دہشت گرد اورعقبی دیوار


حماد چیمہ

\"hammad\"ٹی وی پر جب بھی خبرنامہ دیکھا جائے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ ملک بہت ہی نازک صورت حال سے گزر رہا ہے۔ بچپن سے لے کر اب تک ہم یہی سنتے آئے ہیں اور آج تک اس بات کی سمجھ نہیں آئی کے آخر یہ کیسے حالات ہیں جو بدلنے کا نام ہی نہیں لیتے۔ کبھی ہمیں امریکن سنڈی کا خوف ہوتا ہے تو کبھی سیلاب کا، کبھی لوڈشیڈنگ کا تو کبھی بڑھتی ہوئی مہنگائی کا۔ اور دہشتگردی کا تو ہمیں اسی کی دہائی کے بعد سے ہی خطرہ لاحق ہے۔ مگر کل دوپہر کو جب ٹی وی پر جنرل صاحب کی تقریر دیکھی تو اندازہ ہوا کہ ان کے بقول ملک اتنے بھی نازک حالات سے نہیں گزر رہا، بلکہ زیادہ تر دہشتگردوں کا خاتمہ کیا جا چکا ہے اور جو گنے چنے بچ رہے ہیں وہ بھی اب مارے جائیں گے۔ جیسا کہ انہوں نے فرمایا کہ آپریشن ضرب عضب کو ماشاءاللہ سے دو برس بیت چکے ہیں اور اب خطرات میں کمی واقع ہوئی ہے، اس بات سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ملک کو جو ناسور لاحق تھا اب اس میں واضح حد تک کمی ہوئی ہے۔

جنرل صاحب کی تقریر سن کر تھوڑا حوصلہ ملا کہ اب ہماری اور ہمارے بچوں کی زندگی کو لاحق خطرات ٹل رہے ہیں اور اب نہ تو ہمارے تعلیمی اداروں پر حملہ ہوگا اور نہ ہمیں اب اپنے ننھے معماروں کی جان کی فکر کرنا ہوگی۔ بات زیادہ پرانی نہیں ہے، تقریبا دو سال پہلے پشاور سکول میں حملہ ہوا اور لگ بھگ 148بچے دہشتگردی کی بھینٹ چڑھ گئے۔ سکیورٹی کے ناقص انتظامات کا ہونا اس کی وجہ قرار پائی۔ رپورٹس کے مطابق کہا گیا تھا کہ دہشتگرد غیر ملکی تھے اوراس واردات کی منصوبہ بندی بڑی مہارت سے کی گئی تھی اور اس کے ساتھ ساتھ ملک کہ اندر سے انہیں اسلحہ فراہم کیا گیا تھا۔ اسی طرح بیس دسمبر 2016 کو چارسدہ میں باچا خان یونیورسٹی میں چار دہشتگردوں نے حملہ کر دیا اور تقریبا بیس طالبعلم شہید ہوئے۔ اس حملے کے بعد بھی ایک پریس کانفرنس کی گئی جس میں بتایا گیا تھا کہ یہ سب دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کا نتیجہ ہے اور جلد ہی دہشتگردوں سے چھٹکارا پا لیا جائے گا۔

دونوں تعلیمی اداروں کے حملے کے بعد جو رپورٹس سامنے لائی گئیں ان میں لکھا تھا کہ انہوں نے بزدلی دکھاتے ہوئےـ عقبی دیوار پھلانگ کرحملہ کیا، وہ غیر ملکی تھے اور انہیں ملک کے اندر سے ہی اسلحہ فراہم کیا گیا تھا۔ تعلیمی اداروں کے علاوہ بھی جو حملے ہوئے ان سب میں دہشتگردوں نے ہمیشہ بزدلی دکھاتے ہوئے عقبی دیوار کا سہارا لیا۔۔ جون کے شروع میں جب بجٹ کا اعلان کیا گیا تھا تو معلوم ہوا کہ اس برس فورس کے بجٹ میں معمولی اضافہ کیا گیا ہے جو بڑھ کر اب 860 ارب روپےہو گیا ہے یہ اضافہ پچھلے سال کی نسبت صرف سو ارب زیادہ ہے۔ اب شاید ہم امید کر سکتے ہیں کہ دہشتگرد عقبی دیواروں سے حملہ کرنے میں ناکام ہو جائیں گے اور نہ ہی اب وہ بارڈر کراس کر کے ہمارے ملک میں آکر ہلہ بول سکیں گے۔ یہ بجٹ اس لیے بھی شاید بڑھایا گیا ہے کہ ہمیں حفاظت کے لئے ہر استاد کے ہاتھ میں بندوق تھمانی ہے۔ تو میرے خیال سے ایک مرتبہ پھر جیت ہماری ہی ہوئی کہ ہم نے سالانہ21 ارب روپوں سے اساتذہ کے ہاتھوں میں بندوق تھما کر اپنے اور دشمن دونوں کے بچوں کو پڑھا نے کا بندوبست کر لیا ہے۔

جنرل صاحب کی پوری تقریر میں نہیں سن سکا تھا کیونکہ لائٹ چلی گئی تھی ، امید ہے انہوں نے عقبی دیوار کے بارے میں بھی کچھ فرمایا ہی ہو گا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔