فورتھ جنریشن ٹیکنالوجی کب آئے گی؟


جب بھی کوئی حکومت جنوبی پنجاب کے حقوق کا نعرہ بلند کرتی ہے تو وہاں کے دور اندیش باسی عدم تحفظ کا شکار ہو جاتے ہیں اور یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ اس مرتبہ سیاسی شعبدہ بازی کے لئے استحصال کا نہ جانے کونسا طریقہ اختیار کیا جائے گا۔ آپ موجودہ حکومت کی ہی مثال لے لیں۔  انتخابات سے قبل وعدہ کیا گیا تھا کہ ابتدائی 100 دنوں میں جنوبی پنجاب صوبہ بنایا جائے گا مگر اب محض جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ پر ٹرخایا جا رہا ہے اور وہ بھی اس طرح کہ جنوبی پنجاب کے لوگ اپنے حقوق کے لئے آواز بلند کرنا ہی بھول جائیں۔

ملتان شہر میں ڈیرہ اڈا کی طرف سے چوک ناگ شاہ کی طرف نکلیں تو یہ سڑک پرانا شجاع آباد روڈ کہلاتی ہے جس پر سڑک کے دونوں طرف پنجاب کے اکلوتے کاٹن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی زمین ہے۔  یہ ادارہ ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں قائم ہواتو حکومت نے 115 ایکڑ اراضی لیز پر دیدی تاکہ تجرباتی بنیادوں پر کپاس کی فصل اگا کر نت نئے بیج دریافت کیے جائیں اور کپاس کی فصل کو نقصان پہنچانے والی سنڈیوں کو تلف کرنے پر تحقیق کی جائے۔

یہ زمین ہتھیانے کی آخری کوشش سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کے دور میں ہوئی جب پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کا دائرہ بڑھاتے ہوئے یہ منصوبہ ملتان میں شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ چونکہ خادم اعلیٰ پنجاب کی دور کی نظر کمزور تھی اس لئے جنوبی پنجاب کے لئے اس انسٹیٹیوٹ کی اہمیت و افادیت کا اِدراک نہ کرتے ہوئے 56 کنال زمین واپڈا کو گرڈ اسٹیشن بنانے کے لئے الاٹ کر دی گئی جبکہ 59 کنال زمین سیف سٹیز پروجیکٹ کو دیدی گئی۔

اس پر میں نے کالم لکھا اور خادم اعلیٰ سے اپیل کی کہ یا تو یہ فیصلہ واپس لیا جائے یا پھر باضابطہ طور پر کپاس کی فصل ممنوع قرار دیتے ہوئے جنوبی پنجاب کے کسانوں کو بتایا جائے کہ وہ اپنی زمینوں پر کیا کاشت کریں؟ خاصی حیل وحجت کے بعد یہ فیصلہ واپس لے لیا گیا مگر اب پنجاب حکومت ایک مرتبہ پھر اس ادارے میں نقب زنی کرنے لگی ہے۔  سیاسی شعبدہ بازی کی نیت سے جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ قائم کرنے کے لئے اس ا دارے کی زمین ہتھیانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔  اگرچہ اس ادارے کی کارکردگی اتنی اچھی نہیں جتنی ہونی چاہیے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ بجٹ کا بیشتر حصہ تنخواہوں اور دیگر دفتری اخراجات پر لگ جاتا ہے اور تحقیق کے لئے وسائل ہی دستیاب نہیں ہوتے لیکن اس کے باوجود یہ ادارہ کپاس کے کاشتکاروں کے لئے رشد و ہدایت کا اکلوتا منبع ہے۔

کپاس جسے مقامی زبان میں ”پھُٹی“ کہتے ہیں، وہ فصل ہے جس سے جنوبی پنجاب کی معیشت کا پہیہ چلتا ہے اور فیصل آباد کے گرد و نواح میں قائم متعدد انڈسٹریز کی گاڑی رواں دواں رہتی ہے۔  جنوبی پنجاب میں بیج، کھاد اور زرعی ادویات ہی نہیں کم و بیش ہر کاروبار کا انحصار اس بات پر ہے کہ کپاس کی فصل کیسی ہوتی ہے۔

اسی طرح اسپننگ، جننگ، ویونگ، ڈائنگ، گارمنٹس، ہوزری سمیت ٹیکسٹائل انڈسٹری کے جتنے یونٹ ہیں یہ سب کپاس کی فصل کے مرہون منت ہیں۔  لیکن پاکستان میں لگاتار کئی برس سے کپاس کی پیداوار بتدریج کم ہوتی چلی جا رہی ہے۔  نہ صرف کپاس کی فی ایکڑ پیداوار گھٹ رہی ہے بلکہ کپاس کی فصل کاشت کرنے کے رجحان میں بھی کمی آرہی ہے۔  کپاس کی سالانہ پیداوار جو 2012 ء میں 140 لاکھ گانٹھ (ایک گانٹھ میں 170 کلو گرام) سالانہ تھی جو گزشتہ برس 117 لاکھ گانٹھ رہ گئی اور اب اس سال پیداوار کا تخمینہ 105 لاکھ گانٹھ لگایا گیا ہے۔

ٹیکسٹائل کی صنعت سے منسلک مختلف شعبہ جات یعنی، دھاگہ جات، پارچہ جات وغیرہ کے لئے ہماری سالانہ ضرورت کا تخمینہ تقریباً 150 لاکھ گانٹھ ہے یعنی ہمیں اس سال کپاس کی کم از کم 45 لاکھ گانٹھیں درآمد کرنا پڑیں گی جس پر 3 ارب ڈالر کا زرمبادلہ خرچ ہو گا۔ یعنی اگر ہم زرمبادلہ کے ذخائر میں مصنوعی اضافے کے لئے دوست ممالک کی منت سماجت کرنے کے بجائے کپاس کی فصل ہی بہتر کر لیتے تو ملکی معیشت کی سانسیں بحال ہو سکتی تھیں۔

پاکستان کے برعکس بھارت میں شدید موسمی تغیر کے باعث فصل کو ہونے والے نقصانات کے باوجود کپاس کی پیداوار میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔  چند ماہ قبل کاٹن ایسوسی ایشن آف انڈیا نے متوقع پیداوار کے حوالے سے جو تخمینہ پیش کیا اس کے مطابق 2017۔  18 میں 373 لاکھ گانٹھ کپاس کی پیداوار متوقع ہے جو گزشتہ برس کے مقابلے میں پانچ لاکھ گانٹھ زیادہ ہے۔  صرف ریاست گجرات کی سالانہ پیداوار میں ایک لاکھ گانٹھ کا اضافہ نوٹ کیا گیا ہے۔

بھارت میں فی ایکڑ پیداوار بھی پاکستان کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے کیونکہ وہاں کسان کو بیج سے لے کر زرعی ادویات اور بجلی تک ہر چیز میں سبسڈی دی جاتی ہے اور پھر تحقیقی ادارے پیداوار بڑھانے کے لئے نت نئے بیج دریافت کرنے میں لگے رہتے ہیں۔  اس وقت کپاس پیدا کرنے والے ممالک میں بھارت پہلے، چین دوسرے، امریکہ تیسرے جبکہ پاکستان چوتھے نمبر پر ہے مگر برسہا برس سے انحطاط اور زوال کا جو رجحان دیکھنے کو مل رہا ہے اس کے پیش نظر یوں لگ رہا ہے کہ بہت جلد یہ چوتھی پوزیشن بھی ہم سے چھن جائے گی۔

سوال تو یہ ہے کہ ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود پاکستان میں کپاس کی فصل زوال پذیر کیوں ہے اور ہر سال کپاس برآمد کرنے کے بجائے درآمد کیوں کرنا پڑتی ہے؟ ایک تو شوگر ملز مافیا نے ذاتی مفادات کی خاطر کپاس کی فصل تباہ کر دی اور دوسرا حکومت نے تحقیق کی طرف توجہ نہیں دی۔ چند برس پہلے تک گنے کی کاشت محض ان علاقوں تک محدود تھی جہاں پانی کی کثرت ہے، بارشیں تواتر سے ہوتی ہیں یا پھر کوئی اور فصل منافع بخش نہیں۔

اسی طرح شوگر ملز لگانے کے لئے بھی حدود و قیود تھیں۔  جنوبی پنجاب کے وہ علاقے جہاں کپاس کی فصل کاشت ہوتی ہے وہاں شوگر ملز لگانے پر پابندی تھی۔ سب سے پہلے پرویز مشرف کے دور میں جہانگیر ترین نے رحیم یار خان میں شوگر ملز لگائیں اور پھر جب مسلم لیگ (ن) کی حکومت آئی تو شریف خاندان نے اپنی پانچ شوگر ملز راجن پور، بہاولپور اور رحیم یار خان منتقل کر دیں۔  یوں ان علاقوں کی زرخیز زمینیں جہاں ایک سال میں یکے بعد دیگرے گندم اور کپاس کاشت ہوا کرتی تھی، وہاں گنے کی فصل اگائی جانے لگی۔

کسی نے یہ سوچنے کی زحمت نہ کی کہ چینی تو عالمی مارکیٹ میں 35 روپے کلو کے لگ بھگ ہے اور ہمارے ہاں گنے سے چینی کی پیداوار کم ہونے کے باعث اس کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا البتہ اگر کپاس کی فصل کو اہمیت دی جائے تو اس سے برآمدات کے ضمن میں کثیر زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔  دوسری طرف تحقیق کے فقدان کا یہ عالم ہے کہ دنیا بھر میں زراعت کے شعبہ میں فورتھ جنریشن ٹیکنالوجی استعمال ہو رہی ہے بعض بیج ایسے ہیں جن کی ففتھ جنریشن آچکی ہے مگر ہم جنوبی پنجاب کے اکلوتے کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ کو بھی ختم کرنے کے درپے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں