ نان نفقہ فراہم کرنے کی ذمہ داری اس صنف نازک پر نہیں ہے بلکہ اس كے شوهر پر ہے۔

Comments are closed.