عورت ۔۔غیرت کا سرکس اور نفس کا کنواں


\"noorulhudaغیرت کیا ہے؟ غیرت کے نام پر قتل کیوں کیا جاتا ہے؟ غیرت کیوں بلبلا اُٹھتی ہے؟

غیرت دراصل آدمی کے اندر کی فطری عُریانیت کا خود ساختہ ظاہری لباس ہے۔ غیرت کے نام پر قتل، دراصل بھائی اور باپ نامی مرد کے اندر سرایت کی ہوئی جنسی بیماری کا ردعمل ہے!

جب اس کی بہن یا بیٹی کسی مرد کی طرف راغب ہوتی ہے تو یہ بات اس کے اندر کی فطری عریانیت کے تصوّر میں عین اُس طرح اسے دکھائی دیتی ہے جس طرح وہ کسی بھی غیر عورت کے تصوّر کو اپنی شہوانی ضرورت کے تحت استعمال کرتا رہا ہے۔ جس فطری خیال کی وہ اپنے نفس کی تاریکی اور خلوَت میں لذّت لیتا رہا ہے، اُسی تصوّر کے فریم میں اس کی بہن یا بیٹی کسی اور مرد کے ساتھ آ جاتی ہے اور وہ بِلبِلا اُٹھتا ہے۔غیرت کے نام پر قتل اسی بِلبِلاہٹ کا ردِ عمل ہے۔اپنی اسی فطری عُریانیت کے نفسیاتی دباؤ میں وہ اپنے گھر کی چاردیواری کے اندر اِس گمان میں رہتا ہے کہ وہ بہنوں اور بیٹیوں کے جسم تو کیا، خیال تک پر پہرے کی طاقت رکھتا ہے، اس خوش فہمی کے ساتھ کہ یہ اس کی طرح کی انسان ہو ہی نہیں سکتیں۔ نہ تو ان کے اندر فطری جنسی ضرورت نام کی کوئی چیز ممکن ہے اور نہ ہی ان تین کپڑوں کے اندر جسم نام کی بھی کوئی چیز ہے۔ اور وہ جسم ہی اس کا اصل پرابلم ہے دراصل ۔

اور جب بہن یا بیٹی اپنی زندگی کا اختیار اپنے ہاتھ میں لے کر اپنی مرضی کے مطابق کسی مرد کے ساتھ زندگی گزارنے کا اعلان کرتی ہے یا اس تعلق میں پکڑی جاتی ہے تو اس پر مقرر پہریدار مرد کی پہریداری ناکارہ ثابت ہو جاتی ہے گویا، کہ اس کی مقبوضہ لڑکی تک ایک غیر مرد کی رسائی! یا اس کے اندر ایک غیر مرد کا خیال! ظاہر ہے کہ بلکل اسی طرح جیسے اس کے ساتھ ایک غیر عورت یا اس کا خیال!

یہ بات نمایاں طور پر دیکھی گئی ہے کہ خاص طور پر بھائی غیرت کے نام پر بہن کا قتل ڈنکے کی چوٹ پر کرتا ہے اور بہن کی لاش کو غیرت کا سرٹیفکیٹ لینے کے لیے انتہائی بے غیرتی کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش بھی کرتا ہے۔دراصل اپنی بِلبِلاہٹ میں وہ چاہتا ہے کہ چوراہے پر موجود تماش بین اسے یقین دلائیں کہ تمہاری بہن جسم نام کی کوئی چیز قطعی نہیں رکھتی تھی کہ جس کا کسی مرد سے تعلق بن سکے۔ پہلے وہ صرف زندہ لاش تھی اور اب وہ مردہ لاش ہے۔ تماش بین خود بھی اپنے اندر کی عُریانیت سے گھبرائے ہوئے ہوتے ہیں۔ وہ کسی اور کی بہن کی لاش پر اپنے نفس کی گندگی پر ڈھکن رکھے جانے کی آسودگی حاصل کر رہے ہوتے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ آدمی کے اندر کی عُریانیت کی یہ کشمکش کیا ہے؟

اس کا جواب یہ ہے کہ ۔۔۔آدمی کی نگاہ فطری طور پر پہلے عورت کے جسم پر پڑتی ہے، پھر اُس سے منسوب رشتے پر (اور یہ کوئی عجیب بات نہیں۔ انسانی فطرت ہے) مگر اس سے وہ اپنے اندر خوفزدہ تب ہوتا ہے جب خود اپنی نگاہ کی عریانیت کی چوری پکڑنے لگتا ہے۔ اسی لیے دیکھا گیا ہے کہ گھر کے اندر بھی بہنوں اور بیٹیوں کو خود کو ڈھانپے رکھنے کے لیے دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ باپ بھائی کے سامنے خود کو ڈھانپ کر آؤ۔ شرم دلائی جاتی ہے بھائی باپ کے سامنے کھُلے ڈُلے آنے سے۔ ایسا تب ہی ہوتا ہے جب بچی جوان ہونا شروع ہوتی ہے اور رشتے سے بڑھ کر ایک individual جسم کی شکل اختیار کرنے لگتی ہے۔ جبکہ بہن کو بھائی، بھائی ہی دکھتا ہے اور باپ، باپ ہی دکھتا ہے۔ اسی لیے اسلام مرد کی فطرت کو سفّاکیت کے ساتھ دیکھتے ہوئے چند ایسے احکامات دیتا ہے جو ہم سے ہضم نہیں ہو پاتے۔

مثلاً: بچپن کی ایک خاص عمر کے بعد بھائی بہن کو ایک ہی بستر پر سلانے سے منع کیا گیا ہے۔

مثلاً: adopted اور منہ بولے رشتوں کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ چاہے بھائی بہن کا ہو یا باپ بیٹی کا۔

مثلاً: مرد کو عورت کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے (یہاں میری مراد امامت نہیں)۔ مُلاّ چاہے ہزار بحث کرے کہ اس طرح کے احکامات میں عورت کی ذلّت مقصود ہے مگر نہیں ہے ایسا۔ اس طرح کے احکامات میں آدمی کی فطرت میں پوشیدہ جنسی ننگے پن کو سفّاکیت سے دیکھا گیا ہے۔ اس کی نگاہ اس قابل نہیں کہ اس کے آگے عورت کا جسم نماز ادا کر رہا ہو اور وہ عین اس کے پیچھے نگاہ جھکا کر اپنی نماز کو قائم کر سکنے کا اہل ہو پائے۔ سورة بقرہ میں عدت میں بیٹھی عورتوں کے لیے مردوں کو کہا گیا ہے کہ اللہ جانتا ہے کہ ان کے لیے تمہارے دلوں میں خیال آئے گا ہی ( دیکھ لیجیے آدمی کی فطرت کی کتنی کھلی پرکھ ہے کہ تنہا ہو چکی عورت کو دیکھ کر تمہیں خیال آئے گا ہی) سو جب وہ عدت سے فارغ ہوجائے پھر اُسے propose کر سکتے ہو۔

مگر ہمیں اپنے ارد گرد، مختلف تعلقات اور رشتوں کی صورت میں وہ مرد کثیر تعداد میں ملتے ہیں جو غیرت کے جنسی اور نفسیاتی مرض میں مبتلا نہیں دِکھتے! یہ وہ مرد ہے جو انسانی نفسیات کی اس اونچ نیچ پر زیادہ غور کیے بغیر خاموشی سے آگے بڑھ جانا چاہتا ہے۔ جیسے ہم اندھیرے سے جلد از جلد گزر جانا چاہتے ہیں۔ جیسے ہم کیچڑ پھلانگ کر نکل جاتے ہیں۔ اسے بیٹی خوبصورت دکھتی ہے تو سینے سے لگا کر کہہ دیتا ہے کہ میری بیٹی کتنی خوبصورت لگ رہی ہے۔ بہن پُرکشش دکھتی ہے تومحبت اور تعریف کا اظہار اسے نہایت آسانی سے نفس کی تنگ گلی سے نکلنے کا راستہ دے دیتا ہے۔ بہن بیٹی سے محبت مرد کی نگاہ میں نرمی بھر دیتی ہے اور وہ اس کے حسن اور جوانی سے گھبراتا نہیں، محبت بھری نظر سے نظر بھر کر اسے دیکھ بھی سکتا ہے اور اسے گلے سے بھی لگا سکتا ہے۔

محبت ہی وہ واحد احساس ہے جو انسان کے اندر کی گندگی کو دھو ڈالتا ہے۔ طوافِ عمرہ کے دوران مرد اور عورت کو دیکھ لیجیے۔ مرد کا جسم آدھا کھلا ہوتا ہے اور بھیڑ کی شدت میں عورت اور مرد ایک دوسرے سے لگ کر چل رہے ہوتے ہیں۔ اُس ہجومِ بیکراں میں نفس کے ماروں اور گناہگاروں کی یقیناً اکثریت ہوتی ہے، چاہے مرد ہو، چاہے عورت ہو۔ مگر وہ کیا چیز ہے جو طواف کرنے والوں کو اپنے اور دوسرے کے جسم سے لاتعلق رکھتی ہے؟ وہ ہے رب سے محبت۔ رب کے روبرو ہونے کی کیفیت۔ گناہوں اور خطاؤں کا اعتراف۔ دوسروں سے زیادہ اپنے گندے ہونے کا احساس۔

ورنہ نفس کی عُریانیت کی یہی وہ تنگ گلی ہے جہاں کم عمر بچیاں خون کے انتہائی قریبی اور محرم رشتوں کے ہاتھوں درندگی کا شکار ہو کر موت کے گھاٹ اُتر جاتی ہیں۔

ایک غیرت کے نام پر قتل ہوتی ہے۔

ایک بے غیرتی کی بھوک پر۔

ایک ہی سکّے کے دو رُخ ہیں یہ۔

عورت اور مرد کی تنہائی میں تیسرا شیطان موجود ہوتا ہے۔ شیطان ہماری ہی ذات کی معکوس  نقل ہے۔ یقیناً ہوتا ہے بیچ میں مگر بحیثیت اشرف المخلوقات انسان کو شیطان پر برتری اور مزاحمت کی قوت حاصل ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو دنیا کی ہر عورت ریپ ہو چکی ہوتی اور ہر مرد ریپسٹ  ہوتا۔ شیطان ڈرانے کی چیز نہیں ہے۔ شیطان بندے کا اپنے نفس پر اختیار کا ٹیسٹ ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ عورت اور مرد کی تنہائی میں شیطان اُنہیں گن پوائنٹ پر بہرحال مجبور کرتا ہو کہ اُٹھو اور ابھی کے ابھی میرے سامنے جنسی فعل کرو۔ یوں بھی نہ ہی عورت کو ہر مرد اور مرد کو ہر عورت کشش  کرتی ہے۔ یہ فطری خیال کہ یہ سامنے والا مرد کاش کہ میرا ہوتا! یا یہ خیال کہ یہ سامنے بیٹھی ہوئی پُر کشش عورت کاش کہ مجھے مل سکتی! عورت اور مرد کے بیچ سے ہو کر گزر بھی جاتا ہے اکثر، مگر کوئی قیامت نہیں آتی۔ بحیثیت اشرف المخلوقات دونوں اپنے اپنے اندر یہ ٹیسٹ پاس کر کے آگے بڑھ بھی جاتے ہیں اور بھول بھی جاتے ہیں، شیطان آیا شیطان آیا کا شور مچائے بغیر۔ مگر ہوتا یوں آیا ہے کہ مذہب کو اپنی پگ بنانے والوں کو معاشرے میں سب سے پہلے عورت کے معاملے میں خود کو پارسا ثابت کرنا ہوتا ہے۔ کوئی ان سے یہ سوال کرے یا نہ کرے مگر چور کی داڑھی کے تنکے کی طرح سب سے پہلی بات وہ یہ ہی ثابت کرنے کی اداکاری کرتے ہوئے نظر آئیں گے کہ ان کے اندر عورت کے جسم کی کوئی خواہش ہے ہی نہیں۔ وہ انسان نہیں فرشتے ہیں۔ دھلے ہوئے، پاک اور پوتر! مگر ہے تو وہ بشر۔ مرد۔

 نفس کی فطری گندگی سے ہر شب وہ لت پت تو ہوتا ہی ہے مگر صبح ہوتے ہی بِلبِلا اُٹھتا ہے کہ تمام فساد کی جڑ عورت ہے۔ اسے مارو۔ اسے کھونٹے سے باندھو۔ اسے بند کرو۔ اسے ہی ڈھانپو۔ اسے دور کرو اپنی نظروں سے۔ یوں وہ اپنی گندگی پر قے کرتا چلا جاتا ہے۔ اپنے نفس کی یہ کشمکش اُس کے تشریح شدہ مذہب کو عورت سے نکلنے ہی نہیں دیتی۔ ہر مسئلہ عورت سے اُٹھ کر عورت پر تمام ہوتا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ اپنی مذہبی ٹھیکیداری کی پگ اونچی رکھنے کے لیے عورت پر تھوُ تھوُ کرنے کی ترغیب دینا شروع کر دیتا ہے۔

 اسلام اسی مرد کے نفس کے سرکش گھوڑے کو قابو میں رکھنے کے لیے چار شادیوں کی اجازت دیتا ہے مگر اُن چار شادیوں کو قرآن میں یوں مشروط کرتا ہے کہ اگر تم ان کے درمیان انصاف کر سکو۔ پھر یہ بھی کہہ دیا کہ جو کہ تم نہیں کر پاؤ گے۔ چار شادیوں کی اجازت بھی محض نفس کے سرکش گھوڑے پر قابو پانے کے لیے ہی نہیں دی گئی۔ معاشرے اور حالات کے کئی طرح کے اُتار چڑھاؤ کے اسباب بھی اس میں شامل ہیں، مگر سب سے اہم یہاں بھی نکاح میں عورت کی قبولیت اوّلین شرط ہے، کہ وہ مرد کی دوسری، تیسری اور چوتھی بیوی بننا چاہتی ہے یا نہیں! اس لیے بھوک مٹانے کے لیے سب ہی کو چار میسّر بھی نہیں ہو سکتیں۔

پھر ذرا غور کیا جائے تو پارسا حور کا وعدہ دراصل نیک مرد کے ساتھ کیا گیا ہے جو معاشرے میں اپنے نفس کی فطری گندگی کو قابو میں رکھتا ہے۔ راہ چلتی عورتوں کو گریبان سے پکڑ کر تھوُ تھوُ کرنے کے بجائے اپنی نظر کو جھکا کر رکھتا ہے اور اللہ سے اپنی وابستگی  کو اپنی ذات اور ذاتی مفادات اور نفس کی سرکشی پر فوقیت دیتا ہےاور جو جانتا ہے کہ اللہ مجھے دیکھ رہا ہے۔ یہ نظر جھکانا کیا ہے؟ نظر جھکانے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ مرد سڑک پر سامنے دیکھنے کے بجائے زمین پر نظر رکھے اور کسی تیز رفتار گاڑی سے ٹکرا جائے۔ نظر وہ جس کی نیت کی اللہ کو ہم سے زیادہ خبر ہے۔ نظر وہ جو جھکتی ہے تو زمین کی طرف نہیں اپنے ہی اندر کی طرف دیکھتی ہے اور اپنے اندر کی گندگی کو دیکھ کر شرمندہ ہوتی ہے اور بے اختیار توبہ کی طلب گار ہو جاتی ہے۔

اب یہ نظر کمبخت خود تو جھکتی نہیں، نتیجہ اس کا نفسیاتی اور جنسی ردعمل نکلتا ہے۔ اس یک طرفہ تقاضے کے ساتھ ظلم اور تشدد کی صورت میں سامنے آتا ہے کہ عورت کو نظروں سے دور کرو۔ حالانکہ سورۃ نور کی آیت 30 میں پہلے مردوں کو اپنی نگاہیں جھکائے رکھنے اور اپنی شرم گاہ کی حفاظت کا حکم دیا گیا ہے پھر آیت 31 میں وہی حکم عورتوں کے لیے دیا گیا ہے کہ وہ \”بھی\” اپنی نظریں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں۔۔۔۔۔\”

مگر صرف آیت 31 کو پیش کیا جاتا ہے بلکہ اسے اپنے نفسِ بے لگام کے بچاؤ میں استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ تو قرآن پاک کی حفاظت سے متعلق اللہ تعلیٰ کا وعدہ ہے جس کی وجہ سے اس میں کسی بھی ردّ و بدل کی مجال نہیں مسلمانوں کو ورنہ اس سے پہلے کی آسمانی کتابوں میں ردّ و بدل کرکے اللہ کے احکامات کو ہر دور کی male chauvinistپدر سری سوسائٹی میں اپنے معاشرتی مفادات اور رویّوں کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ اور آج کل یہ رویّہ معاشرے میں صرف عورت کو گندا ثابت کرنے کا عملی  طریقہ بن چکا ہے۔ عورت ہی کیا، ہم ہر معاملے میں آدھا حکم چھپاتے ہیں اور آدھا حکم پیش کرتے ہیں۔

یوں ایک ایسے معاشرے میں جہاں جہالت، جہالت کی لکیر سے بھی نیچے ہو، لیکن اس معاشرے کی بنیاد مذہب ہو، اور وہ بھی اس حد تک کہ کاروبار بن چکا ہو، وہاں اس طرح کے رویّے غیرت کو بھی مذہب کا سرٹیفکیٹ دے دیتے ہیں اور غیرت کے نام پر قتل کو بھی ورثاء کا حق قرار دے دیتے ہیں اور اس غیر انسانی فعل کو ہوا دینے کے ساتھ ساتھ مرد کے اندر کی جنسی گندگی کو بھی تھپکی دیتے ہیں کہ بُری تیری نگاہ نہیں ہے۔ بُری دراصل عورت ہے۔

 اس مذہبی اور معاشرتی ٹھیکیدار مرد کو یہ بتانے والا کوئی نہیں اس معاشرے میں کہ بھائی جان۔۔ تیری ماں بھی ایک عورت تھی۔ ایک مرد کے ساتھ سوئی تھی اور اس کی تسکینِ شہوت کے لیے استعمال ہوئی تھی۔ پھر اس کے پیٹ میں جو نطفہ ٹھہرا وہ نو مہینے اس کے خون کی آبیاری اور بڑے کٹھن دردِ زہ کے بعد تیری صورت میں پیدا ہوا۔ تیری خون نچوڑنے والی برسوں کی پرورش کے بعد اس کے پیروں تلے وہ بہشت آتی ہے جو دراصل تجھے کمانا ہے، اسے نہیں۔ اور وہ کمائی کیا ہے؟ تیرے باپ کی جنسی خواہشات اور تیری پرورش کی چکی کے دو پاٹ کے بیچ پِس پِس کر نڈھال ہو چکی عورت کی عبادت کی حد تک خدمت اور رضا حاصل کرنا۔ یہاں اللہ بھی اس کا طرف دار ہو کر کھڑا ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ موسیٰ علیہ السلام تک کو براہِ راست خبردار کرتا ہے کہ سنبھل کر کوہِ طور پر آنا موسیٰ، تیری ماں نہیں رہی۔ سو حورانِ بہشت تو بہت آگے کی بات ہے، اس عورت کا حق ادا نہ کرنے کی صورت میں تو وہ اِک نگاہ ِ کرم بھی نہیں اُٹھے گی تیری طرف، جو گر اُٹھ جائے تو جھولی کے ساتھ ساتھ جتنے بھی خالی ہیں جام سب بھر جائیں گے۔ اس کا حق ادا کیے بنا چاہے توُ جہاد ہی کر لے مگر نتیجہ صفر! ابھی آگے یہ بھی سُن۔۔۔ کہیں بھی یہ نہیں فرمایا گیا کہ تیری ماں کا مسلمان ہونا ضروری ہے۔ اس کا باکردار اور پارسا ہونا مشروط ہے۔ اگر وہ سینہ ڈھانپتی ہو! اگر حجاب لیتی ہو! نہیں ۔۔۔۔ بلکہ اگر وہ زندہ نہ ہو تو اس کی بہن کی خدمت کر۔ اور اس کی بہن کے لیے بھی کوئی شرط نہیں رکھی گئی۔ اور یہی عورت اس مقام تک پہنچنے کے سفر کے دوران بہن بھی ہے اور بیٹی بھی ہے۔

إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ


Comments

FB Login Required - comments

نورالہدیٰ شاہ

نور الہدی شاہ سندھی اور اردو زبان کی ایک مقبول مصنفہ اور ڈرامہ نگار ہیں۔ انسانی جذبوں کو زبان دیتی ان کی تحریریں معاشرے کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔

noor-ul-huda-shah has 25 posts and counting.See all posts by noor-ul-huda-shah

7 thoughts on “عورت ۔۔غیرت کا سرکس اور نفس کا کنواں

  • 01-07-2016 at 10:14 pm
    Permalink

    کمال کا مضمون ہے۔ آپ کا یہ جملہ بہت گہرا ہے ۔
    ’’ شیطان ہماری ہی ذات کی معکوس نقل ہے۔‘‘

    Reply
  • 02-07-2016 at 12:45 am
    Permalink

    کمال کا مضمون ہے۔ آپ کا یہ جملہ بہت گہرا ہے ۔
    ’’ شیطان ہماری ہی ذات کی معکوس نقل ہے۔‘‘

    Reply
  • 02-07-2016 at 11:36 am
    Permalink

    بہت شاندار۔
    مرد اور عورت کی فطری جبلّت اور فطری کشش کا بہت عمدہ اور حقیقی تجزیہ کیا ہے۔ اس سے کم از کم ان لوگوں کے نظریات کی نفی بھی ہوگئی جو کہتے نہیں تھکتے کہ پاکیزگی نگاہوں اور دل میں ہوتی ہے۔
    اوریا مقبول پر تیر اندازاور سوشل میڈیا پر غیر اخلاقی زبان استعمال کرنے والے ذرا غور سے پڑھیں۔

    Reply
  • 02-07-2016 at 3:19 pm
    Permalink

    اس تحریر کو پڑھ کر لگتا ہے کہ غیرت ایک نفسیاتی بیماری ہے۔ محترمہ نورالہدیٰ شاہ صاحبہ اگر ان لوگوں کی نفسیات پر بھی روشنی ڈالیں جن کی روزی روٹی ان کے گھر کی خواتین کی جسم فروشی کے کاروبار سے چلتی ہے۔

    Reply
  • 10-07-2016 at 9:32 am
    Permalink

    Impresive and worth reading article, adi Noor salute

    Reply
  • 11-07-2016 at 7:15 am
    Permalink

    I’ve been surfing on-line greater than 3 hours nowadays, yet I never discovered any interesting article like
    yours. It’s beautiful value enough for me. In my view, if all web
    owners and bloggers made excellent content as you probably did, the internet might be a lot more useful than ever before. http://www.yahoo.net

    Reply
  • 12-02-2017 at 11:08 pm
    Permalink

    هيءُ ڪنهن هڪ فرد جي انانيت جو مسئلو نه آهي، هن ڪن جي ور مرد ڪيئن چڙهيو ۽ ڪهڙا ڪهڙا عذاب ڀوڳي ٿو؟ ان سڀ جي به ڇنڊ ڇانڊ ٿيڻ گھرجي. ڇا ڪنهن عورت جو خون ڪري، مرد ڪنهن مردانگي جو معراج ماڻي ٿو؟ نه ائين ته بلڪل نه آهي، ماڻهو فطري عذاب ور چڙهيل آهي. هيءُ قاتل سماج جو ڏنڀ ڏنل آهي، جو چيڙهائي پيو. اسان وٽ سونهن ۽ سرت جو بنياد ئي نه آهي، جنهن منبر جوڙي، ماڻهو پنهنجا پير کوڙي وڏي واڪ ڪجھ چئي سگهي. ڇا اسان جي سماج ۾ جنسي استحسال نه آهي؟ ڇا عورت چڙو وفا جو پتلو آهي.

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *