ہمارے اندر چھپا دہشت گرد ….


qurb e abbasقرب عباس

ابھی ایک سال ایک ماہ پہلے ہم اپنے بچوں کے لیے رو رہے تھے۔ بھر پور سوگ منایا، مائیں روتی رہی، تبصرے ہوئے، کالم لکھے گئے، موم بتیاں جلائی گئیں، پورا ایک سال کم و بیش ہر ہفتے مختلف سطح کے احتجاج کیے گئے، قاتلوں پر لعن طعن ہوتا رہا ، مظاہرے ہوئے یعنی ہر ایک پاکستانی جو کر سکتا تھا کرتا رہا۔ حکومت اور فوج کی طرف سے بھی بیانات سامنے آئے کہ آپریشن کیا جا رہا ہے، دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔خبروں میں سنتے رہے کہ آج اتنے دہشت گردوں کو واصل جہنم کر دیا گیا، فلاں ٹھکانے کو تباہ کردیا گیا وغیرہ وغیرہ۔
عوام، حکومت اور فوج کا ایسا سخت رد عمل دیکھنے کے باوجود کل جو کچھ چارسدہ میں ہوا اس پر غور کرنے سے معلوم پڑتا ہے کہ بات ابھی تک وہیں پر ہے جہاں ایک سال پہلے تھی اور اسی خیال کے ساتھ ہم اگرمزید اس کے بارے میں سوچیں تو سمجھ میں یہی آتا ہے کہ آپریشن سے زیادہ اہم اس آئیڈیالوجی کو ختم کرنا ضروری ہے جو شدت پسند عناصر کو جگہ دیتی ہے اور یہ عناصر کہاں ہیں ؟ اس کا سراغ لگانے کے لیے بہت زیادہ دوڑ دھوپ نہیں کرنی پڑے گی، اپنی اندھے عقائد سے دھندلائی آنکھیں صاف کرکے دیکھیں گے تو یہ سب کچھ ارد گرد کے ماحول میں بہت واضح دکھائی دے گا۔
بہت سادہ سی بات ہے ، جب ہم یہ کہہ دیتے ہیں کہ ؛
’میں‘ مسلمان ہوں اور ہر وہ انسان جس کے نظریات میرے عقائد سے متصادم یا الگ ہیں، مسلمان تو دور کی بات ہے انسان ہی نہیں ہوسکتا لہٰذا اس کو یہاں رہنے کا کوئی حق نہیں، کم از کم جس طرح میں آزادی سے رہ رہا ہوں اس طرح سے زندگی گزارنے کا حق نہیں ہے۔
تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں اپنے ہی نظریات پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ اگر میری نظر میں کوئی دوسرا مسلمان ہے اور نہ انسان تو یہ کیسے توقع رکھ سکتا ہوں کہ مجھے بھی کوئی مسلمان یا انسان سمجھے گا؟ کیا یہ معمولی سی بات اتنی مشکل ہے کہ کوئی بھی اس دنیا میں ملک یا مذہب کو بطور حق نہیں لایا تھا، یہ دونوں ایسی چیزیں ہیں کہ اس کے پاس حادثاتی طور پر آئی ہیں اور ایسا حادثہ آپ کے ارد گرد کے لوگوں کے ساتھ بھی ہوا ہے۔ انہیں دنیا پر بھیجنے سے پہلے ان کا مذہب، فرقہ ، قوم یا نسل کے بارے میں نہیں پوچھا گیا۔ تو پھر ہم اس معاملے میں اتنی شدت کا شکار کس لیے ہیں؟ مذہب اور ملک کو اپنی جاگیر کیسے سمجھ سکتے ہیں؟ اور کیسے کسی بھی دوسرے انسان سے یہاں اس زمین پر باعزت زندگی گزارنے کا حق چھین سکتے ہیں؟
آرمی آپریشن کر رہی ہے یہ بھی اس وقت کی ضرورت ہے کہ شر پسند عناصر کو مٹا دیا جائے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے اندر بیٹھے اس شدت پسند انسان سے، اس دہشت گرد سے بھی جنگ لڑنا ہوگی، جو ہمیں اکساتا ہے کہ ہم ان لوگوں کے حامی بنیں جو دہشت گردی کی بالواسطہ یا بلاواسطہ حمایت کرتے ہیں۔ ہمیں خود بھی یہ سبق پڑھنا ہے اور اپنے ہی بچوں کو بھی پڑھانا ہے،ہمیں ان خونخواروں اور تعصب کے ماروں کے خلاف آواز اٹھانی ہے اور ان کو یہ بتانا ہے کہ ان کی خواہشات کے مطابق ہم ایسی بھیڑیں نہیں بن سکتے کہ کسی بھی سمت میں ہانک دیے جائیں۔ جس دن مکمل انکار کے ساتھ ان کے سامنے کھڑے ہو جائیں گے تو ہمارے ارد گرد موجود یہ شر پسند عناصر خود ہی دم توڑ دیں گے۔ بصورت دیگر ہر سال کسی سکول، کسی یونیورسٹی، کسی عبادت گاہ، کسی بازار، کسی فوجی اڈے پر حملے کے نتیجے میں شہید ہونے والوں کے جنازوں پر بین کرنا پڑے گا یعنی دوسرے الفاظ میں کہوں تو یہ غلط نہ ہوگا کہ ہم خود ہی تباہ کار بھی ہوں گے تباہی زدہ بھی، ظالم بھی ہوں گے مظلوم بھی اور قاتل بھی ہوں گے اور مقتول بھی….


Comments

FB Login Required - comments