ماروی میمن کی گستاخی اور اسلامی نظریاتی کونسل


adnan Kakarسنا ہے کہ ماروی میمن نامی کوئی گمراہ خاتون کسی طرح قومی اسمبلی میں پہنچ گئی ہے۔ اس نے ظلم کی انتہا کرتے ہوئے یہ قانون بنانے کی کوشش کی کہ کم عمری کی شادی کرانے والوں کو سخت سزا دی جائے۔ شکر ہے کہ عین وقت پر یہ قانون اسلامی نظریاتی کونسل کی توجہ حاصل کر گیا۔

کونسل کے علمائے کرام نے بل پر غور کیا۔ خوب تعجب کیا کہ ایسا بل پیش ہی کیوں کیا گیا ہے۔ پھر قرار دیا کہ یہ بل شریعت سے متصادم ہے۔ اور مزید یہ بھی بتا دیا کہ اس میں بلاسفیمی، یعنی توہین مذہب جھلکتی ہے۔ اس پر اس شریر عورت نے عبرت پکڑی اور بل واپس لے لیا۔ ابھی چند دن پہلے ہی تو سلمان تاثیر کی برسی گزری ہے۔ خدا نے بہت خیر کی کہ اس عورت کو توبہ کرنے کا موقع مل گیا۔

ہم جاہل آدمی ہیں۔ ہمارا دین یا دنیا کے امور کے بارے میں کوئی خاص علم تو نہیں ہے، لیکن غور کرنے بیٹھے ہیں تو ملکی قوانین میں ہر طرف ہی توہین مذہب نظر آنے لگی ہے۔ غضب خدا کا، کہ ان نابکار حکمرانوں نے غلامی کا خاتمہ کرنے کے عالمی قانون پر دستخط کر دیے ہیں۔ دنیا میں مقدس سعودی مملکت وہ آخری ملک تھا جس نے انسانی غلامی اور غلاموں کنیزوں کی خرید و فروخت پر 1964 ءمیں پابندی لگائی۔ پتہ نہیں یہود و نصاری کا کیسا دباﺅ ہو گا جس کی وجہ سے ہم گمراہ پاکستانی اور ہدایت یافتہ سعودی اس مکروہ عمل پر مجبور ہو گئے اور یہ ممالک یہ پابندی لگا کر توہین مذہب کر بیٹھے۔

دوسری شادی کے معاملے پر عائلی قانون میں یہ جو پہلی بیوی سے اجازت کی شرط ہے، ہمیں تو اس توہین مذہب پر بھی افسوس ہے۔ خدارا اس برے عائلی قانون کو ختم کیا جائے۔ شریعت میں بیوی سے اجازت کی شرط نہیں ملتی ہے۔

اسی طرح یہ پولیو ویکسین وغیرہ کے معاملے میں بھی کچھ کیا جانا چاہیے۔ گو کہ ہمارے مجاہدین زور و شور سے پولیو ورکرز کو مار مار کر اس مہم کو روک رہے ہیں، لیکن ایک اسلامی مملکت میں قانونی طور پر اس پر پابندی لگا دی جانی چاہیے، کجا یہ کہ اس مکروہ عمل کی انجام دہی کے لئے سرکاری ادارے بنا کر ان کو فنڈ دیے جائیں۔

ڈی این اے کے ذریعے زنا بالجبر کے ثابت کئے جانے کے خلاف تو الحمدللہ اسلامی نظریاتی کونسل نے اپنا واضح شرعی موقف دے دیا ہے۔ لیکن ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ یہ فنگر پرنٹ وغیرہ کے ذریعے چوری اور قتل کو ثابت کئے جانے کا تدارک کرنا بھی اہم ہے۔ اس امر پر بھی غور کیا جائے اور قوانین میں مناسب تبدیلی کی جائے۔ لیکن زیادہ افسوس ہمیں اس بات پر ہو رہا ہے کہ فون پر نکاح اور ایس ایم ایس پر طلاق کے خلاف کوئی کام نہیں ہو رہا ہے۔ اس گمراہی کے خلاف قوانین بنائے جائیں تو کیا ہی خوب ہو۔

ویڈیو کو جرم کے ثبوت کے طور پر پیش کرنا قطعی غلط ہے۔ ہم جانتے ہی ہیں کہ تصویر اور ویڈیو حرام ہے۔ کوئی بھی ذی فہم شخص اس امر سے انکار نہیں کرے گا کہ ایک حرام چیز کو ثبوت کے طور پر قاضی کے سامنے پیش نہیں کیا جا سکتا ہے۔ تصویر کی بات چلی ہے تو پھر مملکت پاکستان میں کیمروں پر مکمل پابندی کا قانون بنایا جانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ شناختی کارڈ اور پاسپورٹ پر سے بھی تصاویر ہٹا دی جائیں۔

یہ درست ہے کہ ان تصاویر کو ہٹانے سے یہود و ہنود و نصاری کے ممالک میں ہمارا داخلہ ممکن نہیں ہو گا، لیکن یہ پہلو اہم ہے کہ ایک سچے مسلمان کے ان ممالک میں جانے کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہئے۔ مشرق وسطی کے اسلامی بھائیوں کو ہم سمجھا بجھا لیں گے کہ ہمیں بغیر تصویر کے اپنے ملک میں آنے دیں۔ علما کا وفد سعودی عرب بھیجا جانا چاہئے جو کم از کم حج اور عمرے کی دستاویزات میں اس حرام تصویر کا خاتمہ کرنے پر اس مقدس برادر ملک کو راضی کرے۔

پرنٹنگ پریس اور لاﺅڈ سپیکر پر بھی ماضی میں علمائے کرام نے پابندی لگائی تھی اور ان شیطانی چرخوں کا شرعی مقام واضح کر دیا تھا، لیکن محض دو تین سو سال بعد ہی یہ بدعت عام ہو گئی۔ اسے ختم کرنے کے لئے قانون سازی کی ضرورت ہے۔

لیکن پتہ نہیں کیوں وہ تعزیر کا لفظ ذہن میں گونجنے لگتا ہے۔ یاد آتا ہے کہ بیک وقت تین طلاق دیے جانے کے مسئلے پر حضرت عمر نے کوئی قانون سازی کی تھی۔ تو کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ اسلام، حاکم وقت کو معاشرے کا چلن اور بگاڑ دیکھ کر شادی بیاہ طلاق وغیرہ پر کسی قانون سازی کی اجازت دے دیتا ہو؟ یہ جاہل راقم التحریر لاچار ہو کر مملکت پاکستان کے علمائے کرام سے اس سوال پر راہنمائی کا طالب ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 326 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

9 thoughts on “ماروی میمن کی گستاخی اور اسلامی نظریاتی کونسل

  • 22-01-2016 at 6:45 pm
    Permalink

    اسے کہتے ہیں بھگو بگھو کر مارنا

    • 23-01-2016 at 12:49 pm
      Permalink

      bht hi farig kism k writer paye gaye hain jnab Adnan Khan kakkar sahab…apky liye aik misal hi kafi hai k kuwwa chala hans ki chaal apni chaal b bhool gya

  • 22-01-2016 at 6:50 pm
    Permalink

    اسلامی نظریاتی کونسل کے جتنے بھی ارکان ہیں , اجتہاد سے کوسوں دور ہیں میں حیران ہوں کہ اس مجلسِ شوری کو بنایا کس طرح گیا تھا؟؟؟
    جو بند گلی کے مولوی اور زہن بند مفتی اکٹھے کیے اور اوپڑ چڑھادیا.
    مجھے لگتا ہے یہ بھی حکومت کے سیاسی ڈراموں میں سے ایک ہے کہ کسی حوالے سےکوئی بھی تعمیری کام نہ ہوسکے اور اس کا ایک ہی حل ہے کہ نااہل افراد زمہ دار عہدوں پر تعینات کردئے جائیں.

  • 22-01-2016 at 6:57 pm
    Permalink

    Islmi naryati concil ka members ki pay 5 lakh sa zayda karna walon ko b saza milni chahea ka wo itna barha momno ki khedmat ka jaiz result nai dahta

  • 22-01-2016 at 7:39 pm
    Permalink

    ماروی صاحبہ نے جس تیزی سے اپنی تحریک واپس لی ہے۔امید ہے کہ آئندہ ٹی وی پے آکر حقوق نسواں کا چیمپئن ہونے کا دعوی نہی کرینگی

  • 22-01-2016 at 9:23 pm
    Permalink

    بات درست مگر نظریاتی کونسل کا تو اس بل کے قومی اسمبلی میں پیش ہونے کے دوران کوئی اجلاس ھی نہی ھوا ھے تو وہ اسے مسترد کیسے کرسکتی ہے۔ کمال ھے۔ یہ بل اسمبلی کی ایک قائمہ کمیٹی کی ذیلی کمیٹی میں ہی ڈسکس ہوا ہے ابہی

Comments are closed.