بنگلہ دیش اور پاکستان میں دہشت گردی کیوں؟


\"adnan-khan-kakar-mukalima-3b4\"

بنگلہ دیش میں کچھ عرصے سے بے چینی اور معاشرے میں پھیلتی ہوئی شدت پسندی کے آثار نظر آ رہے تھے جو کہ اب ایک دھماکے کی طرح ڈھاکہ کے ریستوران کے واقعے کے بعد دنیا کی توجہ کا باعث بن گئی ہے۔ گذشتہ تین، چار ماہ میں بنگلہ دیش میں چالیس سے زیادہ افراد مبینہ دہشتگردوں کے ہاتھوں مارے جا چکے ہیں۔ تاہم ان حملوں میں زیادہ تر خاص افراد کو نشانہ بنا کر مارا گیا تھا۔ ان لوگوں میں آزاد خیال بلاگر، ادیب، سماجی کارکن، ماہرین تعلیم اور مذہبی اقلیتوں کے افراد شامل تھے۔ بنگلہ دیشی حکومت اس بات سے انکاری ہے کہ ملک میں داعش کا کوئی وجود ہے جبکہ داعش کے نام پر اس دہشت گردی کی ذمہ داری قبول کی گئی ہے۔

ویسے تو دائیں بازو کی شدید انتہا پسندی دنیا بھر میں پھیلتی نظر آ رہی ہے۔ خواہ بھارت ہو جہاں گائے کا تاجر ہونے کے شبے میں بھی مسلمانوں کو مارا جانے لگا ہے اور اب تو ’مقدس سانپ دیوتا‘ کو مارنے پر ایک دلت کو مار دیا گیا ہے، یا پھر برما ہو جہاں وہ بدھ بھکشو مسلمان اقلیت کے قتل عام میں پیش پیش ہیں جن کا مذہب ان کے کردار کے برخلاف سب سے زیادہ اپنی ذات کو فنا کرنے اور انسانیت کی خدمت پر زور دیتا ہے، یا پھر برطانیہ کا یورپی یونین سے اخراج کا معاملہ ہو جس میں ان کو مشرقی یورپ کے مہاجرین نے اتنا متنفر کیا کہ وہ یورپی یونین چھوڑنے پر اتر آئے، یا پھر امریکہ ہو جہاں مسلمانوں، دوسری اقلیتوں اور عورتوں کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والا ڈانلڈ ٹرمپ ریپلکن پارٹی کا صدارتی امیدوار بن چکا ہے اور بعید نہیں ہے کہ وہ امریکہ کا صدر بھی بن جائے۔

لیکن بنگلہ دیش کا معاملہ خاص طور پر قابل توجہ ہے۔ برصغیر کی تاریخ میں بنگال ایک ایسا خطہ رہا ہے جہاں سے ایک طرف اعلی تعلیم یافتہ افراد ابھرتے رہے ہیں، اور دوسری طرف ان کا سیاسی شعور بھی باقی علاقوں سے کہیں زیادہ رہا ہے۔ خواہ مسلم لیگ بنانے کا معاملہ ہو، یا ٹیگور کی طرف سے برصغیر کا پہلا نوبل جیتنے کا واقعہ ہو، بنگال کی ایک اپنی الگ شناخت ہے۔ وہاں کی تہذیب میں موسیقی کو بھی بہت اہمیت حاصل رہی ہے۔ خواہ ہندو ہوں یا مسلمان، وہاں کے معاشرے میں لڑکے لڑکیوں کو موسیقی کی باقاعدہ تعلیم دینا ایک عام رواج تھا۔ کمیونسٹ پارٹی کا گڑھ بھی بنگال ہی رہا ہے جو کہ ذات پات اور مذہب سے بالاتر ہو کر سب انسانوں کے ایک برابر ہونے کے فلسفے کی داعی ہے۔ علمی مکالمہ اور بحث مباحثہ بھی وہاں کے معاشرے کی ایک اہم روایت رہی ہے۔ وہاں برصغیر کے ہر مذہب کے ماننے والے موجود رہے ہیں۔ مسلمان بھی ہیں، ہندو بھی، بدھ بھی، جینی بھی، مسیحی بھی اور ناستک بھی۔ صدیوں سے وہ امن سکون سے ایک ساتھ رہتے چلے آ رہے تھے۔

پھر پچھلی دو تین دہائیوں میں ایسا کیا ہوا ہے کہ وہاں اختلاف رائے پر قتل کیا جانے لگا ہے؟

عوام تو ایک طرف، وہاں شیخ حسینہ واجد کی حکومت بھی اسی جنونیت کے رنگ میں رنگی ہوئی نظر آتی ہے۔ جس طرح وہاں جماعت اسلامی کے راہنماؤں کو وہاں شفاف انداز میں مقدمہ چلائے بغیر پھانسیاں دی جا رہی ہیں، وہ ایک عدالتی قتل کے علاوہ اور کیا ہیں؟

چلیں ہم دو دہائی پہلے کے مشرق وسطی چلتے ہیں۔ اس وقت پاکستانی اور ہندوستانی کمیونٹی وہاں کی معیشت پر چھائی ہوئی تھی۔ پاکستانی مزدور بھی وہاں تھے اور تکنیکی ماہرین بھی۔ لیکن ان میں ایک بے چینی سی پھیل رہی تھی۔ عام طور پر ان سے ملنے کے چند منٹ کے اندر ایک شکایت سامنے آتی تھی کہ پاکستانی جس ریٹ پر کام کرتے ہیں، اب ان کی جگہ بنگلہ دیشی اس سے کافی کم پیسوں پر کام کرنے لگے ہیں اور وہ پاکستانیوں کو مشرق وسطی کی مارکیٹ سے بے دخل کر رہے ہیں۔ پھر ان بنگالیوں کی ایک خاصیت عربوں کو بہت پسند آتی تھی۔ پاکستانی انا پر سمجھوتہ نہیں کرتے تھے اور بنگالی انا کو کام کے راستے میں حائل نہیں ہونے دیتے تھے، ان کو جو حکم بھی ملتا تھا، جیسا حکم بھی ملتا تھا، وہ اسے چوں چرا کیے بغیر پورا کرتے تھے۔ اب دو دہائیوں کے بعد مشرق وسطی پر بنگالی لیبر چھائی ہوئی نظر آتی ہے۔

اب ہم چار دہائی پہلے کے پاکستان میں لوٹتے ہیں جس وقت پاکستان کے مزدوروں اور تکنیکی ماہرین کو بھٹو نے مشرق وسطی میں بھیجنا شروع کیا تھا۔ اس وقت پاکستانی معاشرے میں رواداری کا چلن نظر آتا تھا۔ کمیونسٹ، ملا، سوشلسٹ اور جماعت اسلامی والے، نظریاتی اختلاف کو ذاتی تعلق پر قربان کرتے دکھائی دیتے تھے۔ جنگ الیکشن میں لڑی جاتی تھی، معاشرے میں نہیں۔ دوسرے شخص کے نظریے کو برا کہا جاتا تھا لیکن اس شخص کو دوست ہی سمجھا جاتا تھا۔

پھر جب مشرق وسطی کے پاکستانی واپس آنے لگے تو وہ عینکوں، ٹی وی اور ٹیپ ریکارڈروں کے ساتھ ساتھ مشرق وسطی کے عدم برداشت پر مبنی سخت گیر سلفی نظریات بھی یہاں ہمارے ملک میں لانے لگے اور انہیں دوسرے نظریات والے کفار نظر آنے لگے۔ اس وقت تک مسجد الحرام پر حملے کا واقعہ بھی پیش آ چکا تھا اور خاص طور پر سعودی مملکت پر انتہا پسند سلفی علما کی گرفت بہت بڑھ چکی تھی اور وہ ملک سخت گیر اسلام کی طرف قدم اٹھا چکا تھا۔ ایسے میں افغانستان میں جنگ شروع ہو گئی اور عرب فنڈنگ کے علاوہ عرب جہادی بھی پاکستان آنے لگے اور ان کے نظریات بھی یہاں پھِیلنے لگے۔

چار دہائیوں تک سخت گیر سلفی نظریات سے تعلیم پانے کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اس وقت بھارت میں موجود دیوبندی اور پاکستان میں موجود دیوبندی فکر میں ایک بڑا فاصلہ پیدا ہو چکا ہے۔ وہ ویسے ہی ہیں جیسے ہم ان کو ستر سال پہلے چھوڑ کر آئے ہیں۔ ہم اب دیوبندیت، مودودیت اور سلفیت کے امتزاج سے ایک نئی تشدد پسند اور عدم برداشت کی حامل فکر بنا کر الگ ہو چکے ہیں۔ وہ سیکولرازم کے داعی ہیں اور قیام پاکستان کے وقت انہوں نے اسلامی پاکستان آنے کی بجائے سیکولرازم کے تحت زندگی بسر کرنام مناسب سمجھا تھا۔ لیکن ہمارے دیوبندیوں کا کہنا ہے کہ سیکولرازم کفر اور دہریت ہے۔ سلفیت کے متعلق بھی مزاج میں فرق ہے۔ ماضی میں دیوبندی عمائدین کی کتابوں میں اہل حدیث حضرات کے متعلق وہی فتاوی جات نظر آتے رہے ہیں جو کہ آج ہم اہل تشیع کے متعلق دیکھتے ہیں، اور جواب میں اہل حدیث بھی ان سے ایسی ہی محبت ظاہر کرتے رہے ہیں۔ لیکن اب سلفی اہل حدیث کے متعلق بھی پاکستانی اور دیوبندی فکر میں تفاوت نظر آ رہا ہے۔

\"bangladesh-terrorism\"

دوسری طرف اب بنگلہ دیش بھی تقریباً بیس سے تیس سال تک انتہاپسند سلفی نظریات کو امپورٹ کرنے کے بعد تشدد کی راہ پر چل نکلا ہے۔ وہاں راگ رنگ کا ہزاروں سال پرانا کلچر اب ناپسندیدہ قرار پانے لگا ہے۔ اختلاف رائے پر قتل کیا جانے لگا ہے۔ اور نظر یہی آ رہا ہے کہ اب وہاں بھی اسلام کے نام پر مسلسل دھماکے ہوں گے اور ہزار ہا بنگالی بھی اپنے پاکستانی برادران کی طرح جام شہادت نوش کریں گے۔

لگ یہی رہا ہے کہ جب تک پاکستان اور بنگلہ دیش سخت گیر سلفی فکر سے ناطہ توڑ کر واپس اپنی اصل صوفی اور دیوبندی جڑ کی طرف واپس نہیں پلٹیں گے، یہی قتل و غارت کا کھیل دونوں کا مقدر رہے گا۔ ہماری لیبر مشرق وسطی سے نکلے گی اور ہماری مذہبی فکر کا منبع دوبارہ ہمارا اپنا وطن بنے گا، تو پھر ہی ہم امن اور برداشت کی طرف پلٹیں گے۔

ہمیں اب پاکستان میں دوبارہ دارالعلوم دیوبند اور بریلی بنانے ہوں گے، اور بنگلہ دیشیوں کو بھی ایسا ہی کرنا ہو گا۔ امن کا بس یہی ایک راستہ ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 696 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar