وزیر قنون سے ایک انٹرویو


\"Haroonاینکر:      جی رانا ثناءاللہ صاحب! یہ فرمائیے ،آپ نے تعلیم کہاں سے اور کتنی حاصل کی؟

رانا صاحب:            وہ جی ایسے ہے جی کہ یوں سمجھیں کہ صورتے حال (صورت حال) کچھ یوں کہ وہ جی ہم جی لائل پور یعنی فیصل آباد میں جی دھوبی گھاٹ کے جی پرائمری سکول میں پڑھتے تھے۔ تو جب ہم نے سکول جانا جی تو بے جی (والدہ) نے ہمیں جی چوانی (چونی) جسے ہم پنجابی میں پولی کہتے ہیں جی ، وہ ہمیں دیتی تھیں۔ آدھی چھٹی میں ہم جی وہ مکھانے، سنگھاڑے، املوک، پھلیاں، مرونڈے، اور وہ جی گنڈیریاں وغیرہ چوبا (چوسا ) کرتے تھے۔ چنگے زمانے تھے جی، اب تو جی صورتے حال (صورت حال) یوں ہے کہ بچے برگر شرگر ، چپس چپس اور شوارمے وغیرہ کھاتے کھوتے ہیں۔

اینکر:      آپ نے سیاست میں کب قدم رکھا؟

راناصاحب:             وہ جی سیاست میں قدم شدم کیا رکھنا جی۔ وہ مجھے اصل میں بچپن سے کبوتر پالنے کا بڑا شوق تھا۔ کبوتر جب اونچی اونچی اڈاریاں (اڑان) مارتے مورتے تھے، تو جی بڑا سوادی لگتا تھا۔ ایک دن میں کوٹھے پر کبوتر اڑ شر رہا تھا کہ ایک جلوس شلوس گزرا۔ ذولف کار علی پٹو (ذوالفقار علی بھٹو) صاحب کا جلوس تھا۔ مجھے بیٹھو صاحب بہت اچھے لگے۔ کبوتر شبوتر چھوڑ کر میں بھی جلوس میں چل پڑا اور جیوے جیوے کے نعرے لگانے لگا۔ بس اسی دن سے سیاست شیاشت شروع کردی اور اللہ کے فضل وکرم سے صوبائی اسمبلی کا ممبر بنا۔

اینکر:      آپ ماشاءاللہ وزیر قانون ہیں ۔ یہ فرمائیے کہ آپ کے دور اقتدار میں منہاج القرآن کے باہر قتل و غارت کا بازار گرم ہوا۔ دس بارہ مرد و زن ہلاک ہوئے۔ اور سو کے قریب لوگوں کو گولیاں لگیں۔ کیا امن و امان کی بحالی ایسے کی جاتی ہے؟

\"Ranaرانا صاحب:            جب میں گھر سے چلا تھا، تو مجھے معلو م تھا کہ آپ نے ایسا سوال ضرور پوچھنا ہے۔ وہ جی یوں ہے جی علامہ ڈاکٹر طاہر القادری بڑے مخولئیے آدمی ہیں ۔ جب وہ کرسی پر اچھل اچھل کر تقر یر شقریر کرتے ہیں تو بڑا ہانسا (ہنسی) آتا ہے۔ میری ویف (وائف) کہتی ہے جی کہ ٹی وی کے آگے جنگلہ شنگلہ لگوانا پڑے گا۔ کہیں ڈاکٹر صاحب باہر ہی نہ نکل آئیں۔

اینکر:      جناب سوال کا جواب دیں!

ٍٍ          رانا صاحب:            میں ادھر ہی آ رہا ہوں۔ وہ بندے بندے مرے تھے، وہ ڈاکٹر صاحب نے اپنے بندوں سے مروائے تھے۔ پلس (پولیس) شلس کے نشانے اتنے پکے کہاں ہوتے ہیں۔ ویسے بھی چوہدری پرویز الہیٰ کے صاحبزادے مونس الہٰی نے جو اپنے زمانے میں رشوتیں لے کر پولیس میں بھرتی کی تھی تو جی اس میں سے آدھے تو ویسے ہی ٹیرے شیر ے (بھینگے) تھے۔ اور پھر ہماری پلس کے پاس جو بندوقیں شندوقیں ہیں، اس میں زنگال شنگال (رنگ آلودہ) لگا ہوا ہے۔ گولی باہر نکلے شکلے گی تو کسی کو لگے لگو گی۔

اینکر:      جناب آپ کے خلاف پرچہ درج ہوا ۔ نہ صرف آپ کے بلکہ وزیر اعلیٰ اور وزیر اعظم کے خلاف بھی۔

\"Ranaرانا صاحب:            (قہقہہ لگاتے ہوئے) پرچے شرقے کو چھوڑیں۔ اگلے دن میرا نیانا (بچہ) بتا رہا تھا کہ اس سال میٹر ک شیٹرک کے پرچے بھی آﺅٹ شاﺅ ٹ ہو گئے تھے، بڑا رپھڑ پڑا جی۔

اینکر:      رانا صاحب یہ فرمائیے کہ چھوٹو گینگ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے اپنے علاقے میں دندناتا پھر رہا تھا۔ اور اس نے قانون کی دھجیاں بکھیر دی تھیں ۔ آپ کی پولیس نے کیسا آپریشن کیا کہ پولیس والے مارے بھی گئے اور اغواءبھی ہوئے؟

راناصاحب:             بہت اچھا سوال ہے۔ دراصل یوں ہے کہ وہ جی ہمارے جی ، آئی جی صاحب کو مغالطہ شغالطہ ہو گیا تھا۔ چھوٹو گینگ والے اچھی خاصی رقم دے رہے تھے، لیکن آئی جی صاحب نے کہا کہ ہم چھوٹو کو گرفتار شرفتار کریں گے۔ پلس والوں کو دلدل شلدل کاپتہ نہیں تھا۔ وہ آگے بڑھتے گئے اور دس بارہ ہمارے قیں ہو گئے۔ بڑا دکھ ہو ا جی شباش شریف صاحب نے ان کی فیملیوں شیملیوں کے لیئے پیسوں شیسوں کا اعلان شیلان کیا ہے۔ ویسے آئی جی صاحب بندے اچھے ہیں۔ پولیس کے کام ذرا ڈھیلے شیلے ہیں، لیکن اخلاق کے اچھے ہیں۔

\"ranaاینکر:      جناب، اگر رینجرز والے آپریشن نہ کرتے تو چھوٹو گینگ کبھی ختم نہ ہوتا!

رانا صاحب:            یہ ٹھیک ہے جی۔ رینجرز والے ویسے ویلیاں کھاتے ہیں۔ چلو کسی کام شام سے تو لگے۔ پولیس والے تو بہت محنت کرتے ہیں۔(قہقہہ لگاتے ہوئے)۔ تھانوں میں چھترول چارپائی پر باندھنا چیرا شیرہ لگانا مرچوں شرچوں ، مولیوں شولیوں کا استعمال بڑا مشکل کام ہے۔ پھر شباش شریف صاحب کے پروٹوکال کی ڈیوٹی ماڈل ٹاﺅن کی سڑکوں کی ناکہ بندی ، وزیروں شزیروں کی وگاریں بھگتانا بڑے کام ہیں جی۔ اب پلس چھوٹو موٹو کو بھی پکڑے اتنا ٹیم نہیں ہے جی۔

اینکر:      آپ وزیر قانون ہیں۔ آپ کو معلوم ہونا چاہیئے کہ صوبے میں لا ءاینڈ آرڈر کی صورت حال بد سے بدتر ہوتی جار ہی ہے۔ قتل و غارت، چوری ڈاکے، راہزنی، اغواءبرائے تاوان اور دوسرے جرائم میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ کیا حکومت ان جرائم کے تدارک کے لئے کوئی اقدامات کر رہی ہے؟

رانا صاحب:            لو کر لوگل۔ میں اللہ کے فضل وکرم سے جب سے وزیر قنون بنا ہوں، صوبے میں جرائم کا نام ونشان ختم ہو گیا ہے۔ اب تو زنانیاں جنگل میں سونا اچھالتی پھرتی ہیں، کوئی ڈر خوف ہی نہیں۔ یہ جو قتل شتل ہوتے ہیں تو وزیر قنون تو نہیں کراتا۔ مامے چاچے پھپھے تائے سالے سانڈو اگر لڑ شڑ پڑتے ہیں تو وزیر قنون ہر جگہ تو نہیں پہنچ سکتا۔ جہاں تک ڈاکوں شاکوں کا تعلق ہے، تو عوام شوام اپنے گھروں میں تالے شالے لگا کر رکھیں۔آپ نے سنا نہیں، شباش شریف صاحب نے تھانہ کلچر تبدیل کر دیا ہے۔ ڈاکہ پڑے ، قتل ہو، اغواءہو، فوراً ایف آئی آر درج ہوتی ہے۔ تفتیش شروع ہوتی ہے۔ مینار پاکستان اور قلعے کے اردگرد سے مشکوک لوگ گرفتار ہوتے ہیں۔ پولیس پارٹیاں دوسرے شہروں کو مجرموں کو پکڑنے کو روانہ کر دی جاتی ہیں۔ باقی نصیب اپنا اپنا۔ تھانے جا کر دیکھیں، بوتل شوتل بھی پلاتے ہیں۔

\"ranaاینکر:        رانا صاحب یہ فرمائیے پانامہ لیکس کے بارے میں کیا خیال ہے۔ وزیر اعظم کے اہل خانہ کے نام اس میں آئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ پیسہ کہاں سے آیا ۔ باہر کیسے گیا۔ کتنا ٹیکس ادا کیا؟

رانا صاحب:            بس بس آپ سوال بہت لمبا کرتے ہیں۔ میں تو پہلے ہی اسے پاجامہ لیکس کہہ چکا ہوں۔ گٹر میں رنبہ مارنے والی بات ہے۔اسے ہم موتر میں سے چھلیاں تلاش کرنا بھی کہتے ہیں۔ دیکھیں میاں صاحبان نے پاکستان بنتے ہی سونا بنانے کی کوشش کی ۔ ایک ہانڈی میں تیزاب ، نوشادر، چار مغز، سائیکل کے کتے، اور ستو وغیرہ ملا کر پانی میں جوش دیتے تھے، پھر اسے چوہے کی کھال میں بند کر کے ہانڈی زمین میں دبا دیتے تھے۔ (قہقہہ لگاتے ہوئے)۔لیکن پھر یہ تجربہ کامیاب نہیں ہوا تویہ خاندان لوہے کے کام میں آیا۔ نیا نیا پاکستان بنا تھا۔ برانچ لائنوں پر ٹیشن وغیرہ تھے، لیکن گڈیاں شڈیاں نہیں چلتی تھیں۔ چنانچہ لوہے کی فالتو پٹریوں کو چھان بورے والے اکھاڑ شکھاڑ کے بیچتے تھے۔ اسے خرید کر میاں صاحبان بھٹی میں گلا کر توے شوے ، سریے شریے بناتے تھے۔ اللہ نے برکت دی اور یہ خاندان لوہے کی طرح مضبوط ہوتا گیا۔ اسی وجہ سے ہم وزیر اعظم صاحب کو آئرن مین کہتے ہیں۔ ویسے گھبرانے کی بات نہیں۔ میاں صاحب کو پلاس سے پکڑنے کی ضرورت نہیں۔ (قہقہہ لگاتے ہوئے)۔وہ کرنٹ شرنٹ نہیں مارتے۔

اینکر:      رانا صاحب، ذرا سیاست سے ہٹ کر بات کرتے ہیں۔ آپ کو شعر و شاعری سے بھی کوئی دلچسپی ہے؟

رانا صاحب:            اصل میں جی، یہ شعر شور کہنے والے تھوڑے تھوڑے بے غیرت ہوتے ہیں۔ بڑی بے فضول باتوں پر شاعری کرتے ہیں۔ ویسے مجھے امام دین گجراتی شہید بہت پسند ہیں۔

\"rana-600\"اینکر:      جی وہ شہید تو نہیں ہوئے تھے۔

رانا صاحب:            فیر کیا ہوا۔ جیسی انہوں نے شاعری شوئری کی ہے، میرے حساب سے وہ شہادت کے مرتبے پر پہنچے ہیں۔

اینکر:                      کوئی شعر سنائیں۔

رانا صاحب:            وہ جی ایسا ہی جی کہ مجھے جی یہ شعر بہت پسند ہے۔

تیری ماں نے پکائے مٹر مام دینا

                        تو کوٹھے تے چڑھ کے اکڑ ما م دینا

\"RANA-S\"                اب دیکھیں ناں جی، کسی او ر شاعر نے کبھی مٹر پر شاعری کی ہے۔ ویسے مجھے مٹر قیمہ بہت پسند ہے۔

اینکر:      کوئی اور شعر؟

                رانا صاحب:            ہاں جی یاد آیا جی (کان کھجلاتے ہوئے)

                                                                جنت کی سیٹیں تو پر ہو گئی ہیں

                                                                تو چھیتی سے دوزخ میں وڑ مام دینا

اینکر:      فیض احمد فیض کا تعلق بھی تو آپ کے علاقے سے تھا؟

رانا صاحب:            جی تھا، سیالکوٹ میں میرے نانکے تھے جی۔ لیکن یہ جو انہوں نے بے چاری گلشن کے کاروبار کے بار ے میں جو شعر کہا ہے، وہ ٹھیک نہیں۔ ہر آدم کو روزی روٹی کمانے کا حق ہے۔ اب کسی کے کاروبار کے بارے میں لوگوںسے کہنا کہ چلے بھی آﺅ۔ یہ میں سمجھتا ہوں غیر مناسب بات ہے۔ جو کسی کے نصیب میں ہوگا، مل جائیگا ۔ ویسے میں نے فیض صاحب کو ایک دفعہ دیکھا تھا۔ سوٹے شوٹے بہت لگاتے لگوتے تھے۔ اگلے دن ایک ووٹر نے بتایا کہ فیض صاحب شریف آدمی تھے۔ اب دیکھیں نہ جی، ووٹر شوٹر کی باتیں ماننا پڑتی ہیں۔ آخر ووٹ بھی تو لینا ہوتا ہے۔

اینکر :    علامہ اقبال کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟

\"Rana-Sanaullah\"رانا صاحب: او جی، کیا یاد دلا دیا۔ میرے ابا جی اور علامہ صاحب کی عادتیں بہت ملتی تھیں۔ ابا جی نے بھی گرمیوں میں دھوتی اور بنیان پہننا اور چارپائی پر درخت کے نیچے موہدے ہو کر پڑے رہتے تھے۔ وہ جو علامہ صاحب کی تصویر ہے، بکل مار کے بیٹھے ہیں، جب میں دیکھتا ہوں تو ابا جی بہت یاد آتے ہیں۔ وہ بھی سردیوں میں کمبل کو بکل مار کر بیٹھتے تھے۔ اباجی کو بھی پتنگ بازی اور کبوتر بازی کا بڑا شوق تھا۔ اللہ کا شکر ہے، انہیں شاعری سے دلچسپی نہیں تھی۔ ویسے بھی دودھ دہی کے کام میں شعر و شاعری کی فرصت کہاں ملتی ہے۔

اینکر:      رانا صاحب عوام کو کوئی پیغام دینا چاہیں گے؟

رانا صاحب: او جی پیغام پیغوم کیا دینادونا۔ سیدھی سی بات ہے۔گرمیوں میں سردائی پیا کریں۔ ہدوانے کو ٹھنڈا کرکے ڈیگر ویلے کھایا کریں اور عمران خان کے جلسے میں بے شک ڈانس وونس کریں لیکن ووٹ میاں نواز شریف اور شباش شریف کو دیں۔ اور ہاں، شاعری شوعری سے ذرا پرہیز کریں۔ویسے بھی فیصل آباد آنا ہو، تو جنگیر کا پلاﺅ ضرور کھائیں۔ ویسے فیصل آباد کے گردے کپورے اور اوجھڑی سارے پاکستان میں مشہور ہے۔

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ہارون الرشید عباسی کی دیگر تحریریں
ہارون الرشید عباسی کی دیگر تحریریں