دہشت گردی کے خلاف پاکستان کا اصل موقف؟


\"edit\"وزیراعظم کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز نے رائٹرز نیوز ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے ملک کی دفاعی اور خارجہ حکمت عملی پر روشنی ڈالی ہے لیکن ان کی باتوں میں تضاد اور بے یقینی دکھائی دیتی ہے۔ اس رویہ کی اصل وجہ یہی ہے کہ حکومت کے مختلف اداروں میں دفاعی اور خارجہ امور کے بارے میں رابطہ کی کمی ہے۔ حکومت کوئی ٹھوس لائحہ عمل بنا کر فوج اور پارلیمنٹ کو اس پر اعتماد میں لینے میں کامیاب نہیں ہوئی ہے۔ وزیراعظم ایک ماہ سے زائد مدت سے ملک سے باہر ہیں اور حکومت کے معاملات ہر وزیر و مشیر اپنی صوابدید کے مطابق چلا رہا ہے۔ سرتاج عزیز کا یہ بیان ایک اعلیٰ سطحی امریکی وفد کے پاکستان آنے سے پہلے دیا گیا ہے۔ امریکی کانگریس کے اس وفد کی قیادت سینیٹر جان مکین کریں گے۔ وہ سینیٹ کی طاقتور دفاعی کمیٹی کے چیئرمین ہیں۔ پاکستانی وزارت خارجہ کے نگران کا کہنا ہے کہ وہ امریکی وفد کو بتائیں گے کہ اگر دہشت گردوں کو بہت زیادہ دبایا گیا تو وہ اپنی کارروائیوں میں اضافہ کر دیں گے۔ اس لئے ان عناصر کے خلاف احتیاط سے سوچ سمجھ کر کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔

مشیر خارجہ کا یہ موقف فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کے ان اعلانات اور دعوؤں کے برعکس ہے، جن میں وہ یہ بتاتے رہے ہیں کہ اس سال کے آخر تک ملک سے دہشت گردوں کا خاتمہ کر دیا جائے گا۔ جنرل راحیل شریف اور آئی ایس پی آر نے گزشتہ دنوں بتایا ہے کہ آپریشن ضرب عضب اپنے آخری مراحل میں ہے۔ قبائلی علاقوں پر حکومت کی رٹ بحال کر دی گئی ہے۔ اب فوج انٹیلی جنس کی بنیاد پر دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائی کر رہی ہے تاکہ ان کی مکمل طور سے بیخ کنی ہو سکے۔ اس کے برعکس سرتاج عزیز اب یہ موقف لے کر سامنے آئے ہیں کہ امریکہ کا یہ مطالبہ درست نہیں ہے کہ پاکستان حقانی نیٹ ورک یا افغانستان میں سرگرم دیگر گروہوں کے خلاف کارروائی کرنے ناکام رہا ہے۔ دراصل پاکستان ان عناصر کے خلاف پوری قوت استعمال کرنے سے گریز کررہا ہے۔

امریکہ نے پاکستان کو دی جانے والی فوجی امداد کا ایک حصہ اس بات سے مشروط کیا ہے کہ پاکستان حقانی نیٹ ورک کے خلاف واضح نتائج دکھائے۔ پاکستان کے عسکری ذرائع اور سیاستدان اب تک یہ بتاتے رہے ہیں کہ آپریشن ضرب عضب کے ذریعے اچھے اور برے طالبان کی تخصیص ختم کر دی گئی ہے۔ اب ہر قسم کے جنگجو عناصر کے خلاف یکساں قوت سے کارروائی کی جا رہی ہے۔ اس پالیسی بیان کو بدلتے ہوئے اب سرتاج عزیز اس بات کی گنجائش پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے مناسب حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ان کے خلاف زیادہ قوت استعمال کرنے کی صورت میں یہ عناصر بھی اپنی سرگرمیاں تیز نہ کر دیں۔ یہ موقف نہ صرف فوج اور حکومت کے بیان کردہ پالیسی اصول سے متصادم ہے بلکہ قابل فہم بھی نہیں ہے۔ یہ بات تو تسلیم کی جا سکتی ہے کہ پاک فوج اپنی صلاحیت اور گنجائش کے مطابق دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے۔ بھارت جیسے بڑے اور بری نیت رکھنے والے ہمسایہ ملک کے مدمقابل ہوتے ہوئے بھی پاکستانی افواج دہشت گردی کے مقابلے میں بہترین نتائج حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ لیکن مشیر خارجہ کا یہ موقف کہ حقانی نیٹ ورک اور افغانستان میں متحرک دوسرے مسلح گروہوں کے خلاف ایک خاص حکمت عملی کی وجہ سے پوری قوت سے کارروائی نہیں کی جا سکتی ۔۔۔۔۔ حکومت پاکستان کی دلیل کو زمین بوس کر دے گا۔

یوں بھی سرتاج عزیز کو فوجی معاملات ، حکمت عملی اور زمین پر فوج کی کارروائیوں اور طریقہ کار کے بارے میں رائے دینے سے گریز کرنا چاہئے تھا۔ پاکستانی افواج کا شعبہ تعلقات عامہ اپنے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ کی نگرانی میں خاصا متحرک ہے۔ وہ مختلف امور پر ٹوئٹر اور دیگر ذرائع سے سیرحاصل معلومات اور تبصرے فراہم کرتے رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ جنرل راحیل شریف بھی خاموش طبع نہیں ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں انہوں نے ہمیشہ واضح اور دوٹوک انداز میں بات کی ہے۔ اس صورتحال میں مشیر امور خارجہ کو صرف اپنی وزارت کے معاملات دیکھنے اور سفارتی سطح پر پاکستان کے مفادات کا تحفظ کرنے کے بارے میں فکر مند ہونا چاہئے۔ دہشت گردوں کے خلاف جنگی حکمت عملی کے بارے میں فوج کے کمانڈر ہی بہتر روشنی ڈال سکتے ہیں۔ کوئی غیر متعلقہ آدمی ان امور پر بات کرتے ہوئے کبھی بھی درست تصویر نہیں دکھا سکتا۔ اس کے باوجود سرتاج عزیز نے افغان طالبان کےلئے پاکستان کی نرمی کی پالیسی کی وضاحت کرتے ہوئے عجیب و غریب منطق کے ساتھ اپنا موقف پیش کرنا ضروری سمجھا ہے۔ ماضی کے برعکس اب وہ یہ کہتے ہیں کہ “اس بات میں بہت خطرات ہیں کہ ہم ان عناصر کے خلاف کس حد تک جا سکتے ہیں اور ان پر کس طریقے سے کتنا دباؤ ڈالنا مناسب ہو گا“۔ دہشت گردی کے خلاف لڑنے والے ملک کے لیڈر اگر اس قسم کی غیر یقینی اور کمزور دلیل کے ساتھ بات کریں گے تو شبہات پیدا ہونا لازم ہے۔

اسی بارے میں: ۔  ماحولیات کے تحفظ کے لئے اہم معاہدہ

امریکہ سمیت دنیا کے سب ملک اس بات سے آگاہ ہیں کہ صرف فوجی قوت کی بنیاد پر دہشت گردی کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔ امریکہ خود افغانستان اور عراق میں دہشت گردی کو ختم کرنے کی جنگ لڑ کر دیکھ چکا ہے کہ برس ہا برس کی جنگ جوئی ، ہلاکت خیزی اور کثیر سرمایہ صرف کرنے کے باوجود جنگجو گروہوں کی قوت اور استعداد میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ لیکن اس کی وجہ عسکری کمزوری یا نااہلی نہیں ہے بلکہ ان خطوں کے سماجی ، معاشرتی ، معاشی اور سیاسی حالات و عوامل ہیں۔ امریکہ، افغانستان اور عراق میں فوجی کارروائی کرتے ہوئے ان پہلوؤں کو پیش نظر رکھتے ہوئے حکمت عملی بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ اس لئے صرف مقامی سطح پر حقوق اور قبائل کی جنگ لڑنے والے گروہ بھی اب عالمی سطح پر دہشت گردی کرنے پر اتر آئے ہیں۔ پاکستان کےلئے یہ بات درست کہی جائے گی کہ صرف فوجی اقدام کرنے اور لوگوں کو مارنے یا ان کے ٹھکانے تباہ کرنے سے دہشت گردی کو ختم کرنا ممکن نہیں ہے۔ دہشت گرد ایک خاص تصور اور نعرے کی بنیاد پر خود کو منظم کرتے ہیں۔ اس لئے وہ معاشرے کے بعض طبقوں میں ہمدرد پیدا کرنے اور ضرورت پڑنے پر ان کی مدد لینے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ ضرب عضب کے ذریعے اگر صرف قبائلی علاقوں پر حکومت کی قوت کو بحال کرنا ہی مقصود ہوتا تو یہ کام آسانی سے کیا جا سکتا تھا۔ لیکن اصل چیلنج تو یہ ہے کہ یہ لوگ فوجی ایکشن کی صورت میں خاموشی سے دوسرے علاقوں میں منتقل ہو جاتے ہیں اور اپنے ہمدردوں کے ذریعے اپنا حلقہ اثر وسیع کرنے لگتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپریشن ضرب عضب شروع کرنے کے ساتھ ہی فوج نے قومی ایکشن پلان بنانے اور اس پر عملدرآمد کرنے پر زور دیا تھا۔

فوج یا اس کی طرف سے بات کرنے والے سیاسی حکومت کے نمائندے یہ دعویٰ تو کر سکتے ہیں کہ فوجی کارروائیوں میں کتنی کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں لیکن یہ لوگ یہ وضاحت کرنے میں ناکام رہتے ہیں کہ ملک میں انتہا پسندی کا مزاج ختم کرنے کےلئے کس قدر کامیابی حاصل کی گئی ہے۔ سال بھر پہلے فوج کی طرف سے بھی قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کے حوالے سے مایوسی کا مظاہرہ کیا گیا تھا۔ اس وقت سول حقوق کے ترجمان حلقوں کی جانب سے بجا طور پر یہ سوال اٹھایا گیا تھا کہ فوج کیوں کر سیاسی حکومت کے معاملات میں مداخلت کر سکتی ہے یا اس سے باز پرس کر سکتی ہے۔ اس بحث سے قطع نظر یہ بات طے ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ نہ تو فوج تن تنہا جیت سکتی ہے اور نہ ہی معاشرے میں شدت پسندی اور مذہب کے نام پر گمراہی کا چلن ختم کئے بغیر ریاست اور عوام کے خلاف برسر پیکار عناصر سے مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں: ۔  ایک سلیوٹ پر اٹکی ہوئی قوم

قومی ایکشن پلان کے ذریعے یہ مقاصد حاصل کرنا ضروری تھا۔ لیکن ملک کی وزارت داخلہ نہ تو انٹیلی جنس معلومات کو مربوط کرنے کا کوئی نظام استوار کر سکی ہے، نہ ملک میں کالے دھن کے خلاف کوئی پالیسی بنائی جا سکی ہے تاکہ یہ ناجائز دولت کسی نہ کسی ذریعے سے دہشت گردوں تک نہ پہنچ پائے اور نہ اسکولوں و مدرسوں کی اصلاح ، سلیبس کی بہتری ، رائے عامہ کی تربیت اور دہشت گردوں کو حق پرست قرار دینے والوں کے خلاف مدلل بات کرنے کےلئے قومی سطح پر کوئی ٹھوس موقف سامنے آیا ہے۔ اس کے برعکس اب مشیر خارجہ سرتاج عزیز بتا رہے ہیں کہ اگر دہشت گردوں کے خلاف طاقت کا بے پناہ استعمال کیا گیا تو وہ بھی زیادہ شدت سے کارروائی کر سکتے ہیں۔ یہ سمجھنا مشکل ہے کہ سرتاج عزیز اس بیان کے ذریعے امریکہ کے سامنے پاکستان کا مقدمہ لڑنا چاہتے ہیں یا یہ تسلیم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ پاکستان دہشت گردوں کے خلاف اپنی دوغلی حکمت عملی ختم کرنے کےلئے تیار نہیں ہے۔

نوشکی میں طالبان لیڈر ملا اختر منصور کی امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد سے پاکستان کی طرف سے ردعمل غیر واضح اور ناقابل فہم ہے۔ اگر پاکستان دہشت گردوں کے خلاف سرگرم عمل ہے تو طالبان لیڈر کے مرنے پر اسے خوش ہونا چاہئے تھا۔ کیونکہ امریکہ نے ایک مشترکہ دشمن قوت کے لیڈر کو مار کر ایک لحاظ سے پاکستان کی مدد کی تھی۔ پاکستانی حدود کی خلاف ورزی ضرور مسئلہ ہے لیکن پندرہ برس تک طالبان کے خلاف جنگ میں امریکہ کا حلیف رہنے کے باوجود دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کی وہ فضا کیوں موجود نہیں ہے کہ امریکہ کو اسامہ بن لادن یا ملا اختر منصور کو مارنے کیلئے ’’خفیہ’’ طور سے کارروائی کرنا پڑتی ہے۔ پاکستان ان کارروائیوں پر بظاہر شور مچاتا ہے لیکن وہ حقیقی معنوں میں نہ امریکہ سے فاصلہ اختیار کرتا ہے اور نہ اپنی پالیسی تبدیل کرتا ہے۔ کیا پاکستان مستقل بنیادوں پر اس قسم کی پالیسی پر عمل کرتا رہے گا جس کے تحت نہ دوست راضی ہوں گے، نہ عوام محفوظ ہوں گے اور نہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو کسی انجام تک پہنچانا ممکن ہو گا۔ سرتاج عزیز کا بیان اس ملی جلی ، غیر واضح اور نامناسب پالیسی کے تسلسل کا اشارہ دے رہا ہے۔ اگر حکومت واقعی مستقل بنیاد پر یہ حکمت عملی اختیار کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تو اس سے مملکت کے خلاف لڑنے والی قوتوں کی حوصلہ افزائی ہو گی۔

امریکی وفد کے سامنے کمزور موقف کےلئے دلائل کا انبار لگانے کی بجائے مشیر خارجہ اور حکومت پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنا موقف واضح کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی صورت میں قومی ایکشن پلان پر موثر طریقے سے عمل ہو سکے گا اور تب ہی ہر قسم کے جنگجو گروہ پاک سرزمین کو اپنے لئے غیر محفوظ سمجھنے لگیں گے۔ حقانی نیٹ ورک کو اگر یہ اندازہ ہو جائے کہ افواج پاکستان اب پاکستانی علاقوں میں ان کی پناہ گاہوں کو برداشت کرنے کےلئے تیار نہیں ہیں تو وہ خود ہی افغانستان میں منتقل ہونے پر مجبور ہو جائیں گے۔ اسی صورت میں پاکستان ، امریکہ اور افغانستان سے ایسے عناصر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرنے کا حق حاصل کر پائے گا جو افغان سرزمین سے مملکت پاکستان کے خلاف برسر جنگ ہیں۔ اگر ہم افغانستان کے دشمنوں کو اپنے ہاں پناہ دیں گے تو افغانستان بھی ایسا ہی کرتا رہے گا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 683 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali