کیا فوج جمہوریت کی مدد کر رہی ہے؟


\"adnanفوج کے ترجمان لیفٹنٹ جنرل عاصم باجوہ نے جرمن نشریاتی ادارے کو ایک انٹرویو میں بتایا ہے کہ فوج جمہوریت کی مدد کر رہی ہے۔ ان کا یہ بیان نمایاں طور پر اخباروں اور ٹی وی چینلوں کی زینت بنا ہے۔ پاکستانی سیاست اس وقت جس غیر یقینی صورت حال سے دوچار ہے اس میں اس بیان کی بڑی اہمیت ہے۔ مارشل لائوں کی ڈسی ہوئی اس قوم کے ساتھ دودھ کے جلے جیسا معاملہ ہے جو چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے۔ جب بھی کوئی سیاسی بحران آتا ہے، جو کہ کسی بھی جمہوری نظام میں معمول کی بات سمجھی جانی چاہئے، تو ہمارے ہاں قیاس آرائیاں شروع ہو جاتی ہیں۔ ہر نظر فوج کی طرف دیکھنا شروع کر دیتی ہے۔ بعض نابغانِ سیاست و صحافت تو مارشل لاء کی صدائیں بھی لگانا شروع کر دیتے ہیں، دراصل اس طرح کی حرکات کا اصل مقصد یہ ہوتا ہے کہ اپنے تئیں وہ اپنی نوکریاں پکی کر رہے ہوتے ہیں۔

فوج ایک انتہائی اہم قومی ادارہ ہے اور بلا شبہ پاکستان کے مخصوص حالات میں اس کی ایک سیاسی اہمیت بھی ہے۔ وجہ یہ نہیں ہے کہ فوج سیاست سے کوئی دلچسپی رکھتی ہے بلکہ اصل وجہ یہ کہ ماضی کے طالع آزمائوں نے فوج کو اپنے مذموم سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کر کے جمہوریت اور فوج دونوں کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ زیادہ پرانی بات نہیں ہے جب مشرف کا زوال وقوع پذیر ہو چکا تھا اور وہ کسی صورت اقتدار چھوڑنے کو تیار نہ تھا تو جمہوریت کے ساتھ تو جو ہو رہا تھا سو ہو رہا تھا فوج کی ساکھ کو بھی بہت نقصان پہنچ رہا تھا۔ حالات یہاں تک پہنچ چکے تھے کہ افواج پاکستان کو مبینہ طور پر اپنے جوانوں کو ہدایات جاری کرنا پڑیں کہ وہ وردی میں عوامی مقامات پر جانے سے گریز کریں۔ سو میرا کہنا یہ ہے کہ جمہوریت کو فوج سے کبھی کوئی خطرہ نہیں رہا، جمہوریت کو ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ سے خطرہ رہا ہے۔ اس ساری کنفیوژن کی اصل وجہ یہ ہے کہ طالع آزمائوں نے فوج اور اسٹیبشلمنٹ کے تصورات کو گڈمڈ کر کے اس طرح پیش کیا ہے کہ گویا فوج ہی اسٹیبلشمنٹ ہے۔حالانکہ فوج کو اسٹیبلشمنٹ سے تعبیر کرنا سراسر غلط اور فوج کی قربانیوں کے ساتھ ایک مذاق ہے۔ اسٹیبلشمنٹ نے پاکستان پر کیا کیا مظالم ڈھائے وہ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں لیکن افواج پاکستان نے وطن عزیز کے لئے جو قربانیاں دی ہیں وہ لا زوال ہیں۔

آپریشن ضرب ِ عضب کی مثال ہی لے لیں۔ دہشگردی کا ناسور فوج کا پیدا کردہ نہیں تھا، جیسا کہ ایک حلقے کا خیال ہے، بلکہ یہ ہوس اقتدار میں غلطاں طالع آزمائوں کی بنائی ہوئی خطرناک پالیسیوں کا نتیجہ تھا۔ البتہ اس ناسور کو ختم کرنے کا سہرا افواج پاکستان کے سر ہے۔ کسی بھی معیار سے پرکھ لیں، آپریشن ضربِ عضب ایک کامیاب آپریشن ہے جس نے نہ صرف ہزاروں دہشتگردوں کا صفایا کیا ہے بلکہ ہزاروں کلومیٹر پر محیط دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو بھی مکمل طور پر ختم کر کے وہاں پاکستان کا جھنڈا لہرایا ہے۔ یہ کوئی معمولی کامیابی نہیں ہے۔ ہمیں یہ بات کبھی نہیں بھولنی چاہئے کہ دہشتگرد پاکستان کے مخالف نہیں تھے بلکہ وہ جمہوریت کے دشمن تھے۔ وہ پاکستان کو ختم کرنا نہیں چاہتے تھے بلکہ وہ پاکستان کے جمہوری نظام کو ختم کر کے اپنی مرضی کا نظام لانا چاہتے تھے۔ جمہوریت کے دشمنوں کے خلاف یہ جنگ بہادر افواجِ پاکستان نے ہی جیت کر دی ہے۔ ایسے حالات میں جب افواج کی طرف سے یہ شکایت سامنے آتی ہے کہ دنیا ان کی قربانیوں کا درست طریقے سے ادراک نہیں کرتی تو یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا ہم افواج ِ پاکستان کی قربانیوں کا درست طریقے سے ادراک کر رہے ہیں؟ دہشتگردی کی موجودہ لہر کے تناظر میں بھی یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ دہشت گردی کے اکا دکا واقعات ہو رہے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ ایک لمبے عرصے تک ہوتے رہیں۔ لیکن عوام کو یہ فرق اب صاف نظر آ رہا ہے کہ آپریشن ٖضربِ عضب سے پہلے دہشت گرد ہر طرح کے اہداف کو نشانہ بنا رہے تھے۔ آسان اہداف یعنی غیر مسلح نہتے معروف شہریوں سے لے کر انتہائی حساس نتصیبات تک ہر طرح کے اہداف ان کی دسترس میں تھے لیکن اب صورت حال یکسر بدل چکی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب انتہائی حساس تو دور کی بات عام حکومتی تنصیبات بھی محفوظ ہو چکی ہیں۔ ایسے میں کراچی جیسے شہر میں جہاں ضیا الحق کے زمانے سے بدامنی اور لا قانونیت کا راج ہے، چیف جسٹس کے بیٹے کے اغواء اور امجد صابری کے بہیمانہ قتل جیسے واقعات پر دکھ کا اظہار تو کیا جا سکتا ہے لیکن ایسے واقعات سیکیورٹی اداروں پر چڑھ دوڑنے اور طعن و تشنیع کا باعث نہیں بننے چاہئیں۔ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ پولیس، رینجرز اور افواجِ پاکستان دن رات اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر ہمیں سیکیورٹی فراہم کر رہے ہیں اور بلا شبہ ان تمام اداروں نے پچھلے ایک دو سالوں میں ناممکن کو ممکن بناتے ہوئے پاکستان کی سیکیورٹی کی صورتحال کو بہت بہتر بنایا ہے۔

فوج کے حوالے سے ایک اور غلط فہمی عام ہے جس کا ازالہ کرنا بہت ضروری ہے۔ فوج پر ایک الزام لگایا جاتا ہے کہ فوج جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ الزام بھی فو ج کو اسٹیبلشمنٹ کی اصطلاح کے ساتھ گڈمڈ کرنے کا شاخسانہ ہے۔ یا د رکھیں جب جب ہم فوج کے ادارے کو اسٹیبلشمنٹ سمجھ لیتے ہیں، تب تب ہم اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں کھیل رہے ہوتے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کی ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح فوجی وردی کے پیچھے چھپ جائے۔ 2014 کے دھرنوں ہی کی مثال لے لیں۔ بلاشبہ دھرنوں کی سازش کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ تھا لیکن اس سازش کو کس نے ناکام بنایا؟ جب دھرنے والے پارلیمان کی مقدس عمارت پر حملہ آور تھے، جب وہ وزیر اعظم ہاؤس پر حملہ کرنے کے در پہ تھے تو اس وقت ان عمارات کا تحفظ فوج کے ہاتھ میں ہی تھا۔ اگر اس وقت فوج اور اسٹیبلشمنٹ ایک صفحے پر ہوتے تو مارشل لاء کی راہ میں بظاہر کوئی رکاوٹ نہ تھی۔ لیکن فوج نے خود کو اسٹبشلمنٹ سے دور رکھا اور جمہوریت کا ساتھ دیا۔ اگر یہ عمل جمہوریت کی مدد نہیں تھا تو کیا تھا؟

اسی طرح پانامہ لیکس کے مسئلے پر بھی سازشی اور شارٹ کٹ کی سوچ رکھنے والی قوتیں خواہ وہ کسی بھی شعبے سے ہوں، اس کوشش میں تھیں اور ہیں کہ کسی طرح فوج حکومت کو چلتا کر دے لیکن فوج نے اس موقع پر بھی خود کو ہر قسم کی سازش سے دور رکھا ہوا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ پانامہ لیکس میں سامنے آنے والے ملکی دولت لوٹنے والوں کا احتساب نہیں ہونا چاہئے، اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ فوج نہیں چاہتی کہ احتساب نہ ہو، بلکہ اس کا مطلب صرف اتنا ہے کہ سیاستدانوں اور کاروباری حلقوں کی کرپشن پکڑنے کے لئے آئینی ادارے موجود ہیں جنہیں اپنا کام کرنا چاہئے لیکن احتساب کے نعرے کو کسی سازش کی نظر نہیں ہونا چاہئے۔

اس بات کا اعتراف کرنے میں کوئی تامل نہیں ہونا چاہئے کہ جنرل راحیل شریف کی قیادت میں فوج نے اپنی ساری توجہ پیشہ وارانہ فرائض کی ادائیگی پر مرکوز رکھی ہوئی ہے اور انتہائی قلیل عرصے میں افواج پاکستان نے جس طرح اندرونی خطرات کو کم کیا ہے وہ اسی فوکس کا نتیجہ ہے۔ جس طرح کوئی بھی چیز کامل نہیں ہوتی اسی طرح فوج اور جمہوریت کے تعلق کے حوالے سے کچھ کمیاں، کچھ کجیاں آج بھی موجود ہیں لیکن پاکستان کے مخصوص حالات کے پیشِ نظر انہیں نظر انداز کیا جا سکتا ہے۔ سو، دہشتگردوں کی شکل میں جمہوریت کے دشمنوں کا قلع قمع ہو، دھرنوں کی سازش کے دوران جمہوریت کا تحفظ ہو، یا مستقبل کی جمہوریت مخالف سازشوں سے اظہارِ لاتعلقی ،فوج بلا شبہ جمہوریت کی مدد کر رہی ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔