دار العلوم حقانیہ، ہاتھ لا اُستاد! کیوں کیسی رہی


\"jahidچیئر مین پاکستان تحریکِ انصاف اس قدر نابغہ روزگار اور کثیرالرُخی با صلاحیت شخصیت کے مالک ہیں کہ قیاس ہے انہیں کئی مرتبہ خود کے ہاتھوں سے انجام دیئے کارناموں پر خود بھی یقین نہیں آتا ہو گا! کیسا باکمال آدمی ہے کہ موقع ہاتھ آئے تو اپنے ایک ایک داﺅ سے اصغر خان کو پچھاڑتا ہے، کہیں پاکستانیوں کے چیتھڑے اڑیں، سر قلم ہوں، گولیوں سے بھونے جائیں تو ایسے خون آشام اوقات میں بڑے سے بڑے دہشت گرد حمایتی اِن کے آگے پانی بھرتے دکھائی دیتے ہیں اور تاریکی کی جانب تو اتنا تیز دوڑتا ہے کہ جنرل ضیاءالحق بھی حیات ہوتے تو اس برق رفتار انسان کی پیٹھ پر تھپکی دے کر مسکراتے اور یقینا یوں داد دیتے کہ’ اُستاد‘ اچھی رہی۔ ہم نہ سہی تم سہی۔ بنیاد پرستی کی دلدل سے پاکستان باہر نکلنے نہ پائے۔ لگے رہو۔

چیئر مین صاحب تبدیلی کے نعرے کو سوشل میڈیا کی دنیا سے باہر عملی جامہ پہنانے میں یکسر ناکامی کے بعد اب اپنی سیاسی جماعت کے لئے نظریاتی سطح پر کس سمت کا تعین کر رہے ہیں، گزشتہ چند دنوں کے روح پرور واقعات کے بعد اس کا جائزہ لیا جانا ضروری معلوم ہوتا ہے۔ یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ آئی آئی پی ٹی آئی کا چہرہ بظاہر رنگ و روشنی سے لتھڑا ضرور ہے لیکن اس رنگ و روغن کی پرتوں کے نیچے چھپا چہرہ در حقیقت قدامت پسند و بنیاد پرست خد و خال کا حامل ہے۔ گو کہ گالوں پر انقلاب کی لالی لئے سرخی سے آراستہ خوبصورت ہونٹ تبدیلی کے گیت گاتے نہیں تھکتے پر توانا کاندھوں پر دھرے سر میں موجود اندھے دماغ کا کمزور حافظہ بھی اپنی جگہ ایک اٹل سچائی ہے لہذا یاد دہانی کے لئے عرض ہے کہ جن دنوں میں پاکستان کے کیڑے مکوڑے عوام اور سرکاری اہلکاروںکے جسم طالبان کے دستِ مبارک سے گاجر مولی کی طرح کاٹے جانے کے باوجود مذہبی جماعتوں کو دہشت گرد تنظیموں سے امن مذاکرات کرنے کا بخار شدت اختیار کر گیا تھا تب تحریکِ طالبان نے اپنی جانب سے جن بھروسہ مند افراد کو حکومت سے مذاکرات کے لئے نامزد کیا تھا ان میں سے ایک شخصیت راج دلارے چیئر مین صاحب بھی تھے۔ طالبان کو اعلی حضرت پر یہ بھروسہ ان کی جانب سے اس گروہ کی بلا مشروط وکالت اور پشاور میں طالبان کے دفاتر کھلوانے جیسا سنجیدہ مطالبہ کرنے کے بعد سے قائم ہوا تھا۔ ریاست کے اندر ریاست کوفروغ دینے اور ریاستی امور میں طالبان کو ایک فریق کی حیثیت دلوانے میں موصوف کا خصوصی کر دار بھی رہا ہے۔ جبکہ دہشت گردی کے ہر واقعہ کے بعد جائے وقوعہ پر کھڑے ہو کر قتال کے جواز گھڑکر لواحقین کے سینے پر مونگ دلنا بھی ان ہی کی فنکاری ہے۔ اسی طرح گزستہ چند ماہ میں چیئر مین صاحب کی جلسوں میں کی گئی تقاریر کسی صورت شہریت کی بنیاد پر ایک جدید جمہوری ریاست کا نقشہ پیش نہیں کرتیں بلکہ ان تقاریر کا مرکزی نقطہ اپنے آپ کو ایک عدد حق شناس شخص کے طور پر ابھار کر مذہب کے نام و بنیاد پر عوام کو راغب کرنا اور ریاست کی تشکیلِ نو کے مقصد سے ایک ایسے سیاسی بیانیے کا فروغ ہے جس کے تحت موجودہ ناکارہ ریاستِ پاکستان کو تبدیل کر کے ’مذہبی ریاست‘ کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ شاید چیئر مین صاحب ضیاءالحق مرحوم کا آزمودہ نسخہ ایک نئی دیدہ زیب پیکنگ میں بیچنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ خریدار جن کو مائل کیا جا رہا ہے وہ اپنے باخبر ہونے پر انتہائی بضد بے خبر نوجوان مرد و زن ہیں۔

 نظریاتی سطح پر پاکستان تحریکِ انصاف دائیں بازو سے دوہاتھ بھر بڑھ کر ایک بنیاد پرست جماعت کے زمرے میں شمار کی جا سکتی ہے جس کی تازہ ترین مثال خیبر پختونخواہ حکومت کی جانب سے نئے مالی سال کے بجٹ میں دار العلوم حقانیہ کے لئے تیس کروڑ روپے کے سرکاری چندے کی منظوری ہے۔ پچھلے تین برسوں میں نظریاتی سطح پر بنیاد پرست گروہوں کی ہر ممکن پشت پناہی کے بعد اب حکومتی سطح پر ایک ایسے ادارے کو مالی معاونت فراہم کر نا، جس کے فارغ التحصیل طالب علموں کے نام سن کر بیچارے انسان تو کیا اسلحہ خانوں کے کونوں کھدروں میں پڑا گولہ بارود بھی ایک دفعہ لرز اٹھتا ہے، پاکستان تحریکِ انصاف کے کارناموں کے گلدستے میں گوبھی کے پھول کی طرح نمایاں ہو گیا ہے۔ ایک ایسا مدرسہ جس نے نہ صرف ملا عمر، ملا منصور اور جلال الدین حقانی جیسے چوٹی کے بنیاد پرست اور شدت پسند رہنما پیدا کرنے و اعزازی اسناد جاری کرنے کا اعزاز حاصل کیا بلکہ تین ایسے گوہرِ نایاب بھی تراشے جنہوں نے سابقہ وزیرِ اعظم پاکستان بینظیر بھٹو کے قتل میں نامزد ہو کر مدرسہ کی آن بان شان میں اضافہ کیا۔ ایسی پر امن شخصیات تخلیق کرنے والے مدرسہ کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے نام پر حکومتی سطح پر مالی معاونت فراہم کیا جانا ریاستِ پاکستان کے لئے کس قدر منفی نتائج مرتب کرے گا اس کا اندازہ کرنا کسی ذی شعور کے لئے زیادہ مشکل کام نہیں۔ کمر کس لیجئے کہ دنیا دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے کردار پر ایک بار پھر سوالات اٹھانے میں حق بجانب ہو گی۔

اگر مقصد حقیقتاً  مدرسے کے بچوں کو قومی دھارے میں شامل کر نا ہی تھا تو کسی بھی مدرسے کو براہِ راست مالی معاونت فراہم کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔ معاملہ اتنا ہی سادہ تھا تو عوام کا پیسہ بنیاد پرست عناصر کے ہاتھ میں دینے سے کہیں بہتر ہوتا کہ حکومت مدارس کے بچوں کے لئے خودمخصوص درس گاہ کا بندوبست کرتی جہاں مدارس میں زیرِ تعلیم بچوں کو داخل کر کے ان کی براہ راست تعلیمی سرپرستی کر جاتی یا فوری طور پر ان طالب علموں کو مدارس سے نکال کر مناسب تعلیمی اداروں میں حکومتی خرچ پر داخلہ بھی کرایا جا سکتا تھا! اس کام کو سرانجام دینے کے لئے سنجیدہ ترین حکمتِ عملی کی ضرورت تھی نہ کہ غیر سنجیدہ و غیرذمہ دارانہ انداز میں کسی متنازع مدرسے کو مالی معاونت فراہم کر کے صوبے بھر میں تفرقہ پیدا کیا جاتا۔ اور پھر دارالعلوم حقانیہ جیسے مدرسے کا انتخاب اس نقطہ کو جلا بخشتا ہے کہ کند ہم جنس باہم جنس پرواز۔ مولانا سمیع الحق نظریاتی طور پر چیئرمین صاحب کی طرح بنیاد پرستوں کے قریب تر ہیں اور حکومت سے امن مذاکرات کے دوران باقاعدہ طالبان کی نمائندگی بھی کر چکے ہیں۔ پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت اگر یہ جواز پیش کرتی ہے کہ مدرسہ کے نصاب میں محض سائنس یا ریاضی شامل کرا کر مدرسہ کو قومی دھارے میں شامل کر لے گی تواسے کم از کم اکیس توپوں کی سلامی تو بنتی ہے۔ مسئلہ سائنس پڑھنے کا نہیں نظریات کا ہے۔ تو پھر ایسا ادارہ جو ایک کے بعد ایک بنیاد پرست شدت پسند پیدا کرنے میں شہرت رکھتا ہو وہ محض پیسے دینے اور نصاب میں سائنس و ریاضی شامل کرانے سے کیسے تبدیل ہو جائے گا؟ کیا مدرسہ کی انتظامیہ اس مالی معاونت کے عوض مدرسہ کی نظریاتی اساس مکمل طور پر تبدیل کر دے گی، جس کا بہر حال کوئی امکان موجود نہیں! یہ بات مدارس کے بچوں کی نہیں بلکہ بنیاد پرست قوتوں کے ہاتھوں میں موجود ووٹ بینک کی ہے، سیاسی مفادات اور نظریاتی ہم آہنگی کی ہے۔

 حضور !مدارس کی مالی معاونت کی آڑ میں بنیاد پرست عناصر کی خدمت کا خطرناک کھیل پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت سے پہلے متحدہ مجلسِ عمل کی حکومت نے پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں کھیلا اور اس سے پہلے ان عناصر کی ایسی خدمت ضیاءالحق صاحب نے کی تھی۔ ضیا صاحب کی شرافت پھر بھی یہ تھی کہ انہوں نے مدارس کو پیسہ زکوة فنڈ سے دیا تھا جبکہ اس انقلابی جماعت نے ضیا صاحب سے بھی دو قدم آگے بڑھ کر کھلے عام عوام کے ٹیکس کا پیسہ اس خدمت کے لئے وقف کر دیا ہے۔ کیوں اُستاد کیسی رہی۔ کچھ جدید انقلابی جماعتیں ایسی بنیاد پرست بھی ہوتی ہیں!

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔