ایک تھا لڑکا اوٹ پٹانگ


\"mobeenکوئی چھ دہائیاں قبل کا ذکر ہے کہ ارض پاکستان کے کسی دور افتادہ علاقے میں ایک نیک بخت جوڑے کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا۔ بچہ کیا تھا جناب روئی کا گالا تھا۔ ایسی روئی جس پر صحن میں سکھاتے وقت سرخ فرشی رنگ چڑھ گیا ہو۔ سرخ وسفید اور گولومولو۔ باپ اس کو دیکھ کرخوشی سے نہال ہو گیا۔ ماں نے اس کی بلائیں اتاریں کہ کہیں اسے کسی کی بری نظر نہ لگ جائے۔ محلے کی بڑی بوڑھیاں اور لڑکیاں اسے دیکھنے آئیں تو انہوں نے دانتوں میں انگلیاں دبا لیں۔ (انگلیاں کٹنے کی متضاد اطلاعات کا ذکر ضروری نہیں )۔ ہاں تو اتنا پیارا بچہ آس پڑوس میں کسی کا بھی نہیں تھا لیکن پھر بھی حیرت انگیز طور پر کوئی عورت حسد کا شکار نہیں ہوئی۔ بلکہ ہر خاتون اس بچے کو گود میں اٹھانے کو بے قرار تھی۔ ایک ماں کے لئے اس سے زیادہ خوشی کی بھلا کیا بات ہو سکتی ہے کہ اس کے بچے کو سب پیار کرتے ہیں لہذا اس نے سب کو اجازت دے رکھی تھی کہ کوئی بھی بچے کو لاڈ پیار کر سکتا ہے۔ یہاں تک کہ اپنے گھر بھی لے جانا چاہے تو کوئی مضائقہ نہیں۔ معاف کیجئے گا یہ بتانا یا د نہیں رہا کہ بچے کا نام اس کے گھر والوں نے اوٹ پٹانگ رکھا تھا۔

محلے کی عورتیں اور جوان لڑکیاں سارا دن اوٹ پٹانگ کو اٹھائے اٹھائے پھرتیں۔ کبھی اس گھر کبھی اس گھر ،ماں کی تو جیسے آدھی پریشانی ہی ختم ہو گئی۔ دودھ پلانے کے بعد وہ دوسرے کاموں میں مصروف ہو جاتی اور اوٹ پٹانگ میاں کی سیر و تفریح شروع ہو جاتی۔ ایک دو سال کیسے گزرے پتا ہی نہیں چلا۔ اب اوٹ پٹانگ نے چلنا بھی سیکھ لیا تھا اورحیرانی کی بات یہ ہے کہ اپنا پہلا قدم اس نے ہمسائی آپا کے ہاں اٹھایا۔ آپا کتنے دن خوشی سے بولائی پھرتی رہی کہ اوٹ پٹانگ نے ان کے گھر چلنا سیکھا۔ اسی دوران بولنے کا مرحلہ بھی آیا اور یہ اعزاز نسرین درزن کے حق میں گیا۔ نسرین کا گھر بھی پاس ہی تھا اور وہ اپنے والد کی وفات کے بعد بھری جوانی میں اپنے دو چھوٹے بھائیوں اور بوڑھی ماں کی کفالت کے لیے کپڑے سلائی کیا کرتی تھی۔ اوٹ پٹانگ کا چلنا اور بولنا تو جیسے اس کے حق میں مزید بہتر ہو گیا\"maxresdefault\" تھا۔ لڑکیوں بالیوں کو تو جیسے کوئی خزانہ مل گیا۔ ننھے ننھے قدموں سے چلتا اور توتلی زبان میں چھوٹی چھوٹی باتیں کرتا اوٹ پٹانگ ان کی جان بن گیا۔ دو تین سال ایسے ہی گزر گئے۔ اب تو اوٹ پٹانگ کتنے کتنے دن گھر بھی نہ جائے تو ماں کو فکر نہیں ہوتی تھی۔ برسات کے کتنے ہی دن اوٹ پٹانگ نے اپنی منہ بولی آپاﺅں کی گود میں بیٹھ کر جھولا جھولتے گزار ے تھے۔ آم جو کہ اوٹ پٹانگ صرف جھولا جھولتے وقت کھانا پسند کرتا تھا کے سارے داغ ان الہٹر مٹیاروں کے کپڑوں پر لگتے اور ان کو اپنی ماﺅں سے صلواتیں بھی سنتا پڑتیں۔ جاڑے کی راتوں میں یہی لڑکیاں بالیاں اوٹ پٹانگ کو اپنی رضائیوں میں گھسا لیتیں اور مزے مزے کی کہانیوں کے ساتھ مونگ پھلی سے اس کی تواضع کرتیں۔ اوٹ پٹانگ کو مونگ پھلی بھی چھیلنی نہیں پڑتی تھی۔ اپنے ہم عمربچوں، جن میں لڑکیاں بھی تھیں، میں وہ زیادہ مقبول نہیں تھا۔ وجہ یہ تھی کہ وہ ان کے ساتھ کھیل کود میں خود تو ان کو تنگ کرلیتا تھا لیکن جب جواب میں کچھ کہا جاتا تو اوٹ پٹانگ منہ بسور کر تنگ کرنے والے بچے یا بچی کی امی کے پاس جاتا اور فیصلہ ہمیشہ اسی کے حق میں ہوتا۔ اسی وجہ سے دوسرے بچے اوٹ پٹانگ کے ساتھ تھوڑا محتاط ہی رہتے۔ بچپن میں محتاط تعلق کا مطلب لاتعلقی ہی ہوتا ہے۔ بچے تعلقات میں تکلف برتنے لگیں تو بچپن کا مزا جاتا رہتا ہے۔ لیکن اوٹ پٹانگ کو اس کی کوئی خاص پرواہ نہیں تھی اس کے ناز نخرے اٹھانے والے بہت تھے او ر وہ اس میں خوش تھا۔

انہیں ناز نخروں اور کھیل کود میں اس کی زندگی کے پانچ سال بہت مزے سے گزرے۔ اب اس کے گھر والوں کو اس کی پڑھائی کی فکر ستا رہی تھی۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ فیصلہ کرتے محلے کی استانی جی ایک دن خودہی ان کے گھر چلی آئی اوراوٹ پٹانگ کا ایک قریبی سکول میں، جہاں صرف لڑکے پڑھتے تھے، داخلہ ہو گیا۔ البتہ استانی جی کے پاس ٹیوشن میں کچھ لڑکیاں بھی تھیں۔ شروع شروع میں اوریا کو یہ سب کچھ عجیب لگا۔ کیوں کہ اس نے ایک ”مخلوط “ماحول میں پرورش پائی تھی اوراب ایک دم سے صرف اپنے ہم جنسوں کے ساتھ زیادہ وقت گزارنا قدرے تکلیف دہ تھا۔ لڑکے سارے من موجی تھے اور اوٹ پٹانگ کو برابری کی بنیاد پر سلوک کی بالکل عادت نہیں تھی۔ شروع کے دن تو بہت بیزار تھے ،مگر آہستہ آہستہ اوٹ پٹانگ اس کا عادی ہو گیا۔ اس کی وجہ شاید یہ بھی تھی کہ سکول سے واپسی کے بعد استانی جی اور وہاں سے فارغ ہو کر ہمسایوں کے گھر اب بھی اس کی بہت خاطر تواضع ہوتی تھی۔ سکول کے لڑکوں کا حل اس نے کچھ عرصے بعد یہ نکالا کہ پڑھائی میں زیادہ محنت شروع کر دی۔ اس وجہ سے اساتذہ اور بچے اسے قدر کی نگاہ سے دیکھنے لگے۔ لیکن یہ محنت اوٹ پٹانگ اکیلا کبھی نہ کر پاتا اگر استانی جی کی مدد نہ ہو تی۔ خیر وقت گزرتا گیا اور اوٹ پٹانگ اپنی عمر کی سیڑھیاں چڑھتے چڑھتے سن بلوغ کے پاس جا پہنچا۔ رنگ تو اس کا اب بھی سرخ وسفید ہی تھا لیکن گردن کی گٹھلی کچھ واضح ہو گئی تھی جس کی وجہ سے اس کی آواز کچھ بھاری ہو گئی تھی۔ چہرے پر ہلکے ہلکے بال اور عجیب سے دانے نکل آئے تھے جو ختم ہونے کا نام ہی نہ لیتے تھے۔ اوٹ پٹانگ کو اپنی ان جسمانی تبدیلیوں کا مکمل ادراک تھا کیونکہ محلے کے کچھ بڑ ے لڑکے اسے مذاق مذاق میں ان تبدیلیوں کے سارے اسرارورموز سمجھا چکے تھے۔ خود اوٹ پٹانگ بھی اب اپنے اندرپیدا ہونے والی تبدیلیوں اور برپا ہونے والے ہیجان سے پریشان تھا۔ ہمسایوں کے گھروں میں تو اب بھی اس کا آنا جانا تھا مگر اب اس کا دل اپنی ہم عمر لڑکیوں سے بات کرنے کو زیادہ مچلتا تھا۔ لیکن ان کی مائیں کم بخت اسے اپنے پاس ہی بٹھائے رکھتی تھیں۔ اوٹ پٹانگ نے اپنے ہیجان کو دبانے کے لیے کچھ  طریقوں کا بھی سہارا لیا لیکن اسکی آگ کسی طور ٹھنڈی نہیں پڑ رہی تھی بلکہ دن گزرنے کے ساتھ اس میں اضافہ ہو رہا تھا۔ ایک عجیب سی وحشت اور بے چینی نے اسے گھیرا ہوا تھا۔ للچائی ہوئی نظروں سے آتی جاتی لڑکیوں کو دیکھنا اس کا معمول بن چکا تھا۔ ماں باپ یا سکول میں کوئی بھی ایسا نہیں تھا جو اس کی اس تبدیلی کو محسوس کر تے ہوئے اسے کوئی بہتر راہ سمجھا سکتا کیونکہ ان موضوعات پر بات کرنا اس دور میں غلط سمجھا جاتا تھا۔ اوریا کو جو مناسب لگا اس نے کیا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ محلے کے گھروں میں اس کے لیے ایک سرد مہری اور اجنبیت کی کیفیت پیدا ہونے لگی۔

اوٹ پٹانگ کو اپنی زندگی میں اگر کوئی سب سے بڑا شاک لگا تو وہ یہی تھا۔ جن گھروں میں اس کے بغیر خوشی ادھوری لگتی تھی اور جن لڑکیوں کی چٹیا کھینچنا ایک معمول تھا۔ اب ان گھروں اور ان لڑکیوں کی طرف سے عجیب نظروں کا سامنا کرنا پڑتا۔ لڑکیاں تو ویسے ہی بہت سیانی ہوتی ہیں۔ لڑکوں کی نظروں میں چھپی حیوانیت فوراًپہنچان لیتی ہیں۔ اوٹ پٹانگ نے بہت جتن کئے مگر کوئی ”چارہ گر“ نہ ملا۔ اس کے غصے اور جھنجھلاہٹ میں مزید اضافہ ہو گیا۔ ”یہ ذلیل اپنے آپ کو سمجھتی کیا ہیں؟ اور ان کی مائیں کم بخت ماری ساری عمر مجھے گود میں اٹھائے اٹھائے پھرتی رہیں اور اب ان کو مجھ میں خرابیاں نظر آتی ہیں دیکھ لوں گا سب کو“ وہ اپنے آپ سے کہتا۔ اسی دوران کچھ سال اور گزر گئے۔ کچھ لڑکیاں پیا دیس سدھارگئیں اور اوٹ پٹانگ بے چارہ اکیلا ہی جلتا کڑھتا رہا۔ محبت کرنی بھی تو نہیں آتی تھی بے چارے کو۔ ساری زندگی محبتیں سمیٹ سمیٹ کر محبت دینا بھول ہی تو چکا تھا۔ مرکز نگاہ رہ رہ کر اپنی نگاہوں میں کسی کو بسانے کے فن سے ناآشنا اوٹ پٹانگ جس کیفیت سے گزرا اس کا اندازہ ”آج“کے انسان کے لیے اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔

اس نفرت، غصے اور جھنجھلاہٹ کا ہی نتیجہ تھا کہ اس نے اپنی اہمیت کو دوبارہ منوانے کے لیے مقابلے کا امتحان دیا۔ کامیابی نے قدم چومے، گھروالوں نے مٹھائیاں بانٹیں اور لوگ مبارکباد دینے آئے۔ \”اب تو یہ ضرور آئیں گی میرے پاس “ اس نے سوچا۔ لیکن جس دل میں \"mulla-nasruddin-intro-300x300\"نفرت اورہوس ہو اس دل میں عورت کبھی پاﺅں نہیں دھرتی۔ مزید غصہ، مزید نفرت اور اس بیچ افغان جہاد کا شور۔ اس جہاد کو کامیاب کرنے لیے حکمرانوں کو بھی نفرت اور غصے کی ضرورت تھی۔ لہذا وطن عزیز میں نفرت اور غصے کے بیج بوئے گئے۔ ایک نفرت انگیز طرزحیات کو کچھ ملاﺅں نے مذہب کی سند عطا کر کے جنگ کا نقارہ بجایا۔ اوٹ پٹانگ کی تو جیسے لاٹری نکل آئی کیوں کہ اس کی سوچ کے مطابق عورتیں معاشرے میں بگاڑ کا باعث تھیں ،ان کو دوسرے درجے کا شہری اور پاﺅں کی جوتی سمجھا جاتا تھا، اور غیرمسلم اور مخالف نقطہ نظر رکھنے والے کو تو خیر جینے کا حق ہی نہیں تھا۔ ان اعلیٰ خیالات کی روشنی میں اوٹ پٹانگ پر یہ حقیقت منکشف ہوئی کہ دراصل عورت کا وجود ہی فتنے کا باعث ہے۔ مرد کا سارا ہیجان، بے چینی، حیوانیت اور جنسی بے راہ روی حقیقت میں کسی ذہنی، نفسیاتی یا حیاتیاتی تبدیلی یا خرابی کی وجہ سے نہیں بلکہ عورت کے وجود کی وجہ سے ہے۔ اب اوٹ پٹانگ کو اپنی زندگی کا مقصد مل گیا تھا وہ ”توانائیاں“ جنہیں وہ پہلے کسی اور مقصد کے لیے استعمال کرنا چاہتا تھا، اب اس فتنے کا سر کچلنے میں استعمال ہونے لگیں۔ نفرت اور غصے کے پجاری اس کے اردگرد اکھٹے ہو گئے۔ اس کی واہ واہ پھر سے ہونے لگی اس کے لاڈ اور ناز نخرے اٹھائے جانے لگے۔ اوٹ پٹانگ کو اس کا ” کھویا“ ہوا مقام مل گیا تھا۔ اس کی ذرا سی شکایت پر لوگوں کی \”سرزنش\” کرنے والے افراد کی تعداد میں حیرت انگیز حد تک اضافہ ہو چکا تھا۔ لیکن ان لڑکیوں کا اس کی یوں تذلیل کرنا اسے آج تک نہیں بھولا۔ اب اس کی عمر ساٹھ سال ہے لیکن کسی جوان جہان لڑکی کو دیکھ کر اسے پہلے اپنی ”بے قدری “اور پھر اس کی فتنہ پروری یا د آ جاتی ہے۔ یہ سامنے کی بات ہے لیکن یہ تاریخ آج کل کے ”گمراہ اور مذہب بیزار“ کیا جانیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔